لکھنے کا مقصد آخر ہے کیا؟


mujahid mirza
ادب ، چاہے نثر ہو یا شاعری اپنے اظہار، قارئین کی تسکین طبع اور خود کو ادیب یا شاعر منوائے جانے کی خاطر تخلیق کیا جاتا ہے لیکن مضمون نگاری جسے غلطی سے کالم نگاری بھی کہا جاتا ہے، کا مقصد کیا ہوتا ہے، اس کے بارے میں بذات خود بہت سے مضمون نگار خود بھی آگاہ نہیں ہیں ۔ اس بارے میں بتانے سے پہلے یہ بتانا ضروری ہے کہ کالم انگریزی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی ’ستون‘ ہے ، چونکہ اخبار کے صفحے پر کالم بنے ہوتے ہیں ، اخباری صنعت کے اوائل میں ایک کالم کسی معروف لکھاری کے لیے مختص کر دیا جاتا تھا جس کو وہ صاحب کسی مسئلے پر عموماً طنزیہ، فکاہیہ تحریر سے بھرا کرتے تھے اور ایسے کالم زبان، ادب، انداز اور ندرت کے باعث مقبول ہوا کرتے تھے ۔ کالم نگاری کا یہ انداز اردو صحافت میں مروج تھا ۔ انگریزی صحافت میں ’کالمسٹ‘ شروع سے آج تک اخبار کے سٹاف رائٹر کو کہتے ہیں جس کی تحریر ویسے تو مضمون ہی ہوتی ہے لیکن اس کی اشاعت کےلئے ایام مقرر ہوتے ہیں یا وہ ہر روز لکھتا ہے ۔

مگر ہمارا موضوع کالم نگاری نہیں، ہمارا موضوع اخبارات میں مضمون نگاری یا اظہار رائے ہے ۔ ظاہر ہے ذوق اظہار کی تسکین سے تو اس صنف تحریر سےبھی وابستہ کوئی شخص انکار نہیں کرے گا ۔ اگر کوئی فی الواقعی مضمون نگار ہے تو اس کا مقصد حصول شہرت نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ کوئی ادب تخلیق نہیں کرتا، اسے انہیں ڈھائی تین سو الفاظ کی بندش میں جو عام طور پر بولے جاتے ہیں سماجی، سیاسی اور معاشی معاملات پر رائے زنی کرنی ہوتی ہے یا کسی معاملے، واقعے کی توجیہ و توضیح پیش کرنی ہوتی ہے۔ اگر لکھنے والا اخبار کا سٹاف رائٹر ہے تو اسے اخبار کی پالیسی کو مدّنظر رکھ کر لکھنا ہوگا اس لیے اس کا مقصد وہی ہوگا جو اخبار کے مالک یا مالکان کا مقصد ہوگا یا ویسا لکھے گا جیسے مالکان چاہتے ہونگے کہ معاملات یوں نہیں یوں بیان ہونے چاہییں اسی لیے مختلف اخبارات میں چھپنے والے صحافیوں کا رجحان اظہر من الشمس ہوتا ہے کہ وہ کس سیاسی دھڑے کے حق میں لکھ رہے ہیں اور کس کے خلاف یا/اور اسی طرح کس سیاسی شخصیت کے مواقفت میں اور کس کے مخالفت میں ۔ ایسے انداز ہائے تحریر کے سیاسی اور کاروباری دونوں ہی طرح کے مقاصد ہو سکتے ہیں۔

مضمون نگاری مفاد یا مشاہرے سے مبرّا ہو کر کی جائے تو مقصدیت بالعموم اجتماعی شعور میں اضافہ کرنا، جمہوری اقدار اجاگر کرنا، مائینڈسیٹ کو توڑنا، نئی سوچ کو فروغ دینا، سٹیٹس کو پر ضرب لگانا، سیاست دانوں کو آئینہ دکھانا، رائےدہندگان کو متنبہ کرنا، حکومت کے بےمعنی اور غلط اقدامات پر تنقید کے ساتھ بامعنی اور درست اعمال کی تعریف کرنا، معاشرے کی برائیوں کو آشکار کرنے کے علاوہ ان کی بیخ کنی کی خاطر مناسب اور مستند تجاویز دینا، غرص سماجی، سیاسی اور معاشی اصلاح کے ہر پہلو کو سامنے لا کر اس کی ترویج و فروغ کی تحریری سعی کرنا ہے کیونکہ تحریر کا مطالعہ کرکے اسے سمجھنے والے فعّال نوجوان لوگ پھر اس کو عملی شکل دینے یا دلانے کے بھی جتن کرتے ہیں ۔ سماجی سیاسی شعور سے لیس قلمکار کے پیش نظر مقبولیت نہیں ہوتی بلکہ وہ اپنی سوچ کے انجذاب کی خواہش رکھتا ہے کیونکہ چراغ سے چراغ روشن ہونے کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور مقبولیت کا چراغ تو ہوتا ہی بجھنے کے لیے ہے، مقبولیت جذباتی تّعلق سے وابستہ صفت ہے اور انجذاب فہم سے منسلک مسلسل عمل ۔

آج ہمارے ملک کے اخبارات میں شائع ہونے والے مضامین کی اکثریت چرچا کرنے ، ابھارنے، اشتعال دلانے، تنقید برائے تنقید اور تعریف برائے تعریف کرنے، خوف، خواہش اور خدشے کا واویلا کرنے، مختصراً یہ کہ منفی یا بے معنی مقاصد لیے ہوئے ہوتی ہے ۔ اس کا سبب یہ نہیں کہ لکھنے والے لکھنا نہیں جانتے یا یہ کہ مضامین نگار صرف اپنے مائینڈ سیٹ کے غلام بن کر رہ گئے ہیں، ایسا ہرگز نہیں ہے معاملہ وہی ہے کہ مسابقت میں اضافے کے باعث بیشتر لکھنےوالے مقبولیت پانے کی خواہش میں اپنا ایک حلقہ بنا لینے کی تمنّا پال لیتے ہیں، یہ تمنا یا انداز محض ان کا اپنا ہی وصف یا نقص نہیں ہوتا بلکہ اس کی بڑی ذمہ داری اخبارات کے مالکان اور ادارتی عملے کا انتخاب مضامین ہوتا ہے۔ اخبار ایک تجارتی شے ہے ، اسے ریٹنگ بڑھانے کے لیے مقبول سوچ اور انداز کو اپنانا ہی ہوتا ہے لیکن اصل کمزوری ادارتی عملے بلکہ مدیر کی ہوتی ہے کہ وہ مالکان کو لوگوں کی سوچ کی نہج بدلنے پر آمادہ، مائل اور قائل نہیں کر سکتا، اس بات کو میں ایک مثال سے ثابت کرنا چاہتا ہوں۔ ایک عرصہ پہلے کی بات ہے مجھے الحمرا آرٹ کونسل جانا پڑا جہاں کسی سٹیج ڈرامے کی ریہرسل ہو رہی تھی، ڈرامہ وہی جگت بازی اور پھکّڑپن سے عبارت تھا، ظاہر ہے دکھ ہوا تو میں نے معروف اداکار عرفان کھوسٹ کو پڑھا لکھا سمجھتے ہوئے ڈرامے بارے بحث شروع کردی۔ موصوف کا کہنا تھا کہ جی عوام کی ڈیمانڈ یہی ہے لیکن میری دلیل یہ تھی کہ ڈیمانڈ بدلی بھی جا سکتی ہے جس کی کوششیں کرنے والے تب بھی اسلم اظہر، منصور سعید، مدیحہ گوہر، شاہد محمود ندیم اور دوسروں کی شکل میں موجود تھے جنہوں نے لوگوں کی ڈیمانڈ خاصی حد تک بدلی بھی ۔ ایسے لوگ آج بھی ہیں اور ہر عہد میں ہوا کرتے ہیں چنانچہ اخبارات کے مدیران کرام کو پیشہ ورانہ گروہ بندی سے ماوراء ہو کر اجتماعی شعور، بھلائی اور خوشحالی کو عام کیے جانے کی تحریک چلانے کے لیے بہتر مضمون نگاری کو مقبولیت کی دلدل سے نکالنے کی کوشش کرنی ہو گی۔

اس وقت جو رو ہے وہ مقبول صحافیوں کی یکسانیت سے پٹی تحریروں اور ان کے گھسے پٹے تبصروں کو بصری میڈیا میں زیادہ سے زیادہ متعارف کروائے جانے کا رجحان ہے جنہیں صدر زرداری اور ان کے حواری بلا جواز سیاسی اداکارکے نام سے موسوم نہیں کرتے ۔ ججوں، جرنیلوں اور جرنلسٹوں کی تگڑم کتنی سچّی ہے کتنی جھوٹی اس پر بحث کسی اور وقت کے لیے اٹھا رکھتے ہیں لیکن ایک بات بڑی حد تک واضح ہے کہ صحافیوں کا ایک یا ایک سے زائد مخصوص حلقہ یا حلقے خود کو ملک کی ناک کو موم کی ناک کی طرح جس جانب چاہیں موڑ لینے کا اہل اور روادار سمجھنے لگے ہیں۔ پھر تکلیف دہ امر یہ ہے کہ ہر ایک اس ناک کو ویسا ہی دیکھنا چاہتا ہے جیسی ناک وہ خود پسند کرتا ہے، یوں ملک کا ناک نقشہ سنورنے کی بجائے بگڑنے کا زیادہ امکان ہے۔

تحریری ذرائع ابلاغ کی بجائے اب بصری ذرائع ابلاغ زیادہ موثر اور مقبول ہیں، مضمون پڑھنے سے وڈیو دیکھنا سہل بھی ہے اور دلچسپ بھی مگر یہاں ٹاک شو کے ذریعے سیاستدانوں کو ننگا کرنے، نااہل ثابت کرنے اور بک بک کرنے والا دکھانے کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔ دراصل یہ بھی اسی مقبولیت اور عمومیت کے مرض میں مبتلا لکھنے والوں کا سجایا ہوا بازار ہے ۔ اس بازار کو جتنی جلدی بڑھا دیا جائے اتنا ہی قوم کے حق میں بہتر ہوگا۔ بصری ذرائع ابلاغ میں ادیبوں اور شاعر وں کو آگے لایا جانا چاہیے تاکہ وہ فنون ہائے لطیفہ کے ذریعے تھکی ہوئی بدحال قوم کو تفریح فراہم کریں ۔ تفریح سے عاری اور بک بک جھک جھک سننے والے لوگ کبھی بھی بہتر اور صحت مندانہ طرز پہ سوچنے کے اہل نہیں ہو سکتے، وہ بھلا تبدیلی خاک لائیں گے انقلاب تو دور کی بات ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

3 thoughts on “لکھنے کا مقصد آخر ہے کیا؟

  • 07-04-2016 at 6:12 pm
    Permalink

    “آج ہمارے ملک کے اخبارات میں شائع ہونے والے مضامین کی اکثریت چرچا کرنے ، ابھارنے، اشتعال دلانے، تنقید برائے تنقید اور تعریف برائے تعریف کرنے، خوف، خواہش اور خدشے کا واویلا کرنے، مختصراً یہ کہ منفی یا بے معنی مقاصد لیے ہوئے ہوتی ہے ۔ اس کا سبب یہ نہیں کہ لکھنے والے لکھنا نہیں جانتے یا یہ کہ مضامین نگار صرف اپنے مائینڈ سیٹ کے غلام بن کر رہ گئے ہیں، ایسا ہرگز نہیں ہے معاملہ وہی ہے کہ مسابقت میں اضافے کے باعث بیشتر لکھنےوالے مقبولیت پانے کی خواہش میں اپنا ایک حلقہ بنا لینے کی تمنّا پال لیتے ہیں، یہ تمنا یا انداز محض ان کا اپنا ہی وصف یا نقص نہیں ہوتا بلکہ اس کی بڑی ذمہ داری اخبارات کے مالکان اور ادارتی عملے کا انتخاب مضامین ہوتا ہے۔ اخبار ایک تجارتی شے ہے ، اسے ریٹنگ بڑھانے کے لیے مقبول سوچ اور انداز کو اپنانا ہی ہوتا ہے لیکن اصل کمزوری ادارتی عملے بلکہ مدیر کی ہوتی ہے کہ وہ مالکان کو لوگوں کی سوچ کی نہج بدلنے پر آمادہ، مائل اور قائل نہیں کر سکتا،”
    زبردست تحریر اور وقت کی ضرورت، لکھنے والوں کو اس جانب توجہ کرنی چائیے۔

  • 07-04-2016 at 7:38 pm
    Permalink

    “موصوف کا کہنا تھا کہ جی عوام کی ڈیمانڈ یہی ہے لیکن میری دلیل یہ تھی کہ ڈیمانڈ بدلی بھی جا سکتی ہے” ۔۔۔۔۔ بالکل یہ ڈیمانڈ والی بات کسی حد تک ہی درست ہو سکتی ہے کلی طور پر نہیں۔ اچھی یا بری پیشکش سے اچھی یا بری ڈیمانڈ پیدا ہوتی ہے ۔ میڈیا میں جو اور جیسا پیش کیا جاتا ہے رفتہ رفتہ وہی عوام الناس کا ذوق اور معیار بن جاتا ہے۔

  • 07-04-2016 at 11:05 pm
    Permalink

    اخبار یا رسالے کا مدیر ہی سب کچه ہوتا ہے. یہ رحجان کی تبدیلی، معیار، مواد وغیرہ وغیرہ. یہ سب اس کی سوچ کی عکاس ہیں. جیسے ‘ہم سب’ جناب وجاہت مسعود کا چہرہ ہے. میں لکهوں یا آپ… یہ وجاہت مسعود ہیں.

Comments are closed.