دائمی بہار کا پھول


naseer nasirجس طرح فطرت اور ادب کا رشتہ دائمی ہے اسی طرح سائنس اور ادب کا تعلق بھی اپنی اہمیت اور نوعیت میں استمراری ہے۔ اس لیے فطرت، ادب اور سائنس کو تخلیق و تحقیق کی تثلیث کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ سب سے پہلا قوسی پُل قدرت نے بنایا تھا۔ ایک چٹان ریزشِ زمین کے باعث اس طرح ٹوٹ کر گری کہ درمیان سے اس کا ایک قوس نما حصہ اپنی جگہ پر ہی معلق رہا۔ اتفاق سے ایک معمار کی نظر اس پر پڑی اور اس کے ذہن میں قوس نما پُل بنانے کا تصور پیدا ہوا۔ ادب میں متخیلہ یعنی تصورات کی جو اہمیت ہے وہی سائنس میں ہے۔ اگر “کُھل جا سِم سِم” کی کہانیاں نہ ہوتیں تو آج خود کار دروازے نہ ہوتے۔ اڑتے ہوئے غالیچوں اور پریوں کے قصے اور عفریت نما دیو مالائی پرندے نہ ہوتے تو ہوائی جہاز اور اسپیس شپ نہ ہوتے۔ اگر نیوٹن سیب کے درخت کے نیچے نہ بیٹھتا اور سیب اس کے اوپر نہ گرتا تو کشش ثقل کی گتھیاں اتی آسانی سے نہ سلجھتیں۔ ریڈار، موبائل فون، ٹیلی وژن، انٹرنیٹ، اسکائپ کی ایجادات سے لے کر اُناس و بہائِم اور نباتات کی میوٹیشن تک کی اختراعات کسی نہ کسی قدیم داستانوی تصور اور ادب سے جڑی ہوئی ہیں۔ ماضی کا فکشن حال کی حقیقت ہے۔ ڈاکٹر انور نسیم فطرت، ادب اور سائنس کے اسی قدیمی سلسلے کا وہ ناگزیر قلابہ ہیں جن کے بغیر یہ تثلیث ادھوری رہ جاتی۔ انور نسیم اگر ٹاٹ اسکول تک پیدل نہ گئے ہوتے تو ادبی مَس نہ رکھتے اور اگر ادبی مَس نہ رکھتے تو ان کا سائنسی خمیر نہ اٹھتا۔ اور اگر وہ جینیاتی سائنس میں تحقیق و تدقیق کا خمیر نہ اٹھاتے تو وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ دنیا کچھ 311903_222439994484138_184043832_nحیاتیاتی انکشافات سے محروم رہ جاتی اور پاکستان میں بائیو ٹیکنالوجی کی بنیاد نہ قائم ہوتی۔

ڈاکٹر انور نسیم سے میری پہلی ملاقات غالباً 1990ء میں ہوئی تھی لیکن دو تین سال تک کبھی کبھار کی ملاقاتوں کے بعد دوستی کا آغاز 1993ء  میں ہوا۔  مجھے یاد ہے انہوں نے میرے اعزاز میں اپنے گھر پہ دعوت کا اہتمام کیا تھا۔ مدعوئین میں شبنم مناروی (مرحوم)، ڈاکٹر امجد پرویز، یاسمین حمید، حمید صدیقی (یاسمین حمید کے مرحوم شوہر)، ایم اے تنویر (مرحوم)، عذرا نقوی، ڈاکٹر پرویز احمد (مرحوم)، مجاہد ملک اور رشید صدیقی کے علاوہ کچھ اور ادبی احباب بھی شامل تھے جن کے اسمائے گرامی اب یاد نہیں رہے۔ چنانچہ یہ عشائیہ ایک ہلکی پھلکی ادبی تقریب کی شکل اختیار کر گیا۔ میں کبھی اپنے اعزاز میں باقاعدہ ادبی تقریبات کا قائل نہیں رہا۔ جب میں نے ڈاکٹر صاحب سے کہا کہ اس دعوت اور تکلف کی کیا ضرورت تھی تو انہوں نے مسکراتے ہوئے سوال نما جواب دیا کہ “کیوں ضرورت نہیں؟” ان کے اس ایک مختصر سے جملے میں جو خلوص، محبت اور اپنائیت تھی اس نے میرے اور ڈاکٹر صاحب کے درمیان بے لوث دوستی کے مستقل رشتے کا روپ دھار لیا۔ یہ تعلق آج تک ایک اچھی سطح پر برقرار ہے۔ اس میں اگر بیشی نہیں ہوئی تو کمی بھی نہیں ہوئی۔

293491_223702387691232_502339312_nڈاکٹر انور نسیم کا تعلق ضلع جہلم تحصل دینہ کے ایک گاؤں چھنی سے ہے۔ گلزار کا تعلق بھی دینہ سے تھا اور ضمیر جعفری کا بھی انہی اطراف سے۔ ضمیر جعفری دینہ کے قریب ایک گاؤں چک عبدالخالق میں زیرِ تعلیم رہے۔ گلزار اور محترم ضمیر جعفری کی آبائی کَڑیوں کی بازیافت میں ڈاکٹر انور نسیم نے بڑا نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ مجھے ان کی معیت میں ایک سے زیادہ بار ان کے آبائی علاقے میں سفر کرنے اور چوہدری فضل حسین اور ضمیر جعفری صاحبان سے ملاقاتوں کا شرف حاصل ہوا۔ دو سال قبل جب گلزار اپنی جنم بھومی دیکھنے دینہ تشریف لائے تو اسلام آباد سے ڈاکٹر انور نسیم اور میں خصوصی طور پر ان سے ملنے گئے اور سارا دن وہاں گزارا۔ اگرچہ پیش منظر میں چند اور چہرے بھی تھے لیکن درحقیقت گلزار صاحب کی دینہ یاترا کے سارے انتظامات ڈاکٹر انور نسیم ہی نے کیے تھے۔ ان کی ادب پروری اور دوست نوازی کسی صلے اور داد و تحسین کی طلب کے بغیر ہوتی ہے۔ ڈاکٹر انور نسیم انتہائی ملنسار، روشن خیال اور دوستوں اور شاعروں و ادیبوں کو حقیقی عزت اور احترام دینے والے انسان ہیں۔ وہ جینیات کے معروف سائنس دان ہیں لیکن  وہ ایک ادیب اور ادب دوست شخصیت کے طور پر بھی جانے پہچانے جاتے ہیں۔ ان کا ایک افسانوی مجموعہ “وہ قربتیں یہ فاصلے” شائع ہو چکا ہے۔ عمرِ عزیز کی آٹھ دہائیاں گزار کر بھی ڈاکٹر صاحب جوانوں کی طرح متحرک ہیں۔ ان کے سینکڑوں دوست ہیں اور انہوں نے زندگی میں بے شمار کام کیے ہیں اور نام کمایا ہے۔ آج بھی دنیا میں جہاں جہاں جینیات کے موضوع پر کوئی کانفرنس ہوتی ہے وہ وہاں ضرور جاتے ہیں۔ ان کا زیادہ وقت بیرونِ ملک گزرا لیکن اب گزشتہ بیس برس سے مستقل اسلام آباد میں مقیم ہیں۔ ان کی سائنسی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان  انہیں تمغہ  حسنِ کارکردگی عطا کر چکی ہے۔

14301_828770370517761_220425777290421186_nقدرت بعض انسانوں میں اپنے تکمیلی اوصاف کا اظہار کرتی ہے۔ ڈاکٹر انور نسیم انہی منتحب انسانوں میں سے ایک ہیں۔ ان کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ ایک ہمہ جہت شخصیت ہیں، ایک عام سی بات ہے۔ درحقیقت ان کی شخصیت فطرت، سائنس اور ادب کا دل فریب امتزاج ہے، وہ ایک ایسے خوبصورت انسان ہیں جنہیں دائمی بہار کا پھول کہنا اس حسنِ  تثلیث کا بے ساختہ اور سچا اظہار ہے۔ ایک ایسا گُلِ نو بلکہ گُلِ فیضان جس کی سُگند اور رنگ و روپ کے فیضانات انفرادی، ملکی اور عالمی بہر جانب یکساں اور مسلسل ہیں۔ ڈاکٹر انور نسیم  سے مل کر سب سے پہلا احساس یہ ہوتا ہے کہ اگر ان سے نہ مِلے ہوتے تو موسمِ بہار میں صحبتِ گُل سے محروم رہتے۔ ذاتی و ادبی سطح پر وہ دوستی اور محبت کی اعلی قدروں کے حامل و کامل ہیں اور ملکی اور بین الاقوامی سطح پر جینیاتی علوم میں پاکستان کے نمائندہ سائنسدان ہیں۔ ان سے قربت کسی نعمت سے کم نہیں۔ ان کے انہی اوصاف کے اعتراف اور  اظہار کے لیے اشفاق حسین اور ڈاکٹر عابد اظہر صاحبان نے گزشہ سال “صحبتِ گُل” کے نام سے ایک کتاب شائع کی ہے۔ یہ کتاب نہ صرف 311755_222704427791028_552583462_nایک خوبصورت خراجِ تحسین ہے بلکہ ان کی سائنسی، ادبی خدمات اور ذاتی حالاتِ زندگی کا خلاصہ ہے۔ خراجِ تحسین میں حصہ ڈالنے والوں میں مرتبین کے علاوہ سید ضمیر جعفری، جمیل الدین عالی، پروفیسر فتح محمد ملک، ڈاکٹر پیرزادہ قاسم، ڈاکٹر انوار احمد، ڈاکٹر رشید امجد، ڈاکٹر تبسم کاشمیری، اصغر ندیم سید، انور احسن صدیقی، ڈاکٹر سید جعفر احمد، ڈاکٹر فاطمہ حسن، صبا اکرام، علیم احمد، پروفیسر شفیق انجم اور ان کی ہمشیرہ ڈاکٹر روبینہ شہناز کے نامِ نامی شامل ہیں۔ اس سے قبل 2012ء میں ادارہ ء فروغِ قومی زبان نے ایک کتاب “پاکستان کے نامور سائنسدانوں کی ادبی خدمات” شائع کی تھی۔ اس کتاب میں ان سائنسدانوں کا تذکرہ ہے جن کا ادب سے خصوصی تعلق اور شغف رہا۔ ان سائنسدانوں میں چند نام بہت نمایاں ہیں۔ مثال کے طور پر ڈاکٹر عبدالسلام، ڈاکٹر رضی الدین صدیقی، ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی، ڈاکٹر انور نسیم، عظیم قدوائی، ڈاکٹر نسیمہ ترمذی، ڈاکٹر محمد افضل غوری فطرت، ڈاکٹر نذیر احمد، ڈاکٹر صلاح الدین، حکیم محمد سعید اور ڈاکٹر خان محمد ساجد ۔ کتاب میں کئی سائنسدانوں کے عمومی تذکرے کے علاوہ ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی، ڈاکٹر عبدالسلام اور ڈاکٹر انور نسیم کی ادبی خدمات پر خصوصی ابواب قائم کیے گئے ہیں۔ بلاشبہ ڈاکٹر انور نسیم اس پذیرائی اور تحسینِ دوستاں کے مستحق ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments