سوتیلا آدمی


cobbler4شوکت صدیقی

جاڑوں کی رات تھی۔ سر شام ہی سناٹا پڑ گیا تھا۔ میری ہمیشہ کی عادت ہے کہ دیر سے سوتا ہوں۔ اول شب کبھی نیند نہیں آئی۔ اس روز بھی ایسا ہی ہوا۔ گھر کے اور لوگ تو کبھی کے اپنے اپنے بستروں پر جا چکے تھے۔ میں کچھ دیر تک ایک جاسوسی ناول پڑھتا رہا۔ اس کے بعد یوں ہی بیٹھے بیٹھے گنگنانے لگا۔
چھٹے اسیر ، تو بدلا ہوا زمانہ تھا
نہ پھول نہ چمن تھا نہ آشیانہ تھا…
غالباً محمد جوہر کی غزل کا شعر ہے۔ ان دنوں فلم ”دیوداس“ نئی نئی ریلیز ہوئی تھی۔ سہگل کے گانوں سے گلی کوچے گونج رہے تھے۔ جسے دیکھیے الاپ رہا ہے۔ ” بالم آئے بسو مورے من میں۔“ لیکن یہ غزل پہاڑی سا نیال نے گائی تھی۔ نہ جانے کیوں اس وقت میں اسے گنگنانے لگا۔ ہو سکتا ہے کہ اس کی وجہ یہ ہو کہ میں کئی سال بعد لکھنو واپس آیا تھا۔ پرانا مکان چھٹ چکا تھا اور نئے مکان میں یہ میری پہلی شب تھی۔ گنگناتے گنگناتے مزے میں جو آیاتو اونچے سروں میں گانے لگا۔ میرا کمرہ سب سے الگ تھلگ سڑک کے رخ پر تھا۔ اس لیے یہ بھی خدشہ نہیں تھا کہ گھر میں کسی کی نیند خراب ہو گی۔ ابھی پوری غزل ختم نہیں ہوئی تھی کہ ایکا ایکی کسی نے دروازے پر آہستہ سے دستک دی۔ میں لحاف میں دبکا دبکایا بیٹھا تھا۔ باہر نکلنے کو جی نہ چاہا۔ میں نے وہیں بیٹھے بیٹھے پوچھا ”کون ہے؟“
باہر سے آواز آئی۔ “ ذرا دروازہ تو کھولیے۔ “
لہجہ میرے لیے بالکل اجنبی تھا۔ خدا معلوم کون اس جاڑے پالے میں نازل ہوا تھا۔ بادل نخواستہ لحاف چھوڑا اور سردی سے کپکپاتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔ دروازہ کھولا تو سامنے ایک ادھیڑ عمر کا آدمی کھڑا تھا۔ جنگلی کبوتر کی سی سرخ سرخ آنکھیں ، موٹی سی ناک ، گھنی مونچھیں ، سر پر لکھنوی بانکوں کے سے پٹھے، چہرے پر عجیب سی کرختگی۔ بڑا ہی بدشکل آدمی تھا۔ ایک بار اس نے نظر بھر کر دیکھا اور بری بے تکلفی کے ساتھ کمرے میں آگیا۔ اس نے اپنی پرانی اونی شال اچھی طرح جسم کے گرد لپیٹی اطمینان سے کرسی پر بیٹھ گیا۔ میں ابھی تک خاموش کھڑا تھا۔ مجھے اس طرح حیرت زدہ دیکھ کر کہنے لگا۔ ”کھڑے کیوں ہیں۔ بیٹھ جائیے۔ “
میں نے قریب پڑی ہوئی کرسی کھسکائی اور چپ چاپ اس پر بیٹھ گیا۔ میرے بیٹھتے ہی اس نے پیر سے جوتا نکالا اور میرے سامنے ڈال دیا۔ بڑی عاجزی سے بولا۔ ” دس جوتے مار دیجیے۔ “
میں سٹ پٹا کے رہ گیا، یا اللہ یہ کیا مصیبت آئی؟ مجھے خاموش دیکھ کر اس نے اور بھی رقت آمیز لہجے میں کہا۔ ” اجی دیکھ کیا رہے ہیں؟ اٹھائیے نا جوتا۔ “ پھر اس نے سر سے ٹوپی اتاری اور گردن جھکا کر بولا ”لیجیے یہ سر حاضر ہے۔ “
جی تو چاہا کہ دس کے بجائے تڑاتڑ بیس جوتے لگاﺅں۔ سخت طیش آیا لیکن وہ مسکین بنا بیٹھا تھا۔ میری سمجھ ہی میں نہیں آیا کہ کیا کہوں؟ عجیب افتاد پڑی تھی۔ ذرا غور تو کیجیے کہ ایک اچھا خاصا معمر آدمی آپ کے سر ہو جائے کہ دس جوتے مار دیجئے اور وہ بھی خواہ مخواہ۔ ایسے موقع پر سوائے بدحواس ہو جانے کے اور ہو ہی کیا سکتا ہے؟ مجھے بھونچکا دیکھ کر وہ کہنے لگا۔ ” نہیں مار سکتے؟“ اس دفعہ اس کے لہجے میں تیکھا پن تھا۔ لمحے بھر کو وہ خاموش رہا۔ پھر اس نے اپنی سرخ سرخ وحشت زدہ آنکھوں سے گھور کر مجھے دیکھا اور گردن اونچی کر کے بولا۔ ” تو پھر آئندہ یہ راگ نہ الاپیے گا۔ “
اس نے میرے آگے عاجزی سے دونوں ہاتھ جوڑ دیے۔ اس حرکت پر غصہ بھی آیا ، کچھ ہنسی بھی آئی۔ مجھے اپنے بے سرے پن کا احساس کسی نے اتنی شدت سے نہیں دلایا تھا مگر بات کہنے کا اس نے جو انداز اختیار کیا تھا ، وہ بڑا انوکھا تھا۔ میں نے دل ہی دل میں تو بہ کی کہ اب بھولے سے بھی کبھی نہیں گنگناﺅں گا۔ اب سوال یہ تھا کہ وہ ہے کون؟ یہ معما ذرا دیر بعد اس نے خود ہی حل کر دیا۔ کہنے لگا۔ ”معاف کیجیے گا یہ گستاخی۔ میں بہت دیر سے لیٹا ہوا آپ کی آواز سن رہا تھا۔ بہت ضبط کیا مگر مجبور ہو گیا تو آپ کے پاس چلا آیا۔ بات یہ ہے کہ مجھ کو بھی گانے بجانے سے کچھ لگاﺅ ہے۔ جس دھن میں آپ گا رہے تھے وہ اساوری راگ ہے۔ اس کو یوں الاپتے ہیں۔ “ یہ کہہ کر اس نے مدھم سروں میں گنگنانا شروع کیا۔ کئی منٹ تک وہ ایک ہی مصرع الاپتا رہا۔ پھر اس نے اساوری پر ایک لمبا سا لیکچر دیا اور اپنی پرانی شال سنبھالتا ہوا اٹھ کر کمرے سے چلا گیا۔
اس کے جانے کے بعد میں دیر تک سکتے کے سے عالم میں خاموش بیٹھا رہا۔ بار بار خیال ستا رہا تھا کہ یہ غزل تو بڑی مہنگی پڑی۔ بہرحال استاد شیدی سے یہ میری پہلی ملاقات تھی اور اس پہلی ہی ملاقات میں ان سے اس قدر متاثر ہو اکہ آج بھی غسل خانے میں بھی گنگنانے کی ہمت نہیں ہوئی۔
دوسرے ہی دن مجھے پتہ چل گیا کہ نیا مکان جس قدر اچھا تھا ، محلہ اسی قدر واہیات تھا۔ پاس پڑوس کے گھروں میں زیادہ تر کشمیری بھانڈ آباد تھے۔ عورتوں کی طرح ان کی لمبی لمبی چوٹیاں، مردانے لباس پر بڑی عجیب و غریب معلوم ہوتیں لیکن جب وہ مجرا کرتے تو نو عمر لڑکوں کو تو پہچاننا مشکل ہو جاتا۔ لچکے گوٹے سے مزین لہنگا اور چولی پہن کر جب وہ گھونگٹ نکال کر بھاﺅ بتاتے تو طوائفوں تک کا رنگ پھیکا پڑ جاتا۔ لیکن ان میں سب ناچنے والے نہیں تھے۔ بعض صرف نقل کرتے تھے اور ٹھٹھول بازی سے اہل محفل کو ہنساتے تھے۔ جن کی عمریں ڈھل گئی تھیں ، وہ محض گانا گاتے تھے یا کبھی کبھار کسی پرانے قدر دان کی فرمائش پر مجرا بھی کر لیتے تھے ورنہ عام طور پر یہ نوجوان لڑکوں کا حصہ تھا۔
ان دنوں کرامت جان کا بڑا شہرہ تھا اور اسے یہ شہرت”چند راولی“ کے کھیل کی بدولت ملی تھی جسے اس کی پارٹی بڑی کامیابی کے ساتھ پیش کرتی تھی۔ کرامت جان خود چند راولی کا پاٹ ادا کرتا تھا۔ چھریرا جسم ناک نقشہ سبک ، آواز میں سوز۔ چند راولی کے روپ میں جب وہ گاتا تو محفل میں سماں بندھ جاتا۔ سنا ہے کہ استاد شیدی شروع شروع میں کرامت جان کے چچا فرحت جان کی ٹولی میں شامل تھے اور ”چند راولی“ کے کھیل میں ڈاکو دریجے سنگھ کا پارٹ ادا کرتے تھے۔ جب وہ چہرے پر سیاہی مل کر اپنی سرخ سرخ انگارا سی آنکھیں نکال کر سپاہیوں کو ڈانٹتے اور طبلے کی تھاپ پر تان لگاتے۔ ”رسی کرو دراز، باندھو کمر میں چست۔ “ تو ان کی پاٹ دار آواز سے محفل میں جان پڑ جاتی۔
تھے تو وہ ذات کے بھانڈ مگر ان کا تعلق کشمیری بھانڈوں کے نچلے طبقے سے تھا۔ یہ لوگ گانے بجانے کی بجائے عام طور پر طبلہ منڈھنے کا کام کرتے ہیں۔ استاد شیدی نے بھی لڑکپن میں طبلوں پر کھالیں منڈھی تھیں۔ مزاج میں نک چڑھا پن ہمیشہ سے رہا۔ ایک روز کسی سے لاگ ڈانٹ پڑ گئی۔ ، بس اسی روز روپے سوا روپے کی روزی پر لات مار کر کنن استاد کے ہاں جا پہنچے۔ وہ اپنے وقت کے مانے ہوئے سارنگی نواز تھے۔ جن لوگوں نے کلن استاد کے پاس انہیں دیکھا ہے ، ان کا کہنا ہے کہ استاد شیدی نے استاد کی خدمت کا حق ادا کر دیا۔ چلمیں بھرنا اور ٹانگیں دبانا تر خیر معمولی بات تھی۔ بیماری کے زمانے میں انہوں نے استاد کو ہاتھوں پر تھکوایا تھا۔ تین چار میل روزانہ استاد کو پیٹھ پر اٹھا کر اسپتال لے جاتے تھے۔ مہینوں یہ سلسلہ جاری رہا۔ پھر کلن استاد کا مزاج ، خدا کی پناہ، بگولا تھے، بگولا۔ غصہ آگیا ، پھر جو چیز سامنے آئی ، وہ اٹھا کر کھینچ ماری۔ اس سے غرض نہیں کہ سر پھٹ گیا یا ٹانگ ٹوٹ گئی۔ استاد شیدی پانچ سال کی ریاضت کے بعد کلن استاد کے ہاں سے نکلے تو اپنے فن میں کامل ہو کر نکلے۔
میں نے استاد شیدی کو جس وقت دیکھا ، وہ کشمیری بھانڈوں کی سنگت چھوڑ چکے تھے اور طوائفوں کو تعلیم دیتے تھے۔ روزانہ سہ پہر کو وہ اپنے ٹیوشن پر جاتے، اس وقت ان کی وضع قطع یہ ہوتی۔ سر پر دو پلی ٹوپی ، ڈھیلی ڈھالی اچکن، چوڑی دا رپائجامہ اور براﺅن پمپ شو اور بغل میں غلاف کے اندر لپٹی ہوئی سارنگی۔
استاد شیدی کے گھر پر بھی کچھ نوجوان گانا سیکھنے آتے تھے۔ گالیاں بکنے میں استاد شیدی کا جواب نہیں تھا۔ یہ خصوصیت انہیں استاد کلن سے ترکے میں ملی تھی۔ مزاج بھی کچھ ایسا پایا تھا کہ ذرا سی بات پر برہم ہو جاتے۔ پھر یہ نہیں دیکھتے تھے کہ منہ سے کیا لفظ نکل رہا ہے۔ جو جی میں آتا اول فول بکتے چلے جاتے۔
گھر پر جو لوگ ان سے تعلیم لینے آتے تھے۔ وہ زیادہ تر اعلیٰ تعلیم یافتہ اور اچھے گھرانوں کے نوجوان تھے۔ ان میں نیپال کے شاہی خاندان کا ایک لڑکا تھا۔ رانا جو گندر بہادر نام تھا۔ بڑا ہنس مکھ اور مہذب نوجوان تھا۔ موسیقی سے بے حد لگاﺅ تھا۔ یہی شوق کشاں کشاں لکھنو کھینچ لایا۔ مجھ سے بھی اس کی تھوڑی سی یاد اللہ ہو گئی تھی۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ بسنت پنچمی کے دوسرے دن کا ذکر ہے۔ دوپہر کا وقت تھا۔ میں کمرے میں بیٹھا کسی کو خط لکھ رہا تھا۔ استاد کا مکان عین میرے کمرے کے مقابل تھا۔ درمیان میں دس فٹ کی سڑک تھی۔ ان کی بیٹھک کی ایک ایک بات مجھے سنائی پڑتی تھی۔ اس وقت وہ رانا جوگندر بہادر کو سبق دے رہے تھے۔ اس روز وہ کوئی نیا راگ بتا رہے تھے۔ رانا بول ٹھیک سے ادا نہیں کر رہا تھا۔ استاد شیدی دوبار اسے ٹوک چکے تھے۔ ایکا ایکی وہ زور سے چیخے ”ہوش میں ہے یا بھنگ چڑھا کر آیا ہے؟“
اس کے بعد انہوں نے رانا کو ایک بار پھر سمجھایا۔ دو تین بار خود اونچے سروں میں راگ کے بول نکالے مگر رانا سے پھر چوک ہو گئی۔ استاد نے بڑی ثقیل سی گالی دی اور ڈانٹ کر بولے۔ ” پھر وہی پنچم میں۔ اب کی جو بہکا توسالے کے حلق میں پورا گز (سارنگی کا گز) اتار دوں گا۔ “
اس دفعہ استاد دیر تک الاپتے رہے۔ رک رک کر ہر بول پر سمجھاتے رہے۔ رانا جوگندر بہادر نے ایک پھر سارے گاما پا دھانی الاپنا شروع کیا مگر بات بن نہ سکی۔ استاد جل کر بولے۔ ”دھت تیری کی۔ تجھ کو سکھانے والے کی …..!“ انہوں نے جوش میں اپنی مری ہوئی ماں کو بھی نہ بخشا اور کہنے لگے ”اچھا اب تم بڑھاﺅ اپنا ٹٹو …. !“
اس کے بعد گہری خاموشی چھا گئی۔ ذرا دیر بعد میں نے کھڑکی سے جھانک کر دیکھا۔ رانا جوگندر بہادر ان کی خوشامد کر رہا تھا اور وہ تھے کہ کسی طرح پٹھے پر ہاتھ ہی نہیں رکھنے دے رہے تھے۔ آخر دروازہ بند کر کے وہ اندر چلے گئے۔ رانا بے چارہ بڑی دیر تک منہ لٹکائے دروازے پر کھڑا رہا۔ استاد نے پلٹ کر خبر بھی نہ لی۔ اس کے بعد میں نے رانا کو ان کے ہاں پھر کبھی نہیں دیکھا۔
اس سے بھی زیادہ عبرت ناک منظر ایک اور دیکھنے میں آیا۔ اس روز بھی استاد شیدی کسی شاگرد کو ڈانٹ رہے تھے اور شاگرد بار بار غلطی کر رہا تھا۔ ایکا ایکی اونچی آواز میں گالیاں بکنے کی آواز سنائی دی میں نے گھبرا کر باہر دیکھا تو ایک نوجوان دروازہ کھول کر استاد کی بیٹھک سے باہر نکل رہا تھا۔ یہ میرے ایک ملنے والے تھے۔ گوکل چند رستوگی۔ لکھنو یونیورسٹی میں ایم اے کے طالب علم تھے۔ مزاج میں رکھ رکھاﺅ اور سلیقہ تھا۔ شعر و شاعری سے خاصا شغف تھا۔ موسیقی کا نیا نیا شوق ہوا تھا۔ وہ اس وقت بے حد بدحواس نظر آرہے تھے۔ میں نے دیکھا کہ استاد شیدی سارنگی بجانے کا گز لیے دروازے سے نکلے۔ گو کل نے جو انہیں دیکھا تو اپنی چپل چھوڑ کر سڑک پر ننگے پاﺅں بھد بھد کر کے بھاگنا شروع کر دیا اور استاد گالیاں دیتے ہوئے پیچھے دوڑے۔ کوئی سو ، سوا سو گز تک دونوں دوڑتے رہے۔ سارے راہ گیر ٹھٹک کر رہ گئے۔ دکان دار دکانیں چھوڑ کر باہر آگئے اور حیرت سے دیکھنے لگے کہ ماجرا کیا ہے؟ استاد واپس لوٹے تو سانس پھولی ہوئی تھی ، منہ سے کف جاری تھا اور برابر بڑبڑاتے جا رہے تھے۔
ان کی انہی حرکتوں کا نتیجہ تھا کہ اکثر شاگرد چند ہی روز میں بھاگ کھڑے ہوتے۔ اپنی اس بدمزاجی تھی۔ ان دنوں وہ چوک کی مشہور طوائف دلربا کی لڑکی کو تعلیم دیا کرتے تھے۔ ایک تو رنڈی کی لڑکی اور پھر وہ بھی بلا کی شوخ۔ بات بات پر اٹکھیلیاں کرنا اس کی گھٹی میں پڑا تھا۔ ایک روز بار بار منع کرنے پر بھی وہ برابر غلط بول نکالتی رہی۔ استاد نے ایک دفعہ جل کر کہا ”اب کی یہاں انتر ا لگایا تو سالی کا منہ توڑ کے رکھ دوں گا۔ “
مگر اس نے پھر وہیں انترا لگایا اور غضب یہ کیا کہ کھی کھی کر کے ہنس پڑی۔ استاد شیدی کچھ اس قدر بھنائے کہ پاس رکھا ہوا شیشے کا گلاس کھنچ مارا۔ بھوں پھٹ گئی۔ وہ گلا پھاڑ کر چیخی۔ “ ہائے اماں میں مر گئی۔ “
چاروں طرف سے رنڈیاں اور بھڑوے دوڑ پڑے۔ لڑکی کی پیشانی سے خون ابل رہا تھا۔ دل ربا نے اس کی یہ حالت دیکھی تو سر پیٹ لیا لیکن ڈیرے دار طوائف تھی۔ ہر وقت رئیسوں سے سابقہ تھا۔ مزاج میں بڑا رکھ رکھاﺅ پیدا ہو گیا تھا۔ ہاتھ جوڑ کر استاد سے صرف اس قدر کہا۔ ”استادہم تو باز آئے اس تعلیم سے۔ خدانخواستہ بچی کی آنکھ جاتی رہتی تو سمجھ لو اس کی تو ہمیشہ کے لیے قسمت پھوٹ گئی تھی….“
استاد شیدی تیوری پر بل ڈال کر بولے۔ ” مجھ سے تعلیم دلوانا ہے تو یہی ہو گا ورنہ کسی اور کو ڈھونڈ لو۔ شہر میں بہت سے گویے پڑے ہیں۔ “ اتنا کہہ کر انہوں نے سارنگی پر غلاف چڑھایا اور اسے بغل میں دبا کر بالا خانے سے اتر کر نیچے آگئے۔ دوبارہ بھول کر بھی اس طرف کا رخ نہ کیا۔
بعد میں معلوم ہوا کہ دل ربا خود منانے آئی تھی مگر استاد کچھ اس قدر برہم تھے کہ اس روز یہ عہد کر لیا کہ اب کسی رنڈی کو تعلیم نہیں دیں گے۔ ہوا بھی یہی کہ وہ پھر کبھی بغل میں سارنگی دبا کر شام کے وقت چوک کی جانب جاتے نظر نہیں آئے۔
استاد شیدی کی بدمزاجی صرف شاگردوں ہی کے لیے نہیں تھی۔ گھر والے اور بھی زیادہ مورد عتاب تھے۔ ان کی تین لڑکیاں ایک لڑکا تھا۔ لڑکے کے نام منصور علی تھا۔ اولاد میں سب سے بڑا وہی تھا۔ اچھا خاصا چل نکلا تھا۔ استاد کا حال یہ تھا کہ جہاں فرصت ملی ، سارنگی اٹھائی اور لڑکے کو تعلیم دینا شروع کر دی۔ ذرا چوکا اور استاد نے گالی دی۔ زیادہ جھنجلائے تو ہاتھ چھوڑ بیٹھے۔
استاد شیدی کی ماں کا انتقال ان کی کم سنی میں ہو گیا تھا اور ماموں نے انہیں پالا پوسا تھا۔ اس لیے وہ ان کا بے حد احترام کرتے تھے۔ بڑے میاں آتے تو گھر والوں کی جان چھوٹتی۔ استاد ماموں کی آواز سنتے ہی رفو چکر ہو جاتے۔ واپسی پر مٹھائی کا دونا ان کے ہاتھ میں دبا ہوتا۔ آتے ہی ایک ایک بچے کو اپنے ہاتھ سے مٹھائی کھلاتے۔ ان کے کردار میں ایسے ہی نہ جانے کتنے تضاد تھے۔
استاد نے طوائفوں کو تعلیم دینا بند کیا تو گھر پر تعلیم حاصل کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو گیا۔ اب انہوں نے اپنا نام استاد شیدی کے بجائے مرزا شیدا علی بیگ رکھ لیا تھا۔ پہلے ان کے شاگرد انہیں استاد کہہ کر مخاطب کرتے تھے۔ اب وہ انہیں مرزا صاحب کہنے لگے۔ اگر بھولے سے کوئی استاد کہہ کر بلاتا تو وہ بھڑک کر گالیاں بکنا شروع کر دیتے۔
ان دنوں ان کا بیشتر وقت گھر ہی پر گزرتا تھا۔ سویرے تڑکے ہی سارنگی لے کر بیٹھ جاتے اور شام تک راگنیوں کا سلسلہ جاری رہتا۔ اب ان میں ایک نیا مرض یہ پیدا ہو گیا تھا کہ موسیقی پر لیکچر بازی کرنے لگے تھے۔ ان کی اس نئی عادت کا سب سے بڑا نشانہ بیوی تھی۔ استاد بے چاری سیدھی سادی گھریلو عورت سے موسیقی کے بارہ ٹھاٹھوں پر بات کرتے کرتے سیاست پر بحث شروع کر دیتے۔ یہ محض اتفاق تھا کہ یہ لیکچر بازی انہیں راس آگئی اور وہ میوزک کالج میں باقاعدہ لیکچرر ہو گئے۔ اس تبدیلی سے استاد کی وضع داری میں تو کوئی فرق پیدا نہیں ہوا البتہ یہ انقلاب ضرور رونما ہوا کہ ان کے دروازے پر ایک بڑی سی تختی لٹکنے لگی جس پر انگریزی کے موٹے موٹے حروف میں لکھا تھا۔ پروفیسر شیدا علی بیگ۔ حالانکہ استاد انگریزی سے قطعی نا آشنا تھے مگر اب وہ پروفیسر کہلانے میں فخر محسوس کرتے تھے۔ دو چار دفعہ کی ڈانٹ ڈپٹ کے بعد گھر پر آنے والے شاگرد ں نے انہیں پروفیسر صاحب کہنا شروع کر دیا۔
آمدنی معقول تھی۔ مزے سے گزر بسر ہو رہی تھی۔ اب وہ اور بھی وزنی گالیاں بکنے لگے تھے۔ شاگردوں کو بات بات پر کتوں کی طرح دھتکارتے تھے۔ شاگرد بھی دم سادھے بیٹھے رہتے۔ ان میں بعض سے میرے مراسم تھے۔ پوچھا بھائی یہ استاد شیدی میں کیا سرخاب کا پر لگا ہے کہ دھڑا دھڑ گالیاں کھایا کرتے ہو کسی اور سے کیوں نہیں سیکھتے؟“ مگر سب کی متفقہ رائے تھی کہ جس طرح سارنگی کی بجانے میں دور دور تک استاد شیدی کا جواب نہیں، اسی طرح وہ راگ داری کے رگ و ریشے سے بھی واقف ہیں۔ اس قدر مہارت تھی کہ بتانے پر آتے تو یہ تک بتا جاتے کہ فلاں راگ کا موجد کون تھا؟ اور اب تک اس میں کیا کیا تبدیلیاں پیدا ہوئیں؟
انہی دنوں کا ذکر ہے کہ راجہ بانکی پور کے ہاں ایک تقریب تھی۔ رقص موسیقی کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔ استاد شیدی کو بھی بلایا گیا۔ وہ اب مجروں میں بہت کم جاتے تھے۔ مگر منصور علی کے اصرار پر چلے گئے۔ راجہ صاحب نے بڑی دھوم دھام سے جشن کا بندوبست کیا تھا۔ شہر کے سارے کلاکاروں کو انہوں نے اکٹھا کیا تھا۔ رات بھر راگ رنگ کی محفل گرم رہی۔ البتہ استاد کے ساتھ ایک حادثہ ہو گیا۔ ہوا یہ کہ رات کے کوئی گیارہ بجے برق بانو نے ایک ٹھمری گائی۔ یہ برقی بانو کے عروج کازمانہ تھا۔ قبول صورت طوائف تھی۔ کھلتا ہوا چمپئی رنگ، تیکھے نقش و نگار ، نکلتا ہوا چھریرا بدن۔ اس نے ٹھمری چھیڑی تو محفل میں آگ لگ گئی۔ بول تھے ”اندھیریا ہے رات سجن رہیو کہ جیو۔ “ اودھ کے تعلقہ داروں کی محفل، برق بانونے نرت کے ساتھ ٹھمری کے بول ادا کیے تو ہر طرف سے واہ واہ ہونے لگی۔ روپوں کی بارش شروع ہو گئی۔ محفل میں راجہ صاحب اجے گڑھ بھی موجود تھے۔ انہوں نے دونوں ہاتھوں سے روپیہ نچھاور کیا۔ غرضیکہ ایک ہنگامہ ہاﺅ ہو برپا ہو گیا۔
بر ق بانو کا مجرا ختم ہوا تو محفل کا رنگ بدل چکا تھا۔ اس کے فوراً بعد استاد شیدی کا پروگرام تھا۔ وہ حسب معمول ڈھیلی ڈھالی اچکن پر دوپلی ٹوپی لگائے ہوئے تھے۔ ان کی وضع قطع دیکھ کر کچھ منچلے مسکرا کر رہ گئے۔ انہوں نے ایمن راگ چھیڑا اور دھیرے دھیرے استھائی میں چلے۔ محفل کا مطالبہ کچھ اور تھا مگر استاد کو اس کا کوئی اندازہ نہیں تھا۔ وہ طبلے کی سنگت کے ساتھ مدھم سروں میں سارنگی بجاتے رہے۔ ذرا دیر تک خاموشی رہی۔
اس کے بعد سننے والوں کی دلچسپی بھٹکنے لگی اور محفل پر ایک اکتاہٹ سی طاری ہو گئی۔ محفل میں سر جوالا پرشاد سری واستو بھی شریک تھے، ان سے ضبط ہو سکا۔ مسکرا کر بولے۔ ”استاد جی ، یہ آپ نے کیاروں روں لگا رکھی ہے؟ ذرا کچھ اچھے ہاتھ دکھائیے۔ “
سرجے پی سری واستو کا یہ جملہ سنتے ہی استاد شیدی کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ فوراً ہاتھ روک لیا۔ پلٹ کر طبلچی کی طرف دیکھا اور ڈانٹ کر کہنے لگے۔ ”روک بے ہاتھ!“ طبلچی نے گھبرا کر ہاتھ کھینچ لیا۔ استاد نے خاموشی کے ساتھ قریب رکھا ہوا سارنگی کا غلاف اٹھایا اور سارنگی اس میں لپیٹنے لگے۔ سرجوالا پرشاد کو فوراً اپنی غلطی کا احساس ہوا ، مسکرا کر بولے۔ ”استاد جی معلوم ہوتا ہے کہ آپ میری بات کا برا مان گئے۔ میں نے تو آپ سے ایک درخواست کی تھی۔ آپ کو کچھ سنا کر جانا پڑے گا۔ “
راجہ بانکی پور نے بھی ان کی ہاں میں ہاں ملائی۔ استاد نے جل کر کہا ” جی سنانے والے کی تو …..“ انہوں نے ایک گندی گالی دی اور بدستور سارنگی غلاف میں لپیٹتے رہے۔ ”آپ نے مجھے میراثی سمجھا ہے۔ برسوں خون پانی ایک کر کے ریاض کیا ہے ، رنڈیوں کی چلمیں نہیں بھریں۔ واہ صاحب واہ ، کیا قدر دانی کی ہے؟ مجھے کیا معلوم تھا کہ سالے ایسے بیوقوفوں سے پالا پڑے گا۔ “ یہ کہتے ہوئے وہ اٹھ کر کھڑے ہو گئے۔
محفل پر سناٹا طاری ہو گیا۔ سر جوالا پرشاد وائسرائے کی کونسل کے ہوم مبر تھے۔ لوگوں نے سوچا کہ اگر استاد اس وقت جوتے مار کر نہ نکالے گئے تو انہیں کم از کم جیل کی ہوا تو ضرور کھانا پڑے گی۔ انہوں نے سر محفل ہوم ممبر کی بے عزتی کی تھی لیکن استاد بڑی بے نیازی کے ساتھ محفل سے اٹھ کر چلے گئے۔
سنا ہے کہ سرجوالا پرشاد خود استاد کو منا کر پھر محفل میں لائے۔ اس کے بعد استاد شیدی نے بہار کا خیال چھیڑا اور کئی گھنٹے تک سارنگی پر اپنے فن کا مظاہرہ کرتے رہے۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ استاد کا عالم یہ تھا کہ کہ آنکھیں بند تھیں۔ جسم پتھر کی طرح ایک جگہ جم کر رہ گیا تھا۔ صرف ہاتھ چل رہا تھا اور سارنگی سے سنگیت کی بارش ہو رہی تھی۔ یہ پھاگن کی رات تھی۔ بہار کی آمد آمد تھی۔ کچھ تو موسم کا اثر اور کچھ استاد چوٹ کھا کے اپنا کمال دکھا رہے تھے۔ سماں بندھ گیا۔ استاد شیدی نے ٹھمری کی تندی ٹھرے کے نشے کی طرح اتار کر رکھ دی۔ وہ رنگ باندھا کہ بہار کی کیفیت طاری ہو گئی۔ رات ڈھلتی گئی اور استاد کا ہاتھ سارنگی پر چلتا رہا۔ محفل پر سناٹا چھا گیا۔ ہر شخص مبہوت تھا۔
جب انہوں نے ہاتھ روکا تو وہ اکڑ کر رہ گیا۔ واللہ اعلم، یہ بات کہاں تک درست ہے۔ البتہ اتنا ضرور دیکھا کہ استاد شیدی نے شاگردوں کو کچھ عرصے کے لیے تعلیم دینا بند کردی تھی اور ان کا ہاتھ سفید پٹی میں جھولتا رہتا تھا جس پر روزانہ سویرے سویرے ایک مالشیا آکر گھنٹوں مالش کیا کرتا تھا۔
اس بات کو زمانہ ہو گیا۔ زندگی میں بہت سے تغیرات رونما ہوئے استاد شیدی میں بھی بہت بڑا تغّیر ہوا۔ اس کا انکشاف مجھ پر اچانک ہوا۔ ایک روز ایسا ہوا کہ وہ اپنا ایک ٹیلی گرام پڑھوانے میرے پاس آئے۔ میرے ایک دوست بھی کمرے میں موجود تھے میں نے استاد کا ان سے تعارف کرایا۔ ”آپ سے ملیے ،آپ استاد شیدی ہیں، میوزک کالج میں پروفیسر ہیں۔ سارنگی بجانے میں اپنا جواب نہیں رکھتے“۔ میں نے تعارف کروانے میں حتی الوسع یہ کوشش کی تھی کہ کہیںمنہ سے ایسی بات نہ نکل جائے کہ استاد کی طبع نازک پر بار گذرے مگر غلطی سر زد ہو گئی۔ اس کا اندازہ مجھے استاد کی آنکھوں کے جلال سے ہوا۔ انھوں نے تیوری پر بل ڈال کر مجھے قہر آلود نگاہوں سے کچھ اس طرح دیکھا کہ اگر کوئی شاگرد ہوتا تو منہ پر وہ جھانپڑ پڑتا کہ دن میں تارے نظر آجاتے۔ میرے دوست سے کہنے لگے۔ ” جناب مجھ کو پرنس مرزا شیدا علی گورگانی کہتے ہیں۔ میوزک کالج میں پروفیسر ضرور ہوں مگر میرا یہ خاندانی پیشہ نہیں ہے۔ “ اس کے بعد استاد نے جو اپنا شجرہ نسب بتانا شروع کیا تو سلاطینِ مغلیہ سے اپنا رشتہ ملا دیا۔ اس وقت انہوں نے موسیقی کے متعلق ایک لفظ نہیں کہا۔ میں حیرت زدہ رہ گیا کہ یہ اچانک ان پر مغل شہزادہ ہونے کا نکشاف کیسے ہوا؟
تحقیقات سے پتہ چلا کہ دور کی یہ کوڑی ان کے صاحبزادے منصور علی لائے تھے جو خیر سے اب ٹیوشن پڑھانے لگے تھے اور ان دنوں کسی کی عوضی پر میوزک کالج میں گانے کی تعلیم بھی دے رہے تھے۔ استاد نے نہ صرف صاحبزادے کی تجویز قبول کرلی بلکہ باقاعدہ اس کی تبلیغ بھی شرع کر دی۔ ان کے مکان کی تختی بھی بدل گئی البتہّ کشمیری بھانڈوں میں اس تبدیلی پر چہ مگوئیاں ہونے لگیں۔ استاد کے خلاف ایک محاذ قائم ہو گیا۔ جن دنوں یہ کشمکش زوروں پر تھی میں لکھنّو چھوڑ کر کراچی آگیا اور یہاں آکر ایسا پھنسا کہ لکھنّو جانا نصیب نہ ہوا۔
چند سال قبل میں ایک عزیز سے ملنے ملیر گیا۔ واپسی پر بس اسٹینڈ پر کھڑا تھا کہ کسی نے قریب آکر بڑے لکھنوی انداز میں جھک کر سلام کیا۔ جھٹپٹے کا وقت تھا۔ میں اس شخص کا چہرہ نہ دیکھ سکا البتہ اتنا ضرور خیال آیا کہ اسے کہیں دیکھا ہے۔ کہاں دیکھا ہے؟ یہ بات یاد نہ آئی تو اس نے خود ہی کہا۔ ” نہیں پہچانا؟ ہاں بھئی غریبوں کو کون پہچانتا ہے؟“
میں فوراً پہچان لیا، استاد شیدی ہیں۔ ابھی خیرو عافیت پوچھنے کا سلسلہ جاری تھا کہ اس اثنا میں میری بس آ گئی اور میں اس پر سوار ہو کر چلا گیا۔ اس وقت بڑی عجلت میں تھا۔ یہ بھی پوچھنے کا موقع نہ ملا کہ ان کا قیام کہاں ہے؟ اور کب تک یہاں ٹھیریں گے؟ عارضی طور پر آئے ہیں یا مستقل ہجرت کر کے پاکستان چلے آئے ہیں۔ لیکن یہ میں نے اندازہ ضرور لگایا کہ ان کی حالت کچھ پتلی تھی۔ ا±س روز وہ شیروانی بھی میلی کچیلی پہنے ہوئے تھے اور ان کی آواز میں پہلا سا کرکرا پن نہیں تھا۔
کوئی ہفتے بھر بعد استاد شیدی سے پھر مڈ بھیڑ ہوگئی۔ اس روز خاصی تفصیلی ملاقات رہی۔ باتوں باتوں میں معلوم ہوا کہ انہیں کراچی آئے ہوئے آٹھ ماہ کا عرصہ ہو چکا ہے۔ دونوں بڑی لڑکیوں کی شادی انہوں نے لکھنّو ہی میں کر دی تھی۔ میوزک کالج کی ملازمت مہا سبھائی پرنسپل کے ہاتھوں جاتی رہی۔ بات صرف اتنی تھی کہ ہولی کے تہوار پر پرنسپل نے کالج کا تمام اساتذہ کو اپنے گھر پر مدعو کیا تھا۔ ہولی منانے کا پروگرام تھا۔ استاد شیدی صوم و صلوة کے پابند مسلمان تھے۔ پرنسپل کے منہ پر صاف صاف کہ دیا کہ” میں رنگ کھیل کر خود کو جہنمی نہیں بنانا چاہتا۔ مجھ کو اس شیطانی چرخے سے باز ہی رکھا جائے۔ “
پرنسپل نے ان کے مذہبی جذبات کا احترام کرنے کی بجائے کاٹ پیچ شروع کر دی۔ ایک دن ایسا بھی آیا کہ استاد شیدی کو کالج ہمیشہ کے لیے چھوڑنا پڑا۔ ملازمت سے علیحدہ ہونے کے بعد بھی وہ مزے میں تھے، گھر پر اچھے خاصے شاگرد آ جاتے تھے۔ انہی دنوں منصور علی پاکستان چلا آیا۔ اسی کی تحریک پر وہ بھی چلے آئے۔ میں نے پوچھا۔ ” منصور علی کہاں ہے؟“ کہنے لگے۔ ” ا±س نے قوالوں کی چوکی بنائی ہے اور آج کل خیر پور میں ہے۔ “
میں نے حیرت زدہ ہو کر کہا قوالوں کی چوکی؟“
وہ مسکرا کر بولے۔ ”آخر کچھ نہ کچھ تو پیٹ کا دھندہ کرتا۔ یہاں گانے بجانے کی کون قدر کرتا ہے؟“
”اور آپ؟“ غیر ارادی طور پر میں پوچھ بیٹھا۔ یکبارگی پرانے استاد جاگ اٹھے۔ انہوں نے ایک سڑی ہوئی گالی دی اور غصّے میں بولے۔ “ جی قوالی بھی کوئی راگ ہے؟ لاحول ولا قوة۔ منصور میرے سر بہت ہوا۔ میں نے کہا ابے بیدھا ہوا ہے، اب میں قوالی گاو¿ں گا؟ ذرا غور تو کیجیے۔ زندگی بھر کا ریاض چند ٹکوں کی خاطر قربان کردوں واہ صاحب واہ۔ یہ بھی ایک ہی رہی۔ “
وہ دیر تک اسی قسم کی باتیں کرتے رہے مگر ان کی حالت بڑی ابتر تھی۔ اچکن بے حد بوسیدہ ہوگئی تھی۔ پائجامے پر گھٹنے کے پاس بڑا سا پیوند لگا تھا۔ چہرہ اور بھی بد شکل ہو گیا تھا۔ آخر دوبارہ ملنے کا وعدہ کر کے استاد شیدی رخصت ہو گئے۔ چند ہی روز بعد وہ میرے دفتر آئے۔ تھوڑی دیر اِدھر ا±دھر کی باتیں کرنے کے بعد بولے۔ ” ریڈیو کے صاحب سے آپ کی کچھ ملاقات ہے؟“
میں نے انکار کیا تو انکا چہرہ اتر گیا۔ نہ جانے وہ میرے پاس کیا توقعات لے کر آئے تھے۔ بڑے پژمردہ لہجے میں بولے۔ ”میں نے سوچا تھا کہ شاید آپ کے توسط سے ان تک رسائی ہو جائے۔ یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ بغیر سفارش یہاں کوئی کام نہیں بنتا۔ “
میں نے غور کیا کہ استاد شیدی کو زندگی برتنے کا گر ابھی تک نہیں آیا۔ میری سفید پوشی سے مرعوب ہو گئے اور سمجھے کہ میں یہاں آکر بڑی توپ بن گیا ہوں۔ مجھے خاموش دیکھ کر استاد نے بات کا رخ پلٹ دیا۔ کہنے لگے کہ منصور کا خط آیا ہے وہ بھی آج کل بہت پریشان ہے۔ لکھا ہے کہ اس کا گلا خراب ہو گیا ہے۔ کسی نے سیندور کھلا دیا۔ لمحے بھر توقف سے بولے۔ ”اجی! سیندور کسی نے کیا کھلایا ہو گا؟ سالے نے قوالیاں گا گا کر اپنی آواز کا ستیا ناس کردیا۔ “
اس روز بھی اپنی پریشانیوں کا ذکر کرتے رہے۔ چلتے وقت بہت جھجکتے ہوئے انہوں نے کہا۔ ”کچھ روپے ہوں گے آپ کے پاس؟ بخدا د دو روز سے گھر میں فاقہ پڑا ہے۔ “ یہ کہ کر وہ اس طرح سہم کر کھڑے ہو گئے جیسے چوری کرتے ہوئے پکڑے گئے ہوں۔
میرے پاس اسوقت ایک روپیہ تھا دو روپے دفتر میں ایک صاحب سے لے کر انہیں تین روپے دیے اور گھر کا پتہ بتا دیا کہ وہاں آجائیں تو کچھ اور بندوبست کردیا جائے گا۔ واقعہ یہ ہے ان کا حال سن کر کلیجہ دھک سے ہوگیاتھا۔
دوسرے ہی دن وہ گھر آئے میں نے دس روپے اور دیے۔ انہوں نے کپکپاتے ہوئے ہاتھوں سے نوٹ پکڑا۔ لمحے بھر تک بت بن کر کھڑے رہے اوپھر دونوں ہاتھوں سے منہ چھپا کر دھاڑیں مار مار کر رو دیے جیسے کوئی اپنے رشتے دار کی میّت کے سرھانے کھڑے ہو کر روتا ہے۔
اس کے بعد وہ ایک عرصے کے لیے نہیں ملے۔ ایک روز آئے تو ان کی حالت اور بھی خستہ تھی۔ اچکن جگہ جگہ سے مسک گئی تھی۔ ان کی موٹی سی ناک پچک کر رہ گئی تھی اور جنگلی کبوتر کی سی س±رخ آنکھیں اندر دھنس گئی تھیں۔ ا±س روز وہ صرف اس غرض سے آئے تھے کہ انہیں کہیں چپڑاسی کی ملازمت دلوا دوں۔ اس دفعہ بھی میں نے انہیں کچھ رقم دی اور وعدہ کیا کہ کہیں نوکری دلوا دوں گا۔
اس کے بعد وہ برابر آتے رہے۔ ہر بار وعدہ کرتا اور وہ ہر بار اس یقین پر چلے جاتے۔ آخر میں ان سے ا کتا گیا۔ اِ س کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ میں ہر بار ان کے مالی امداد کرنے سے معذور تھا۔
ایک دن وہ آئے تو میں نے کہلو ا دیا کہ ” کہ وہ گھر پر نہیں ہیں۔ “ نہ جانے کیا بات تھی کہ واپس جانے کی بجائے وہ دروازے پر ر±ک گئے اور ٹہل ٹہل کر میرا انتظا کرتے رہے۔ عجیب مصیبت تھی کہ میں گھر کے اندر قید تھا اور وہ دروازے پر گویا پہرا دے رہے تھے۔
شاید9 بجے دن کے وہ آئے تھے ، سہ پہر تک اسی طرح ٹہلتے رہے۔ مجھے ان کی حالت پر ترس بھی آیا۔ خدا معلوم وہ کس عالم میں میرے پاس آئے تھے اور صبح کے بھوکے پیاسے بے چینی سے میرا انتظار کر رہے تھے۔ مشکل یہ تھی کہ گھر کا ایک ہی دروازہ تھا جس پر وہ موجود تھے۔ ورنہ میں کسی نہ کسی طرح ان کے پاس چلا آتا۔ جب تک وہ موجود رہے۔ بڑا ذہنی کرب رہا۔ جھٹپٹا ہونے سے کچھ دیر قبل وہ چلے گئے۔ اس کے بعد وہ دوبارہ میرے گھر نہیں آئے۔
چند ماہ بعد کا واقعہ ہے ، مجھے جوتوں کے کارخانے میں جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں مجھے ایک شخص میں استاد شیدی کی شباہت معلوم ہوئی۔ وہ فرش پر بیٹھا رامپی سے بڑی محویت کے عالم میں چمڑا کاٹ رہا تھا۔ گرمی کا موسم تھا۔ اس کے بدن پر ایک گندا سا نیکر تھا۔ ایک ایک ہڈی نظر آرہی تھی۔
اس نے گردن اٹھا کر دیکھا تو میں ششدر رہ گیا۔ استاد شیدی تھے۔ میں نے دل ہی دل میں کہا کہ استاد مجھے یہاں دیکھ لیا تو بڑے ہی خفیف ہوں گے لہذا مجھے فوراً اٹھ جانا چاہیے مگر انہوں نے مجھے دیکھ لیا تھا اور خلافِ توقع بڑی گرم جوشی سے بولے۔ ” ارے آپ ہیں ؟ کہیے خیریت تو ہے؟“
اس کے بعد انہوں نے فوراً باہر والے کو آواز دے کر بلایا اور دو چائے کا آرڈر دے دیا۔ میں نے اظہار ہمدردی کے طور پر کہا۔ ” مرزا صاحب، یہ آپ نے کیاحالت بنا رکھی ہے؟“۔ ہنس کر بولے۔ ” بھائی دونوں وقت پیٹ بھر کر روٹی مل جاتی ہے۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے“
میں نے کہا۔ ” تو گویا موسیقی آپ نے بالکل ترک کردی؟“
بڑی شانِ استغنا کے ساتھ بولے۔ ” اجی لعنت بھیجئے!“
اس کے بعد انہوں نے موسیقی کے فن کو بڑی گندی گندی گالیاں دیں اور پھر خاموش ہو کر بڑے اطمینان سے گردن نیچی کرکے رامپی سے چمڑا کاٹنے لگے پہلی بار مجھے اس حقیقت کا اندازہ ہوا کہ استاد شیدی کو میں جس قدر سادہ لوح سمجھتا تھا۔ وہ ایسے نہ تھے۔ کم از کم اس دفعہ انہوں نے دانش مندی کا ثبوت دیا تھا۔ ایسا فن سیکھا جس کی ضرورت امر مسلمہّ تھی۔ آدمی جوتے کے بغیر تو نہیں رہ سکتا البتہ اتنا ضرور ہے کہ جن انگلیوں سے وہ نغموں کا جادو جگاتے تھے، آج ان سے جوتیاں گانٹھ رہے تھے۔


Comments

FB Login Required - comments

5 thoughts on “سوتیلا آدمی

  • 10-01-2016 at 5:47 am
    Permalink

    What a beautiful piece
    Who is the writer

    • 11-01-2016 at 2:42 am
      Permalink

      Shaukat Siddiqui

  • 26-05-2016 at 1:26 pm
    Permalink

    بھئی شوکت صدیقی ، کیا خوبصورت انداز تحریر ہے، آپ کے نام کی نسبت سے شوکت تھانوی یاد آ گئے ۔
    شوخیٔ تحریر، جملوں ساخت اور اِن میں سمٹا ہوا مزاح اور کرداروں کے کردار و گفتار کی عکس بندی اور بیانیہ، آپ کی زبانی ، بھئی’’ہمارا آج کا دن بن گیا ‘‘ ۔
    اسی طرح لکھتے رہیں۔ خوش رہیں۔

    • 30-05-2016 at 10:14 am
      Permalink

      جناب نصر ملک صاحب ـ میں شوکت صدیقی مرحوم(1923 تا 2006)کی جانب سے آپ کی اسقدر حوصلہ افزائی کا تہہ دل سے مشکور ہوں ـکیا کہنے آپ کے تحسین و آفرین کے ان ڈونگروں کے ـ

  • 27-05-2016 at 1:33 pm
    Permalink

    بہت عمدہ اور خوبصورت

Comments are closed.