انوکھے الزامات انوکھے مقدمات


Aamir-Hazarvi

جمعیت علمائے اسلام ضلع مانسہرہ کی قیادت نے وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف پہ الزام لگایا ہے کہ انہوں نے ہماری ممبر ضلع کونسل خاتون کو اغواء کر لیا ہے سردار یوسف شرافت کے لبادے میں غنڈہ گردی کر رہا ہے۔ ضلع مانسہرہ کی قیادت نے بجٹ اجلاس والے دن ضلع کونسل ہال کے باہر دھرنا بھی دیا۔ دو دن تک یہ بات چلتی رہی کہ ہماری ممبر کونسل کو اغواء کر لیا گیا ہے۔ بجٹ والے دن اچانک متذکرہ خاتون ممبر نمودار ہوئی اور بتایا کہ مجھے کسی نے اغواء نہیں کیا بلکہ میں رشتہ داروں کے گھر گئی ہوئی تھی۔ سگنل نہ ہونے کی وجہ سے موبائل آف تھا۔ اگر یہ خاتون دو دن مزید منظر عام پہ نہ آتی تو سردار یوسف کی شرافت اور سیاست کا جنازہ نکل جاتا۔ ہماری سیاست اس طرح کے واقعات سے بھری پڑی ہے۔

یہ صرف ایک کیس ہے اس کو اِدھر چھوڑتے ہیں اور ذائقہ بدلتے ہیں۔ ماضی کی جانب چلتے ہیں کہ ماضی میں کیسے کیسے مقدمات و الزامات اس قوم نے بھگتے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں چوہدری ظہور الٰہی پر بھینس چوری کا الزام لگا اور پھر انکے خلاف پرچہ بھی کٹوایا گیا اب بھلا کوئی بتلائے کہ ایک سیاستدان بھینس کیوں چوری کرے گا؟ اس کے پاس پیسہ کمانے کے لیے بھینس ہی رہ گئی تھی؟ ذولفقار علی بھٹو کو ہی دیکھ لیجئے۔ انکے خلاف قتل کا مقدمہ چلا۔ باوجود ججوں کے اختلاف کے بھٹو کو تختہ دار پہ لٹکا دیا گیا۔ میاں نواز شریف پہ طیارہ ہائی جیکنگ کا کیس بنا۔ طیارہ ہائی جیک کرنے والا زمین پر موجود تھا جبکہ طیارہ فضاء میں گھوم رہا تھا۔ کتنا مضحکہ خیز مقدمہ تھا. اس مقدمے کی پاداش میں دس سال کی جلا وطنی مقدر ٹھہری۔ الطاف حسین پہ کراچی توڑنے کا الزام لگا، جناح پور کے نقشے بر آمد ہوئے جبکہ الطاف حسین دیارِ غیر میں سکون سے زندگی بسر کرتے رہے اور پہلے سے زیادہ طاقتور بن گئے تھے۔ جاوید ہاشمی کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کروایا گیا، سالہا سال انہیں جیل کی کوٹھڑی میں رہنا پڑا۔

یہ تو سیاسی مقدمات تھے کراچی میں پہاڑ کی چوری پہ بھی ایک مقدمہ ہوا اور پچھلے دنوں ہماری پولیس نے نو ماہ کے بچے پر توڑ پھوڑ کا الزام لگا کے پرچہ درج کر دیا. ساری دنیا نے یہ ڈرامہ اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ نو ماہ کے معصوم بچے نے روتے روتے ضمانت کے کاغذات پر انگھوٹھا لگایا۔ شجاع آباد میں اس سے بھی انوکھا واقعہ یہ ہوا کہ پولیس نے چوروں کو پکڑنے والوں کے خلاف مقدمہ درج کروا کے چوروں کو مدعی بنا دیا۔

آپ یہ پڑھ کے خود کو نہ کوسیں۔ نہ ہی شرمانے کی ضرورت ہے اور نہ ہی یہ کہنے کی ضرورت ہے کہ ہم ہیں ہی ایسے۔ ذرا اپنے پڑوسی ملک کی طرف چلیں۔ حال ہی میں بھارت پولیس نے ریاست اتر کھنڈ میں ایک مظاہرے کے دوران ملک کی حکمران جماعت کے ایک سیاستدان پر اس وجہ سے پرچہ کاٹ دیا کہ اس نے گھوڑے پر حملہ کیا ہے۔ یہ ابھی مارچ کی بات ہے۔ پولیس کے گھوڑے کی توہین ہو اور پرچہ نہ کٹے، ایسا تو ممکن نہیں۔ بھارت کو بھی چھوڑیں۔ مشرقی جرمن صوبے برانڈ نبرگ کے علاقے سے تعلق رکھنے والے مارسیل زیش نامی سیاستدان کے خلاف اس وجہ سے پرچہ کاٹا گیا کہ اس کی کمر پر نازی ٹیٹو بنا ہو اتھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مارسیل کا تعلق دائیں بازو سے تھا۔۔۔

چھوڑیں سب کو، ہماری قوم سب سے زیادہ جس ملک سے مرعوب ہے وہ ہے امریکہ۔ ہمارے دانشور ہر وقت امریکہ امریکہ کی رٹ لگائے ہوتے ہیں. آئیے ذرا امریکہ کو بھی دیکھ لیجئے۔ امریکہ ہم سے بھی دو چار قدم آگے ہے۔ امریکہ میں ایک عورت پہ الزام لگایا گیا اور اس الزام پہ مقدمہ چلایا گیا اور پھر ایک نہتی عورت کو چھیاسی سال کی سزا سنا دی۔ جی میری مراد عافیہ صدیقی ہے۔ عافیہ صدیقی کون ہے؟ اس کا کس گروپ سے تعلق ہے اور اسکے ذہن میں کیا تھا مجھے اس سے غرض نہیں۔ میری سوئی اس بات پہ اٹکی ہے کہ اس پر جو مقدمہ چلایا گیا وہ جھوٹ پر مبنی ہے۔ عافیہ صدیقی پہ الزام ہے کہ اس نے افغانستان میں ایک امریکی ٹیم پر ایم فور رائفل سے حملہ کیا تھا۔ اور حملہ بھی کیسے کیا؟ یہ کہانی بھی دلچسپی سے خالی نہیں۔ امریکی فوجی افغان پولیس سے گفتگو کر رہا تھا کہ عافیہ صدیقی نے رائفل اٹھا کر گولی چلا دی۔ عافیہ نے جونہی گولی چلائی تو افغان مترجم نے دھکا دے کر عافیہ سے رائفل چھین لی اور جوابی فائرنگ سے عافیہ زخمی ہوگئی۔ عافیہ کی گولی سے کوئی زخمی نہ ہوا جبکہ جوابی فائرنگ سے عافیہ زخمی ہوگئی اور پھر اسے چھیاسی سال کی سزا سنا دی گئی۔ اس بیان پہ وکلاء نے جرح بھی کی جو میں یہاں لکھنا نہیں چاہتا. بس اتنا بتانا تھا کہ الزامات لگتے ہیں مقدمات چلتے ہیں کوئی پھانسی کے پھندے پہ جھول جاتا ہے، کسی کو جلا وطن کردیا جاتا ہے، کوئی قیدِ با مشقت زندگی گزارتا ہے اور کوئی چھیاسی سال کی سزا کاٹ رہی ہے۔ یہ سزا یہ جزا یہ قید و بند یہ اموات یہ جلا وطنیاں، ان سب کی ابتداء الزامات سے ہوتی ہے۔ الزامات لگتے ہیں تو میلے سجتے ہیں۔ الزامات لگتے ہیں تو قانون جاگتا ہے۔ الزامات لگتے ہیں تو اہل ہوس کی جیب بھرتی ہے۔ الزامات لگتے ہیں تو زنجیر ہلائی جاتی ہے۔ الزامات لگتے ہیں تو عزتیں سرِ عام اچھلتی ہیں۔ کیوں نہ ہم عہد کریں کہ بغیر ثبوت بات نہیں کریں گے۔ کسی کی زندگی میں رات نہیں کریں گے۔ بہت ہو چکا انسانیت کو زندہ رہنے دیا جائے۔ الزامات کی سیاست و تجارت سے باہر نکلا جائے۔ آج کسی کی باری ہے تو کل میری اور آپکی بھی آسکتی ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “انوکھے الزامات انوکھے مقدمات

  • 09-04-2016 at 11:53 am
    Permalink

    اگر ہم آپ کی اس بات کو “کیوں نہ ہم عہد کریں کہ بغیر ثبوت بات نہیں کریں گے” مان لیں تو کرنے کی بات کیا رہ جائے گی۔ پھر تو”بھریا میلہ” ہی اجڑ جائے گا۔ ہماری ہاں سیاست کی ابتدا اور انتہا سنی سنائی باتوں پر ہی تو ہے۔

Comments are closed.