کراچی ضمنی انتخاب: جمہوریت ہار گئی


karachi یہ کوئی حیرت کی بات نہیں ہے کہ کراچی کے ضمنی انتخاب میں قومی و صوبائی اسمبلی کی نشستیں ایک بار پھر متحدہ قومی موومنٹ نے حاصل کر لی ہیں۔ البتہ اس انتخاب کے حوالے سے بعض حقائق ضرور دلچسپ اور قابل توجہ ہیں۔ ان سے کراچی میں سیاسی پارٹیوں کی باہمی چپقلش ، سیاسی امور میں اخلاقی روایت کی کمی ، ووٹروں کی مایوسی اور سانحہ پر خوشیاں منانے کے رنگ ڈھنگ جمہوریت کے طالب علم کو حیران کرتے ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ بات طے کر لی جائے کہ جب 4 لاکھ ووٹر کے حلقہ میں سے صرف 45 ہزار ووٹر پولنگ اسٹیشن تک جانے کی زحمت کریں تو ملک میں عوام کی حکمرانی کے حوالے سے یہ ایک سنگین صورت حال ہے۔ ایسے انتخاب میں کامیابی کا جشن بے معنی اور یہ خوفناک صورتحال پریشانی کی بنیاد ہونی چاہئے کہ جن لوگوں کے لئے اتنا ہنگامہ بپا کیا جاتا ہے، وہ تو اس نظام کو چلانے اور اس میں حصہ ڈالنے کے لئے تیار ہی نہیں ہیں۔ گو کہ یہ ضمنی انتخاب تھے لیکن ووٹوں کی اس قدر کم شرح ، اس بات کا تقاضہ کرتی ہے کہ ان عوامل کا جائزہ لیا جائے جو لوگوں کو بیلٹ بکس اور سیاستدان سے دور کر رہے ہیں۔

یہ وقوعہ چونکہ کراچی میں رونما ہوا ہے، جو کہ ملک کا سب سے بڑا شہر ہونے کے علاوہ اقتصادی اور تعلیمی استعداد کے حوالے سے بھی سرفہرست ہے۔ اس لئے جب کراچی کا ووٹر انتخاب کے طریقہ کو مسترد کرتا ہے تو جمہوریت کے نام پر شور مچانے والے سب عناصر کو خواہ ان کا تعلق سیاست سے ہو یا عوام کی ذہنی تربیت کرنے والے میڈیا اور دانشوروں سے …. یہ سوچنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جمہوریت کی یہ گاڑی صرف اسی صورت میں رواں دواں رہ سکتی ہے، اگر اس کے مسافر اس پر اعتبار کرتے ہوئے اس سفر کی تائید کرتے رہیں گے۔ اگر ملک کے سب سے بڑے اور باخبر شہر کا ووٹر جمہوری طریقہ کار سے اس حد تک مایوس ہو چکا ہے کہ دس میں سے صرف ایک شخص اپنی شہری ذمہ داری پوری کرنا ضروری سمجھتا ہے تو ان ہر دو عناصر کو ایک دوسرے سے بھڑنے سے پہلے اپنے اپنے طور پر یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ آخر وہ کیوں ان لوگوں کو مایوس کرنے اور نتیجتاً جمہوریت کے لئے خطرہ بننے کا سبب بنے ہیں۔ بلاشبہ گزشتہ چند ماہ کے دوران کراچی میں رونما ہونے والے واقعات عام لوگوں کے رویہ پر اثر انداز ہوئے ہیں۔ لیکن حیرت انگیز طور پر سیاستدان اور سماج کے نباض یعنی صحافی اور اہل قلم اس تبدیل ہوتے ہوئے موڈ کو سمجھنے اور اس پر اثر انداز ہونے میں ناکام رہے ہیں۔ کراچی کے ضمنی انتخابات کے دوران رونما ہونے والے سانحات ، کی جانے والی باتوں اور ان پر سامنے آنے والی رپورٹوں یا مباحث میں لوگوں کی مایوسی ، پریشانی یا ناراضگی ظاہر نہیں ہو سکی۔ انتخاب کے نتائج سامنے آنے کے بعد یہ بات زیادہ زیر بحث رہی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کا امیدوار پولنگ شروع ہونے سے صرف 6 گھنٹے پہلے نہ صرف انتخاب سے دستبردار ہو گیا بلکہ وہ اس پارٹی میں جا شامل ہوا جسے تحریک انصاف لٹیروں اور غنڈوں کی پارٹی قرار دے کر اس کے خلاف محاذ آرائی کرتی ہے۔

یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ کم علمی ، پارلیمانی جمہوریت کے تقاضوں ، گنجلک سماجی نظام اور سیاسی ترجیحات میں قوم ، ملک یا علاقہ کی بجائے ذات اور فرد کو محور بنانے کے سبب ملک کے انتخابات میں ووٹروں کی شرح عام طور سے 50 فیصد کے لگ بھگ رہتی ہے۔ یوں تو دنیا بھر میں انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے رجحان میں کمی نوٹ کی جا رہی ہے لیکن مسلمہ جمہوری معاشروں میں اس تبدیلی کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے عوام کو جمہوری اداروں اور مباحث کا حصہ بنانے کے لئے سرگرمی سے اقدام کئے جاتے ہیں۔ پاکستان میں بھی کراچی کے انتخابات میں لوگ زیادہ تندہی سے حصہ لیتے رہے ہیں۔ 2013 کے انتخابات میں یہ شرح 55 سے 60 فیصد تک تھی۔ اس کی ایک وجہ متحدہ قومی موومنٹ کی تحریک اور اس کے حامیوں کا جوش و خروش بھی ہے۔ متبادل کے طور پر پاکستان تحریک انصاف نے 2013 کے انتخابات میں خود کو پیش بھی کیا اور کسی حد تک منوایا بھی۔ اس لئے ان انتخابات میں ان حلقوں میں بھی جنہیں ایم کیو ایم کا گڑھ خیال کیا جاتا ہے، پی ٹی آئی 30 سے 50 ہزار ووٹ فی حلقہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی تھی۔ یہ ایک ٹھوس ووٹ بینک تھا جو متحدہ کے اثر و رسوخ اور مضبوط انتخابی ڈھانچے کے باوجود تحریک انصاف کو ملا تھا۔ لیکن پی ٹی آئی اسے سنبھالنے اور اس میں اضافہ کرنے میں ناکام رہی ہے۔

اس کی سب سے بڑی وجہ تو یہی ہے کہ دوسری پارٹیوں کی طرح تحریک انصاف بھی صرف انتخابات کے دوران ہی ووٹروں کے دروازوں پر دستک دیتی ہے یا پھر حکومت کو ڈرانے دھمکانے کے لئے جلسہ منعقد کرنے پر محنت کرتی ہے۔ یہ دونوں مواقع نہ ہوں تو یہ پارٹی عام لوگوں تک پہنچنے ، ان کی بات سننے اور ان کے مسائل حل کرنے میں مدد دینے سے گریز کرتی ہے۔ لیکن کراچی کا ووٹر ایک تو خوشحال اور تعلیم یافتہ ہے، دوسرے ایم کیو ایم نے سال ہا سال تک گھر گھر جا کر مسلسل دستیاب رہ کر انہیں اس بات کا عادی بنا دیا ہے کہ سیاسی جماعتیں انتخابات کے بعد بھی ان سے رابطہ میں رہیں۔ بھلے پی ٹی آئی یا دوسرے ناقدین یہ الزام لگاتے رہیں کہ ایم کیو ایم اپنے نیٹ ورک کے ذریعے دراصل ووٹروں کو ڈراتی دھمکاتی ہے اور زور زبردستی ان سے ووٹ حاصل کرتی ہے۔ ان الزامات کے باوجود ایم کیو ایم نے مسلسل یہ ثابت کیا ہے کہ اس کی مقبولیت اور کامیابی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ ووٹروں کے ساتھ رابطے میں رہتی ہے اور انتخابات کے بعد بھی یہ تعلق بحال رہتا ہے۔

کراچی کی صورتحال ، رینجرز کی کارروائی ، الطاف حسین کے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اختلافات اور غلط اندازوں کی وجہ سے گزشتہ کچھ عرصہ میں متحدہ قومی موومنٹ کو تنہا کرنے اور بے اثر بنانے کے لئے سر توڑ کوششیں کی گئی ہیں۔ مصطفی کمال اینڈ کمپنی کی واپسی ، پاک سرزمین پارٹی کے قیام کا اعلان ، الطاف حسین سے ناراض رہنماﺅں کی نئی پارٹی میں شمولیت اور میڈیا میں ایم کیو ایم مخالف عناصر کو یک طرفہ موقع ملنے جیسی وجوہات کی وجہ سے بلاشبہ متحدہ کا اثر و رسوخ بھی کم ہوا ہے اور اس کے پارٹی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ لیکن ضمنی انتخاب میں لوگوں کی عدم دلچسپی سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان عوامل نے عام ووٹر کو بھی مایوس کیا ہے اور وہ یہ محسوس کرنے لگا ہے کہ اس کے ووٹ دینے یا نہ دینے سے کوئی فرق پڑنے والا نہیں ہے۔ معاملات اور فیصلوں پر بعض دوسرے عوامل اثر انداز ہوتے ہیں۔ ایم کیو ایم کی قیادت نے گزشتہ چند برسوں میں کراچی کے عوام کے نام پر جو سیاسی قلابازیاں کھائیں اور جس طرح حکومت کے ساتھ تعاون کرنے یا نہ کرنے کو ذاتی انا اور اختیار و اقتدار کے لئے استعمال کیا، اس سے بھی ووٹر کی مایوسی میں اضافہ ہوا ہو گا۔

ایم کیو ایم نے اس مایوسی کو ختم کرنے کے لئے ووٹروں پر زیادہ توجہ دینے کی بجائے پارٹی کے اختیار کو چیلنج کرنے والوں سے محاذ آرائی کو ترجیح دی ہے۔ حلقہ این اے 245 سے تحریک انصاف کے امیدوار امجد اللہ خان کے حوالے سے جو حکمت عملی اختیار کی گئی ہے، وہ پارٹی قیادت کے غیر جمہوری طرز عمل کی چغلی کھاتی ہے۔ اس سے ووٹروں کو یہ اندازہ ضرور ہو گیا ہو گا کہ ایم کیو ایم اب بھی اپنی برتری برقرار رکھنے کے لئے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔ اگرچہ یہ خبریں سامنے آ چکی ہیں کہ امجد اللہ خان انتخابی مہم سے باہر نکلنے کے لئے کسی بھی سیاسی پارٹی کا ہاتھ پکڑنے پر آمادہ تھے۔ لیکن انہیں اس بے چینی میں مبتلا کرنے والے کون سے عوامل اور لوگ تھے۔ پیپلز پارٹی کے ترجمان کے بقول جب پیپلز پارٹی نے انہیں پیسہ اور سیاسی وعدہ دینے سے انکار کیا تو وہ ایم کیو ایم کی طرف چلے گئے۔ ایم کیو ایم نے اگر امجد اللہ کو پیسہ نہیں دیا تو وہ کون سا وعدہ یا دباﺅ تھا جس کے اثر میں پولنگ سے چند گھنٹے پہلے تحریک انصاف کے امیدوار کو اپنی پارٹی کی خامیاں اور متحدہ کی خوبیاں نظر آنے لگیں۔

2013 کے انتخاب میں ایم کیو ایم کے امیدوار نے این اے 245 سے ایک لاکھ پندرہ ہزار سے زائد ووٹ لئے تھے جبکہ تحریک انصاف کو بھی 55 ہزار ووٹ ملے تھے۔ اس بار کل 45 ہزار ووٹروں نے پولنگ اسٹیشن تک جانے کی زحمت کی۔ ایم کیو ایم اگر اس حلقہ کو اپنا قلعہ سمجھتی تھی تو اسے امجد اللہ کو ورغلانے یا ان کی طرف سے پارٹی بدلنے کی پیشکش کو قبول کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی۔ ایم کیو ایم کی قیادت کو تو یہ واضح کرنا چاہئے تھا کہ اب یہ معاملہ انتخاب کے بعد ہی طے ہو سکتا ہے۔ امجد اللہ اپنے طور پر انتخاب سے دستبردار ہو کر تحریک انصاف سے انتقام لے سکتے تھے اور متحدہ قومی موومنٹ کا دامن بھی داغدار ہونے سے بچ سکتا تھا۔ لیکن یوں لگتا ہے کہ سیاسی مفاد کی سیاست میں اس قسم کے موقع کو ضائع کرنا نادانی کہلاتی ہے۔ ایم کیو ایم ایسے حالات میں جبکہ پاک سرزمین پارٹی کی صورت میں مسلسل متحدہ کی صفوں میں شگاف ڈالنے کی کوشش ہو رہی ہے، خود اپنی مہارت و مستعدی کو ثابت کرنے کے لئے ایسے ہی کسی موقع کی تلاش میں تھی جو امجد اللہ نے اسے فراہم کیا۔ سیاست کے اس کھیل میں شاید ایم کیو ایم سرخرو رہی ہو، امجد اللہ کے مصارف بھی پورے ہو گئے ہوں، کراچی کی سیاست میں حصہ لینے کے نئے خواہشمند بھی پراسرار مسکراہٹوں کا تبادلہ کر رہے ہوں …….. لیکن اس سارے قضیے میں جمہوریت زخمی ہوئی اور ووٹروں کا اعتماد مجروح ہوا ہے۔ اگر رائے دینے والے ہی اس نظام سے مایوس ہونے لگیں گے، جسے استوار کرنے کے نعرے سننے کو ملتے ہیں تو سیاسی پارٹیوں کے ہتھکنڈے بھلا کس کام کے۔

کراچی کے ووٹر نے ضمنی انتخاب سے غیر حاضر رہ کر دراصل سیاستدانوں کو وارننگ دی ہے کہ وہ سیاست کو فیئر پلے کا درجہ دیں اور ووٹروں کی مرکزیت کو برقرار رکھیں۔ اب سیاسی جماعتوں اور ان کے رہنماﺅں پر منحصر ہے کہ وہ یہ پیغام سمجھتے ہیں یا اپنی چومکھی اور مفاد کی جنگ میں ووٹروں کا رہا سہا اعتماد بھی ختم کرتے ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 415 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

3 thoughts on “کراچی ضمنی انتخاب: جمہوریت ہار گئی

  • 08-04-2016 at 10:01 pm
    Permalink

    امجد اللہ کا آخری لمحات میں ایم کیو ایم میں شامل ہونے کو ہے اصولی بھی قرار دیا جا سکتا ہے. تاہم اسے اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے کی جانے والی کارروائیوں کا ایم کیو ایم کی جانب سے جواب کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے.

    • 10-04-2016 at 7:32 am
      Permalink

      واقعی یہ ہماری چھوئی موئی، شکستہ بدن اور لولی لنگڑی جمہوریت کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔
      ہارنے والے تو ہارے ہی ہیں۔
      جیتنے والے بھی جیت کر ہارے دکھائی دے رہے ہیں

  • 09-04-2016 at 2:40 am
    Permalink

    امجداللہ خان کا اپناباپ بھی بیٹے کی بُزدلی پر غُصہ سے اُسےدیکھنابھی نہیں چاھتاتھا لیکن اُسے کیاپتہ تھا کہ قاتلوں کی جماعت
    اپنے مذمُوم مقاصد کےحصُول کےلیٔے کیاکُچھ کرسکتی ھے،اچھا ھُوا کہ اس کےکرتُوت الیکشن سےپہلے ھی سامنےآگیٔے ورنہ
    جیتنےپر اس نے یہی کُچھ کرناتھا،ویسے اس سے یہ حقیقت بھی واضح ھو گیٔی کہ ایم کٰیوایم گولی کےزورپر ایک ایک حلقہ سے
    ڈیڑھ دو لاکھ ووٹ دھاندلی کے زور پرھی لیاکرتی تھی ،دُوسری بات جو کُھل کرسامنےآیٔی ھے وہ یہ ھے کہ کراچی کا تعلیمیافتہ
    ووٹر سیاست دانوں سے مایُوس ھو چُکا ھے ۔

Comments are closed.