متوازی عدالتی نظام اور بے خبر ریاست


Hafiz-Saeed-Horseانگریزی اخبار ڈان نے خبر دی ہے کہ ملک کی متنازعہ مذہبی تنظیم جماعت الدعوۃ نے لاہور میں اپنے صدر دفتر میں ایک شرعی عدالت قائم کی ہے اور اس عدالت کے تحت لوگوں کے باہمی تنازعات حل کروانے کے لئے کارروائی کی جاتی ہے۔

جماعت الدعوۃ کے ترجمان نے اسے مصالحتی عدالت قرار دیا ہے جو لوگوں کے مسائل حل کرنے میں معاونت کرتی ہے۔ ترجمان نے اخبار کو بتایا کہ متعدد لوگ ملک کے سست اور پیچیدہ عدالتی نظام سے عاجز آکر مصالحت اور مسائل کے حل کے لئے ان کی تنظیم سے رجوع کرتے ہیں۔ اس لئے یہ انتظام اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے کیا گیا ہے۔ تاہم اخبار کی اطلاعات کے مطابق اس مقصد کے لئے ایک قاضی مقرر کیا گیا ہے اور باقاعدہ عدالتی کارروائی میں اس قاضی کی مدد کرنے کے لئے معاونین بھی موجود ہوتے ہیں۔ اس قاضی کی ’عدالت‘ سے بعض لوگوں کو شکایت آنے کی صورت میں قاضی کے سامنے پیش ہونے اور اپنا دفاع کرنے کے لئے سمن بھی جاری کئے جاتے ہیں۔ ایسے ایک شخص نے اس غیر قانونی حرکت پر ہائی کورٹ ، وزیر اعلی اور وزیر اعظم کی توجہ مبذول کروانے کی کوشش بھی کی ہے لیکن اسے کوئی جواب موصول نہیں ہؤا۔اخبار نے بعض قانونی ماہرین سے بھی رابطہ کیا ہے۔ آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کی ’عدالت ‘ قائم کرنا متوازی عدالتی نظام چلانے کے مترادف ہے جو ملک کے آئین کی خلاف ورزی ہے۔ آئین کے تحت کوئی قانون شریعت اسلامی کے خلاف نہیں ہو سکتا ، اس لئے ملک کی تما م عدالتیں اصولی طور پر اسلامی طریقہ کار کے مطابق ہی کام کررہی ہیں۔ پاکستان کے آئین کے تحت ملک میں کام کرنے والی سپریم کورٹ، شرعی عدالت، ہائی کورٹ یا زیریں عدالتوں کے علاوہ کسی مصالحتی ادارے کو ’عدالت‘ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

عالمی طور پر دہشت گرد قرار دئے گئے حافظ محمد سعید کے زیر قیادت کام کرنے والی جماعت الدعوۃ دراصل لشکر طیبہ کا متبادل نام ہے۔ کیوں کہ دہشت گردی میں ملوث ہونے کے سبب لشکر طیبہ پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ یہ سارے حقائق جاننے کے باوجود حافظ سعید کو نئے نام سے مذہبی جماعت قائم کرنے اور فلاحی کام کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ تاہم حافظ سعید اور ان کے ساتھی اکثر ملک کی خارجہ پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے بھارت کے خلاف اشتعال انگیز بیان بھی دیتے رہتے ہیں۔ حال ہی میں اس تنظیم نے تیس کے لگ بھگ دیگر تنظیموں کے ساتھ ملک کر ملک میں نظام مصطفیٰ کے قیام کی تحریک چلانے کا اعلان بھی کیا تھا۔ ملک کے آئین اور قانون کے تحت ہونے والی کوئی بھی کارروائی کسی بھی شخص یا گروہ کا جمہوری حق ہے۔ لیکن اگر کوئی گروہ خود کو قانون سے بالا سمجھتا ہے اور ملک میں متوازی نظام عدل قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے تو مملکت کے سب اداروں کو اس کا سدباب کرنا چاہئے۔ حیرت انگیز طور پر لاہور کے ایک اعلیٰ پولیس افسر نے اخباری رپورٹر کے استفسار پر اس قسم کی ’عدالت‘ سے لاعلمی ظاہر کی ہے۔ اسی سے یہ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ملک کے انتظامی ادارے کس حد تک اپنے فرائض انجام دینے میں مستعد ہیں۔

جماعت الدعوۃ ملک کے مقتدر حلقوں کی اعانت اور سرپرستی سے متحرک ہوئی تھی اور انہی کے تعاون کی وجہ سے اسے اہمیت اور مقبولیت حاصل ہوسکی ہے۔ ملک کے بڑے شہروں کے سارے باشندے جانتے ہیں کہ حافظ سعید کو انتظامیہ کس طرح سیکورٹی اور پروٹوکول فراہم کرتی ہے۔ اس کے باوجود جماعت الدعوۃ کے مسلح اور سخت گیر گارڈ راستے بلاک کرنے اور شہریوں کو پریشان کرنے میں مصروف رہتے ہیں لیکن انتظامیہ ان کی ان غیر قانونی حرکتوں کو برداشت کرتی ہے۔ حیرت ہے کہ ایک طرف پاک فوج دیگر صوبوں کے بعد اب پنجاب میں دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کے خلاف سخت آپریشن کرنے میں مصروف ہے تو دوسری طرف ایسے گروہوں کو من مانی کرنے کی اجازت دی جا رہی ہے جو ملک کے قانون، حکومت اور نظام کو چیلنج کرنے کے لئے قانونی اور غیر قانونی ہتھکنڈے اختیار کرتے ہیں۔

جماعت الدعوۃ سمیت اس قسم کے متعدد گروہ اسلام کے نفاذ کی بات کرتے ہیں۔ لیکن وہ اس بات کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں کہ دین کے ماہرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ حکومت کے اختیار کو چیلنج کرنا شرعی تقاضوں کے خلاف ہے۔ اسلام تمام شہریوں کو قانون مملکت کا پابند بناتا ہے۔ البتہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ان کی تبدیلی کی کوشش ضرور کی جا سکتی ہے۔ جہاد کے نام پر دہشت گردی کرنے کے بعد اب جماعت الدعوۃ جیسی تنظیم متوازی عدالت قائم کرکے صرف ملک کے آئین کی ہی نہیں شرعی پابندیوں کی بھی خلاف ورزی کررہی ہے۔ اس سے ملک کے قانون کے علاوہ شریعت اور اسلام سے ان کے خلوص اور دیانت کا اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 413 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

6 thoughts on “متوازی عدالتی نظام اور بے خبر ریاست

  • 08-04-2016 at 8:28 pm
    Permalink

    ہمیشہ کی طرح، جامع

    • 09-04-2016 at 12:48 am
      Permalink

      Thanks Zafar bhai. I am obliged.

  • 08-04-2016 at 8:38 pm
    Permalink

    Ayk ayk lafz say taasob,bogz aorhasad ke badbo mehsoos hoe!!!
    Afsoos kay sahafat kay shobay say wabsta log sahafte deyant kho bayty,mag ela masha Allah!!

  • 08-04-2016 at 8:53 pm
    Permalink

    Despite my strong reservations and opposition to JuD’s politics and its politico-religious stances, the said action cannot be considered as setting up parallel courts so long as it is confined to “civil matters” and the parties to the dispute agree to it. It is covered under Arbitration Act of 1940. http://www.wipo.int/edocs/lexdocs/laws/en/pk/pk066en.pdf

  • 08-04-2016 at 8:56 pm
    Permalink

    State needs to amend its laws arbitration laws to regulate such activities and at the same time make the administration of justice more efficient and cost effective.

  • 09-04-2016 at 7:28 pm
    Permalink

    بہت حد تک متفق ہوں لیکن جو پوائنٹ آپ مس کر گیے وہ یہ کہ سچی بات ہے یہ سب کچھ پاکستان کی عدلیہ کے لیے بھی کافی ‘شرمناک’ ہے
    عوام کو اب عدالتوں پر اعتماد ہی نہیں رہا کہیں پہچائیتیں ہو رہیں ہیں تو کہیں جرگے اور اب فوجی عدالتوں کے بعد یہ متوازی عدالتیں…
    ان سب چیزوں سے بڑی توہیں عدالت اور کیا ہو سکتی ہے…؟

    “بہت ہی زیادہ شرم کی بات ہے”

    اس سب کے بعد معزز چیف جسٹس صاحب کو چاہیے یا تو عدلیہ کا وقار بحال کریں یا مستعفی ہو جائیں

Comments are closed.