میری اتنی موجیں


 \"laibaابھی میرے چاچو کی بیٹی آئی اور خوشی خوشی بتایا کہ اسے بہت کم ہوم ورک کرنا پڑے گا اگلے دو دن اور بیٹھے بیٹھے کہنے لگی کہ \”میری اتنی موجیں، میری اتنی موجیں\”۔ مجھے اُس پر بہت پیار آیا۔ ابھی وہ صرف دوسری جماعت کی طالب علم ہےمگر اس کے لئے یہ خوشی بہت بڑی ہے کہ ہوم ورک کم کرنا پڑے گا۔ چھوٹی عمر میں خوشیاں بہت بڑی ہوتی ہیں نا۔

اس سب نے میری سوچوں کو ایک اور جانب لے جانے میں بڑا اہم کردار ادا کیا ہے۔ جاب کے ابتدائی دنوں میں میں نے بچوں کے بھاری سکول بیگز پر ایک رپورٹ بنائی تھی۔ بچوں میں چڑچڑے پن اور سکول سے دوری کی ایک بہت بڑی وجہ یہ بستے اور سکول کے کام کی پریشانی ہے۔ ننھے بچوں کے نازک کاندھوں پر بھاری بھرکم بستے کسی ظلم سے کم نہیں ہے۔ اس سے انکی ذہنی صحت کے ساتھ ساتھ جسمانی صحت بھی متاثر ہوتی ہے۔ ملتان واپڈا ہسپتال میں ماہر امراضِ اطفال ڈاکٹر سجاد کے مطابق بھاری بستے اور سکول کے کام کی پریشیانیوں کے باعث بچوں میں نظر کی کمزوری، چڑچڑا پن، کاندھوں میں درد، قد کا کم بڑھنا، ذہنی دباؤ کا شکار ہونا اور اس طرح کے دیگر مسائل کا رپورٹ ہونا اب عام سی بات ہے۔

میں یہ نہیں کہہ رہی کہ بچوں کے لیئے بس کھیل کود ہی ہو سکول میں مگر خود بتائیں بچوں کے وزن سے بھی زیادہ بھاری بستے اور پڑھائی کے نام پر رٹے کہاں کا انصاف ہے۔ کیا یہ واقعی پڑھائی ہے؟ یا ہم صرف اپنے بچوں کو ذہنی مریض بنا رہے ہیں؟ نمبروں کی دوڑ میں اتنی بری طرح پڑ گئے ہیں ہم کہ علم نام کی چیز بے کار لگتی ہے ہمیں۔ والدین چاہتے ہیں کہ ان کے بچے کے سو فیصد نمبر آئیں مگر یہ نہیں ایسا ممکن نہیں ہے کہ ہر بچہ فرسٹ ہی آئے۔

کامیاب انسان بننا تو سب کی خواہش ہے مگر یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ کامیابی تب ہی ملے گی جب گدھے کی طرح کتابیں لادنے کے بجائے علم حاصل کرنے کی جستجو ہو۔ لیکن یہ بھی تو سوچیں کہ اگر بچوں کو ہم کلاس ورک، ہوم ورک کی چکی میں ہی پیستے رہیں گے تو انکے پاس وہ وقت کہاں سے آئے گا جب وہ اپنی صلاحیتوں کے خزانے کو اپنی ذات میں تلاش کر سکیں گے۔ یہ وقت کی ضرورت ہے کہ تدریسی علم اور کتابوں کے متن میں ترمیم کر کے انہیں موجودہ دور کے مطابق بنایا جائے۔ بچوں پر ذہنی اذیت کا ظلم ختم ہوگا تو ہی وہ کامیاب بن سکیں گے اور یہ کامیابی ان کی اپنی خوشی ہوگی۔

جب تک یہ سب نہیں ہوتا

تب تک بچوں سے یہی سنیں

میری اتنی موجیں


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

2 thoughts on “میری اتنی موجیں

  • 09-04-2016 at 2:18 am
    Permalink

    .It’s Outstanding Laiba
    Keep it up
    Much Proud

  • 09-04-2016 at 11:45 am
    Permalink

    We have accepted it as norm, but we should strive to change it, you pointed towards a real problem, that is eating up the creativity of our children.

Comments are closed.