انکار اور فرار کا بیانیہ ۔۔۔


fazal subhanمحترم عامر خاکوانی اور عدنان کاکڑ کے درمیان اسلامسٹ بیانیہ کے تفہیم کے حوالے سے ایک علمی مکالمے کا سلسہ دیکھا اور پڑھا تو اپنا دل بھی کچھ کہنے کو چاہا کہ بندہ نے بھی” اسلامی انقلاب” کے دشت کے سیّاہی میں زندگی کے بہترین لمحات صرف کئے ہیں اوراسلام کے عادلانہ نظام کے نٖفاذ کی خاطر سوشل ازم کو اسلامیانے کی سعی لاحاصل کا حصہ رہا ہے۔

مذکورہ بحث کے تناظر میں اسلامسٹ بیانیہ یا رائٹسٹ بیانیہ پر بات کی جائے تو مختلف مکاتب خیال میں حکمت عملی اور پروگرام کے حوالے سے گو کہ مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ البتہ بنیادی وژن اور نصب العین میں کوئی بنیادی اور جوہری اختلاف نہیں ہے۔ جیسے کہ اسلامسٹوں میں اس حوالے سے بھرپور اتّفاق ہے کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اور اس کے ثمرات تبھی حاصل ہو سکتے ہیں جب یہ معاشرے میں مکمل طور پر جاری وساری ہو۔

اب ایک گروہ دعوت اور تلقین سے لوگوں کو رضاکارانہ طور پر اسے اپنانے پر آمادہ کرنےکا قائل ہے جبکہ دوسرا طبقہ سمجھتا ہے کہ یہ مقصود صرف اور صرف طاقت کے بل بوتے پر حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ایک کے ہاں مسائل کے حل کے لئےاعمال اور عبادات کے ذریعے مساجد کو آباد کرنے کا تصور ہے یا پیری مریدی اور تصوف کا راستہ ہے۔ تو دوسرا صالحین کی حکومت کو مسائل کا حل قرار دیتا ہے جبکہ ان سے بڑھ کر آج کا مقبول عام تصور قتال اور جہاد پر زور ہے۔ البتہ ان سب کے ہاں ماڈل وہی کہ ہمارے پاس آج سے چودہ سو سال پہلے کا واضح منشور اور ایجنڈہ دیا گیا ہے۔ یعنی قرآن اور اسلام کا مطلوب اول درجے میں قومی ریاست اور اگلی منزل کے طور پر بین الاقوامی ریاست کا قیام ہے، جسے خلافت کا عنوان دیا جاتا ہے۔ اس ضمن میں آج کے دور کے ٹھوس سیاسی، معاشی اور معاشرتی حقائق کا انکار یا قرون اولیٰ کے زرعی دور کے قوانین کو من و عن نافذ کرنا اور جدید تصورات کو مغرب زدہ او ر کفریہ سمجھ کر رد کرنا عمومی شعار ہے۔

یہ تحریکیں بنیادی طور پر اسلام کے قرون اولیٰ اور دور اول کے ماڈل پر یقین رکھتی ہیں، جو دنیا میں زرعی اور جاگیر داریت کا دور تھا۔ یعنی اسلام کے دور عروج دنیا میں پیداواری رشتے زرعی اور جاگیر داری نوعیت کے تھے اور اس حوالے سے جو نظام تشکیل پایا وہ بھی اس دور کے پیداواری اور سماجی رشتوں کے تناظر میں ہی ترتیب پایا۔ یعنی سیاسی نظام، معاشرتی نظام، عائلی نظام، عورت کا صنفی کردار، اقلیتوں کے حقوق وغیرہ اس دور کے قبائلی اور زرعی پیداوای رشتوں کے تناظر میں مرتب ہوئے۔ اس طرح مسلم فقہ یعنی نظام قانون بھی اسی زمانے کے پیداواری رشتوں یعنی جاگیرداریت اور زراعت کے تناظر میں متشکل اور مدون ہوا۔ اب المیہ یہ ہے کہ اسلامی تحریکیں اس دور کے مخصوص زمینیں اور پیداواری رشتوں کے تناظر میں طے پانے والے فقہ اور نظام کو ا صل اور خالص اسلام تصور کرتے اور اس کے مُکمل ظابطہ حیات ہونے پر مُصرہیں اور یہی آج کا اسلامسٹ بیانیہ ہے۔

اب دُنیا پے درپے انقلابات اور تبدیلیوں کے نتیجے میں کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے۔ ان تبدیلیوں نے معاشرے کے پیداواری اور سماجی رشتوں کو بلکل الٹ کر رکھ دیا۔ اور زندگی کے ہر شعبے اور عمرانی معاہدات میں ایک بنیادی اور جوہری تبدیلیاں پیدا ہو گئی ہیں۔ لیکن چوں کہ یہ صنعتی انقلاب مغرب میں برپا ہوا تھا اور سیاسی لحاظ سے مسُلم دنیا کو مغرب کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس بنأ پر مغرب سے نفرت اور صنعتی انقلاب کے پس پُشت کارفرما تصورات سے نفرت ہم معانی بن گئے ہیں۔ پھر صنعتی انقلاب اور گلوبلائزیشن کے قدرتی نتائج یعنی جمہوریت، لبرل ازم،مذہبی آزادی، سائنسی تعلیم، عورتوں کے حقوق وغیرہ۔ سے انکار عین اسلام قرار پایا۔ ہاں بعض استثنائی صورتوں میں حالات کے جبر کے تحت بعض اسلامسٹ تحریکیں جمہوریت اور تعلیم کے مغرب تصورات کو ماننے پر بھی مجبور ہیں۔

لیکن وہاں پر بھی اسلامی جمہوریت،شورائیت اور اسلامی نظام تعلیم وغیرہ کا لیبل چسپا کر اپنے انکاری اور فراری نفسیات کا اظہار ہوتا رہتا ہے۔ اس طرح یہ تحریکیں نوجوانوں کو (شاندار ماضی )کے حوالے سے اسلام کے دور اول کے قبائلی معاشرے کے معاشرتی مساوات، خلفاء کے سادگی، انصاف اور عدل کے واقعات بطور دعوت اور دلیل پیش کرتے ہیں۔ اور اس طرح مسلم معاشرے کے پسماندہ شعور کو اپیل کر کے معاشرے کو اپنا ہم نوا بناتے ہیں کیو ں کہ بہت سے مظاہر میں ہمارا معاشرہ آج بھی قرون اولیٰ کے قبائلیت، جاگیردار ی رشتوں اور پسماندگی کی زنجیروں میں جھکڑا ہوا ہے۔

لیکن آج کے گلوبل ولج میں جب زندگی کے اطوار اور معیارات بدل گئے ہیں۔ اور پیداواری رشتوں کے بدلنے کے تنا ظر میں زندگی کا پورا نقشہ بدل گیا ہے۔ تو آج کے دور میں اس عدل کے شکل کیا ہوگی؟سیاسی نظام کا خاکہ کیا ہوگا؟مرد اور عورت کے تقسیم کار اور حقوق کے تعین کا پیمانہ کیا ہوگا۔ اقلیتوں کے کیا حیثیت ہوگی؟ شہریت کا تصور کیا ہوگا؟ ان سوالوں کے جواب میں عمومی طور پر ان لوگو ں کا رویہ دور حاضر کے تصورات اور ترقیات کا انکا ر اور ماضی میں پناہ لینے کا رویہ سامنے آجاتا ہے۔ اور اپنے خودساختہ تعبیر دین کو فلاح کا آخری، قطعی،اور یقینی حل مانتے ہیں۔ ردعمل کی نفسیات کے زیر سایہ تذبذب اور خوف میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ یعنی نہ کُھل کر انکار کرسکتے ہے اور نہ مکمل اقرار بس پھر وہی شاندار ماضی، عادل سلطان اور خلیفہ کے ماضی کے تصورات میں پناہ لینا۔ زیادہ کیا تو جدید تصورات کی اسلاما ئزیشن کی راہ اپنا لی مثلاً اسلامی نظام تعلیم، اسلامی جمہوریت، اسلامی بینکنگ، اسلامک سوشل ازم وغیرہ۔ پھر یہ زعم کہ ہاں جی مغربی جمہوریت میں کیا رکھا ہے۔ ہمارے پاس تو اسلام کا بہترین شورائیت اور خلافت کا تصور ہے۔ اس طرح ماضی پرستی کے ان رومانوی خوابوں کے نام پریہ لوگ ماضی کے شاہی نظاموں اور اورنگزیب عالمگیر جیسی سامراجیت کا دوبارہ اجراء اور احیا کا خواب دیکھتے ہیں۔ یعنی اپنی اسلامی ثقافت کی حفاظت بذریعہ خلافت اور مسلم بلاک اورصالحین کیلئے اسلام کے خدمت کا بہترین موقع بھی ہاتھ آجائے گا۔ اور عین ممکن ہے کہ ہند میں اسلامی تاریخ اپنے آپ کو پھر دہرانے لگے۔ اور لال قلعے پر اسلام کا سبز ہلالی پرچم پھر سے لہرانے لگے۔

یہ عالمگیر خلافت کا خواب جمہور کی ذہنی پسماندگی، معاشرتی اور معاشی افلاس اور پسماندگی کے وجہ سے پاکستانی مسلم مذہبی شعورمیں اس طرح رچ بس گیا ہے کہ اٹھارویں صدی سے لے کر مسلم لیگ کی طرف سے حصول پاکستان کی جدوجہد تک، اس کے بعد خلافت الٰہیہ کے قیام کی آرزو مندی اور آج کی طالبانی شریعت اورداعش کی عالمی خلافت اور تبلیغیوں کے مدنی دورمیں داخل ہونے کے نہ ختم ہونے والے انتظارکی شکل میں یہ مسلم تحریکیں اس رومانی خواب میں مدہوش ہیں۔ یعنی وہی فرار اور ماضی پرستی کا رویہ۔

ان ساری تحریکات کا مقصد معاشرے میں خالص اورحجازی اسلام کا نفاذ ہے۔ اور پھر آگے چل کر قرون اولیٰ کا خلافت اسلامیہ کا قیام ۔ گوکہ حکمت عملی اور تفصیلات میں اختلاف ہے لیکن ایک مجمل اور مہمل جملہ سب کا مشترکہ سلوگن ہے کہ ہمارے زوال کا سبب اصلی اور خالص دین سے دوری ہے۔ اور پھر اس حوالے سے اپنا اپنا تعبیر دین اور پروگرام ہے۔

جس طرح مولانا مودودی نے خالص خلافت کے تصورکو بعد کے ادوارکی سیاسی ضرورتوں کے تحت آنے والی تبدیلیوں کو قباحتیں قرار دے کرابتدائی تین دہائیوں کو ان سے مُنزّا کرنے کی خاطر خلافت وملوکیت لکھی تو روایتی مذہبی طبقہ سیخ پا ہوا کہ اجی کیوں مُقدّس شخصیات کو تنقید کی کسوٹی پر پرکھتے ہو اسی طرح جب خلافت کے ان ازکار رفتہ تصورات کو آج کا کوئی دھڑا داعش یا تحریک طالبان کسی جگہ عملی طور پر ڈھالنے کا بندوبست کرتے ہیں توروایتی اسلام پسند اسے شدید ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھ کر اس میں بھی کسی سازش کے تانے بانے تلاش کرتا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

6 thoughts on “انکار اور فرار کا بیانیہ ۔۔۔

  • 08-04-2016 at 10:45 pm
    Permalink

    بہت عمدہ

  • 09-04-2016 at 1:17 am
    Permalink

    Excellent article by the writer @ Greatly appreciated

  • 09-04-2016 at 5:07 am
    Permalink

    بہت اچھا لکھا ھے

  • 09-04-2016 at 5:44 am
    Permalink

    سمت ہی یہ متعین کرسکتی ھے کہ انکار و فرار کا بیانیہ حقیقی منزل کی جانب لے جا رھا ھے یہ اُس سے دور لے جا رھا ھے۔۔۔۔ اپنی کیفیت میں انکار و فرار کا بیانیہ نہ مثبت ھے نہ منفی، یہ اسکی نوعیت پر منحصر ھے۔ ‘الااللہ تک پہنچنے کیلۓ لا الٰہ سے گزرنا ضروری ھے”
    “ومن یکفربالطاغوت ویؤمن بااللہ فقدالستمسک بالعروۃ الوثقٰی لاالنفصام لھا” (القرآن)

  • 09-04-2016 at 12:34 pm
    Permalink

    Good piece.

  • 09-04-2016 at 4:38 pm
    Permalink

    بل ليونى شو…

Comments are closed.