سوویت یونین کی آخری سانسیں اور سوکھی ڈبل روٹی


surayya abbasپروردگار کا طے شدہ نظام یا یوں کہہ لیں کہ یہ اس کی مرضی پر منحصر ہے کہ جب وہ کسی انسان کو موت دینا چاہتا ہے تو کسی بیماری میں یا کسی حادثہ میں مبتلا فرما دیتا ہے یا پھر کسی پر اچانک موت آ جاتی ہے۔ کہتے ہیں کہ مرنے والے پر کچھ علامات (جسمانی اعضآ کا کمزور ہو جانا یا دنیا سے بے رغبتی وغیرہ وغیرہ) آجاتی ہیں لیکن اس کا ادراک یا شعور نہ تو مرنے والے کو اور نہ ہی ارد گرد کے لوگوں کو ہوتا ہے۔

سوویت یونین پر بھی اچانک ہی موت واقع ہونے والی مثال آتی ہے۔ یہ جولائی، اگست 1991 یعنی سویت یونین کے آخری دو مہینوں کی بات ہے میرے شوہر محمد عباس خاں تابانی گروپ آف کمپنی کے جنرل مینجر کی حیثیت سے یوکرین میں تھے۔ میں اپنی پانچ سالہ بیٹی( معزہ) کے ساتھ پاکستان سے ماسکو کے راستے یوکرین گئ تھی۔ ہمارا قیام یوکرین کی سب سے بڑی تجارتی بندر گاہ بلکہ بحرہ اسود (بلیک سی) کی سب سے بڑی بندرگاہ عدیسہ میں تھا۔ اس بندرگاہ کا براہ راست رابطہ زمینی ریلوے کے نظام تک ہے۔ بحرہ اسود یوکرین، بلغاریہ، جارجیہ، رومانیہ، روس اور ترکی کو لگتا ہے۔ بحرہ اسود یعنی بلیک سی کی اسود (بلیک) کہلانے کی مختلف تھیوریز ہیں جن کے درست ہونے کے کوئی خاص ثبوت نہیں ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ پرانے وقتوں میں کچھ رنگوں کو سمتوں سے منسوب کیاجاتا تھا۔ جنوب کا رنگ سرح، شمال کا سیاہ یعنی اسودی، مشرق کا پیلا اور مغرب کا سفید تھا۔ یہ سمندر چونکہ شمال میں تھا تو اس حوالے سے بلیک سی کہلانے لگا۔ بلغارین کے نظریے کے مطابق وہاں اتنے طوفان آیا کرتے تھے کہ کچھ دکھائی نہیں دیتا تھا اس وجہ سے بلیک سی کہلانے لگا۔ خیر اس طرح کی بہت ساری تھیوریز ہیں۔ ہاں opera_house_odessaیہ بات ثابت ہے کہ اس سمندر کے پانی میں نمکیات باقی سمندروں سے کم ہیں۔

سوویت یونین اس طرح ٹوٹا کہ لوگ رات کو سوئے صبح اٹھے تو آزاد تھے یعنی پندرہ آزاد ملک بن چکے تھے۔ تاریخ نے بتایا کہ کچھ ملکوں کو اتنی آسانی سے بھی آزادی مل جایا کرتی ہے کہ ان کے شہریوں کو بالکل بھی پتہ نہ چل سکا کہ ان کے ساتھ ہوا کیا ہے۔ بات ہو رہی تھی آخری دو مہینوں کی، عدیسہ میں ہمارا قیام تقریبا بیس دن کا تھا۔ ساحل سمندر کے عین قریب ایک بہت خوصورت کاٹیج ہماری رہائش گاہ تھی۔ خوبصورت طرزِ تعمیر کا نمونہ اور ہریالی میں گھری ہوئی بہت ساری کاٹجز ان دنوں خاصی پر رونق تھیں۔ کاٹج سے نکل کر ایک سرنگ کے راستے ساحلِ سمندر پہ جانا ہوتا تھا۔ سرنگ کی لمبائی تقریبا ایک کلو میٹر یا اس سے کچھ کم ہو گی۔ وہ سرنگ کیا تھی خوابوں کا پرستان تھا۔ اس سے گزرتے ہوئے کئی بار قدم ایک ہی جگہ پر جم جاتے تھے۔ چھت اور دیواروں پر ہلکے اور گہرے نیلے رنگ کے انتہائی دلکش و دلنشین نقش و نگار بنے ہوئے تھے اور پاؤں کے نیچے سے چاندی اور پارے جیسا شفاف پانی گزر رہا ہوتا تھا۔ سرنگ میں روشنی کا سامان ایسا تھا کہ دن اور رات کا سماں ایک سا لگتا تھا۔ چلتے ہوئے قدم رک رک جاتے تھے۔ سوچتے رہ جاتے تھے کہ چھت کو دیکھیں یا دیواروں کو، دائیں یا بائیں پاؤں آگے بڑھائیں یا ایک جگہ کھڑے رہیں۔ ہمارا روزانہ کا معمول تھا ہم ایک بار ضرور تمارا نیکالوونا، جو ہماری کاٹج کی نگران خاتون تھیں، کے ساتھ سمندر کی رونقوں سے لطف اندوز ہوتے۔ تمارا معزہ کو آگے تھوڑے گہرے پانی میں لے جاتی اور وہاں کے مخصوص انداز میں پکڑ کر تیرنا سکھاتی۔ میں بہت کم گہرے پانی میں ہی رہتی اور پیراکی کرتے اورخوش گپیاں لگاتے لوگوں، ارد گرد کے خوشگوار ماحول اور دور نظر آنے والے بحری

????????????????????????????????????

جہازوں کو دیکھتی رہتی یا پھر شور کرتی رہتی ” تمارا پلیز معزہ کو آگے لے کر نہ جاؤ اور چھوڑنا نہیں”۔

جیسا کہ یہ سوویت یونین کے سانس لیتے ہوئے آخری دن تھے تو کہہ سکتے ہیں کہ موت کی علامات ظاہر ہو رہی تھیں۔ پہلے دن ہم ریستوران میں کھانا کھانے گئے تو پتلے روسی سوپ ( بلیون) اور سوکھی دانت توڑنے والی ڈبل روٹی کے سوا کچھ نہ ملا۔ بھر جتنے دن رہے وہاں کھانے کے لئے نہیں گئے۔ عباس نے تمارا سے کہا کہ ہمارے کھانے کا بندوبست کاٹیج ہی میں کیا جائے۔ تمارا نے بتایا کہ مارکیٹ میں سبزی میں صرف کھیرے، بند گوبھی اور گوشت میں مرغی مل رہی ہے۔ ہم نے کہا جو کچھ ملتا ہے لے آیا کرو۔ وہ روزانہ ایک ثابت مرغی اوون میں پکاتی اور ڈھیر سارے کھیرے کاٹ کر ٹیبل پہ رکھ دیتی اور ساتھ میں وہی سوکھی ڈبل روٹی، یہ ناشتہ اور لنچ ہوتا۔ رات کے لئے وہ کوئی نہ کوئی سوپ بناتی۔ تابانی والوں نے شاید خوراک کی کمی کے پیش نظر ہی معزہ کے لئے ڈرنکس، چاکلیٹس، ڈرائی فروٹس اور کچھ پیک فوڈ کے ڈبے ماسکو سے آتے ہوئے ہمارے سامان میں رکھ دیے تھے۔ ہم ماں بیٹی نے ان پر بھی کچھ گزارا چلایا۔ کھیرے ذائقے میں بہت مزے کے اور بلکل تازہ ہوتے تھے، شاید کسی قریبی فارم کے تھے۔ ہم دن بھر خوب کھیرے کھاتے لیکن دل نہیں بھرتا تھا۔

Odessa_downtownایک دن عباس نے بتایا کہ ایک انڈین دوست، جو بحری جہاز کا کپتان ہے، اس کا تجارتی بحری جہاز اس بندرگاہ پر لنگر انداز ہے، اس نے جہاز پر لنچ کے لیے بلایاہے۔ ہم خوشی خوشی تیار ہوئے، ایک تو پہلی دفعہ بحری جہاز پہ جانا تھا دوسرا یہ خیال بھی خوش کن تھا کہ شاید کھانے کو کچھ مختلف مل جائے۔ شِپ پر پہنچے تو کیپٹن کی بیوی اور دو بچوں نے مسکرا کر خوش دلی سے ہمارا استقبال کیا۔ معزہ بچوں کو دیکھ کر بہت خوش ہوئی۔ وہ بچے اگر چہ معزہ سے بڑے تھے مگر جلدی آپس میں گھل مل گئے اور کھیلنا شروع ہو گئے۔ اور میرا خوش کن خیال واقعی خوش کن ثابت ہوا۔ سب سے پہلے تازہ جوس اور تازہ پھلوں سے ہماری تواضح کی گئ پھر جو کھانے کی میز پہ بیٹھے تو بریانی، قورمہ، مچھلی، سبزی، دال دیکھ کر ایسی بھوک چمکی کہ بس کھاتے ہی چلے گئے۔ بحری جہاز کی سیر کی اور شام کو اپنی پیاری سی کاٹج میں واپس آ گئے۔ اس دن سمندر میں ایک بہت خوبصورت چھوٹی مچھلی کی قسم دیکھنے کو ملی جو بلکل کنارے پر، جہاں پانی بہت کم چند انچ گہرا تھا، تیر رہی تھی۔ سفید رنگ کی چھوٹی سی مچھلی جس کے سر کے کچھ پیچھے اوپر اسی طرح سفید رنگ کی بہت پیاری چھتری سی بنی ہوئی تھی۔ اللہ پاک کی اس خوبصورت مخلوق کو میں کبھی نہیں بھولی۔ عدیسہ میں اس مختصر قیام کے دوران عدیسہ شہر کی طرف صرف ایک ہی دفعہ جانے کا موقع ملا بلکہ یوں کہہ سکتی ہوں کہ شہر کے کچھ خوبصورت علاقوں سے صرف گزرنے کا موقع مل سکا سو مرکزِنگاہ صرف انتہائی خوبصورت عمارتیں رہیں۔ اوپیرا تھیٹر کی

C5W5J9 Type on Odessa port from the Potemkinsky ladder, Odessa, Ukraine

عمارت سمیت کچھ دیگر عمارتیں عجیب سے پرانے اور نئے طرز تعمیر کا حیرت انگیز امتزاج تھیں اور دیو مالائی کہانیوں کی بستیوں کا نقشہ پیش کر رہی تھیں۔

تیزی سے گزرتا ہوا وقت پلٹنے میں بھی اتنی ہی تیزی دکھاتا ہے۔ یوکرین آزادی کے چند ہی سال دیکھ کر شاید پھر سوکھی روٹی کھانے کو ہے۔ خارجی اور داخلی حالات کو ساحلی ہوائیں نہیں روک سکتیں۔ سوچتی ہوں محبت اور ساحلی ہوائیں مٹ سکتی ہیں نہ راستہ بدل سکتی ہیں تو پھر نفرتوں، دہشتوں اور دوریوں کے جنگل میں انسان اور سیاسی قوتیں کیوں بھٹک رہی ہیں!!


Comments

FB Login Required - comments