عدت میں رہنے والی عورت


humaira jabeen رمزہ کلیم سے آج بہت دنوں بعد ملاقات ہوئی …..وہ کافی دیر میری رت جگوں سے حلقہ زدہ آنکھوں اور اجڑی ہوئی اداس سی شکل کو گھورتے ہوئے بولی.”اچھا تو میڈم ابھی تک وہیں کھڑی ہو جہاں رکی تھی …. تف ھے بھئی تم عورتوں پر .. وفا کی دیوی بننے کے چکر میں حالت دیکھو کیا بنا لی ھے تم نے اور ایک وہ ہرجائی ھے.. اسے تو خبر بھی نہیں ہو گی تم کس حال میں ہو”…..رمزہ کلیم ! عورتوں کو کوس رہی ہو، تم بھی تو ایک عورت ہی ہو نا…میں نے اس کی توجہ کو بٹانے کے لیے کہا…. جی!..وہ بولی. “لیکن میں اس طرح کسی مرد کی انا کا شکار کبھی نہیں بنوں گی…. میں نے تو مردوں کی یہی نفسیات دیکھی ھے، ہاں سارے مرد نہیں پر کچھ عورت کو اپنی محبت میں گرفتار کر کے پھر اسے نظرانداز کر کے مزا لیتے ھیں اپنے کسی کمپلیکس کی تسکین کر رہے ہوتے ہیں.”.. “ارے نہیں، انہیں کوئی غلط فہمی ہو گئی ہے.”میں نے شاید خود کو تسلی دی. “تمہیں ایک بات بتاؤں میڈم”…وہ گہری سوچ میں ڈوبے ہوئے بولی. “جو مرد کسی عورت کی محبت ،چاہت مذاق،لاڈ اور پیار کو نخرہ،ڈرامہ، بہانہ، جھوٹ یا شک کی کوئی قسم سمجھ لیتے ہیں اور ہر بات میں خود کو ہی برتری دیتے ہیں ایسے حد سے زیادہ محتاط اور چالاک قسم کے مرد ہمیشہ اکیلے جیتے ہیں اور اکیلے ہی مرتے ہیں۔ افسوس کا مقام ہے کہ تمہارا پالا اسی قسم کے مرد سے پڑا ہے کوئی اچھے اخلاق والا ہوتا تو تمہارے دکھ کا احساس ضرور کرتا. اللہ بچائے ایسے سائیکو کیس مردوں سے۔ چھوڑو پرے تم بھی بھول جاؤ اسے….اسے اندازہ ہی نہیں کہ تم کن پریشانیوں کا شکار ہو۔ اور پھر جب تم نے اپنے مسائل کا ذکر کیا تو اس نے آگے سے تمہیں نخرے بہانے اور ڈرامے سنائے تھے۔ تم نے گہری اذیت میں وہ دن کاٹا تھا۔ جب تم کوئی گلہ کر دو تو اس کے لئے طنز بن جاتا ہے۔ دنیا میں اچھے مردوں کی کمی نہیں، چھوڑو پرے اس ضدی شخص کو، دیکھنا تمہاری آہ پڑے گی”…….

“افففف پلیز چپ کرو” میں تڑپ گئی. “مت کہو کچھ اس کے بارے میں، ایک لفظ بھی نہ کہنا اب، وہ جو بھی ہے جیسا بھی ہے بہت عزیز ہے مجھے، پیارا ہے مجھے، اس کی محبت عبادت ہے میری، اس کی یاد وظیفہ ہے میرا۔ وہ مجھ سے کوئی تعلق نہ رکھے پر میں اب اس کی جدائی کی نہ ختم والی عدت میں رہوں گی مرتے دم تک۔ تم نے اگر ایسی باتیں کرنی ہیں تو دوبارہ کبھی نہ ملنا مجھ سے۔”.میں نے تڑپ کر کہا …. رمزہ کلیم مجھے گھورتے ہوئے اٹھ کر چل دی، زیر لب کہتے ہوئے…. “ہونہہ..نکلی نا وہی… عورت… کسی نہ کسی طرح مرد کی “عدت” میں رہنے والی… کبھی کمائی کی غرض سے دوسرے ملک میں جانے والے شوہر کی نیم بیوہ بن کر کئی کئی سال انتظار کی عدت میں رہنے والی عورت.. کبھی مرد کے فوت ہونے کی عدت ۔۔۔ کبھی خود ساختہ بندشوں کی عدت میں رہنے والی عورت ۔۔۔۔۔ !


Comments

FB Login Required - comments

حمیرا جبیں

حمیرا اردو پنجابی اور ایجوکیشن میں ماسٹر ڈگریز رکھتی ہیں اور تعلیم کے شعبے سے وابستہ ہیں. عورتوں کے مسائل اور دیگر سوشل ایشوز پر ہلکے پھلکے منفرد افسانوی انداز میں لکھتی ہیں، تلخ سے تلخ بات بھی گھن گرج کے ساتھ نہیں کہتیں اور زبان کا دھیما پن برقرار رکھتی ہیں

humaira-jabeen has 2 posts and counting.See all posts by humaira-jabeen

One thought on “عدت میں رہنے والی عورت

  • 09-04-2016 at 1:31 pm
    Permalink

    Good one

Comments are closed.