نواز شریف کو استعفی کیوں دینا چاہیے؟


\"ammar وزیر اعظم نواز شریف کو اس لئے  استعفی دینا چاہیے کہ جب ہماری ایک نامور وزیراعظم کے شوہر نے ایک شخص کی ٹانگ سے بم باندھ کی اس کی ساری کمائی دھروا لی تھی تو اس وقت کی وزیر اعظم نے اخلاقی تقاضوں کو مدنظر رکھ کر فورا استعفی دے دیا تھا۔ نواز شریف کو استعفی اس لئے دے دینا چاہیے کہ جب آصف علی زرداری کو سارا ملک چیخ چیخ کر مسٹر ٹین پرسینٹ کہ رہا تھا تو اس وقت کی وزیر اعظم نے عوامی اخلاقیات کے تقاضوں کو نبھاتے ہوئے فورا استعفی دے دیا تھا۔ نواز شریف کو استعفی اس لئے  دے دینا چاہیے کہ جب چودھری شجاعت پینتالیس دن کے لئے  وزیراعظم بنے تو کوریا سے ان کے ذاتی کاروبار میں حیرت انگیز اضافہ ہوا اور جب شوگر ملوں کی خبریں اخباروں میں چھپنے لگیں تو انہوں نے بھی فوراً استعفی دے دیا تھا۔ نواز شریف کو استعفی اس لئے  دے دینا چایے کہ جب بے نظیر بھٹو پر کرپشن کے پیسے سے سرے محل خریدنے کا الزام لگا تو انہوں نے فورا استعفی دے دیا تھا۔ نواز شریف کو استعفی اس لئے  دے دینا چاہیے کہ جب جنرل کیانی کے بھائی لوٹ مار میں مصروف تھے تو انہوں نے فی الفور اپنے ادارے کے وقار کی بحالی کے لئے  اپنا استعفی جمع کروا دیا تھا۔ نواز شریف کو استعفی اس لئے  دے دینا چایے کہ جب یوسف رضاگیلانی پر کرپشن کے بہت سے الزامات لگے۔ ان میں سے ایک الزام ترک وزیراعظم کی بیوی کے ہار کی چوری کا الزام بھی تھا جو انہوں نے سیلاب زدگان کی مدد کے لئے  دیا تھا۔ ہار غصب کرنے کا الزام لگتے ہی انہوں نے وسیع تر قومی مفاد میں استعفی دے دیا تھا۔ نواز شریف کو استعفی اس لئے  دے دینا چایے کہ جب راجہ پرویز اشرف کو لوگوں نے راجہ رینٹل کہنا شروع کر دیا تو انہوں نے استعفی دے دیا تھا۔ نواز شریف کو اس لئے  استعفی دے دینا چاہیے کہ جب آصف علی زرداری کا نام مسٹر ٹین پرسینٹ سے بڑھ کر مسٹر ہنڈرڈ پرسینٹ ہو گیا تو انہوں نے استعفی دے دیا تھا۔ نواز شریف کو اس لئے  استعفی دے دینا چاہیے کہ جب عمران خان پر شوکت خا نم کی رقم آف شور کمپنیوں میں رکھنے اور جوئے خانوں میں سرمایہ کاری کرنے کا الزام لگا تو انہوں نے پی ٹی آئی کی قیادت سے استعفی دے دیا تھا۔ نواز شریف کو اس لئے  بھی استعفی دے دینا چایے کہ جب اسلامی جمہوریہ پاکستان میں حج سکینڈل جیسا شرمناک سکینڈل سامنے آیا تو اس وقت کے وزیر حج، کابینہ، وزیر اعظم اور صدر نے استعفی دے دیا تھا۔ نواز شریف کو اس لئے  بھی استعفی دے دینا چاہیے کہ جب خیبر پختونخوا کے ایک وزیر نے وزیر اعلی پرویز خٹک پر کانوں کی کھدائی کے ٹھیکوں میں کرپشن کا الزام دیا تو وزیر اعلی نے انصاف کا بول بالا کرنے کی خاطر استعفی دے دیا تھا۔ نواز شریف کو اس لئے  استعفی دے دینا چاہیے کہ جب کشمیر کمیٹی کے مستقل چیرمین رہنے والے مذہبی رہنما کو لوگوں نے مولانا ڈیزل کہنا شروع کیا تو انہوں نے بھی استعفی دے دیا تھا۔ نواز شریف کو اس لئے  استعفی دے دینا چاہیے کہ جب الطاف حسین پر منی لانڈرنگ کا کیس برطانیہ میں چلا تو انہوں نے ایم کیو ایم کی قیادت سے استعفی دے دیا تھا۔ نواز شریف کو اس لئے  بھی استعفی دے دینا چاہیے کہ جب ڈاکٹر عاصم پر ہر ماہ اپنی وزارت سے سو کڑور روپے اوپر کی کمائی کی مد میں لینے کا الزام لگا تو انہوں نے استعفی دے دیا تھا۔ یہ تو چند وجوہات ہیں جن کی وجہ سے استعفی بنتا ہے ورنہ اخلاقی بنیادوں پر استعفوں کی سینکڑوں روایات سے یہ ملک بھرا ہوا ہے۔

ہمیں الزام اور جرم میں فرق کرنا ہو گا۔ ملزم اور مجرم میں تخصیص کرنی ہو گی۔ پانامہ لیکس ابھی الزام ہے۔ آف شور کمپنیاں سارے بزنس مین بناتے ہیں۔ یہ طریقے ان کو اکاونٹس کے ماہرین سمجھاتے ہیں۔ ٹیکس بچانا اور ٹیکس چھپانا اور ٹیکس چوری کرنا تینوں اکاونٹس کے نقطہ نظر سے مختلف باتیں ہیں۔ ابھی تک کوئی کرپشن ثابت نہیں ہوئی۔ ابھی تک جرم کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ پانامہ لیکس کا اصل مرکزو محور روس اور چین کے لیڈر ہیں۔ اس طرح کی لیکس پہلے بھی منظر عام پر آچکی ہیں۔ وقتی طوفان پہلے بھی بپا ہو چکا ہے۔ لیکن وقت گزرنے کے بعد لوگوں کو احساس ہوتا ہے کہ یہ ساری لیکس بین الاقوامی سازشیں ہیں جو چند مخصوص ملکوں کو تباہ کرنے کے لئے  تیار کی جاتی ہیں۔ جن کا ادراک آج کے دانشوروں کو بہت عرصے بعد ہوتا ہے۔

وزیر اعظم نے اس مسئلے پر فوری طور پر قوم کو اعتماد میں لیا جس کی روایت پہلے موجود نہیں ہے۔ خود اپنے خلاف انکوائری کے لئے  ایک جوڈیشل کمیشن قائم کیا جو کہ اس معاشرے کی سیاست میں ایک نئی بات ہے۔ لیکن اس سے دانشوروں کی تشفی نہیں ہو رہی۔ ان کے دل ٹھنڈے نہیں ہو رہے۔ الزامات کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ ہے جاری ہے۔ لوگ گڑے مردے اکھاڑ رہے ہیں۔ پرانے انتقام لے رہے ہیں۔ اب انکوائری کمیشن ایک جج کی قیادت میں قائم ہو گا۔ ہر عام اور خاص اپنے اپنے ثبوت لے کر وہاں جا سکتا ہے۔ حقائق کو جاننے کا مطالبہ کر سکتا ہے۔ میری اس محترم انکوائری کمیشن سے صرف اتنی درخواست ہے کہ جو شخص بھی الزام لگائے اس کے الزام کو درج کرنے کے ساتھ ساتھ الزام لگانے والے کے اثاثہ جات کو پرکھنے کا مطالبہ بھی کر دے۔ اس کی آمدنی اور اکاونٹس کو بھی دیکھنے کی اجازت طلب کرے۔ کیونکہ قانون اور صحافت دونوں میں گواہ کا سچا ہونا ، خود ان جرائم سے پاک ہونا بھی شرط ہے۔ قارئین خود دیکھیں گے الزام لگانے والے دنوں میں آدھے رہ جائیں گے۔ اپنے ناجائز اثاثے بچاتے نظر آئیں گے۔

پاکستان میں جمہوریت ایک دفعہ پھر قدم جما رہی ہے۔ ڈکٹیٹر کے نو سالہ دور اذیت کے بعد پہلا دور جمہوری کارکردگی کے اعتبار سے خراب تھا ۔ دوسرا کم از کم پہلے سے بہتر ہے۔ تیسرا اس سے بھی بہتر ہوگا ۔ ترقی کی راہیں اب نظر آرہی ہیں۔ شاہراہیں بن رہی ہیں۔ حالات بدل رہے ہیں۔ اور یہی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ جب بھی پاکستان بہتری کی جانب جانے لگتا ہے بیرونی دنیا سے ایسے بحران وطن عزیز میں لائے جاتے ہیں، جمہوری حکومتوں کے تختے الٹائے جاتے ہیں۔ اس مقصد کے حصول کے لئے  کبھی انقلاب کا نعرہ لگایا جاتا ہے کبھی مذہب سے ڈرایا جاتا ہے ۔ کبھی غداری کا مقدمہ چلایا جاتا ہے۔ ان بحرانوں کو حکومت مخالف تحریکوں میں بدلنے کے لئے ان لیڈروں کو بھڑکایا جاتا ہے جن کے کانوں میں وزیر اعظم کے شادیانے بج رہے ہوتے ہیں۔ وزارت عظمی جن کو سامنے نظر آرہی ہوتی ہے۔ بھٹو دور کا خاتمہ اس کی ایک بہترین مثال ہے ۔ یہ وہ وقت تھا جب پاکستان میں سٹیل مل لگ گئی تھی۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا آغاز ہو چکا تھا۔ اسلام آباد میں پہلی اسلامی سربراہ کانفرنس ہو چکی تھی۔ پاکستان ترقی کی جانب گامزن تھا۔ اس وقت نو ستارے اکھٹے ہوئے حکومت کو کرپٹ، بھٹو کو کافر اور غدار اور جمہوریت کو شر قرار دیا گیا۔ پھر کیا ہوا ایک ڈکٹیٹر نے موقع سے فائدہ اٹھایا۔ حکمرانی کا تاج سر پر رکھا اور ملک کو صدیوں پیچھے دھکیل دیا گیا۔ نو ستارے مٹی میں مل گئے۔ انقلاب کے نعرے لگانے والوں کو اس وقت بھی کچھ نہیں ملا اور اب بھی ان کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔ یاد رکھیں۔ انقلاب کے نعرے لگانے والوں کو طالع آزما ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرتے ہیں اور یہ تو آپ بخوبی  جانتے ہیں کہ ٹشو پیپر کو استعمال کے بعد پھینک دیا جاتا ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضرور نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عمار مسعود

عمار مسعود ۔ میڈیا کنسلٹنٹ ۔الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے ہر شعبے سےتعلق ۔ پہلے افسانہ لکھا اور پھر کالم کی طرف ا گئے۔ مزاح ایسا سرشت میں ہے کہ اپنی تحریر کو خود ہی سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ مختلف ٹی وی چینلز پر میزبانی بھی کر چکے ہیں۔ کبھی کبھار ملنے پر دلچسپ آدمی ہیں۔

ammar has 60 posts and counting.See all posts by ammar

10 thoughts on “نواز شریف کو استعفی کیوں دینا چاہیے؟

  • 09-04-2016 at 1:22 am
    Permalink

    عمار صاحب کے تعارف میں لکھا ہے کہ
    ”یہ اپنی تحریر کو کبہی سنجیدہ نہیں لےیتے”
    تو پھر ہم بہی نہیں لیتے

  • 09-04-2016 at 10:45 am
    Permalink

    عمار صاحب کی تحریر پر ایک تبصرہ تو یہ ہے “عذر گناہ بدتر از گناہ” دوسرا پنجابی میں کہا جاتا ہے کہ “کھاڈے دا گواہ ڈڈّو” اب عمار صاحب گزشتگان کی بد عملیوں اور بدعنوانیوں کو اپنے “ممدوح” کی “غریبانہ لغزش”بنانے کی ناکام کوشش کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو چاہے آپ ک احسن کرشمہ ساز کرے 🙂

  • 09-04-2016 at 6:20 pm
    Permalink

    پانامہ پیپرزکے انکشافات کے آگے برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کمرون نے بھی سرجھکا لیا۔۔۔۔ارجنٹائن کے وزیر اعظم بھی تحقیقات کے شکنجھے میں جکڑے گئے
    فرانس والے سر پکڑ کر بیٹھنے پر مجبور ہوئے، بھارت کی توبات ہی کیا کرنی ہے وہ ہمارا دشمن ملک ہے ہم اسکی تقلید کیوں کریں ۔۔۔چلو بابا بھارت کی تقلید نہ کریں آئیس لینڈ کے وزیر اعظم کی پیروی تو کی جا سکتی ہے ناں ؟ آءس لینڈ کے وزیر اعظم کا اپنا نام پانامہ پیرز میں کہیں دور دور تک نہیں آیا ۔لیکن انکی اہلیہ کا پانامہ پیپرز میں ذکر موجود ہونے کے باعث وزیر اعظم نے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا .
    پرویز رشید جو وفاقی حکومت کے ترجمان ہیں انہیں پانامہ پیپرز کے حوالے سے وزیر اعظم کے بال بچوں کے بارے میں دستاویزی ثبوتوں کا موثر جواب دیکر عوام اور اپوزیشن کو مطمئن کرنا چاہیے نہ کہ چہرے پرموجود پریشانی کے اثرات کو مصنوعی مسکراہٹ کے پردے میں چھپانے کی ناکام کوشش نہ ہی کریں تو بہتر ہیں،میرے خیال میں پرویز رشید اور دیگر ذمہ دار وفاقی اور صوبائی وزرا کو عوام کو درسمت حقائق بتانے چاہئِں نہ کہ ان سے جھوٹ بول کر حقائق کو مسخ کریں,
    اگرمگر چونکہ چنانچہ اور آئیں بائِیں شائِیں کرنے سے معاملہ سلجھنے کی بجائے مذید الجھائو کی سمت جائے گا ۔۔۔ کونسی قیامت ٹوٹ پڑے گی اگر وزیر اعظم مستعفی بھی ہو جائیں اور اگر وزیر اعظم نواز شریف سپریم کورٹ سے درخواست کردیں کہ جناب چیف جسٹس صاحب مہربانی کرکے پانامہ پیپرز کی زینت بننے والی تمام پاکستانی شخصیات کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنا دیا جائے توبھی آسمان نہیں گریگا ہاں البتہ اس معاملے کو غیر ضروری مسائل میں ڈال کر حالات کو مذید گھبیر ضرور بنایا جا سکتا ہے۔۔پلٰڈات اور دیگر اداروں کے سروے کی رپورٹس کےمطابق مسلم لیگ نواز ملک کی مقبول ترین جماعت ہے اور نواز شہباز شریف تمام سیاستدان کے مقابلے میں مقبولیت کی انتہائوں کو چحو رہے ہیں ۔۔۔اگر تو یہ سچ ہے تو پھر مسلم لیگ نواز اور وزیر اعظم کو بالکل بھی گھبرانے اور فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے انہیں اپنی عزت ،شہرت اور نیک نامی سے زیادۃ کوئی چیز عزیز تر نہیں ہونی چاہیے اس لیے کہ اگر مستعفی ہوکر نئے انتخابات میں چلا جایا جائَ تو کوئی گھاٹے کا سودا نہیں ہوگا اسکی وجہ یہ ہے کہ مسلم لیگ نواز کے کریڈٹ پر پنجاب کے خادم اعلی کی خدمت موجود ہے میٹرو بس اور میٹرو ٹرین کے منصوبو نے لاہور سمیت پورے پنجاب کے عوام کو خوشحال بنا دیا ہے اس لیے پنجاب کے عوام نئے انتخابات میں مسلم لیگ نواز کو ہی منتخب کریں گے تاکہ ان کی ترقی اور خوشحالی کے جو منصوبے شروع کیے گئَ ہیں انہیں مکمل کیا جا سکے۔۔۔
    وزیر اعظم نواز شریف اگر عوام کی عدالت میں جانے کا فیفلہ کرتے ہیں تو تاریخ میں امر ہوجائِں گے ورنہ عزت ،شہرت اور نیک نامی سب رائِگاں چلی چلی جائِگی ،اور انکا ایسے ہی پانامہ پیپرز کے حوالے سے تحقیقات کے راستے میں دیوار بنے رہے تو جمہوریت کی ٹرین پٹڑی سے بھی اتر نے کا خدشہ و احتمال موجد رہے گا۔۔جو جمہوری ۔پارلیمانی نظام کے لیے سود مند نہیں ہوگا
    لہذا بہتر مشورہ یہی ہوگا کہ آپ پانامہ پیپرز کو آسانی سے نہ لیں اور مذید وقت برباد کیے بغیر سپریم کورٹ سے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے کمیشن بنانے کی درخواست کردی جائے۔۔۔اسی میں پاکستان ،جمہوریت کا مفاد ہے۔انور عباس انور

  • 09-04-2016 at 8:54 pm
    Permalink

    عمار مسعود صاحب کے کالم کا پہلا پیراگراف جو بمقابلہ دوسرے پیراگرافس کے طویل ترین تو ہے ہی بہت زور دار بھی ہے۔ ان کے اس منطقی استدلال میں وزن ہے۔ کہ ان سے پہلوں نے کبھی ایسی وجوہات کی بنا پر استعفے دیے ہیں کہ نواز شریف استعفی دیں۔ اس پیراگراف کا یہ لب لباب’ معلوم نہیں شعوری ہے یا لاشعوری بہرحال اس طرح انہوں نے اپنے زور بیان میں نواز شریف کو ان کے برابر میں ضرور لا کھڑا کیا ہے۔

  • 09-04-2016 at 11:24 pm
    Permalink

    میں با لکل یہی لکھنے والا تھا، آپ نے پہل کر دی 🙂

  • 09-04-2016 at 11:26 pm
    Permalink

    بہت جامع تبصرہ کر دیا ہے آپ نے۔ عمار صاحب کو بالکل سمجھ آ گئی ہو گی، مگر کوئی سمجھے تب ناں۔

  • 09-04-2016 at 11:39 pm
    Permalink

    وقت کے ساتھ تاریخ، حالات، خیالات، اور آلات سب بدل جاتا ہے، سمجھدار وہ کہلاتا ہے جو بدلے وقت کے حساب سے اپنی گھڑی سیٹ کر لے۔ جو اپنی گھڑی پر بجا وقت سارے زمانے کو منانے پر مصر رہے، اطباء اکثر ایسے افراد کو خمیرہ گاؤ زبان عنبری جواہردار تجویز کرتے ہیں۔

    عمار بھائی کو تب سے جانتا ہوں جب یہ اسلام آباد سے ایف ایم پر رات گئے اپنی خوبصورت آواز کا سحر پھونکا کرتے تھے، پھر انہوں نے بصری پردے پر آنے کا فیصلہ کیا اور چراغوں کو ، میرا مطلب ہے ٹی وی والوں کو ایک اچھا میزبان مل گیا۔

    آج عرصے بعد انکا مضمون پڑھ کر اندازہ ہوا کہ عمار بھائی آج بھی نوے کی دہائی کا وقت سیٹ کیے ہوئے ہیں اپنی گھڑی پر۔ ورنہ انکو اندازہ ہو جاتا کہ جن لیکس کو وہ سازش کہہ رہے ہیں، خود امریکا ماضی میں ایسی ہی لیکس کا شکار رہا ہے، اور جس دلیل کو انہوں نے ایک پورے صفحہ پر پھیلا دیا ہے کہ جب اوروں نے استعفی نہیں دیا تو میاں صاحب کیوں دیں، آجکل ایسی دلیلیں ایک ٹویٹ کی جگہ لیتی ہیں ، صفحے کی نہیں، اور آخری بات، آج کا قاری سوشل میڈیا پر ہے، مشتری ہوشیار باش، اب ایسی بودی دلیلیں ، مین کورس میں سرو نہیں کی جاتیں بلکہ ہوٹل کے پچھواڑے والے ڈرم میں ڈال دی جاتی ہیں۔

  • 10-04-2016 at 1:31 am
    Permalink

    واہ،واہ واہ یہ عمار مسعود صاحب کا کالم ہے کہ حکومت کے کسی ترجمان کی پریس کانفرنس کی رپورٹ ہے۔فلاں نے یہ برا کام کیا تو کیا ہمیں بھی اجازت ہے؟ فلاں نے یہ اچھا کام نہیں کیا تو ہم کیوں کریں؟

  • 10-04-2016 at 5:34 am
    Permalink

    بہت شدید مایوسی، دکھ اور افسوس ہوا یہ کالم پڑھ کر۔ اگر ہمارے پڑھے لکھے، میڈیا سے تعلق رکھنے والے، باشعور افراد کی سوچ کی “بلندی” اور “پختگی” کا یہ عالم ہے تو پھر قوم اور عوام کا تو اللہ ہی حافظ ہے۔ عمار صاحب کاش میں آپ ہر میری زندگی کے دو منٹ ضائع کرنے پر ہرجانے کا دعوی کر سکتا۔ خوش رہیئے اور امید ہے کہ آئندہ مزید بہتر منطق / دفاع پیش کریں گے اپنے ممدوح نواز شریف صاحب کا، شکریہ

  • 10-04-2016 at 9:02 pm
    Permalink

    انور عباس صاحب نے درست لکھا ھے۔۔۔۔۔۔۔مگر مسئلہ یہ ھے کہ نواز شریف ضاحب کی ٹیم اسکو سنجیدہ نہیں لے رھی ھے اور بجائے درست سمت میں سوچ بچار کرنے کے اسگو ھنسی مزاق اور غیر اھم ثابت کرنے پر تلی ھوئ ھے۔ اور اسکا نقصان نواز لیگ اٹھائیگی۔ یہ تو پھر کسی اور کے ساتھ حکومت میں شریک ھو جائنگے۔

Comments are closed.