انتہا پسندی، رد عمل کی نفسیات اور ذہنی پیچیدگیاں (5)


akhtar-ali-syed نام لیے اور مثالیں دیے بغیر بات کرنے کی خواہش اور کوشش چند انتہائی فاضل دوستوں کو پسند نہیں آئی۔ گو مجھے شروع ہی سے اس بات کا احساس تھا لیکن فساد خلق کے خوف نے اس طالب علم کو نام لینے اور مثالیں دینے سے باز رکھا۔ ایک تو پڑھے لکھے احباب کا حکم اور دوسرے اس تاثر کو زائل کرنے کے لیے کہ​ ​​ ​​یہ ایک ہوائی تجزیہ ہے اور اس کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں ہے مجبوراً اپنی گزشتہ گزارش میں بیان کردہ مذہبی ذہن رکھنے والے تین گروہوں کے ذیل میں مختصر وضاحتیں پیش خدمت ہیں۔ خیال رہے کہ یہ وضاحتیں طوعاً و کرہاً پیش کی جا رہی ہیں وگرنہ ایسا کرنے کی نہ تو کوئی نیت تھی اور نہ اس کا یارا ۔

میں نے کلینیکل تجزیے کے طریق کار کے عین مطابق ماضی سے جڑے افراد اور گروہوں کی درجہ بندی کرتے ہوئے تین گروہوں کی نشاندہی کی تھی۔

١۔ ان میں سے پہلا گروہ ان افراد کا ہے جن میں ماضی کے لیے کشش اور تابناک مستقبل کے حصول کی تڑپ یکساں طور پر موجود ہوتی ہے۔ تعلیم یافتہ افراد ​کا ​یہ گروہ مغرب میں بآسانی دیکھا جاسکتا ہے۔ گراں قدر پروفیشنل ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے یہ افراد نہ صرف یہ ماضی کے احیا جیسے تصورات کے قائل ہوتے ہیں بلکہ اس کے خواب دیکھتے ہیں اوراس خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کی جدوجہد بھی کرتے ہیں۔ ان کا خیال یہ ہے کہ دنیاوی اعتبار سے روشن مستقبل کے حصول کی ترکیب ماضی سے حاصل کی جاسکتی ہے اور دنیا کی زندگی ان سہولیات سے مزین کی جا سکتی جو آج مغرب کے طرز زندگی کا حصہ ہیں۔ حزب التحریر کا مغرب میں قیام اس کی ایک روشن مثال ہے۔ اپنی سوچ اور باہمی تعلقات میں فرقہ واریت کی طرف مائل ان افراد کی ایک بڑی تعداد تکفیری خیالات رکھتی ہے۔ ان ہی میں وہ افراد بھی ہیں جو ماضی (بعید یا قریب) میں مغربی طرز زندگی سے لطف اندوز ہوتے رہے مگر یکایک منقلب ہو کرانتہا پسندی کی طرف آگئے۔ یاد رکھیے اس طرح کی اچانک تبدیلیاں اکثر شدید احساس گناہ یا صدموں کے نتیجے میں آتی ہیں۔ ایک اور مثال اعلیٰ تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل وہ افراد ہیں جو دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث پائے گئے۔ لندن سکول آف اکنامکس اور انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کے​ طلبا کی ​ انتہا پسندی اور دہشت گردی تو سب کو معلوم ہے لیکن پاکستان کے دیگر اداروں​ میں اس رجحان اور ایسے افراد کی موجودگی بھی اب کوئی راز نہیں ہے۔ 2007 میں گلاسگو ائرپورٹ پر دہشت گرد حملوں میں ملوث ڈاکٹر بلال عبدللہ برطانیہ میں پیدا ہوا۔ اس کے والد بھی ڈاکٹر ہیں۔ اس کے ساتھ دوسرا حملہ آور کفیل احمد ایک انجینئیر تھا اور برطانیہ کی ایک یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کا طالب علم تھا۔ بنکنگ، آئی ٹی، بزنس، اور میڈیکل کے شعبوں میں ایسے افراد بآسانی دیکھے جاسکتے ہیں۔ یہاں یہ سمجھنا درست نہیں ہو گا کہ مسلم ممالک میں ایسے افراد کی کوئی کمی ہوگی۔

hitler

٢۔ دوسرے گروہ کے افراد اپنی موجودہ صورتحال پر قیام ہی کو اپنی کامیابی اور طمانیت کی ضمانت جانتے ہیں۔ مزاروں پر حاضری دینے والے، میلاد کی محفلیں سجانے والے، محرم کی عزاداری مصروف اور اپنے مخصوص قبائلی حالات میں تبدیلی پر برافروختہ ہو جانے والے افراد اس گروہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ جب تک ان کی مخصوص سرگرمیوں اور حالات کو چھیڑا نہ جائے یا ان میں سے بعض عناصر کو سیاسی مقاصد کے لئے اکسایا نہ جائے یہ سیاست سے دور رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

٣۔ تیسرا گروہ ماضی کے کامیاب کرداروں (اسلاف ) اور طریق ہاے کار کی جانب لوٹنے کو مستقبل میں کامیابی کی کنجی سمجھتے ہیں۔ ماضی کی بڑی کامیابیاں چونکہ جنگوں میں فتح یابی کے نتیجے میں حاصل ہوئی تھیں اس لئے یہ گروہ آج تک اسی طریقے کو اپنانے میں اپنی کامیابی دیکھتا ہے۔ اسلاف سے ایک طرح کی الفت اور اس کو اپنی شناخت اور نام کا حصہ بنانے والا یہ گروہ دیگر مسالک کی نسبت عسکری سرگرمیوں میں زیادہ سرگرم دکھائی دیتا ہے۔ ماضی کی طرح اس گروہ کے ہیرو آج بھی بہادر جنگجو ہیں۔ اس گروہ کے افراد قرآن مجید کی آیات قتال کو اپنے سیاق و سباق اور تاریخ سے علیحدہ کر کے غور و فکر اور گفتگو کا موضوع بناتے اور سرحدوں سے ماورا عالمی خلافت کا خواب دیکھتے ہیں۔

stalinایک فرد میں ایک وقت میں ایک سے زاید گروہوں کی خصوصیات کا ہونا نہ صرف یہ کہ قرین قیاس ہے بلکہ عین ممکن ہے۔

مجھے امید ہے کہ یہ مختصر سی وضاحت کافی خیال کی جائے گی۔ اب آئیے اس تصور نرگسیت کی جانب جس پر گفتگو کا آغاز ہم نے گزشتہ تحریر میں کیا تھا۔ ہم نے بنیادی نرگسیت کے بارے میں فرائیڈ کے نقطہ نظر کے حوالے سے یہ کہا تھا کہ اس نے اسے بچے کی ذہنی نشو و نما کے لیے ایک ضروری مرحلہ قرار دیا تھا۔ جب بالغ افراد ​کے لیے ​حقیقت اور حقائق اپنا وجود کھو بیٹھیں تو خود عظمتی کا جنون، خوف کے ایک شدید احساس کے​ ساتھ ​ جنم لیتا ہے۔ یہ خوف گزشتہ اقساط میں بیان کردہ “غیر” کی تشکیل اور صورت گری میں مدد دیتا ہے۔ ​اور ​ سازشوں کے وہ رخ دکھاتا ہے جو خود “غیر” کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتے۔ اس نرگسیت کی ایک خاص اور انتہائی خطرناک صورت ہوش مندی اور پاگل پن کی سرحد پر واقع ہوتی ہے اسی لئے اسے “مہلک نرگسیت Malignant Narcissism کہا گیا ہے۔ اسے مہلک کہنے کی بنیادی وجہ اس کی جان لیوا خصوصیت ہے۔ ایسی نرگسیت کے حامل چند افراد انتہائی طاقتور ترین عہدوں تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ ماہرین نے ہٹلر، سٹالن اور صدام حسین کی شخصیات اور کارناموں کا مطالعہ مہلک نرگسیت کے ذیل میں کیا ہے۔ ہٹلر اپنے کو جدید جرمن تہذیب کا بانی، سٹالن خود کو اشتراکیت کی صنعتی اور عسکری طاقت کا سرچشمہ جب کہ صدام اپنے کو حمورابی کا جانشین خیال کرتا تھا۔ خود عظمتی کے اس احساس سے ان افراد کے عزائم کا سراغ لگانا مشکل نہیں ہے۔ توسیع پسندی کے جس جذبے سے یہ تینوں افراد مالامال تھے اس سے کون واقف​ نہیں ​ ہے۔ ان توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل کے ضمن میں تین پہلو انتہائی نمایاں ہیں۔

١۔ اصول، ضوابط اور قوانین کی صریح خلاف ورزی یا ان کا من مانا استعمال

٢۔ ہمیشہ اپنے مفادات کا سوچنا۔ دیگر انسانوں کے حقوق اور تکلیف کو سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہونا۔

٣۔ صرف دشمنوں کے لیے ہی نہیں بلکہ اپنے لوگوں کے لیے بھی انتہائی ظالمانہ، پر تشدد اور توہین آمیز رویوں اور طریقوں کا استعمال۔​۔

saddamمہلک نرگسیت کے تصور کو ذرا چھوٹا کریں اور ایک عام اور نسبتاً کم اختیار شخص کی سطح تک لایے۔ اس کا اطلاق مسلم ممالک میں موجود عسکری سرگرمیوں میں مصروف گروہوں اور انکی قیادت پر کیجئے۔ ان کے عزائم اور طریقوں کو دیکھئے اور فرمائیں کیا یہ تجزیہ ہوائی ہے یا یہ زمینی حقائق کی تفہیم میں مدد فراہم کرتا ہے؟

گفتگو کو مہلک نرگسیت پہ مرکوز کر کے عام مذہبی ذہن کی ساخت کو سمجھنے کی ایک اور کوشش کرتے ہیں۔

نرگسیت کے شکار افراد اور گروہوں کے لئے ناکامی کو تسلیم کرنا ایک مشکل ترین کام ہوتا ہے۔ مندرجہ بالا تین گروہوں کا کسی اہم سائنسی ایجاد پر رد عمل ملاحظہ فرمائیں۔۔۔۔۔ “ہمیں تو یہ بات چودہ سو سال پہلے بتا دی گئی تھی” یا پھر یہ تصور کہ “سائنس دان اپنی تجربہ گاھوں میں قرآن مجید کھول کر اس کی آیات کی روشنی میں تجربے کرتے ہیں” یقین فرمایے یہ بات ایک نوجوان طالبہ نے ٹیلی ویژن کے ایک مذہبی پروگرام میں کی تھی۔

دوسری مشکل نرگسیت زدہ افراد اور گروہوں کے ساتھ یہ ہوتی ہے کہ یہ اپنی ذات ساتھ منسوب اور وابستہ اشیا، افراد اور نظریات کو بھی اپنے دائرہ نرگسیت میں داخل کر لیتے ہیں۔ یعنی جس طرح نرگسیت زدہ شخص اور گروہ خود کو اعلی، صالح اور بلند مقام کا اہل اور مستحق خیال کرتا ہے اسی طرح خود سے منسوب ہر شے بھی کائنات کی افضل ترین اور اکمل ترین سمجھی جاتی ہے۔ دلیل صرف یہ کہ یہ شے یا نظریہ میرا ہے۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جس طرح اپنی ذات کی ناکامی اور خود پر ہونے والی تنقید ناقابل برداشت ہوتی ہے اسی طرح خود سے منسوب اشیا پر تنقید کو بھی اپنے خلاف جارحیت سمجھا جاتا ہے۔ دوسروں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ان کے احساسات اور جذبات کا خیال رکھیں گے۔ ان کا اور ان سے منسسوب اشیا افراد اور نظریات کا آخری درجوں میں احترام روا رکھا جائے گا۔ اگر ایسا​ نہ ​ ہوا تو اس کو اپنے خلاف اعلان جنگ سمجھا جائے گا۔

ایسے شکست خوردہ معاشروں کے لیے کہ جن میں افراد کی اکثریت ضروریات زندگی کی سہولتوں سے محروم ہوتی ہے یہ ضروری ہوجاتا ہے کہ وہ اپنے افراد میں مہلک نرگسیت کو پیدا کریں۔ کیونکہ اس نرگسیت سے پیدا ہونے والا احساس ​بڑائی ​ اور احساس تفاخر غربت کی لکیر سے نیچے رہنے کی تمام تکالیف کا مداوا بن جاتا ہے۔ لیکن اس کے دو خطر ناک نتائج نکلتے ہیں۔ ایک، یہ کہ مہلک نرگسیت کا دائرہ سکڑنا شروع ہو جاتا ہے۔ معاشرہ مہلک نرگسیت کے حامل چھوٹے چھوٹے گروہوں میں تقسیم ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ ہر گروہ اپنے کو افضل اور اکمل سمجھنا شروع کر دیتا ہے۔ اور دوسرے یہ کہ ان گروہوں کے درمیان ایسی بے حسی اور عداوت پیدا ہوتی ہے جو بالآخر خون خرابے پر منتج ہوتی ہے۔ (جاری ہے)


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “انتہا پسندی، رد عمل کی نفسیات اور ذہنی پیچیدگیاں (5)

  • 09-04-2016 at 10:54 pm
    Permalink

    محترم جناب اختر صاحب،
    آپ کے اس آرٹیکل کی تمام کڑیاں نظر سے گزری ھیں اور مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ آپ نے نہایت عرق ریزی سے ان تمام نفسیاتی عوامل اور نکات کی نشاندھی کی ھے جو انتہا پسندی، تشدد اور دہشت گردی کی بنیاد ھیں.
    میرا مشورہ ھے کہ آپ ان مضامین کو کتابی صورت میں شائع کروا کر نفسیات کے کورس میں شامل کروائیں. تاکہ ھمارے مستقبل کے نفسیات دانوں کو دہشت گردی اور انتہا پسندی کی اصل روح کو سمجھنے کا موقع ملے. یہ مضامین جس گہرائی سے انسانی نفسیات کی پیچیدگیوں کا تجزیہ کرتے ہیں وہ حقیقتاً قابل تعریف ھے. اللہ کرے زور قلم اور زیادہ

Comments are closed.