اشتہار اور جنس


4bd8641b2e9331اشتہار بازی بہت بڑھ چکی ہے اس کی وجہ یہ دریافت ہے کہ بنیادی انسانی جذبہ خوف ہے۔ بیشتر اشتہار بازی۔ جیسے کہ ہم اپنے چاروں طرف دیکھ کر بتاسکتے ہیں، کسی نہ کسی طرح خوف کے جذبہ سے کام لیتی ہے۔ یہ بات صحیح نہیں کہ مشتہرین اپنے فائدے کے لیے لوگوں کے دلوں میں طرح طرح کے خوف پیدا کرتے ہیں۔ انہوں نے تو صرف عام خوف سے(ایسے خوف سے جس کی کوئی وجہ آسانی سے نہیں ڈھونڈی جاسکتی)فائدہ اٹھایا ہے اور اسے اپنے انداز میں ڈھال لیا ہے۔ ایسا خوف آج کل عام طور سے پایا جاتا ہے۔

عام طور پر دونوں جنسوں میں خوف کی ایک مختلف قسم ملتی ہے۔ عورتوں میں خوف کا شکل و صورت سے بلاواسطہ تعلق ہے اور مردوں میں اس کا رشتہ قوت سے ہے۔ لوگوں کو یہ بات جس میں دونوں جنسوں کی بنیادی عادت شامل ہے۔ بالکل قدرتی معلوم ہوگی لیکن یہ بات فطری نہیں کہ جب تک ان کی خود اعتمادی کو سخت صدمہ نہ پہنچا ہو عورتیں اپنی شکل و صورت کے بارے میں اور مرد اپنی قوت کے بارے میں شدید اجتماعی بے چینی میں مبتلا ہوجائیں۔

Creative-Durex-Condom-Ads-21حالانکہ مردوں کے معاملے میں سماجی خواہشات کو ابھارا جاتا ہے لیکن بنیادی طور پر دونوں جنسوں میں جنسی خوف سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ ۔ ۔ یعنی محبت اور جنسی تسکین حاصل نہ ہونے کا خوف۔ گو ظاہری طور پر مردوں کے خوف سطح کے نزدیک ہوتے ہیں لیکن اصل میں وہ اتنے ہی گہرے ہوتے ہیں جتنے عورتوں کے۔

ہمارا زمانہ انا کے ناکام ہوجانے کا ہے اور مرد اور عورت دونوں انا کو تقویت پہنچانے کی جان توڑ کوشش کررہے ہیں۔ عورتیں اپنی شکل و صورت کی فکر میں رہتی ہیں۔ اور مرد اپنی قوت کی فکر میں۔ ہر ایک اپنے طور پر ذاتی قوت حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ ایسی قوت جو خودی، گرد وپیش اور دوسروں پر حاوی ہوسکے۔

مشتہرین کا فیشن زدہ عورتوں سے تخاطب ایک ایسی ہستی سے متعلق ہے جو یہ محسوس کرتی ہے گویا اس کی کوئی چیز کھو گئی ہے۔ اور جس چیز کی کمی محسوس ہورہی ہے۔ گو اس کا نام صاف طور پر نہیں لیا جاتا۔ اس کا تعلق مردوں سے ہے۔ موجودہ دور کی بیشتر اشتہار بازی، جیسا کہ ہم رسالوں اور اخباروں کو دیکھ کر بآسانی اندازہ لگا سکتے ہیں، ’اشاراتی ہے‘۔ یہ جنس کی سرحدوں کو چھوتی ہے۔ بیشتر اشتہارات کا تعلق اور بعض دفعہ تو صاف صاف عورتوں کی جنسی تسکین سے ہوتا ہے۔

مشتہرین عورتوں کے خوف کو بڑے زور و شور سے استعمال کرتے ہیں۔ موجودہ دور کی عورتوں کا شکل و صورت سے نرگسی لگائو جنسی ناکامی اور بنیادی طور پر عورت نہ ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ عطریات کے اشتہاروں میں خاص طور پر جنسی تسکین کے حصول کی خواہش کو صاف طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ نیچے درجے کے حیوانات کے مشاہدے سے ظاہر ہے خوشبو کا جنس سے بلاواسطہ تعلق ہے۔ عطر خوشبو کا مصنوعی بدل ہے۔ اس دور کے عطریات بنانے والوں نے جو اشاراتی اور سنسنی خیز نام رکھے ہیں، ان میں عورتوں کی بنیادی جنسی خواہش کے لاشعوری خوف کی طرف صاف اشارہ ہوتا ہے۔ ان اشتہاروں میں بتایا جاتا ہے کہ ان خوشبویات کے استعمال سے کوئی عورت ناکام نہیں ہوسکتی۔ جس پیغام کو الفاظ کا جامہ نہ پہنایا جاسکے اسے چاندنی رات میں سرمست جوان عورتوں کی تصویروں سے واضح کیا جاتا ہے۔ یہ عورتیں جنسی جذبے سے مغلوب معلوم ہوتی ہیں۔

Best-sexy-ads-80-affiches-de-pub-sexy-431آرائشی مصنوعات کے تمام اشتہارات اس قسم کے ہوتے ہیں۔

’لبوں کو مقناطیسی کیسے بنایا جائے۔ ‘

’نئی لپ اسٹک منہ کو جنسی کشش بخشتی ہے۔ بحر جنوبی کی ایک رقاصہ سے چرائی ہوئی۔۔۔  آپ کے لیے نئے رومان کا راز!‘

’جب لڑکی کے بال چمکیلے ہوں تو پہلی نظر میں محبت کو ئی عجب بات نہیں ہے۔ ‘

’میں اسی بوسہ کا خواب دیکھتی تھی۔۔۔۔۔ اتنی پیاری جلد آپ کی بھی ہوسکتی ہے۔ ‘

’اس کی منگنی ہوچکی ہے! وہ خوبصورت ہے! وہ ۔۔۔۔ استعمال کرتی ہے۔ ‘

آج کل عورتوں کے بنائو سنگار کے رجحان کا رخ مردوں کی طرف ہے اور یہ عورتوں کے لیے جائز بھی ہے۔ لیکن اس چیز پر اتنا زیادہ زور دے دیا گیا ہے کہ پوری کی پوری صنعتوں کی، جن میں لاکھوں ڈالر لگے ہوئے ہیں، بنیاد اسی پر ہے۔ صرف متواتر ناکامی ہی زندگی کے صرف ایک پہلو کو اتنی مبالغہ آمیز اہمیت دے سکتی ہے۔

بشکریہ ادبی دنیا ۔۔۔ ترجمہ: محمد حسن رابع


Comments

FB Login Required - comments

5 thoughts on “اشتہار اور جنس

  • 09-04-2016 at 5:04 am
    Permalink

    تشنگی رہی. اس موضوع پہ بہت کچه لکها جا سکتا ہے. بہ ہر حال عمدہ ہے.

  • 09-04-2016 at 9:54 am
    Permalink

    تحر یر عمدہ ہے مگر تصاویر بے ہودہ ہیں.ہم سب کے پلیٹ فارم سے ایسی تصاویر چھپنا خواہ کسی مضمون کا حصہ ہوں انتہائی نامناسب ہے

    • 09-04-2016 at 11:12 am
      Permalink

      میں آپ سے متفق ھو علمی بلاگ کوسیکسی بلاگ نہیں بنانا چاھیں.

  • 09-04-2016 at 12:06 pm
    Permalink

    اچھا موضوع چنا ہے ،،

  • 09-04-2016 at 5:03 pm
    Permalink

    اس قدر مشکل اور ناقابل فہم ترجمہ کرنے سے بہتر تھا اصل مضمون چھاپ دیا جاتا.

Comments are closed.