اسلامی انقلاب کا سراب۔۔۔ کچھ گزارشات (1)


karam elahi“ھم سب” پر مجاہد حسین خٹک صاحب کی روداد “اسلامی انقلاب کا سراب” پڑھی۔ کہیں کہیں تو “گویا یہ بھی میرے دل میں ہے” کی کیفیت محسوس کی لیکن کچھ تاثرات خالصتاً  ان سے پیش آنے والے واقعات پر مبنی تھے جن کی تشریح پرکلام کی گنجائش پائی۔ جن پرآشوب تجربات اور احساسات کا تذکرہ خٹک صاحب نے کیا ان جیسی کیفیات سے کئی دیگرعازمین اسلامی انقلاب کو بھی گذرنا پڑا۔ فی الحال ان کی دو تیں بنیادی باتوں پر گذارشات پیش خدمت ہیں۔

مضمون نگار نے نظریۓ کے بابت کافی فکر انگیز گفتگو کی ہے۔ اس بات پر کسی حد تک ان سے اتفاق ہے کہ نظریہ کی وجہ سے بسااوقات انسانی فکرایک محدود سانچےمیں سمٹ جاتی ہے۔ نظریہ فرد کو ایک خاص عینک سے حقائق زمان و مکان کو دیکھنے اور پرکھنے پر قانع رکھتا ہے اور یوں اسرار کائنات بالخصوص مظاہردنیا کو دیکھنے، سمجھنے اور اس کی روشنی میں طرز عمل اختیار کرنے کی اہلیت پرایک لحاظ سے تحدید کی قدغن لگا دیتا ہے۔ اس کے مقابلے میں نظریۓ سے آزاد فکر ہی انسان کی ترقی اور سچائی کو پا لینے کی بہترضامن ہوسکتی ہے۔ غورکیا جاۓ تو تکنیکی تفصیلات میں اختلاف کے علی الرغم کسی بھی نظریۓ کو نہ اختیار کرنا بھی بذات خود ایک نظریہ ہی ہے۔ پھر یہ بھی انسان کی عجیب مجبوری ہے کہ نظریہ کے بغیر اس کی حقائق و کون و مکان کو سمجھنے کی کوشش ادھوری رہتی ہے۔ اپنی تمام ترخوبیوں اور خرابیوں کے باوجود نظریہ ایک ضروری عدسہ ہے جس کے بغیر زندگی کی گتھیوں کو سلجھانا ناممکن نہیں توکم ازکم نہایت کھٹن ضرورہے

انسانی زندگی میں نظریہ کی اھیمت کو سمجھنے کے لیۓ ایک مثال پر غورکیجیۓ۔ فرض کیجیۓ ایک شخص ہے جوسمندری راستےسے کسی خاص منزل کی تلاش میں ہے۔ سمندر کی گہرائی اور وسعت اپنی جگہ، انسان کی یہ تمنا بھی بجا کہ ہر گوشہ پنہاں تک رسائی حاصل کرے، جیسے چاہے، جب چاہے، اس لامحدود سمندر میں غوطہ مارتا رہے۔ کچھ ہاتھ آیا، کہیں بھی پہنچ گیا، کچھ بھی دیکھ لیا بس اسی کو مقصد اور منزل قرار دے۔ لیکن دنیا میں ایسے طالع آزما مسافر شاذونادر ہی کہیں پاۓ جاتے ہوں۔ ہر مسافر، ہر راہی جسے منزل تک پہنچنا مقصود ہوتا ہے وہ پوری کوشش کرتا ہےکہ صرف اسی ذریعے اور راستے کو اختیار کرے جو اسے بحفاظت، آسانی سے اور کم وقت میں منزل سے ہمکنار کرے۔ فاترالعقل شخص درکنار، کوئی بھی ذی شعور انسان بغیر منزل، زاد راہ اورمنصوبہ بندی کےمحوسفرنہیں ہوا کرتا۔ پھر یہ بھی ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ سمندروں کی وسعتوں کو ناپنے والے ہر عازم منزل کی یہ بہر حال مجبوری ہے کہ وہ کسی کشتی، کسی جہاز کے محدودات میں رہ کر جانب منزل سفر کرے۔ پھر اس جہازکے رڈر کے ذریعے منزل کی طرف جانے والے کسی خاص سمت اور راستے کا تعین کرے۔ اس کے بغیر انسان بے مقصد تلاش بسیارکے بعد تھک ہارکر بالآخرزندگی سے ہی بیزارہوجاۓ یا کسی بھی آن کوئی نہنگ یا مہلک طوفانی موج لقمہ اجل بنا دے۔۔۔ یہی حال زیست کے پراسرارسفر کا بھی ہے۔ کب سے یہ سفر شروع ہے، کیوں جاری ہے، کہاں جانا طے ہے، یہ اوراس طرح کے لاتعداد سوالات ہیں جو انسانی عقل وشعور پرمسلط رہتے ہیں۔ ان کے جوابات تک رسائی کے لیۓ ہمہ وقت انسان کو حقائق کے انبوہ میں راستہ ڈھونڈنا ہوتا ہے۔ اس عمل کے دوران  انسان حواس، عقل، شعور، تجربہ، جبلت وغیرہ کا محتاج ہوتا ہے۔ اس کے باوجود بسااوقات ٹھوکر کھا کراس پرغلطی منکشف ہوجاتی ہے۔ پھر چاروناچار کوئی اپنی فکروعمل کی طرف رجوع کرتا ہے، کپڑے جھاڑتا ہوا نۓ سرے سےتلاش منزل میں لگ جاتا ہے تو کوئی مایوس ہو کر راستے میں ہی ہمت ہارجاتا ہے۔ عزم و ہمت کے دھنی کو جن سوالات کے جوابات مل جائیں، ان کی بنیاد پروہ اپنے لیۓجادہ و منزل کا انتخاب کرتا ہے۔۔۔ چند سوالات مگر پھر بھی اس کے دسترس سے باہر رہ جاتے ہیں۔ ان سوالات کا جواب جب تک اسے نہیں ملتا اس کے پاس دو ہی راستے ہیں۔ پہلا راستہ یہ کہ ان سوالات کومزید درخوراعتنا ہی نہ سمجھے۔ کھاۓ، پیۓ، موج مزے کرے اورشام و سحرکرتا جاۓ تاوقتیکہ سانسوں کی ڈور کٹ جاۓ۔ دوسرا راستہ یہ ہے کہ تلاش و جستجو کا دروازہ کھلا رکھتے ہوۓ ان سوالات کے بارے میں تب تک انسانوں کے اجتماعی تعامل پر بھروسہ کرے جب تک مخالفت میں ٹھوس اور ناقابل تردید شواہد سامنے نہ آئیں۔ اگر تلاش و جستجو کے دوران کوئی فرد یہ یقین حاصل کرلے کہ اجتماعی تعامل فی الواقع غلط تھا، تو اسے ان سوالات کے حوالے سے ذاتی حیثیت میں فیصلہ کرنے کا پورا اختیار ہے، اور اس فیصلے کے نتائج کے لیے بھی وہ خود ذمہ دار ہے۔

ان دونوں راستوں کے چناو میں فرد کو مکمل آزادی ہے۔ یہ آزادی صرف لبرل ازم نہیں دے رہا بلکہ مذہب بھی دے رہا ہے۔ اس حوالے سے اسلام کی پالیسی لا اکراہ فی الدین سے بالکل واضح ہے۔ خٹک صاحب نے اسی عمل سے گذر کرایک فیصلہ کیا، اور اپنی فکر و عمل کو ازسر نو مرتب کیا۔ ایک فرد کی حیثیت سے انہیں ایسا کرنے کا پورا حق اور اختیار ہے۔ لیکن جیسا کہ بین السطور ان کی تحریر سے واضح ہے یہ ضروری نہیں کہ خٹک صاحب انفرادی حیثیت سے جن نتائج تک پہنچے وہ واقعتاً بھی درست ہوں۔ امکان تو اس بات کا بھی ہے کہ اجتماعی تعامل اور فکر ونظر غلط ہو اور ایک فرد کی انفرادی سوچ اور عمل حقیقت سے قریب تر ہو، لیکن یہ بھی عین ممکن ہے کہ فرد عدم توازن کا شکار ہوا ہو، کسی فیکلٹی نے اسے دھوکہ دیا، اور وہ غلط نتیجہ اخذ کر کے غلط راستے کا انتخاب کر گیا ہو۔ لہذا جب تک کوئی شخص اپنے انفرادی فکروعمل کی حقانیت اور اجتماعی فکروتعامل کی غلطی دلیل کی قوت سے پوری طرح مبرہن نہ کردے، لوگ غلطی کے امکان کے باوجود عموماً ایک شخص کے موقف کی بجاۓ اکثریت کےموقف ساتھ چلنے کو زیادہ درست سمجھتے ہیں۔ اسی اجتماعی فکر و عمل کو جب ایک منظم او مربوط شکل دی جاتی ہے تو اسے ہم نظریۓ سے تعبیر کرتے ہیں—

سرد جنگ کے خاتمے کے بعد یہ خیال ابھرا کہ اب آئیڈیالوجی کا دور ختم ہوچکا۔ لیکن اس باب میں تاریخ کا حتمی فیصلہ ابھی آنا باقی ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ آئیڈیالوجی کےسبب انسانوں میں کشاکش اور خونریزی بھی ہوئی لیکن ماننا پڑے گا کہ نظریہ انسانوں کے درمیاں کنفلیکٹ کے اسباب میں سے ایک اھم سبب تو ضرور ہے، واحد سبب قطعاً نہیں۔ اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ آئیڈیالوی کےخاتمے کے بعد دنیا میں کنفلیکٹ ختم یا کم ہوجائے گا۔۔۔ یہ بات بھی مطلق طورپر درست نہیں کہ نظریہ محض انسانی کی فکر ترقی کی راہیں مسدود کرتا ہے۔  حق تو یہ ہے کہ انسانی فکر کے ارتقا میں نظریے کا اھم کردار رہا ہے۔ سرسری طور پر نظریہ ایک منجمد باڈی آف تھاٹس نظر آتا ہے لیکن کہیں اس کی کوکھ سے تو کہیں اس کے ردعمل میں مختلف آئیڈیالوجیز نے جنم لیا جن سے انسانی فکر کو ترقی ملی۔ اس کے ساتھ ساتھ نظریہ انسانی زندگی میں عملی افادیت بھی رکھتا ہے۔ یہ انسانوں کی نظم اجتماعی کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ فرد اور جماعت کی سوچ فکر، امنگوں، مقاصد اور مساعی میں ہم آہنگی لاتا ہے۔ سماج اور ریاست کو سمت اور منزل کے تعین میں مدد دیتا ہے۔ اسی طرح آیئڈینٹٹی یعنی شناخت کی تعمیر میں بھی آئیڈیالوجی کا اھم رول ہے۔ اس لحاظ سے آئیڈیالوجی کو اتنا معتوب و مردود چیز بھی نہیں سمجھنا چاہیے جس طرح زیربحث مضمون میں تاثر ابھرتا ہے۔ (جاری ہے۔)


Comments

FB Login Required - comments

کرم الہٰی

کرم الہی پیشے کے لحاظ سے سینیر سول سرونٹ ہیں۔ انگریزی زبان و ادب اور ڈویلپمنٹ سٹڈیز میں ماسٹرزڈگری رکھتے ہیں۔ آج کل پولیٹیکل سائنس میں ڈاکٹریٹ کررہے ہیں۔ نثر اور شاعری دونوں میں تخلیقی کام کے ساتھ ساتھ مختلف سماجی، سیاسی اور معاشی امورپر تحقیق، مقالہ نگاری اورمضمون نگاری ان کے مشاغل میں شامل ہیں۔

karam-elahi has 1 posts and counting.See all posts by karam-elahi

3 thoughts on “اسلامی انقلاب کا سراب۔۔۔ کچھ گزارشات (1)

  • 09-04-2016 at 1:29 pm
    Permalink

    Waiting for the upcoming part(s), it’s a very good piece.

  • 10-04-2016 at 3:16 am
    Permalink

    مضمون کی زبان عام فہم نھیں تھوڑا آسان لکھیں
    ۔۔

  • 10-04-2016 at 5:06 pm
    Permalink

    مزید کا انتظار ہے ، بہت اعلی

Comments are closed.