عمران خان اور ایمپائر کی انگلی


husnain jamal (2)

گاؤں میں ایک چوہدری کی وفات ہو گئی، سارا گاؤں رو رہا تھا، لوگ بڑھ بڑھ کر اس کے لواحقین سے تعزیت کرتے تھے۔ ایک کونے میں گاؤں کا نائی اور اس کا بیٹا بھی بیٹھا تھا۔ نائی کے بیٹے نے باپ سے پوچھا، ابا جی، اب گاؤں کا چوہدری کون ہو گا، نائی نے کہا، بیٹے چوہدری صاحب کا بیٹا اگلا چوہدری ہو گا۔ بچے نے پوچھا، اگر وہ مر گیا تو، نائی بولا پھر اس کا بیٹا چوہدری بنے گا، لڑکا کہنے لگا، اگر وہ بھی مر گیا؟ چوہدری بولا پھر اس کا بیٹا بنے گا، بچہ پوچھتا ہے، ابا، اگر وہ بھی مر گیا تو کون چوہدری بنے گا، نائی نے کہا، پت سارا گاؤں وی مر جائے، توں نئیں چوہدری بن سکدا (بیٹے سارا گاؤں بھی مر جائے تو تو چوہدری نہیں بن سکتا ہے)۔

لیکن جمہوریت میں بہرحال کچھ بھی ناممکن نہیں ہوتا۔

پاناما لیکس بہت سے دلوں میں ارمان جگا گیا، موسم بدلا، رت گدرائی، اہل جنوں بیدار ہوئے، انگڑائیاں لیں اور کچھ کر دکھانے کا جنون چہروں سے دوبارہ چھلکنے لگا۔ باقاعدہ خضاب لگائے گئے، اور نک سکھ سے تیاریاں ہونے لگیں۔ تھرڈ ایمپائر کی انگلی مگر اس بار بھی نہ اٹھ سکی۔ آپ کہہ سکتے ہیں ابھی بہت کچھ باقی ہے، پارٹی ابھی شروع ہوئی ہے، لیکن فقیر اس دفعہ ایسا کچھ نہیں دیکھ رہا۔

ان لیک شدہ رپورٹس میں ایسا کچھ بھی نیا نہیں ہے کہ جو ہمارے اعلی سطحی حلقوں میں کسی کی توجہ کا باعث بنے۔ جو الزامات ہیں، پرانے ہیں اور اس رپورٹ کا تعلق عالمی سیاست کے مہرے ہلانے والوں سے لگتا ہے لیکن حیرت ہے اس قدر ناتجربہ کاری؟ وہ جو ایک وزیر اعظم بے چارے استعفی دے کر بیٹھ گئے، صرف اس لیے کہ ان کے اوپر پہلی بار اس قسم کے الزامات لگائے گئے، لوگوں کے لیے بھی قدرتی طور پر یہ ایک سانحے سے کم نہ تھا تو انہوں نے احتجاج کیا اور وہ وزیر با ضمیر اپنا استعفی بہ صد حسرت و یاس پیش کرتے ہوئے روانہ ہو گئے۔ وطن عزیز میں تن اور من کا دھن آتا جاتا رہتا ہے، سارے کھلاڑی ایک جیسے ہیں بلکہ تماش بین بھی رنگے ہوئے ہیں تو کچھ اچنبھا بہرحال نہیں ہوتا۔

ہمارے ہاں ویسے بھی چلتی حکومت کے خلاف تحقیقات کرنے کے لیے استعفے درکار نہیں ہوتے، جب دل چاہتا ہے اسمبلیاں ٹوٹتی ہیں، جب نوائے سروش ہوتی ہے وزیر اعظم کا مواخذہ ہوتا ہے بس الزامات ہوں، کیسے بھی ہوں، پھر دیکھیے جاڑے کی بہاریں۔ نواز شریف صاحب نے اپنے خلاف تحقیقات کرنے کے لیے ایک کمیشن بنایا ہے، ابھی اس کے اراکین بھی پورے نہیں، وہ جب مکمل ہوں گے تو رپورٹ بھی حکومت کو پیش کریں گے گویا گھر کی بات گھر میں ہی رہے گی۔ یہ اعتماد بتائے دیتا ہے کہ ابھی سسٹم کو کسی قسم کا خطرہ ہرگز نہیں ہے، اور یہ اچھا شگون ہے۔

ایک بار عمران خان اپنا دھرنے کا شوق پورا کر چکے، ساتھ عالم رویا میں گزر کرنے والوں کی بھی عاقبت خراب کی۔ ایک مرتبہ جماعت اسلامی بھی جنازوں کے جلوس میں ملک فتح کرنے نکلی، اس کے ارمانوں پر بھی اوس پڑی۔ سنی تحریک نے بھی ہائے دل اور ہائے گل کے نعرے لگائے لیکن مکمل عزت و احترام کے ساتھ ان کو بھی واپس کیا گیا۔ کیا خیال ہے، ان میں سے کسی نے نظر بھر کے تھرڈ ایمپائر کی انگلی نہیں چاہی ہو گی؟

ظاہری بات ہے، اگر ادھر سے شہ ملتی تو بازی پہلی بار ہی میں مات تھی۔ نواز حکومت بے شک اپنے پیر پر کلہاڑی مارنے میں شیر ہے، کئی مواقع اپوزیشن کو بہ صد شوق دیے جاتے ہیں، کچھ وہ خود ڈھونڈ لیتے ہیں لیکن تاریخ کی گواہی ہمیں یہ ماننے پر مجبور کرتی ہے کہ سپہ سالار کی موجودگی ہی ان کھلیانوں کو ہرا رکھ سکتی ہے، اور اس مرتبہ سالار واضح طور پر مختلف عزائم لیے خم ٹھونکے موجود ہے۔

جی ہاں، جب جنرل شریف کی ریٹائرمنٹ کی تاریخ کا اعلان کیا گیا اور آئی ایس پی آر کی جانب سے ٹویٹ آیا، صاحبان بصیرت اس وقت جان گئے کہ اب آئندہ سال فوج کا فوکس ان کاموں پر ہو گا جو پچھلے کئی برسوں سے آج کل پر ٹلتے آئے ہیں اور جن میں سرفہرست دہشت گردوں کا مکمل صفایا تھا۔ آپ اس دن سے آج تک دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کیے گئے اقدامات دیکھ لیجے، مکمل صاف ذہن اور سیدھی شست بندھی نظر آئے گی۔ وجہ کیا ہے کہ اب کسی رعایت کا انتظار کوئی نہیں کر رہا اور نہ ہی کوئی توسیع کسی کے پیش نظر ہے۔ جب یہ معاملات نہ ہوں تو فضول کی سیاست میں الجھنا اور نظام کو ڈی ریل کرنا اس وقت مجموعی طور پر نقصان کا باعث نظر آتا ہے۔

انڈیا کے ساتھ اعلی سطحی تعلقات کو بھی فریقین کے درمیان دراڑ کا بنانے کی کوشش کی گئی، پرانے گرفتار شدہ جاسوس ایرانی صدر کے آنے پر پیش کیے گئے، اتفاق گروپ کے ملازمین کی فہرستیں بھی جاری کی گئیں، غیرت بریگیڈ کے شاہین بھی لپکتے جھپکتے رہے لیکن بہرحال وہ مراحل بھی جیسے تیسے سر ہو رہے ہیں، وجہ صرف ایک ہے، اور وہ ملک کی موجودہ ترجیحات ہیں۔

تو اس سب کے بیچ میں اگر کوئی جماعت اپنے پارٹی الیکشن بھول کر یہ سوچنا شروع کر دے کہ ایک مرتبہ پھر دھرنا دیں گے اور رائے ونڈ میں دیں گے اور حکومت اڑا دیں گے اور باسی انقلاب لے ہی آئیں گے تو یہ ان کی خام خیالی ہو گی۔ بھائی، فی آدمی ڈیڑھ دو ہزار روپے روزانہ کے عوض آپ جتنے چاہے دیہاڑی دار مزدور اکٹھے کر لیجیے، اگر اس بار بھی ایمپائر کی انگلی چاہتے ہیں تو وہ اٹھتی نظر نہیں آتی، ہاں اگر رائے ونڈ روڈ پر رہنے والے عوام کی دعائیں سننی ہیں تو شوق سے آئیے، راستے بند کیجیے، لیکن یہ دیکھ لیجیے کہ وہ ڈی چوک جیسی جگہ بہرحال نہیں ہے، وہاں سے کئی گنا زیادہ سیکیورٹی کے مسائل آپ کے سامنے منہ اٹھائے کھڑے ہوں گے۔

کالم کی دم: تحریک انصاف، ڈاکٹر شاہد مسعود اور کچھ مہربانوں کے ٹویٹس سیاسی درجہ حرارت میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں لیکن دلی ہنوز دور است۔
دم چھلا؛ پی ٹی وی پر خطاب اور شیروانی سلوانے کی خواہش، اصل میں دونوں ایک ہیں!


Comments

FB Login Required - comments

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 146 posts and counting.See all posts by husnain

One thought on “عمران خان اور ایمپائر کی انگلی

  • 11-04-2016 at 11:52 pm
    Permalink

    راجہ کو کوئی کچھ مت کہیو۔۔۔راجا میرا دلبر جانی۔۔۔دلبر جانی کر من مانی۔۔۔بول میری مچھلی کتنا پانی۔۔۔

Comments are closed.