بابائے قوم کی تقریروں کا جھگڑا کیا ہے


چین ہم سے دو سال بعد آزاد ہوا تو ان کا بھی ایک بابائے قوم تھا۔ اپنے دور کی اہم ترین عالمی شخصیت ماؤزے تنگ۔ اس بابے کا بھی ایک نظریہ تھا۔ بالکل الگ تھلگ اور اپنے زمانے میں تیزی سے پھیلاتا ہوا انتہائی طاقتور نظریہ۔ ایک چوتھائی دنیا اسی نظریے کے زیر اثر تھی۔ باقی دنیا میں اس نظریے کو لاگو کرنے کی تحریکیں زور پکڑ رہی تھیں۔ دنیا کی طاقت ور حکومتوں اور طاقت ور ترین اشخاص اور بزنس کمپنیوں کا سب سے بڑا خوف اس نظریے کا چھا جانا تھا۔ اسی طرح سے غریب کسانوں اور مزدوروں کو اپنی زندگی کی سب سے بڑی امید یعنی خوشحالی اسی نظریے سے بندھی ہوئی لگتی تھی۔

اس نظریے کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کچھ بھی جائز تھا۔ کیمونسٹوں کے چھپے ہونے کا بہانہ کر کے کسی بھی گاؤں یا محلے پر انتظامیہ چھاپہ مار سکتی تھی۔ چین کی آزادی کا لیڈر اس طاقت ور نظریے کا اہم ترین آدمی تھا۔ کیونکہ پہلے دو اہم ترین لوگ مارکس اور لینن اس دنیا سے جا چکے تھے۔ چینی اس وقت بھی اپنے نظام کو مارکسزم، لیننزم ماؤازم کہتے تھے اور اب بھی یہی پوری گردان کرتے ہیں۔

آج کا چین بابائے قوم ماؤ زے تنگ کے چین سے بہت مختلف ہے لیکن پھر بھی وہ ماؤ ہی کا چین ہے۔ ماؤ کے دور میں چین میں ذاتی ملکیت اور ذاتی بزنس یا کاروبار کی صورت کیا ہوتی ہو گی۔ سرمایہ داری کی مخالفت بلکہ دشمنی میں تنہا کر دیا جانے والا چین آج سرمایہ کاری کی جنت اور سرمایہ داری کی آماجگاہ ہے۔ ساری دنیا کی تمام بڑی بزنس کمپنیاں وہاں اپنی سرمایہ کاری کرتی ہیں اور ماؤ کا چین اور ماؤ کی پارٹی انہیں ان کے سرمائے کے تحفظ کی ضمانت دیتے ہیں۔ اب چینی شہریوں اور بزنس فرموں کی (ذاتی) جائیداد نہ صرف چین میں جائز ہے بلکہ وہ ساری دنیا میں جائیدادیں اور پیداواری ذرائع کی ملکیت خرید رہے ہیں۔ آج کا چین اپنے ارب پتی لوگوں کی ایک معقول تعداد پر بھی فخر کرتا ہے اور ہر سال ان کی تعداد میں اضافہ بھی ہوتا ہے۔

ساٹھ سال پرانے چین میں زر مبادلہ کے ذخائر کیا ہوتے ہوں گے۔ آج کے چین کا خزانہ ڈالروں سے ابل رہا ہے۔ اور چینی سرمایہ کار کمپنیاں ساری دنیا میں سرمایہ کاری کے منصوبے پر عمل پیرا ہیں۔ انہوں نے اپنی کمپنیوں کا مال ساری دنیا کی منڈیوں تک پہنچانے کے لیے بیلٹ اینڈ روڈ کا منصوبہ بنایا ہے اور آدھی دنیا کی بندرگاہیں خرید لی ہیں۔ غرضیکہ وہ ہو رہا ہے جو شاید ماؤ نے کبھی سوچا نہ تھا۔ لیکن ماؤ اب بھی بابائے قوم ہے۔ آج کا چین اپنے بابائے قوم ماؤ زے تنگ ہی کا خواب پورے کرنے میں مصروف ہے۔ اور یہ بات بالکل ٹھیک بھی ہے کیونکہ کچھ بھی حرف آخر نہیں ہے۔ چینی اگر اپنے بابائے قوم ماؤزے تنگ کی انہی تقاریر اور بیانات کے ساتھ چپکے رہتے اور ان کے بخیے ادھیڑتے رہتے جو اس نے آج سے ستر اسی سال پہلے آزادی کی جدوجہد کے دوران میں کی تھیں تو چین آج کہاں ہوتا۔ انہوں نے وقت کے ساتھ ساتھ ہونے والی تبدیلیوں اور دنیا کے تجربات سے سیکھا اور اپنے ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالا ہے۔

اور پھر ماؤ کے نظریات کے ٹھیک یا غلط ہونے پر بحث بھی بہت ہو سکتی ہے۔ آج مزدور کے حقوق اور خوشحالی کی صورت حال امریکہ اور یورپ، یعنی سرمایہ دار دنیا، میں چین سے بہتر ہے۔
کسی بھی لیڈر کی ساری تقریروں اور بیانات کو جوں کا توں رائج نہیں کیا جا سکتا اور پھر تا حیات تعمیل تو ممکن ہی نہیں۔
بڑے آدمی جب بڑے لیڈر بننے کے پروسیس میں ہوتے ہیں تو زندگی کے تجربات سے سیکھ رہے ہوتے ہیں۔ ان کے اپنے نظریات بھی وقت کے ساتھ ساتھ بدلتے ہیں۔

قائد اعظم محمد علی جناح بھی اپنے دور کے ایک نہایت با اثر شخصیت تھے۔ یہ بات ثابت کرنی مشکل نہیں کہ وہ ایک ماڈرن لیڈر اور جمہوریت پسند تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی میں کئی الیکشن لڑے اور اسمبلی کے سرگرم رکن رہے۔ اپنے ہاؤس کے اندر بہت جاندار آواز تھے۔ وہ بہت پڑہے لکھے تھے، محنتی تھے اور ہوم ورک پر یقین رکھتے تھے۔ وہ اپنی خداد صلاحیت اور تیاری کی وجہ سے نہایت جاندار دلائل دینے میں مشہور تھے۔ معاشرے کے کمزور طبقات کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتے تھے۔ اس سلسلے میں ایک روشن مثال 1929 کا بچیوں اور بچوں کی شادی کے خلاف قانون کی بھرپور حمایت ہے۔ رجعت پسند مسلمان اور ہندو اس وقت بھی اس قانون کے خلاف تھے اور اس کے اٹھاسی سال بعد آج بھی اس کے مخالف ہیں (پاکستان میں آج بھی اس قانون کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں)۔ 1929 کا یہ واقعہ گیارہ اگست والی تقریر کے ساتھ زیادہ لگا کھاتا ہے اس لیے سیکولر لبرل طبقے کے لوگ ان دونوں باتوں کو اپنی دلیل مضبوط بنانے کے لیے پیش کرتے ہیں۔

قائد اعظم نے اپنی بھرپور سیاسی زندگی میں ایسی باتیں بھی کی ہیں جنہیں جماعت اسلامی یا دوسرے رجعت پسند اپنی دلیل کو مضبوط بنانے کے لیے پیش کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ قرارداد مقاصد جیسی دستاویز تو قائد اعظم کی وفات کے فورا بعد ہی وجود میں لائی گئی۔ پارٹیشن کے واقعات اور اس کے بعد کے حالات نے اس تجزیے میں بھی جان ڈال دی ہے کہ پاکستان بننے کی تحریک کی وجہ سے ہندو مسلم فرقہ واریت کے مسائل کم ہونے کی بجائے بڑھے ہوں گے۔ لیکن ان سارے تجزیات سے قائداعظم کی شخصیت پر کوئی منفی اثر نہیں پڑتا۔ کیونکہ آج کا پاکستان اگر اقوام عالم میں ایک اچھے مقام پر نہیں ہے تو اس میں قائد اعظم کے افکار کا قصور نہیں ہے۔ قائد کے افکار ہمیں اس بات سے نہیں روکتے کہ ہم پاکستان کو ایک ماڈرن جمہوریت کے طور پر ترقی کی راہ پر ڈالیں۔ ہماری ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہمارے حکمرانوں کی نا اہلی اور ان کے ذاتی لالچ ہیں۔ بدقسمتی سے ان نا اہل حکمرانوں میں سیاست دان، فوجی جرنیل، مذہبی ٹولہ، جاگیردار، سرمایہ دار اور بیوروکریٹ یعنی ساری اشرافیہ شامل ہیں۔

بحث کو الجھاؤ نہیں، قائد اعظم کا پیغام انسان دوستی، انسانوں کے درمیان برابری، جمہوریت اور اقوام عالم کے ساتھ امن اور دوستی کا پیغام ہے اور یہی پاکستان کی ترقی کا باعث بنے گا۔ قائد کی تقاریر پر نہ جھگڑو۔ پاکستان کا نظام آج کی ضروریات کے مطابق تشکیل دینا ہماری ذمہ داری ہے اور قائد اعظم نے اس بات سے منع نہیں کیا۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 167 posts and counting.See all posts by salim-malik