اندرون لاہور کی تباہی کا منظر


کتنی ہی بار لاہور آئے۔ کئی کئی دن رہے، مزدوری کے حوالے سے لے کر ”ذاتی حوالوں تک“ بارہا آنا اور رہنا ہوا۔ مگر اندرون لاہور دیکھنا، دیکھ کر سمجھنا اور سمجھ کر دیکھنا نہ نصیب ہوا۔ اس عرصہ میں دنیا کے کئی قدیم شہروں کے ”اندرون“ دیکھ لیے۔ قرطبہ اور غرناطہ میں عربوں کے قدیم محلے ایک سے زیادہ مرتبہ چھانے، فاس میں کہ ہزاروں برس پرانی گلیاں اب بھی راہگیرو ں سے چھلک رہی ہیں۔ گھوم پھر کر قدیم یونیورسٹیاں دیکھیں۔ ابن خلدون جس گھر میں رہتا تھا، اس میں آج کل رہنے والے سے مکالمہ کیا۔ مراکش شہر میں وہ میدان دیکھا جس میں سینکڑوں سال پرانی روایتیں شام کو اب بھی اسی طرح زندہ دکھائی دیتی ہیں۔ یوسف بن تاشفین کے مزارپر حاضری دی۔ طنجہ میں سقہ کو ایک ہزار برس پرانے لباس میں پانی پلاتے دیکھا۔ پرانی تنگ گلیوں میں ابن بطوطہ کا مزار ڈھونڈا، استنبول، قونیہ، عمان کے کوچے ماپے۔ خیوا، ارگنج، ترمذ اور سمرقند کے آسمان کو دیکھا۔ بکارا میں ”لبِ حوض“ سے لے کر کوچہ تِل پگ فروشاں تک کی گرد کو لباس کی زینت بنایا۔ فلپائن کے شہر منیلا میں مسلمان بادشاہوں کے محلات دیکھے۔ روم اور نیپلز کی تنگ گلیوں میں پرانے پتھروں کے فرش پر جوتے گھسائے۔ آگرہ اور دہلی کے پرانے حصے دیکھے۔ چٹا گانگ، کاکسس بازار کے ساحلوں سے لے کر میمن سنگھ کے جنگلوں تک گھوم پھر لیا۔ کئی اور علاقوں، کئی اور شہروں اور کئی اور ملکوں کے قدیم قریوں کی خاک چھانی۔ مگر ستم ظریفی کی انتہا کہ نہیں دیکھا تو نظر نہ آنے والی فصیل کے اندر کا لاہور نہیں دیکھا۔
یہاں سے بارہا گزارا مگر خبر نہ ہوئی
کہ زیر سنگ خنک پانیوں کا چشمہ تھا!

اس نعمت سے محرومی کا داغ ماتھے پر لگا ہی رہتا اگر عزیزم علی اکبر ناطق کی، اندرون لاہور کے بارے میں ایک اشتہا انگیز تحریر پر نظر نہ پڑتی۔ اب یہ عزیز علی اکبر ناطق بجائے خود ایک عجائبات ہے۔ اکل کھرا اتنا کہ اوکاڑہ سے ہے مگر لگتا میرے علاقے کا اعوان ہے۔ جو بات دل میں ہے لگی لپٹی رکھے بغیر، صاف صاف کہہ دینے والا، لائق فائق بہت کہ ابھی شباب کا سورج عین سر پر نہیں پہنچا مگر شعری اور نثری تصنیف پین گوئن سے لے کر آکسفورڈ یونیورسٹی پریس تک ہر بڑے اشاعتی ادارے سے چھپ چکی ہیں۔ اور اندرون ملک اور بیرون ملک شہرت پھیل رہی ہے۔ خداداد ٹیلنٹ سے جنم لیتی خوبصورت، دل آویز تحریروں کا لکھنے والا، علی اکبر ناطق آگے بڑھتا جارہاہےاور پیچھے حاسدوں بد خواہوں کا ہر دم بڑھتا غول، شور شرابہ کرتا چلا آرہا ہے۔ بنیادی طور پر عزیزم حسان بن احسان کا دوست ہے۔ اس حوالے سے وضعداری نبھانا جانتا ہے۔

خیر! اندرون لاہور کی سیر کا اہتمام اس نے اس طرح کیا کہ تنظیمی صلاحیت بھی دکھا دی۔ ہر جگہ معاملات پہلے سے طے اور دوستوں کا گروہ پذیرائی کے لیے موجود، ملک وقار نے جو اندرون شہر ایک سیاسی جماعت کے سرکردہ لیڈر ہیں۔ رہنمائی کی اور خوب کی! ملک وقار کو اس امر کا کریڈٹ دینا چاہیے کہ باقی اہل سیاست کے برعکس، اندرون لاہور سے نقل مکانی کرکے کسی ماڈرن مضافاتی آبادی میں نہیں گئے۔ اپنے حلقے ہی میں رہتے ہیں اسی لیے آدھا وقت وقار نے ہمیں دیا اور آدھا گلیوں محلوں چوراہوں سے سلام وصول کرنے پر لگایا۔

یہ ایک الگ دنیا ہے۔ فصیل سے باہر کے شہر سے اس کا کوئی تعلق نہیں! یہ اکبر کی دنیا ہے، شاہ جہاں کی دنیا ہے، ان گلیوں میں چلتے پھرتے لوگ آج کے زمانے کے نہیں! جہانگیر اور اورنگزیب، شاہ عالم ثانی اور بہادر شاہ ظفر کے عہد کے لوگ ہیں۔ ان تنگ بازاروں سے دائیں بائیں نکلتی پانچ فٹ چوڑی گلیوں میں آنکھیں بند کرکے دیکھیے، پگڑیوں اور دستاروں اور چغوں، صدریوں اور انگرکھوں میں ملبوس، گھوڑ سوار، پالکی سوار، فیل سوار، اب بھی نظر آرہے ہیں! خوانچہ فروش انہی زمانوں کے ہیں۔ فرش بھی وہی ہیں اور گلیوں پر جھکے ہوئے آسمان کے ٹکڑے بھی وہی! ابھی آنکھیں نہ کھولیے۔ ابھی کئی کوچوں سے گزرنا ہے! یہ تیر گروں کا کوچہ ہے۔ یہاں زین ساز بیٹھتے ہیں۔ یہاں نعل لگ رہے ہیں! یہ کوزہ گروں کی گلی ہے۔ وہاں کفش دوز بیٹھے ہیں! یہ بیٹھک کا تباں ہے۔ ادھر دیکھیے، کشمیری بازار ایک افق سے جو چلا ہے، تو دوسرے افق تک پھیلتا ہی چلا گیا ہے۔

مغل شہزادیاں یہاں بھیس بدل کر آتی ہیں اور ملبوسات بنواتی ہیں۔ چنری، مقیش، سلمہ ستارا، گوٹی کنارا، کرن لپا، دبکی، تھپہ، زرتار، کیا ہے جونہیں جھلملا رہا! عورتوں کے ٹھٹھ لگے ہیں۔ کوئی پالکی سے اتر رہی ہے۔ کہیں کہار آوازیں لگا کر پیدل چلنے والوں سے راستہ مانگ رہے ہیں۔ گھوڑ سوار آرہے ہیں، جارہے ہیں۔ ادھر دیکھیے، ہاتھی چلا آرہا ہے۔ زرد رنگ کا ہودہ ہے۔ اس میں بیبیاں سوار ہیں جن کے ملبوسات کا سرخ رنگ دور سے ہی نظر آرہا ہے۔ ! نانبائی اور کبابچی اس قدر مصروف کہ کان کھجانے کی فرصت نہیں! اہل لاہور کوخوش خوراکی کا چسکہ آج سے نہیں، اس زمانے سے ہے جب ان کا شہر، کشمیری جانے والے بادشاہوں اور وہاں سے آنے والے شاہی قافلوں کے لیے آرام اور پڑاؤ کی جگہ تھی۔ کیا عجب پائے اور چنوں کی پچاس پچاس دیگیں محل میں یہاں سے ہر روز جاتی ہوں!

بھاٹی گیٹ سے لے کر دہلی دروازے تک اور اس کی بغل میں واقع کوتوالی تک، پرانا لاہور ایک نوحہ ہے! ایک دلدوز چیخ ہے!ایک گھٹی ہوئی سسکی ہے! ایک ماتم سرائے ہے! اے اہل لاہور! تم نے اپنے ناشتے اور عشائیے کی روایات تو زندہ رکھیں! تم نے الائچی کے پانی میں پکا ہوا داس کلچہ تو ضائع نہ ہونے دیا۔ تمہارے پکوانوں میں آسمانی مہک اب بھی برقرار ہے۔ تمہارے تِل تمہارے مصالحے، تمہارے چنے، تمہارے گوشت کی اور دال کی اور کشمیری اور مغلئی اور لکھنوی اور دکنی کھانوں کی خوشبوئیں اب بھی پورے کرہ ارض سے شائقین کو کھینچ کر ان تنگ و تاریک گلیوں میں لارہی ہے۔

مگر تم نے اپنی تاریخ کو زنگ آلود کردیا ہے تمہاری عمارتیں غدر کی تباہی کا منظر پیش کررہی ہیں! کیا تم دیکھ نہیں رہے کہ موتی مسجد کے صحن میں واقع تالاب کا پانی سالہا سال سے گرد و غبار، کائی، خود رو گھاس، جونکوں اور دنیا بھر کے آبی حشرات الارض کی آماجگاہ بنا ہواہے۔ اس مسجد کے بیرونی دروازے پر جو شہ نشینیں ہیں، ان پر بیٹھ کر خواتین اور مرد کھانے کھا رہے ہیں کھاتے چلے جارہے ہیں مگر یہ نہیں دیکھتے کہ لوہا کس بے دردی سے دیواروں میں ٹھوکا گیا ہے اور مہیب، برقی تاریں کس طرح حسنِ تعمیر کے گلے میں پھندا بن گئی ہیں۔

وہ دیکھو! گھوڑے پر سوار کون جارہا ہے؟ یہ شمس العلما مولانا محمد حسین آزاد ہیں۔ ان کے ارد گرد، کتابیں کھولے، پیدل چلنے والوں کا گروہ کا گروہ، ساتھ ساتھ رواں ہے! یہ ان کے شاگرد ہیں جو آسام سے اور مدارس سے اور کلکتہ سے اور بمبئی سے اور برصغیر کے اطراف و اکناف سے ان کے پاس تحصیل ِ علم کے لیے آئے ہیں! عربی اور فارسی ادب پڑھانے میں محمد حسین آزاد کا کوئی ثانی نہیں۔ پنجاب یونیورسٹی کے بانی اور گورنمنٹ کالج کے پہلے پرنسپل پروفیسر جی ڈبلیو لائٹنرکی خصوصی درخواست پر مولانا نے پڑھانا شروع کیا۔ گورنمنٹ کالج اور اورئنٹیل کالج کی بنیادوں میں وہ اسباق ہیں جو مولانا نے شروع کیے!

پھر اہل لاہور کے لیے لائبریری بنانے کا عزم کیا۔ وسط ایشیا اور ایران کے سفر کیے اور ہر شہر اور ہر خطے اور ہر ملک اور ہر اقلیم اور ہر کشور سے کتابیں لائے۔ حالت یہ تھی کہ ایران سے واپس آرہے تھے تو بیل گاڑی میں اپنی جمع کردہ کتابوں کے ساتھ سامان کی طرح سفرکیا۔ اسباب کے ساتھ اسباب، سامان کےساتھ سامان ہوگئے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ دہلی دروازے کے اندر، اکبری منڈی کے کنارے، محمد حسین آزاد کی قیام گاہ آج بھی گورنمنٹ کالج اور اورئنٹیل کالج کا حصہ ہوتی اسے اسی طرح محفوظ رکھا جاتا جیسے تھی مگر خدا کی پناہ! آزاد کے استعمال میں رہنے والے کمرے اور چوبارے مال اسباب کے گودام بنے ہوئے ہیں کہیں کوئی تختی تک نہیں لگی ہوئی۔ کسی دیوار پر چار سطریں تاریخ اور تعارف کی احوال زندگی کی نظر نہیں آتیں۔ سنا ہے حکومت کا کوئی محکمہ ورلڈ بینک کے دیے ہوئے قرض سے پرانے شہر کی بحالی کا کام کر رہا ہے! اول تو یہی مذاق کیا کم ہے کہ جو عمارتیں اور مسجدیں اور حویلیاں اور چوراہے اور جھروکے ورلڈ بینک کی پیدائش سے پہلے کسی گوری امداد کے بغیر بنے تھے۔ اب ان کی بحالی کے لیے گوروں سے قرضہ لیا جارہا ہے۔ یہ خدشہ اس پر مستزاد ہے کہ بحالی کا یہ منصوبہ چند بے روزگاروں کی بحالی کی نذر ہوجائے گا۔

گورنمنٹ کالج کی ابتدائی کلاسیں، دھیان سنگھ حویلی میں شروع ہوئی تھیں۔ کوئی اور ملک ہوتا تو یہاں اب بھی کلاسیں ہورہی ہوتیں۔ حویلی کالج کا حصہ ہوتی! ان نو طلبہ کے نام ہی کسی تختی پر درج کرکے شکستہ دیوار پر لگا دیے ہوتے جو پہلی کلاس میں بیٹھے تھے۔ مگر خوش خوراک حکمرانوں کے زمانوں میں نوکر شاہی کے ارکان نے بھی زور فوڈ سٹریٹس ہی پر دیا۔
کیا کسی کو معلوم ہے کہ آزاد لائبریری کی کتابیں کہاں ہیں؟ کیا کہیں محفوظ کی گئیں یا ان کی آنچ پر شب دیگ اور ہریسے پکا لیے گئے؟
قدیم لاہور کے چند ہی حصے دیکھے اور زخم کئی لگ گئے۔ جو رہ گئے، انہیں دیکھ کر طالب علم کا کیا حال ہوگا!

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں