آسڑیلیا میں بکرے کی تلاش


پچھلے سال عیدِقربان پر پرتھ میں ایک مسلم قصائی کو بیعانہ کےطور پر دو ہفتے قبل پیسے دے دیےتھے۔ اُس نے ایک پرچی عطا کی اور کہا کہ عید سے اگلے دن آپ کو گوشت ملے گا، سو عید کے اگلے دن اُن کے درِ دکان پر حاضری دی جہاں اپنے جیسے اور بھی مشتاقان کی قطار تھی۔ ہر ایک کے ہاتھ میں پرچی تھی اور کسی کی پرچی نہ چل رہی تھی۔ پتہ چلا قصائی کہاں کا بھی ہو، اوصاف ایک سے ہی ہیں۔

ہم نے کافی تاک جھانک کی مگر کوئی بکرا نہ نظر آیا، پتہ چلا کہ جانور کہیں اور سے ذبح ہوکر کسی گاڑی پر لاد کر لائے گئے تھے اور وہاں بس آخری ٹکڑوں میں کاٹے جارہے ہیں۔ اب ایسی بقر عید جس میں بکرا بھی نہ نظر آئے، کیا عید ہوگی؟ مگر بھلا ہو قصاب کا کہ اُس نے اپنے قصابوں کی یاد تازہ رکھی۔ خدا خدا کر کے ہمیں ایک برآون کارٹن انہوں نے عطا کیا، اپنے ہاں تو ایسے کارٹنوں میں دوائیاں میڈیکل سٹوروں میں پہنچائی جاتی ہیں۔ پتا چلا کہ اس میں گوشت ہے، اور ساتھ حوصلہ دیا کہ دوائیوں کی طرح اس سے بھی افاقہ ہوگا۔ اب ایک پورا بکرا ایک پانچ سے سات کلو کے کارٹن میں۔ کدھر گئے سری پائے، کلیجی پیپھرے، چپ رہے، ہمیں بزرگوں نے بتایا تھا کہ قصائیوں سے بحث میں نہ پڑیں، ہار میں تو نقصان ہے ہی ہے، جیت میں بھی زخمی ہونے کا خطرہ ہے۔ سو صاحبو، پردیس میں عید جیسے شیر خورمہ بغیر میٹھے کے، اور جان لیں کہ شیر خورمہ تو شوگر کا مریض بھی بھرپور میٹھے کی ساتھ ہی کھاتا ہے۔

سو اس سال ہم نے فیصلہ کیا کہ جو بھی ہو اس سال قربانی اپنی آ نکھوں سے بکرا دیکھ کر ہی کریں گے۔ آخر قربانی ہے کوئی شادی تو نہیں کہ بغیر دیکھے ماں باپ کے کہنے پر ہو جائے۔ سو نکل پڑے تلاش بکران میں۔ سو میل کے سفر کےبعد ایک فارم پہنچے اور اپنے لیے ایک بکرا پسند کیا۔ یہ جنگلی بکرے ہیں، جنگل میں پلے بڑھے، خودرو پودے اور بوٹیاں کھا کر جوان ہوئے۔ کسی جنگلی کو دیکھ کر اتنی خوشی پہلے نہ ہوئی تھی۔

بالآخر بقر عید کا دن آیا اور ہم دوبارہ سو میل کے سفر پر چل نکلے کہ بکرا بلاتا ہے۔ سڑک سے اترے اور گاڑی کچے پر لے چلے، کہ بکرے نے کہا تھا کہ انہیں راستوں پر چل اگر آ سکو تو آو، مگر ہم ٹھہرے سدا کے بھلکڑ آخر میں آ کر راستہ بھول گئے۔ یہ زندگی میں کئی دفعہ دیکھا کہ سفر لمبا ہو تو افراد اور قومیں منزل پر پہنچنے کی بجائے راستے میں ہی گم ہو جاتی ہیں۔ کبھی سہل پسندی، کبھی غلط موڑ، کبھی غلط رہبر غرض ہر دم اپنے عمل اور سفر کا حساب کرنا پڑتا ہے، تبھی منزل تک رسائی ہوتی ہے۔

بھلا ہو ٹیکنالوجی کے رہبر کا، کسی نے جی پی ایس پر جگہ کے طول و عرض بلد کے نقاط یعنی کورٹینیٹس بھیجے تو ہم بکرے تک پہنچ پائے۔ کچھ یار لوگ صراط مستقیم پر چل کر ہم سے پہلے وہاں پہنچے ہوئے تھے۔ بعض ہماری طرح اپنے بچوں اور فیملی کو بھی لے کر آئے تھے، آٹھ دس خاندان ہوں گے، بچے باڑے کے اردگر د یوٹیوب اور دوسری ویڈیوز سے نکل کر حقیقی بکروں کو دیکھ رہے تھے اور بکرے کہ جن کی زندگی آسڑیلین غیر آباد علاقوں میں گزری تھی، ہم لوگوں کو حیرانی سے دیکھ رہے تھے، دو ٹانگوں کی مخلوق اور وہ بھی اتنی انہوں نے پہلے نہ دیکھی تھی۔ غرض دونوں طرف تھی آگ برابر لگی ہوئی۔

سب سے پہلا کام بکرےکو باڑے سے پکڑ کر نکالنا تھا۔ جیسے پہلے ذکر ہوا تھا کہ یہ جنگلی بکرے تھے، تہذیب سے دور ان کی پرورش ہوئی تھی سو کسی پچکارنے پر نہ آتے تھے۔ جنگلی ہونے کی بنیاد پر انہوں نے سینگ بھی بڑھا رکھے تھے۔ سینگ جانور کے بڑے ہوں، تو بہت خوبصورت لگتے ہیں مگر تجربہ کہتا ہے کہ خوبصورت چیزیں زخم بھی گہرا دیتی ہیں۔ سو یار لوگوں نے اس کا توڑ یوں نکالا کہ موقع پاتے ہی کوئی دونوں ٹانگوں سے بکرے کی گردن پر سوار ہو جاتا او ر اُس کے سینگوں کو موٹر سائیکل کے ہینڈل کے طور پر پکڑ لیتا۔ بکرا چلنے کو تیار نہ ہوتا، سو اس کی پچھلی ایک ایک ٹانگ کو دو اصحاب قابو کرتے اور اٹھاتے، سو بکرا ہتھ گاڑی یعنی ویل بیرو کی شکل میں قربان گاہ تک لایا جاتا۔ ایک بکرے نے تو اس سلوک پر اتنا برا منایا کہ گردن پر چھری چلی ہونے کے باوجود ایسی ٹانگ چلائی کہ معاملہ بھائی لوگوں کے ہاتھ سے نکل گیا۔ اور خون پھینکھتا بکر ا آگے اور اُسی موٹرسائیکل سے اُترے بھائی لوگ پیچھے بھاگ رہے تھے۔ ایسا بھاگا کہ پیچھے بھاگنے والوں کو براعظم آسڑیلیا کی لمبائی چوڑائی کی سمجھ آگئی۔

قصائی ایک تھا اور بکرے زیادہ، اوپر سے وہ بھی جنگلی، سو انسانیت اکٹھی ہوگئی۔ بھائی لوگ مل جل کر مدد کرنے لگے۔ کوئی بکروں کو حسب طاقت پکڑ رہا تھا، جوان لوگ انہیں گرانے اور لٹانے میں قصاب کی مدد کر رہے تھے، ا یسے میں جو یہ نہ کر پائے وہ کمنڑی کرکے اپنا اور دوسروں کا لہو گرم رکھ رہے تھے۔ غرض ایک ماحول پیدا ہوگیا، لوگ کھانے پینے کی اشیاء ایک دوسرے کو بانٹ رہے تھے، بچوں کو بھاگنے دوڑنے کی جگہ میسر تھی، خواتین آپس میں گپ شپ میں مصروف تھیں۔ غرض پردیس میں عید دیس کی عید کا رنگ لیے تھی۔

گوشت کاٹنے کی مشین شروع میں چل رہی تھی، پھر چلتے چلتے رکنے لگی، بعد ازاں رک رک کر چلنے لگی اور پھر رک ہی گئی۔
سو بکرا کاندھے سے گاڑی کی ڈگی میں اور اب ہم شہر کو جاتے ہیں کہ کسی اور قصائی سے بقیہ فیض پاتے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عاطف ملک

عاطف ملک نے ایروناٹیکل انجینرنگ {اویانیکس} میں بیچلرز کرنے کے بعد کمپیوٹر انجینرنگ میں ماسڑز اور پی ایچ ڈی کی تعلیم حاصل کی۔ یونیورسٹی آف ویسڑن آسڑیلیا میں سکول آف کمپیوٹر سائنس اور سوفٹ وئیر انجینرنگ میں پڑھاتے ہیں ۔ پڑھانے، ادب، کھیل اور موسیقی میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ طالبعلمی کے دور میں آپ نے اپنی یونیورسٹی کا400 میٹر کی دوڑ کا ریکارڈ قائم کیا تھا، جبکہ اپنے شوق سے کے-ٹو پہاڑ کے بیس کیمپ تک ٹریکنگ کر چکے ہیں۔

atif-mansoor has 19 posts and counting.See all posts by atif-mansoor