چئیرمین سینیٹ کی عمر، آئینی سوال پیدا ہو گئے


چیئرمین سینٹ کی عمر چالیس برس ہے جب کہ آئین میں صدر کے لیے عمر کی کم سے کم حد 45 برس متعین ہے۔دوسری جانب صدر کی عدم موجودگی میں چیئرمین سینٹ کو قائم مقام صدر کی ذمے داریاں بھی سنبھالنا ہوتی ہیں۔ اس کا تذکرہ اس کے حلف میں بھی موجود ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایسی صورت میں وہ یہ عہدہ سنبھالنے کے اہل ہوں گے یا نہیں۔

کیا اس سے کوئی آئینی بحران پیدا ہوسکتا ہے یا نہیں؟

اس پر سپریم کورٹ کے سابق جج اور ممتاز قانون داں جسٹس(ر) وجیہ الدین احمد کی رائے یہ ہے۔  ان کے مطابق ایوان بالا کی رکنیت کے لیے کم سے کم عمر کی حد  تیس برس ہے، جب کہ ایوان زیریں میں یہ حد پچیس برس رکھی گئی ہے۔ ان دونوں ایوانوں سے منتخب ہونے والے ارکان بالترتیب چیئرمین سینٹ یا اسپیکر قومی اسمبلی بن سکتے ہیں۔

اس لیے یہ بات تو واضح ہے کہ نومنتخب چیئرمین سینٹ کے انتخاب پر صدر کے لیے مقررہ عمر کی حد کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔

جہاں تک قائم مقام صدر کے طور پر وہ ذمے داریاں ادا کرنے کا تعلق ہے تو ، اس حوالے انہوں نے یہ تعبیر بیان کی کہ صدر کی عمر سے متعلق جو شق آئین میں موجود ہے انتخابی مقاصد کے لیے ہے، قائم مقام صدر پر اس کا اطلاق نہیں ہوگا۔ جس کی ممکنہ توجیہ یہ ہے کہ چیئرمین سینٹ ، اس عہدے کے لیے منتخب نہیں ہوا بلکہ اسے صدر کی غیر موجودگی یا عدم دستیابی کی صورت میں یہ ذمے داریاں ادا کرنا ہیں۔

وہ اپنے عہدے کی اہلیت کے تمام تقاضے پورے کرکے ہی چیئرمین کے منصب کے لیے منتخب ہوا ہے، جب کہ صدر کی شرائط میں عمر کا اطلاق صرف صدر کے انتخاب کے لیے ہے۔ دوسری بات یہ بھی ذہن میں آتی ہے کہ آئین کے آرٹیکل ۲۶۱ کے مطابق آئینی تقاضوںسے کسی بھی عہدے پر قائم مقام ذمے داریاں ادا کرنے والے اپنے پیش رو کے جاں نشین نہیں ہوتے اور نہ ہی بعد میں وہ عہدہ سنبھالنے والوں کے پیش رو ہوتے ہیں۔ اس تناظر میں جب یہ ذمے داریاں صرف انتظامی خلا کو پُر کرنے کے لیے دی جاتی ہیں۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words
رانا آصف کی دیگر تحریریں
رانا آصف کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں