میں بچپن سے انقلابی تھا


میرا خیال ہے کہ میں بچپن سے انقلابی تھا۔ گھر میں والدہ کو سب ”بے بے“ کہا کرتے تھے۔ ایک تو مجھے یہ لقب غیر مہذب سا لگتا تھا ( اس پر پنجابی شاونسٹ سیخ پا نہ ہوں، بچپن کی سوچ تھی ) دوسرے اس طرح پکارے جانے سے مجھے اپنی ماں زیادہ بوڑھی محسوس ہوتی تھیں۔ میں نے انہیں ”اماں“ بلانا شروع کر دیا تھا اور بالآخر دس بارہ سال میں سارے بہن بھائی انہیں ”اماں“ ہی پکارنے لگے تھے البتہ کبھی کبھار بھول بھلا کر ”بے بے“ بھی کہہ لیتے تھے۔

میری والدہ کیتھل ضلع کرنال کی رہنے والی تھیں جہاں ان کے والد یعنی میرے نانا مولانا مولوی شمس الاسلام نے عارف والا سے پہنچ کر، رضیہ سلطانہ کے زمانے کی ویران مسجد کو آباد کرکے وہاں فروغ اسلام کی داغ بیل ڈالی تھی۔ قیام پاکستان کے بعد کیتھل جسے مسلمان کیتھل شریف بھی کہتے تھے، کے اکثر باسی ڈیرہ غازی خان شہر میں آ بسے تھے۔ اس زمانے میں ہمارے قصبے علی پور ریاست بہاولپور سے گورنمنٹ ٹرانسپورٹ کی ایک بس ڈیرہ غازی خان بھی جایا کرتی تھی۔ وہاں اماں کی بچپن کی سہیلیاں تھیں اور وہاں اماں کی آؤ بھگت، کیتھل شہر کے سربرآوردہ مذہبی شخصیت کی بیٹی ہونے کے ناطے بہت ہی زیادہ کی جاتی تھی۔

کیتھل سے تعلق رکھنے والے ہر مرد کو ہم ماما اور ہر عورت کو ماسی کہا کرتے تھے۔ سال میں ایک بار والدہ ہمیں وہاں ضرور لے جاتی تھیں۔ وہاں ہمارا قیام ماسی حمیدہ کے گھر ہوا کرتا تھا جنہیں ہم ماسی مہیداں کہتے تھے۔ وہ بیوہ یا مطلقہ تھیں۔ ان کی دو بیٹیاں خوشنودہ عرف کالو، جو بالکل بھی کالی نہیں تھیں جنہیں میں باجی کالو کہتا اور جمیلہ تھیں۔ خورشید اور محمود نام کے دو بیٹے تھے۔ محمود کو مودا کہتے تھے۔ وہ میرا ہم عمر تھا۔ ماسی کے باپ بھی حیات تھے جنہیں ہم نانا کہتے تھے۔ وہ ہتھ گاڑی یعنی ریڑھی پر پلے داری کیا کرتے تھے۔ بہت ہی عزت نفس والے انسان تھے۔ ماسی کے گھر سے باہر کی دو کوٹھڑیوں میں سے ایک میں رہتے تھے۔ آواز دے کر کھانا لے جاتے اور بعد میں برتن دروازے سے ہی لوٹا دیتے تھے۔

ماسی کی بڑی بہن بلاک کی ایک بڑی گلی کے شروع کی حویلی میں رہتے تھی جنہیں ہم ماسی سدھو کہتے تھے۔ غالباً ان کا نام رشیدہ ہوگا۔ وہ شیخ رفیق تاجر چرم کی گھر والی تھیں۔ ان کی چار بلکہ غالباً پانچ بیٹیاں تھیں جن میں سے دو کے نام نصرت عرف نچھو اور سلطانہ عرف تانی تھے۔ لڑکوں کے نام شفیق چکن، بلا، شمیم بھورا اور لیاقت عرف لیاقو تھے۔ نصرت کو ہم دونوں بھائی باجی نچھو اور باقی لڑکیوں کو ان کے عرف سے بلاتے تھے۔ ان کے گھر میں خام کھالوں کے ڈھیر ہوتے تھے اور لڑکیاں تنگ صحن میں کھالیں بچھا کر ان کے اندر والے حصوں پر نمک ملا کرتی تھیں۔ بو کی وجہ سے ان کے گھر زیادہ دیر تک نہیں ٹھہرا جا سکتا تھا۔

ماسی سدھو کا پہلے شوہر سے ایک اور بیٹا ”ملہا“ نام کا تھا، جو سبھوں سے مختلف طویل قامت، صحت مند، سرخ و سپید، خوبصورت اور مغرور مرد تھا۔ وہ گھر کے اندر نہیں بلکہ نانے کی کوٹھڑی کے اوپر کے ایک چوبارے میں رہتا تھا۔ اس کے ایک کان میں سونے کی نتی ہوتی تھی اور وہ کسی سے زیادہ بات چیت نہیں کرتا تھا۔ نانے کی کوٹھڑی کی بغل والی کوٹھڑی میں اس کا اس جیسا ہی مغرور اور جسیم سفید رنگ کا بیل بندھا ہوتا تھا جسے وہ صبح کو بیل گاڑی میں جوت کر مزدوری کرنے چلا جاتا تھا۔ بعد میں خوشنودہ کا بیاہ اسی ملہا سے ہوا تھا۔

ماسی مہیداں ویسے تو خوش خلق تھیں مگر جب لڑنے پر آتی تھیں تو سبھوں کے حواس اڑا دیا کرتی تھیں۔ ان کے مکان کے پچھلے حصے میں صحن کے ساتھ والی گلی میں ان کے کوئی رشتہ دار منشی مجید نام کے رہتے تھے جن کی راشدہ اور بیگاں نام کی دو بیٹیاں تھیں۔ لالو نام کا نوجوان لڑکا شاید منشی مجید کا بھانجا یا بھتیجا تھا۔ مشی مجید کی بیوی بھی تھی مگر ان کی زیادہ ماسی مہیداں سے بنتی تھی۔

دور کے ایک بلاک میں بسے رہتک حصار گڈز ٹرانسپورٹ والوں میں بوبو انو یعنی انوری بیگم اور ان کی بہن سدھو اور ان دونوں کی والدہ ماسی غونثی کے ہاں جا کر بھی اماں کو گھر کا سا احساس ہوتا تھا لیکن ہم ان کے گھر میں قیام نہیں کیا کرتے تھے۔ ایک اور گھر جس میں ہم اماں کے ہمراہ جاتے وہ تاربابو کا گھر کہلاتا تھا۔ تار بابو صاحب، جنہیں ہم نے کبھی نہیں دیکھا تھا، کی دو تین بیٹیاں تھیں۔ یہ لوگ پڑھے لکھے اور مہذب لگتے تھے۔

ڈیرہ غازی خان میں قیام کے دوران صبح و شام، مختلف گھروں میں ہماری پر تکلف دعوتیں ہوا کرتی تھیں۔ یہ سارے لوگ کیتھل ضلع کرنال کی قصاب برادری سے تعلق رکھتے تھے جنہوں نے پاکستان آنے کے بعد مختلف پیشے اختیار کر لیے تھے اور شیخ قریشی کہلانے لگے تھے۔ ان کے گھروں میں گوشت سے تیار کیے گئے سالنوں کی ساری اقسام بے حد لذیذ ہوتی تھیں۔ موسمی پھل آم، خوبانیاں، آلوبخارے اور خربوزے اعلٰی قسم کے پیش کیے جاتے تھے۔ ان زمانوں میں اکثر لوگوں کے گھروں میں ریفریجریٹر نہیں ہوتے تھے اس لیے پھل عموما“ برف میں لگا کر ٹھنڈے کیے جاتے تھے۔

بازار میں کشمیری نام کے ایک شخص کی بوتلوں اور پان کی دوکان تھی۔ میں ہر روز شام کو وہاں جاتا تھا اور وہ مجھے ”کینیڈا ڈرائی“ کی ایک ٹھنڈی بوتل لازمی پینے کو دیتے تھے۔ ان سب مزوں کے علاوہ سب سے بڑا مزہ آزادی تھی۔ علی پور میں ہمیں مغرب ہونے سے پہلے گھر میں ہونا ہوتا تھا مگر یہاں رات گئے تک ہمیں پوچھنے والا کوئی نہیں تھا۔ ہم بھورے، مودے اور لالو کے ساتھ گلیوں میں گھومتے، دوڑتے تھے اور تقریباً ہر رات کوئی نہ کوئی فلم دیکھنے ضرور جاتے۔

مجھے وہاں کے سنیما گھروں کے نام اب تک یاد ہیں۔ کہکشاں اور ناز، یہ دونوں شہر کے آخری سرے پر واقع اور اوپن ایر تھے۔ ایک سنیما گھر شہر کے اندر بھی تھا جو بند سنیماہال تھا اور اس کا نام غالباً پرکاش سنیما تھا۔ تب سنیما گھروں میں ہندوستانی فلمیں دکھائی جاتی تھیں۔ دیکھی جانے والی ہندوستانی فلموں میں دو کے نام یاد ہیں، بھائی بھائی کہکشاں میں دیکھی تھی اور آب حیات ناز میں۔ ان کے علاوہ وہاں میں نے پاکستانی فلمیں بھی بہت دیکھیں۔ صبیحہ کی کنیز یاد ہے اور کمال کی ایک رنگین فلم بھی۔ جب ہم لڑکے بالے فلم دیکھنے جانے کو ہوتے تو نانا چوک میں بچھی اپنی چارپائی پر لیٹے، کروٹ بدل کے کہا کرتے ” چھورو منڈوے نہ جانا“۔ پھر بھورا یا مودا کوئی ایک ان کی تسلی کروا دیتا مگر ہم جاتے منڈوے ہی تھے۔ لڑکے سارے شرارتی تھے خاص طور پر بھورا جو غنڈہ صفت تھا۔ سنیما سے واپسی پر گلیوں میں سوئے لوگوں کی چارپائیاں الٹ کے بھاگ جاتا۔ اس قسم کی دوسری شرارتیں بھی عام ہی کی جاتی تھیں اور رات گئے جب ہم لوٹتے تھے تب نانا جی خراٹے بھر رہے ہوتے تھے۔ اگلی رات پھر سے ان کا وہی فقرہ ”چھورو منڈوے نہ جانا“ گونجتا اور ہم پھر منڈوے چلے جاتے تھے۔

ایک دو ماہ کی یہ آزادی، ہماری سال بھر کی پابندیوں کا مداوا کر دیا کرتی تھی۔ واپسی پر مرمروں، میٹھی گولیوں، بسکٹوں، کھیلوں اور مٹھائیوں کی بوریوں کی بوریوں کے علاوہ گھر بھر کے لوگوں کے لیے درجنوں جوڑوں کے کپڑوں سے لدے پھندے ہم علی پور اپنے گھر لوٹا کرتے تھے۔ رخصت کرتے ہوئے لوگ، یہ سبھی سوغاتیں والدہ کو ایک تو اس لیے دیا کرتے تھے کہ وہ ان کے سابق شہر کی بیٹی تھیں مگر اس کی دوسری اہم وجہ ہمارے حقیقی نانا کی مذہبی حیثیت کے توسط سے ان کے ساتھ ان کی عقیدت مندی کا عنصر تھا۔ مجھے پیروں فقیروں کا سا یہ کردار قطعی نہیں بھاتا تھا اور پھر والدہ ہی ہمیں ایک کہانی سنایا کرتی تھیں جس میں گیدڑ کے بچے آواز لگاتے، ”پدرم سلطان بود“ جس پر بچوں کی ماں پوچھتی ”ترا چہ“ یعنی تم خود کون ہو؟

میں نے چھٹی ساتویں جماعت میں پہنچتے ہی ڈیرہ غازی خان جا کر سوغاتیں لانے پر والدہ کے ساتھ بحث کرنا شروع کر دی تھی۔ میری گفتگو دلیل پر مبنی ہوتی تھی جسے سن کر انہوں نے بہانوں بہانوں سے وہاں جانا ترک کر دیا تھا کیونکہ جا کر سوغاتیں وصول کرنے سے انکار کیا جانا ممکن نہیں تھا۔ ویسے کلی طور پر یہ بھی نہیں تھا کہ صرف والدہ ہی ڈیرہ غازی خان جاتیں، کئی بار ماسی مہیداں بھی اپنے بچوں سے ناراض ہو کر علی پور ہمارے ہاں آ بیٹھتی تھیں۔ ان کو جاتے ہوئے بیٹیوں کے جہیز جیسا سامان دے کر رخصت کیا جاتا تھا۔

ایک اور انقلابی قدم جو میں نے اٹھایا وہ یہ تھا کہ ہمارے صحن میں محلے بلکہ شہر بھر کی عورتیں عید بقر عید کی نمازیں اماں کی امامت میں ادا کیا کرتی تھیں اور جاتے ہوئے اٹھنیاں، چونیاں اور روپے اماں کو دے جاتی تھیں۔ میں نے پانچویں چھٹی میں ہی اس بات کے خلاف شدید آواز اٹھائی تھی جس پہ والدہ نے کہا تھا کہ وہ اپنی خوشی سے عقیدت مندی میں دی جاتی ہیں، میں انکار نہیں کر سکتی۔ میری دلیل یہ تھی کہ نہ تو نماز پڑھانے کے پیسے لیے جا سکتے ہیں اور نہ ہی یہ عقیدت کسی مسجد یا مدرسے کی تعمیر کی خاطر چندہ ہے، اس لیے اس قسم کے ہدیہ جات قبول کرنے سے قطعی انکار کیا جانا چاہیے۔ اماں میری بات مان لیتی تھیں کیونکہ میری بات میں وزن ہوتا تھا چنانچہ انہوں نے پھر عورتوں کو سختی سے منع کر دیا تھا کہ وہ انہیں پیسے نہ دیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں