نیشنل جیوگرافک نے تسلیم کیا ہے کہ ماضی میں اس کی کوریج نسل پرستانہ رہی ہے


نیشنل جیوگرافک

Getty Images
امریکہ کے مشہور رسالے نیشنل جیو گرافک کا کہنا ہے کہ ماضی میں دنیا بھر سے لوگوں کی کوریج نسل پرستی پر مبنی تھی۔

نیشنل جیوگرافک کے مدیر سوزن گولڈبرگ نے کہا ’ہماری کوریج نے ان امریکیوں کو نظر انداز کیا جو سفید فام نہیں تھے اور مختلف گروہوں کو بدیسی یا جنگلی کے طور پر دکھایا اور ان کو ہر طرح سے گھسے پٹے طریقے سے پیش کیا۔‘

سبز آنکھوں والی شربت گلہ نئی زندگی کی تلاش میں

تصاویر: طائرانہ نگاہ سے

’افغان جنگ کی مونا لیزا‘ جعلی شناختی کارڈ پر گرفتار

رسالے کا اپریل کا شمارہ نسل پر وقف کیا گیا ہے اور ایک تاریخ دان سے کہا گیا ہے کہ وہ پرانے شماروں پر نظر ڈالیں۔

رسالے نے فیصلہ کیا ہے کہ امریکہ کے شہری حقوق کے رہنما مارٹن لوتھر کنگ کے قتل کے 50 سال ہونے پر شائع ہونے والے شمارے پر نظر ثانی کریں۔

سوزن گولڈبرگ نے رسالے کے اداریے میں لکھا ’آئیے آج نسل پرستی کے سیاسی حکمت عملی کے طور پر شرمناک استعمال کا سامنا کریں۔‘

سوزن نے مزید کہا کہ رسالے کے چند پرانے شماروں کو بیان کرنے کے لیے ان کے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ پرانے مواد میں 1916 کی ایک تصویر ہے جس میں آسٹریلیا کے قدیم باشندہ کے نیچے تحریر ہے ’جنوبی آسٹریلیا کا سیاہ فام: یہ جنگلی لوگ انسانوں میں سب سے کم ذہانت کے مالک ہوتے ہیں‘۔

رسالے کے پرانے شماروں کا تجزیہ

ورجینیا یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر جان ایڈون میسن سے پرانے شماروں کا تجزیہ کرنے کا کہا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ نیشنل جیوگرافک نے نسلی امتیاز کی تائید کی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ 1970 کی دہائی تک رسالے نے ان لوگوں کو نظر انداز کیا جو سفید فام نہیں تھے اور ان کو یا تو محض مزدور کے طور پر دکھایا یا گھریلو ملازمین کے۔

پروفیسر میسن نے ان تصاویر کی بھی نشاندہی کی جن میں قدیم باشندوں کو جدید مغربی ٹیکنالوجی کو استعال کرتے ہوئے دکھایا گیا جن سے ’ہم اور وہ‘ اور ’مہذب اور غیر مہذب‘ کا تاثر دیا گیا۔ ان کے مطابق پیسیفک جزیروں کی خواتین کی بہت تصاویر شائع کی گئیں۔

مارٹن

AFP

انھوں نے 1962 میں جنوبی افریقہ کے نسلی امتیاز کے زمانے میں شائع ہونے والے ایک مضمون کا موازنہ 1977 میں دوسرے مضمون سے کیا۔ پہلے مضمون میں کسی قسم کے مسئلے کا ذکر نہیں کیا گیا اور دوسرے میں سیاہ فام رہنماؤں کی حکومت کے خلاف مزاحمت کا ذکر کیا گیا۔

’دوسرا مضمون بھی درست نہیں تھا لیکم اس میں جبر کو تسلیم کیا گیا۔‘

تاہم پروفیسر میسن نے ماضی میں رسالے کے اچھے کام کو بھی تسلیم کیا۔ ’یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ میگزین ایک وقت میں لوگوں کی آنکھیں کھول بھی سکتا ہے اور بند بھی کر سکتا ہے۔‘

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 6355 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp