دوران سر اور دردسر کی وجوہات


تغلق صاحب، یوں تو گھنٹوں دستاویزات پر سر جھکائے، پتا نہیں کیا سوچتے رہتے تھے لیکن جب آج چیک بک پر نظریں ٹکائے، نامعلوم سوچ میں غلطاں دیکھا تو پوچھ ہی بیٹھے، اب کیا ہوگیا؟ بولے: یار ایک تو بڑے بوڑھوں کے قول اتنے ہیں کہ بندہ سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ کیا کرے اور کیا نہ کرے۔ تم خود ہی بتاؤ، ایک طرف تو کہتے ہیں، پیسہ بچاؤ کل کام آئے گا اور دوسری طرف کہتے ہیں، کل کا کچھ پتا نہیں، کیا پتا کل آئے یا نہ آئے، تو کیا اب میں سارا کھاتہ خالی کرلوں؟ کیونکہ کل کا تو کچھ پتا نہیں کہ آئے یا نہیں، لیکن پھر سوچتا ہوں کہ کل آگئی اور پلے کچھ نہ ہوا تو کیا کروں گا؟ کیونکہ تم جیسوں سے تو کوئی امید رکھنا، احمقوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہے۔

اچھا تو یہ مسئلہ ہے جو سر پکڑے بیٹھے ہیں، یار تغلق صاحب، آپ ایک دفعہ سارے مسئلے اور وجوہات بتادوکہ ہر وقت سر پکڑے کیوں بیٹھے رہتے ہو، تاکہ روز کی چخ چخ سے جان چھوٹے۔ بھائی آپ کو کیا کہ میں سر پکڑوں یا پیر، ایک تو یہاں ہر کوئی دوسرے کے غم میں دبلا ہوا جارہا ہے اور فقرے چست کرتا رہتا ہے۔ مجھ کو نہیں پتا کیا کہ تم سب مجھ کو پگلا تغلق کے نام سے یاد کرتے ہولیکن میں نے کبھی پلٹ کر پوچھا کہ ایسا کیوں ہے؟ وجہ معلوم ہوگی اسی لیے نہیں پوچھتے ہوں گے، ہم نے بھی ترنت جواب دیا اور کہا قسم لے لیں جوہم نے آپ کو کبھی پگلا تغلق کہا ہو، ہم تو اس کو کہتے ہیں جو واقعی تاریخی طور پر پگلے تغلق کے نام سے جانا جاتا ہے۔ بولے، بھائی قسم وہی کھاتا اور اٹھاتا ہے جو اپنے کیے پر نادم ہو، یہ بات تو ان دنوں کل کے بچے تک کررہے ہیں۔

لیکن، اب تم پوچھ ہی رہے ہو تو اپنے مشاہدے کے مطابق دوران سر اور درد سر کی وجوہات بتائے دے رہے ہیں تاکہ سند رہے اور بقول تمہارے آئے دن کی چخ چخ سے جان چھوٹے۔ تو سنو: ایک تو ہماری طبیعت حساس ہے اور جس مملکت میں قیام ہے، وہ بھی سدا کی حساس ہے۔ ایک تو یہ سمجھ نہیں آتا کہ جب اسلام کا قلعہ ہے تو قیام کے بعد سے ہی اسلام کیوں خطرے میں ہے؟ جن دشمنوں پر ہمارے آباء و اجداد نے صدیوں حکومت کی، ان سے اب ایسا کیا خطرہ لاحق ہوگیا ہے؟ اس کے علاوہ، گزشتہ سال سے نظریے اور بیانیے کی گردان جاری ہے، کیا قومی اور سیاسی نظریے، آئے دن تبدیل ہوتے رہتے ہیں؟ آخر ہمارا نظریہ اور بیانیہ کیا ہے؟ کچھ پتا چلے، تو ہم بھی اسی طور زندگی بتائیں۔ قیام پاکستان سے لے کر اب تک ہر حکومت اور خصوصی طور پر جمہوریت کیوں خطرے میں رہتی ہے؟ ہر مقبول سیاسی رہنما وطن دشمن کیوں قرار پاتا ہے؟ ایک سیاست دان کل فرما رہے تھے کہ ایوان بالا بکرا منڈی سے بھی بدتر ہے، تو یہ بکرا منڈی عوام نے قائم کی ہے یا عوام کے منتخب کردہ نمائندوں نے؟ اور ایک رکن نے فرمایاکہ ایوان بالا میں بیٹھتے شرم آتی ہے، تو کیا عوام نے مجبور کیا ہے کہ ایوان میں بیٹھیں؟ مقدس ایوان بھی کہتے ہیں، دھڑلے سے تنخواہ اور مراعات بھی لیتے ہیں اور اس کے ساتھ ایوان پر لعنت بھی بھیجتے رہتے ہیں، کیا یہ رویہ قابل قبول ہے؟

بڑے بوڑھے کہہ گئے ہیں کہ بندے کی شخصیت کی پہچان، اس کی جوتی اور خط سے ہوتی ہے، تو کیا ایک دوسرے کو جوتی مار کر شخصیت کی پہچان کروائی جارہی ہے؟ اور جس سیاہی سے خط کی تخلیق ہوتی ہے، کیا وہ سیاہی کسی دوسرے پر پھینک کر، اپنی شخصیت کی جھلک دکھلانا مقصود ہے؟ یہ بھی دعوی ہے کہ فلاحی مملکت ہے، تو بچوں کی فلاح کی ذمے داری کیا صرف والدین کی ہے یا مملکت کی بھی کوئی ذمہ داری ہے؟ گزشتہ روز دیکھاکہ خواجہ سرا پولیس کے رویے کے خلاف احتجاج کررہے ہیں، کیا وہ مملکت کے شہری نہیں ہیں؟ قیام پاکستان کے ستر سال گزرنے کے بعد بھی ہمارے حکمران قوم کے بچوں کے لیے کوئی ایسی تعلیمی پالیسی دینے میں ناکام رہے ہیں، جس کو یکساں طور پر وطن عزیز میں نافذ کیا جاسکے۔ اور اب تو چینی زبان بھی حکومتی تعاون سے پڑھائی جارہی ہے۔ کیا چینی زبان پڑھنے سے مستقبل کے معمار ترقی کی دوڑ میں شامل ہو جائیں گے؟ اب گھر میں بچے مادری زبان بولیں، گھر سے باہر اردو اور اسکول، آفس میں انگریزی، تو چینی زبان کہاں بولیں گے؟ خیریہ تو آنے والاوقت بتائے گا۔

اللہ اللہ کرکے سینیٹ اور اس کے چیئرمین کے انتخاب مکمل ہوئے تو سیاسی تجزیہ نگار اور کالم نگار عام انتخابات کو لے کر پریشان ہورہے ہیں اور کررہے ہیں کہ وقت پر ہوں گے کہ نہیں۔ اخبار پر نگاہ ڈالو تو سب گڑبڑ گھوٹالا، آپ پوچھتے ہیں کہ وجوہات بتاؤ، کیا اخبار نہیں پڑھتے؟ ٹی وی نہیں دیکھتے؟ تم کو تو پتا ہی ہے کہ مجھے اپنی مونچھیں کتنی عزیز ہیں، جب سے ایک قائد جماعت کی طرف سے مخالف جماعت کے رہنما کی مونچھیں کھینچنے کی دھمکی سنی ہے، مجھے تو اپنی مونچھوں کی فکر ہوگئی ہے کیونکہ قومی لیڈروں کے کہے کا اثر عوام پر بھی ہوتا ہے۔ شام اور دیگر اسلامی ممالک میں مسلمانوں پر ظلم و ستم کی خبریں پڑھ کر اور سن کر جہاں دل ہولتا ہے وہیں خیال آتا ہے کہ گزشتہ سال ایک اسلامی فوجی اتحاد بھی وجود میں آیا ہے، اس کیذمے داریاں کیا ہیں، وہ کس مرض کی دوا ہے؟ اور بھی بے شمار وجوہات ہیں، کہاں تک سنو گے، کہاں تک سنائیں۔ لیکن آخر میں سب سے بڑی وجہ سنتے جاؤ اور خود بھی نصیحت پکڑو کہ اپنے کام سے کام رکھو۔ دوران سر اور درد سر کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ جس بندے اور ادارے کی جو ذمے داری ہے، وہ اس کو ادا کرنے کی بجائے، دوسرے بندے اور ادارے کے معاملات میں ٹانگ اڑانا فرض عین جانتا ہے۔ بس مختصرا، دوران سر اور درد سر کی یہی وجوہات ہیں، اب جاکر اپنا کام کرو اور میری جان چھوڑو۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں