قراقرم ہائی وے۔۔حرامی پتھر گرتے ہیں!


waqar ahmad malik

حالیہ بارشوں کے نتیجے میں ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ کے باعث قراقرم ہائی وے جگہ جگہ سے بند ہے۔
تارڑ صاحب کے ایک سفر نامہ میں ایک مقامی گائیڈ اپنے جملوں میں جگہ جگہ لفظ حرامی ٹانکتا تھا۔
تارڑ صاحب کسی ٹریک کا پوچھتے تو کہتا ، ’’ دفع کریں صاحب ادھر کیوں جاتا ہے وہاں خطرہ ہے اوپر سے حرامی مارخور پتھر گراتا ہے‘‘
تارڑ صاحب کسی چراگاہ کا پوچھتے تو کہتا ، ’’چھوڑو صاحب میں مخول نہیں کرتا ادھرکچھ نہیں ہے بس چند حرامی پھول کھلتا ہے اور ایک حرامی آبشار ہے ‘‘
کچھ ایسی صورتحال ان دنوں قراقرم ہائی وے کو درپیش ہے ۔ بدترین لینڈ سلائیڈنگ ہوئی ہے اور اتنی بد ترین لینڈ سلائیڈنگ کافی عرصہ کے بعد ہوئی ہے۔
بڑی مشکل سے اعتماد بحال ہوا تھا وگرنہ ابتدائی بیس سالوں میں قراقرم ہائی وے کی شہرت میں لینڈ سلائیڈنگ کا ذکر بھی زور و شور kk4سے کیا جاتا رہا۔
تارڑ صاحب کے درجن سے زائد سفرناموں میں لینڈ سلائیڈنگ اسی وجہ سے بار بار در آتی ہے۔
لینڈ سلائیڈنگ سے سیاح ایک سنسنی کی سی کیفیت سے گزرتے تھے،
راہ چلتا ہر ٹرک ، مخالف آنے والے ٹرک کو سڑک پر رک کر صورتحال سے آگاہ کرتا تھا۔
مشہور لینڈ سلائیڈنگ ایریاز جیسے تتہ پانی وغیرہ زبان زد عام تھے کہ بارش کے چند قطروں یا ہلکی ہوا سے بھی پتھروں کا انبار چلا آتا تھا۔
ہر ٹرک والے کے پاس ایک خیمہ، چولہا، کھانے پینے کا بنیادی سامان دالیں اور تیل وغیرہ ہوتا تھا۔ قراقرم ہائی وے پر لینڈ سلائیڈنگ اگر آگے اور پیچھے ہو جائے تو آپ قید ہو جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں ٹرک والے تیاری رکھتے تھے۔ اب کچھ عرصہ سے ٹرک والے غفلت برت رہے تھے کہ لینڈ سلائیڈنگ قدرے کم ہو گئی تھی۔

قراقرم ہائی وے کا شمار دنیا کے میگا سٹرکچر میں نہیں بلکہ سپر میگا سٹرکچر میں آتا ہے۔ یہاں تک کہ مصری تہذیب کے بعد حضرت انسان کی سب سے بڑی کاوش کہی جاتی ہے۔ کچھ لوگ اس طرح کی باتوں پر الجھاؤ کا شکار ہو جاتے ہیں کہ دنیا میں ایک سے بڑھ کر ایک تعمیراتی شاہکار موجود ہے تو قراقرم ہائی وے کو اتنی پذیرائی کیوں ملتی ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ کسی ایک سو بیس منزلہ عمارت سے اس کا موازنہ کر نا جاہلیت ہے ۔ عمارتیں اور ڈیم وغیرہ Calculated Engineering کا شاہکار ہوتی ہیں۔ قراقرم ہائی وے کی تعمیر میں ہزاروں ٹن بارود استعمال کیا گیا۔ ایک ہزار کے لگ بھگ پاکستانی اور چینی صرف دوران تعمیر شہید ہوئے۔ کیلکولیشن مشکل تھی۔ جہاں آپ ڈائنامائیٹ لگا رہے ہیں وہاں آپ پیش گوئی نہیں کر سکتے کہ پھٹنے کے بعد اوپر سے کتنا پتھر kk2آتا ہے ۔ ڈائنامائیٹ کا استعمال جب اتنا زیادہ ہو تو کئی دفعہ ٹائمنگ غلط ہو جاتی ہے۔

بلاسٹنگ کے نتیجے میں گرنے والی چٹانوں کا اندازہ بذات خود ایک ورلڈ ریکارڈ ہے ۔ تعمیر کے دوران تین کروڑ کیوبک میٹر کی چٹانیں گریں ۔ اسی ہزار ٹن سیمنٹ استعمال ہوا۔
اس کو آٹھواں عجوبہ ماننے کے لیے ایک اور بہت پر اثر پیمانہ ہے۔ بطور سیاحتی گائیڈ میرا یہ تجربہ کہ سیاح سب کچھ for granted لیتے ہیں۔ میں عموما کوسٹر کو کسی جگہ کھڑا کر کہ سیاحوں سے پوچھتا تھا کہ دریا کے اس طرف تو قراقرم ہائی وے ہے جس پر آپ چل رہے ہیں لیکن دریا کی دوسری جانب جو پہاڑ ہیں اگر آپ کو کہا جائے کہ یہاں سے سڑک نکالنی ہے تو آپ کیا سمجھتے ہیں کیا یہ ممکن ہے؟ سیاح کانوں کو ہاتھ لگاتے کہ بھلا ان مہیب چٹانوں کا کیا جا سکتا ہے۔ چلیں ایک دو کلو میٹر کی بات اور ہے لیکن آٹھ سو کلومیٹر سڑک نکالنا ممکن ہی نہیں ہے۔ قراقرم ہائی وے کے ابتدائی سروے میں کچھ امریکی بھی تھے جنہوں نے اس کو ناممکن کہا تھا۔ اور ان کی دلیل بد نیتی پر مبنی نہیں تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ اول تو دنیا کے تین عظیم ترین پہاڑی سلسلوں سے سڑک نکالنا ناممکن ہے لیکن فرض کریں نکال لی تو اس کو برقرار رکھنا بالکل ناممکن ہے ۔ سڑک نکالنے کے لیے ہزاروں ٹن بارود سے بلاسٹنگ کرنی پڑے گی۔ اس بلاسٹنک کے نتیجے میں اوپر پہاڑ کا پتھر ہل جائے گا اور بارشوں اور زلزلوں سے نیچے آنے کے بہانے ڈھونڈتا رہے گا۔ اس طرح کے ہلے ہوئے پتھر کو نیچے آنے میں ایک صدی سے زیادہ عرصہ kk3لگ سکتا ہے۔

خیر پاکستان اور چین نے فیصلہ کیا کہ یہ سڑک بنائیں گے، پاکستان نے سوچا کہ اتنے بڑے پروجیکٹ کو بنانے کے لیے ایک مکمل علیحدہ سے ادارہ بنانا ضروری ہے۔ اور شاید اب کم لوگ جانتے ہیں کہ جس ادارے کی تشکیل کی گئی اس کا نام ایف ڈبلیو او رکھا گیا یعنی فرنٹئر ورکس آرگنائزیشن۔ اس ادارے کا مرکزی دفتر گلگت میں رکھا گیا۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایف ڈبلیو او قراقرم ہائی وے کی خالق ہے اور قراقرم ہائی وے ، ایف ڈبلیو او کی خالق ہے۔

خیر قراقرم ہائی وے بنی بھی اور پاکستانیوں نے اس کو برقرار بھی رکھا۔ یہ ایک علیحدہ بات ہے کہ دنیا نے اس کو آٹھواں عجوبہ کہا لیکن عام پاکستانی اس سے کم ہی واقف ہیں۔
قراقرم ہائی وے کے حوالے سے بین الاقوامی ماہرین کی باتیں آج بھی نقل کی جاتی ہیں ، مثال کے طور پر، پاکستان کا شمار دنیا کے امیر ممالک میں ہو سکتا ہے اس کے پاس ایک ایسی سڑک ہے جس کو سیاحتی مقاصد کے لیے ہی استعمال کیا جائے تو اس ملک کے kk1سارے قرضے اتر سکتے ہیں ۔
یا دنیا کے سب سے عظیم کوہ پیما میسنر جس نے بغیر اضافی آکسیجن استعمال کیے دنیا کی چودہ بلند ترین چوٹیاں سر کیں، نے کہا تھا کہ میں سوچتا تھا کہ کسی دن اگر میرے بیٹے نے پوچھا کہ جب خدا نے دنیا بنائی تھی تو کیسی تھی؟ قراقرم ہائی وے دیکھنے کے بعد اطمینان ہوا کہ میں اس کو پاکستان لے آؤں گا، سوست اور خنجراب کے درمیان لا کھڑا کروں گا اور کہوں گا کہ جب خدا نے دنیا بنائی تھی تو ایسی تھی۔

قراقرم ہائی وے پر پھر حرامی پتھر گرتے ہیں۔ ٹرک والے اب اگلے چند برس کے لیے محتاط ہو جائیں گے۔ پنڈی سے گلگت یا سکردو نکلتے ہوئے خیمہ ، چولہا اور بنیادی کھانے کا سامان رکھنا نہیں بھولیں گے۔


Comments

FB Login Required - comments

وقار احمد ملک

وقار احمد ملک اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہے۔ وہ لکھتا نہیں، درد کی تصویر بناتا ہے۔ تعارف کے لیے پوچھنے پر کہتا ہے ’ وقار احمد ملک ایک بلتی عورت کا مرید اور بالکا ہے جو روتے ہوئے اپنے بیمار بچے کے گالوں کو خانقاہ کے ستونوں سے مس کرتی تھی‘ اور ہم کہتے ہیں ، ’اجڑے گھر آباد ہوں یا رب ، اجڑے گھر آباد۔۔۔‘

waqar-ahmad-malik has 61 posts and counting.See all posts by waqar-ahmad-malik

5 thoughts on “قراقرم ہائی وے۔۔حرامی پتھر گرتے ہیں!

  • 09-04-2016 at 6:15 pm
    Permalink

    امید قائم ہے کہ یہ گرے پتھر بھی شمال کے عاشقوں کو روک نہ پائیں گے۔ شاید شمال کی محبوبہ گنگناتی ہے، امتحان لیتی ہے کہ عاشقوں
    ان ہی پتھروں پہ چل کے آ سکو تو آ جاؤ۔
    اور آپ سے عاشق جاتے ہیں۔ مِلن کرتے ہیں اور وصال کی وہ داستان لکھتے ہیں کہ ہم بھی گوری کے عشق میں آہیں بھرتے لندن کے کسی قریبی پہاڑ کی طرف بھاگتے ہیں۔

  • 09-04-2016 at 7:08 pm
    Permalink

    بیشک یہ میگا پروجیکٹ تھا۔ میں نے یہ سڑک بنتے دیکھی ہے۔ اس زمانے میں موجود چینیوں کو شام کے وقت اپنے اپنے سٹول اٹھا کر لال جھنڈوں سے سجائے پنڈال میں “ماؤزے تنگ کے اقوال” سننے کے لیے جاتے دیکھا ہے۔ ایک چینی مترجم سے دوستی رہی وغیرہ وغیرہ مگر میلان زیورخ روڈ بھی ایک مہیب عجوبہ ہے۔
    دوسری بات یہ کہ میں جب دیامیر میں آرمی ڈاکٹر تھا تو وردی میں گلگت جانا ہوا۔ میں سی سی ایس ( سی ایم ایچ کے متبادل) کے ڈاکٹر کیپٹن شمیم کے کمرے میں بیٹھا تھا کہ ایک نائب صوبیدار ایک مریض کو ساتھ لایا، سلیوٹ کیا اور اس کا معائنہ کرنے کی درخواست کی۔ کیپٹن شمیم کو جلدی تھی، اس نے کہا “یار مرزا، تم اس کو دیکھ لو”۔ میں نے مریض کو کہا بیٹھ جاؤ، وہ کھڑا رہا۔ پھر کہا تو اس کا جواب تھا “میں افسران نال نئیں بیہ سگدا”۔ مجھے لگا کوئی نفسیاتی معاملہ ہے۔ میں نے کپتانی کے بیج کھول دیے اور کہا لو بیٹھ جاؤ اب میں افسر نہیں ڈاکٹر ہوں اور باقی سب سے باہر نکل جانے کو کہا۔ جہلم کے کسی گراں کے اس کڑیل آدمی نے جو کہانی سنائی وہ حیرت ناک بھی تھی اور تکلیف دہ بھی۔ اس نے بتایا کہ ہمیں جھانسہ دے کر سڑک بنانے کے لیے سی-130 طیارے میں بٹھا کر لایا گیا تھا۔ ہم پر سخت گیز حوالدار مسلط کیے گئے تھے جو آواز اٹھانے پر ہمیں کوڑے سے پیٹتے تھے۔ سزا کے طور پر میری بھنویں مونڈ دی گئی تھیں۔ بہت عرصے بعد جب این ایل آئی (ناردرن لائٹ انفنٹری) میں شمولیت کے لیے فوجی آنے لگے تو ان میں سے کسی کو اپنا گرائیں فوجی مل گیا۔ اس نے اس سے پوچھا،” تو لیبیا کس راں؟” سپاہی نے اس سے کہا، “کیہڑا لیبیا اے تاں گلگت ائی”۔ ۔ ۔ یوں ان کو معلوم ہوا کہ وہ لیبیا میں نہیں بلکہ اپنے ملک میں سڑک بنا رہے ہیں۔ میں نے اسے تو نسخہ لکھ کر فارغ کیا اور سیدھا ایف ڈبلیو کے ڈائریکٹر بریگیڈیر ۔ ۔ ۔ کے پاس جا پہنچا اور تصدیق یا تردید چاہی۔ انہوں نے لگی لپٹی رکھے بغیر بتایا کہ ہاں فوج نے آفیشلی فریب دیا تھا کیونکہ مقامی مرد سست اور کم اعتبار ہیں۔ لوگ لق و دق پہاڑوں میں کام کرنے نہ آتے چنانچہ ہم نے لیبیا میں مزدوری کے اشتہار دیے تھے۔ دلچسپ بات یہ کہ چینی مترجم نے مجھے بتایا تھا کہ انہیں اس بات کا پہلے سے علم تھا۔ مجھے 1977 میں یہ بات پتہ چلی تھی، اشتہار اس سے بھی سات آٹھ سال پہلے دیے گئے تھے۔

  • 10-04-2016 at 7:35 am
    Permalink

    عمدہ معلوماتی تحریر

  • 10-04-2016 at 8:35 am
    Permalink

    You are wrong, Karakurum Highway was not build by FWO it is purely build by Chinese Labour’s and engineers, Pakistan is not capable of building a link road today even how come she build such a mega infrastructure in those times when Pakistan was at its best political crisis, you can ask the local inhabitants about it. They will tell you evey story don’t you believe in pakistani bureaucracy

  • 12-04-2016 at 3:09 pm
    Permalink

    جناب ! آپ کی ہر با ت درست ہے۔ لیکن ا گر آپ ان دنوں اس روڈ کی حالت دےکھیں تو آپ کو ایف ڈبلیو او کی اصلیت کا پتا چل جاۓ گا جنھوں نے کورٹ میں کیس کر کے چا ئنیز سے کا م کا ٹھیکہ تو لیا ہے لیکن ان کے پاس ایک بلڈوزر تک نہہں ہے ایک عام ٹھیکہ دار سے مشین کرا یے پے لے کر کام کیا جا رہا ہے۔

Comments are closed.