ہم بلی کو بلی کیوں کہتے ہیں؟


zeeshan hashim ہاورڈ یونیورسٹی کے استاد Leslie Valiant اپنی ایک مشہور ترین کتاب “The Secret of our success ” میں ایک اہم سوال اٹھاتے ہیں اور خود ہی اس کا جواب دیتے ہیں – سوال یہ ہے کہ آخر ہم بلی کو بلی کیوں کہتے ہیں ؟ اس کے جواب میں وہ لکھتے ہیں : اس لئے کہ ہم نے یہی سیکھا ہوتا ہے – جب ہم ایک مخصوص شکل صورت کے ایک جاندار کا نام اپنے بڑوں سے یہ سنتے ہیں کہ یہ بلی ہے تو ہم ان کی نقل کرتے ہیں – اس ضمن میں وہ چار دلچسپ باتیں بیان کرتے ہیں

-زبان ایک سماجی مظہر ہے ، یہ کسی ایک شخص کی تخلیق نہیں – جس طرح زبان ایک سماجی مظہر ہے اسی طرح ہماری ترقی بھی – جس طرح ہم زبان کی نقل کرتے ہیں اسی طرح ہم کامیابی کی بھی نقل کرتے ہیں – یوں مشترکہ طور پر ہم آگے بڑھتے ہیں – ہمارے بچے زبان کو Linguistic کی سائنس سے نہیں سمجھتے بلکہ اسے محض کاپی کرتے ہیں – فلاں چیز کا نام یہ ہے تو فلاں چیز کا وہ – اسی طرح کامیابی کو عموما اس کی سائنس یا نظریاتی بنیادوں پر سمجھنے کے بجائے اس کے کامیاب نتائج کی بنیاد پر نقل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے –

– ہم اول دن سے اب تک کامیابی کی نقل کامیاب لوگوں سے کرتے آئے ہیں – کامیاب کہانیاں ہمیں کامیابی کی طرف تحریک دیتی ہیں – ناکامی کو کوئی نہیں دہراتا –

– یہ ثقافتی انقلاب ہی ہے جو علمی انقلاب کے ساتھ ساتھ چلتا ہے – کسی نے کوئی چیز دریافت کی، ایجاد کی ، یا سیکھی وہ جلد ہی نقل کر لی جاتی ہے – ایک ثقافت سے دوسری ثقافت ، دوسری سے تیسری اور پھر پوری دنیا میں وہ پھیل جاتی ہے – اس دوران اس میں مزید جدت پیدا ہوتی جاتی ہے اور ہر ثقافت اس میں حصہ ڈالتی جاتی ہے-

– جوں جوں ہم آگے بڑھ رہے ہیں نسل در نسل جنیاتی (genetic ) ارتقاء کے سبب ہماری نسلیں مزید سے مزید سیکھتی اور آگے بڑھ رہی ہیں – جو چیز ہم سیکھتے ہیں وہ ہمارے جنیاتی ذخیرے میں محفوظ ہو کر اگلی نسلوں میں منتقل ہو رہا ہے – وقت کے ساتھ ساتھ انسانی ترقی اور تبدیلیوں کی شرح میں کیونکر اضافہ ہو رہا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ نسل انسانی کا جنیاتی ذخیرہ نہ صرف بڑھ رہا ہے بلکہ اس کا اثر ہمارے ثقافتی ارتقاء پر بھی ہمہ گیر ہے- یہ تبدیلیاں صرف ایک خطہ ارضی میں نہیں بلکہ دنیا بھر کے تمام انسان اس کا حصہ ہیں –

جتنا پوری دنیا کے انسان ایک دوسرے سے جڑے ہوں گے اتنی تیز رفتاری سے یہ ثقافتی انقلاب برپا ہو گا – اس ضمن میں کافی دلچسپ مثالیں ہمارے سامنے ہیں – ہم جانتے ہیں کہ زراعت کی ایجاد ترکی یا وسطی ایشیائی ممالک کا کارنامہ ہے – اس ایجاد کو پوری دنیا میں پھیلنے میں ایک صدی سے زائد وقت لگا مگر اس نے پوری انسانیت کو پتھروں کے عہد سے نکال کر تہذیب و تمدن کی ترقیوں کی جانب دھکیل دیا تھا – اگر اس وقت پوری دنیا کے انسان آج کی طرح زیادہ گلوبلائزڈ ہوتے تو زرعی ثقافتی انقلاب کو پوری دنیا میں پھیلنے کے لئے ایک صدی نہیں بلکہ چند سال لگتے – یہاں سمجھنے کا نقطہ یہ ہے کہ دریافت اگرچہ ترکی یا وسطی ایشیا میں ہو رہی ہے مگر ثقافتی انقلاب پوری دنیا میں برپا ہو رہا ہے –

اسی طرح اگر ہم آگے بڑھیں تو ہمارے سامنے صنعتی انقلاب کا کارنامہ ہے -جو انگلیڈ یا سکاٹ لینڈ میں برپا ہوا – پورے یورپ کو صنعتی انقلاب جذب کرنے میں تقریبا چار سے پانچ عشرے لگےاور اس سے بھی زیادہ وقت مشرق کو صنعتی علوم اور ٹیکنالوجی امپورٹ کرنے میں لگا – حقیقت یہ ہے کہ وہ ملک جو باقی دنیا سے جتنا زیادہ جڑا ہوا ہے وہ اتنی تیز رفتاری سے دنیا سے سیکھتا ہے ، وہاں اتنے زیادہ ثقافتی انقلاب برپا ہوتے ہیں ، وہ انسانیت کے مشترکہ ورثہ سے اتنا زیادہ حاصل کرتا اور اس میں اپنا حصہ ڈالتا ہے –

آج چین اپنی معیشت میں جس مقام پر ہے، ترقی کا یہ راستہ اس نے خود تخلیق نہیں کیا بلکہ اس نے کامیابی سے باقی دنیا سے سیکھا ہے ، اس کی نقل کی ہے، اور اب انسانوں کے مشترکہ علم میں اپنا حصہ ڈالنے کے لئے پرجوش ہے –

گزشتہ ایک سال سے ایک سوال بار بار میرے ذہن پر دستک دیتا تھا کہ علم کی تخلیق و ارتقاء میں چونکہ ہمارا حصہ تقریبا صفر ہے ، آخر ہمارا مستقبل کیا ہے ؟ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگرچہ ہم تعلیمی و سائنسی انقلاب میں ہنوز ناکام ہیں مگر ثقافتی تبدیلیوں سے محروم نہیں رہ سکتے – اس گلوبلائزڈ دنیا میں کنویں کا مینڈک بن کر رہنا ناممکن ہے – ہم تخلیق نہ کر سکے تو کم از کم اسی طرح نقل کرتے ہوئے صف اول میں نہ سہی صف سوم یا چہارم میں ضرور آگے بڑھتے چلیں گے کیونکہ ثقافتی انقلاب سے دیر سویر ہر ایک نے مستفید ہونا ہوتا ہے –


Comments

FB Login Required - comments

ذیشان ہاشم

ذیشان ہاشم ایک دیسی لبرل ہیں جوانسانی حقوق اور شخصی آزادیوں کو اپنے موجودہ فہم میں فکری وعملی طور پر درست تسلیم کرتے ہیں - معیشت ان کی دلچسپی کا خاص میدان ہے- سوشل سائنسز کو فلسفہ ، تاریخ اور شماریات کی مدد سے ایک کل میں دیکھنے کی جستجو میں پائے جاتے ہیں

zeeshan has 92 posts and counting.See all posts by zeeshan

3 thoughts on “ہم بلی کو بلی کیوں کہتے ہیں؟

  • 10-04-2016 at 1:17 am
    Permalink

    یار ہم بلی کو اس لیے بلی کہتے ہیں کہ وہ بلی ہی ہوتی ہے.

  • 10-04-2016 at 11:45 am
    Permalink

    ذیشان صیب زبردست لیکن کیا ہم اپنے فراری رویہ آور انکاری نفسیات کیساتھ آس تبدیلی کیساتھ ہم اھنگ ہو سکی گے ؟؟؟

  • 10-04-2016 at 12:17 pm
    Permalink

    فراری رویہ آور انکاری نفسیات قلیل مدتی ہے ، آخر ہم مان لیتے ہیں مگر بہت دیر کے بعد ….. اصل چیلنج اپنے عہد میں اپنے عہد کی ضروریات اور مسائل کا ادرک اور بہتر رسپانس کرنا ہے اس میں ہنوز ہم ناکام ہیں اسی لئے ہم گھسٹ گھسٹ کر پچھلی صفوں میں سہی مگر آگے پڑھ رہے ہیں –

Comments are closed.