ہم بھی ملے مستنصر سے۔۔۔


amna ahsanجب سے مبشر علی زیدی (100  لفظوں کی کہانی کے پاکستانی بانی ) نے”ہم سب “کا ذکر کیا، جب بھی انٹرنیٹ ان کرتی سب سے پہلے اسی کو وزٹ کرتی ہو، یہ سائٹ وجاہت مسعود صاحب کی محنت کا نتیجہ اور لکھنے اور پڑھنے والوں کا وقت گزاری کا بہترین ذریعہ ہے۔ خیر یہ تمہید میں نے اس لئے باندھی کیوں کہ ابھی جناب قمر عبّاس اعوان صاحب نے مستنصر حسسیں تارڑ صاحب سے ہونے والی ملاقات کا احوال لکھا  جسے ہی تحریر پڑھی سوچا میں بھی مستنصر حسسیں صاحب کے ساتھ ہونے والی اپنی ملاقات پڑھنے والوں سے شیئر کرتی چلوں۔

لاہور میں ایک بہت ہی مشہور کتابوں کی دکان ہے، اس دکان کا نام ہے “ریڈنگز “۔ میں جب بھی لاہور جاؤں وہاں جانا میری پہلی کوشش ہوتی ہے، کتابیں خرید پاؤں یا نہیں، کتابوں کو دیکھنا، انھیں سونگھنا بھی خوبصورت عمل ہے۔ پیچھلے برس، اگست کا مہینہ تھا، میں ریڈنگز اپنے چھوٹے بھائی کے ساتھ گئ۔ میں نے جسے ہی پاؤلو کویلہو کی کتاب “Adultery” اٹھائی، یہاں یہ بتانا ضروری ہے کے جناب مرے پسندیدہ لکھنے والوں میں سے ہیں۔ ہاں تو میں نے جسے ہی بک شیلف سے کتاب اٹھائی، کتاب سے بنی خالی جگہ سے مجھے “وہ ” نظر آئے، میں نے غور سے دیکھا، اپنے بھائی سے تصدیق کی، اور جب یقین نا آیا تو وہاں کھڑے ایک صاحب سے پوچھا یہ مستنصر حسین تارڑ صاحب ہیں؟  انہوں نے ہاں میں سر ہلا دیا، اپ جنھیں بچپن سے سنتے اور ٹی وی پر حسرت سے دیکھتے آئے ہو، جو انسان آپ کے لئے چلتا پھرتا سفر نامہ ہو، اسے دیکھ کر کیا محسوس ہوتا ہے، بتانے سے قاصر میں “Adultery”  کو ہاتھ میں لئے ان کے پاس چلی گئی، وہ اک خوبصورت شخصیت کے مالک ہیں، میں نے انھے مخاطب کیا، سر آپ مستنصر حسسیں تارڑ ہیں نا ؟ انہوں نے مجھےگھورا، پھر ہنس کر کہا “ہاں جی ” میں ہی ہوں۔ میں نے انکے آگے “Adultery” کر دی، سر اس پر اپنے دستخط کردیں پلیز۔ وہ مسکرائے، میری طرف دیکھ کر بولے ” مگر یہ تو میری کتاب نہیں ہے ۔”میں ججھک کر بولی لیکن میں نے یہ لے لی ہے، آپ اس پر ہی دستخط کر دیں، وہ کتاب کی طرف متوجہ ہوئے پھر بولے ” یہ لکھتا تو اچھا ہے، مگر اسکی یہ کتاب اتنی اچھی نہیں جتنی باقی ہیں، جسے “Alchemist, Veronica decides to die”۔ اچھا یہ بتاؤ تمہارا نام کیا ہے ؟ آمنہ، آمنہ نام ہے میرا۔ کیا کرتی ہو تم آمنہ؟ میں ہاؤس وائف ہوں۔ یہ کام تو نا ہوا نا، کرتی کیا ہو ؟ سر کچھ بھی نہیں، چہرے سے تو اتنی تیز لگتی ہو، کچھ کر کے دیکھو لڑکی !یہ کہتے ہی ان کا فون بجا اور وہ اسے گھورتے ہوئے باہر نکل گئے۔


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “ہم بھی ملے مستنصر سے۔۔۔

  • 10-04-2016 at 9:42 am
    Permalink

    بہت خوب آمنہ۔ پہلی تحریر ہم سب کی زینت بننے پر مبارک ہو۔ اور مختصر سی خوشگوار ملاقات پڑھ کر اچھا لگا

  • 10-04-2016 at 8:06 pm
    Permalink

    پس ثابت ہوا تم میری دوست ہو۔۔بھئ وہ دوست کیا جو سیدھی تعریف کرے، ۔۔۔۔ بہت خوب۔۔۔ اور اچھا لکھو خوب لکھو۔۔۔۔

Comments are closed.