ہم ایسے تو نہیں ہیں!



phpجمعرات 24 مارچ کو رات گئے اسکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو میں ایک انجان شخص نے دوسرے انجان شخص کو چاقو کے پے در پے وار کر کے قتل کر دیا۔ اب ان دونوں کو دنیا 40 سالہ مقتول اسد شاہ اور 32 سالہ قاتل تنویر احمد کے نام سے جانتی ہے۔ اسد شاہ نے مرنے سے چار گھنٹے پہلے فیس بک پر لانگ فرائیڈے کے حوالے سے عیسائیوں کو خیر سگالی کا پیغام دیا تھا۔ اس لئے شروع میں یہ قیاس کیا گیا تھا کہ کسی مذہبی انتہا پسند نے عیسائیوں کے ساتھ دوستی اور محبت کا اظہار کرنے کی وجہ سے اسے قتل کیا تھا۔ لیکن دو ہفتے بعد جمعرات 7 اپریل کو قاتل تنویر احمد نے عدالت میں پیشی کے بعد اپنے وکیل کے ذریعے ایک بیان جاری کیا۔ اس بیان نے پوری دنیا کو حیران کیا ہے اور خاص طور سے مسلمانوں کے لئے سوچنے کے کئی دروازے کھولے ہیں۔ اس بیان میں تنویر احمد نے اعتراف جرم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے ایسٹر کے پیغام کی وجہ سے اسد شاہ کو نہیں مارا بلکہ اس کے عقیدہ کی وجہ سے بہیمانہ طریقے سے اسے قتل کیا تھا۔

تنویر احمد کے بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ اسد شاہ احمدی عقیدے سے تعلق رکھتا تھا۔ اس نے توہین رسالت کی تھی۔ وہ پیغمبری کا دعویدار بھی تھا جبکہ میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نبی آخر الزمان مانتا ہوں۔ اسی لئے میں نے حب رسول میں اسے قتل کیا تھا۔ اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر میں اسے نہ مارتا تو کوئی دوسرا اسے ہلاک کر دیتا۔ اس طرح دنیا میں مزید قتل و غارت اور تشدد ہوتا۔ تنویر احمد نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ میں نے اسے عیسائیوں کو ایسٹر کی مبارکباد دینے پر قتل نہیں کیا۔ میں اگرچہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ماننے والا ہوں لیکن حضرت عیسیٰ سے بھی محبت کرتا ہوں۔ میں نے اسے پیغمبری کا دعویٰ کرنے کی وجہ سے قتل کیا ہے۔

تنویر احمد کا یہ بیان عدالت میں اعتراف جرم کرتے ہوئے نہیں دیا گیا۔ بلکہ اس نے اپنے وکیل کے ذریعے اس بیان کو جاری کروایا ہے۔ اس کے دو مقصد ہو سکتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ دنیا میں شہرت حاصل کی جائے۔ دوسرے یہ کہ مسلمانوں کو پیغام دیا جائے کہ اس نے اسلام کی سربلندی کے لئے ایک بے گناہ کو قتل کیا ہے لہٰذا اسے مناسب احترام اور عزت دی جائے۔ اس اقدام کے دونوں مقاصد بھی ہو سکتے ہیں۔ وہ کسی حد تک دونوں مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب بھی ہوا۔ دنیا بھر کے اخبارات میں اس خبر کو شائع کیا گیا اور الیکٹرانک و سوشل میڈیا پر اس بیان کی تشہیر ہوئی۔ کیونکہ ایک انسان کو قتل کرنے والا نہایت سفاکی کے ساتھ اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے، اسے اپنے لئے باعث شرف و سعادت سمجھ رہا ہے۔ یہ بات دنیا بھر کے لوگوں کو حیران و ششدر کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان کے بعض اردو اخبارات اور سوشل میڈیا میں اس اقبالی بیان کو جس طرح ایک حقیقی مسلمان کے نعرہ حق کے طور پر پیش کیا گیا ہے، اس کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ تنویر احمد مسلمانوں کو متاثر کرنے کے مقصد میں بھی کامیاب ہوا ہے۔ یعنی ممتاز قادری کے بعد ایک نئے غازی نے مسلمانوں کا خون گرمانے کے لئے ایک انسان کا خون بہایا ہے۔

عقیدہ کے نام پر قتل کی روایت قرون وسطیٰ سے ضرور تعلق رکھتی ہے کہ عہد حاضر میں اس طریقہ کو ترک کر دیا گیا ہے۔ درحقیقت رسول پاک حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مدینہ میں جو ریاست قائم کی تھی اور اس کے لئے جو قواعد و ضوابط وضع کئے تھے اس میں معاشرتی اور سماجی مسائل پر انفرادی فیصلے کرنے کا حق واپس لیتے ہوئے قاضی اور عدالت کا نظام متعارف کروایا گیا تھا۔ عدالت ہی اس بات کا تعین کرنے کی مجاز ٹھہری تھی کہ کسی قتل کی صورت میں سزا یا قصاص کا تعین کیسے کیا جائے۔ تاہم انتہا پسندی اور اسلامی احکامات کی من مانی توجیہہ و تشریح کے اس دور میں اب اس طریقہ کو ترک کرنے کی روایت ڈالی گئی ہے جو رسول پاک نے آسمانی وحی اور اللہ کے احکامات کی روشنی میں وضع کیا تھا۔ اسلام کی سربلندی کے نام پر لاقانونیت کا پرچار کرنا، اسی مزاج اور رویہ کا حصہ ہے۔ اس طرز عمل کو طالبان ، القاعدہ اور داعش کے علاوہ متعدد دہشت گرد گروہوں نے اختیار کیا ہے۔ لیکن بات صرف قانون اور نظام کے باغی چند گروہوں تک محدود نہیں رہی ہے بلکہ اب اس افسوسناک رویہ کو عام زندگی گزارنے والے مسلمانوں کے دل و دماغ میں راسخ کیا جا رہا ہے کہ بطور فرد وہ فیصلے کرنے اور اسلام اور رسول کی حرمت کی نام پر سارے اصول مسترد کرنے کے روادار ہو سکتے ہیں۔ تنویر احمد کا عمل اور اس کا بیان اس زہر ناک صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔ اسی لئے مسلمانوں کو باالخصوص اس پر غور کرنے اور خود اپنی اصلاح کرنے کے عمل سے گزرنے کی ضرورت ہے۔

تنویر احمد بریڈ فورڈ کا رہنے والا ہے جہاں وہ ٹیکسی چلا کر اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالتا تھا۔ اسد شاہ بریڈ فورڈ سے ساڑھے تین سو کلو میٹر دور اسکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو میں رہتا تھا اور ایک چھوٹی سے دکان چلا کر گزر بسر کرتا تھا۔ یہ دونوں زندگی میں کبھی نہیں ملے تھے اور نہ ہی وہ ایک دوسرے کو جانتے تھے۔ اگرچہ مقتول اور قاتل دونوں کا تعلق پاکستان سے ہی تھا۔ اسد شاہ 1988 میں اسکاٹ لینڈ گیا تھا اور اپنے محلے میں سب اس کا نام محبت اور عزت سے لیتے ہیں۔ وہ بے ضرر اور ہمدرد انسان تھا جو لوگوں کے کام آ کر خوشی محسوس کرتا تھا۔ پھر تنویر احمد کو کیسے یہ خیال پیدا ہوا کہ اس سے کئی سو کلو میٹر کے فاصلے پر ایک شخص توہین رسالت کا مرتکب ہو رہا ہے؟ برطانیہ کے اخباروں نے اس کا سراغ لگانے کی کوشش کی ہے۔ اس طرح یہ بات سامنے آئی ہے کہ ”ختم نبوت“ نامی کسی تنظیم نے اپنی ویب سائٹ پر اسد شاہ کو جھوٹا پیغمبر اور گمراہ قرار دیا تھا۔ قتل کے بعد اسی ویب سائٹ پر مسلمانوں کو مبارکباد بھی دی گئی تھی۔ معاملہ چونکہ پولیس اور عدالت کے پاس ہے، اس لئے یہ کہنا مشکل ہے کہ تنویر احمد کیوں کر اس تنظیم سے متاثر ہوا اور وہ کون سے لوگ تھے جنہوں نے اسے قتل کرنے کے اقدام پر آمادہ کیا۔ پولیس اور عدالت یہ سراغ لگانے کی کوشش کرتے رہیں گے۔ لیکن عام مسلمانوں کے لئے اور خاص طور سے پاکستانی مسلمانوں کے لئے یہ لمحہ فکریہ ضرور ہے کہ کس طرح بعض مذہبی عناصر محبت، تفہیم، عبادت، رضائے الٰہی کے لئے ہمدردی اور وسیع المشربی اختیار کرنے کی بجائے مار دھاڑ اور قتل و غارتگری کی تبلیغ کر رہے ہیں۔

اس کا مظاہرہ حال ہی میں سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کو سزائے موت کے بعد رونما ہونے والے واقعات سے بھی ہوا ہے۔ ان علمائے دین نے جو ہمیشہ تشدد اور دہشت گردی کی مذمت میں پیش پیش رہتے تھے، قادری کے معاملہ کو لے کر نفرت، لاقانونیت اور ریاست سے بغاوت کے پیغام کو عام کرنے کی کوشش کی۔ گو کہ یہ سارے کام اسلام اور رسول کی عظمت کے نام پر کئے گئے لیکن ساری دنیا جانتی ہے کہ ان حرکتوں سے سب سے زیادہ نقصان اسلام کی شہرت اور مسلمانوں کی نیک نامی کو پہنچا ہے۔ دنیا کے وہ سارے اسلام دشمن جو کسی بھی ایسے موقع کی تلاش میں رہتے ہیں کہ انہیں کوئی مثال ہاتھ آئے اور وہ اسے بنیاد بنا کر یہ ثابت کریں کہ اسلام ایک خونی مذہب ہے جس کے ہاں انسانی جان اور قانون کا احترام کرنے کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے، ایسی خبروں سے خوش ہوتے ہیں۔ اب اسد شاہ کے قتل نے اس سوچ کو راسخ کیا ہے اور دنیا کے سنجیدہ اور متوازن لوگوں کو بھی یہ غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے کہ اسلامی تعلیمات میں ایسی کون سی بات ہے جو مسلمانوں کو خونخوار اور وحشی بنا دیتی ہے۔

دہشت گردی کی بحث میں مسلمانوں کی طرف سے عام طور سے یہ دلیل دی جاتی ہے کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔ لیکن ان کا عمل اس کے متضاد تصویر پیش کرتا ہے۔ اسی لئے یورپ اور امریکہ کے مسلمان دشمن گروہوں نے یہ نعرہ ایجاد کیا ہے کہ دہشت گردی سے اسلام کا کوئی تعلق نہیں لیکن ہر دہشت گرد مسلمان ہوتا ہے۔ بدنصیبی کی بات یہ ہے کہ  اپنے کردار اور طرز عمل سے  اس قسم کی دلیل کو غلط ثابت کرنے کی بجائے ہم ممتاز قادری اور تنویر احمد کی صورت میں عام مسلمانوں کی مسخ شدہ تصویر پیش کرتے ہیں۔ اور دنیا اب اسلام اور مسلمانوں کی پہچان کے لئے ان مثالوں کو ہی پیش نظر رکھتی ہے۔ لیکن ایک احمدی کے قتل پر بغلیں بجانے اور مبادکبادیں دینے والے مسلمانوں کو کیا یہ خبر ہے کہ اس طرح وہ اسلام کی ایسی شکل پیش کرتے ہیں جو صرف آج کی غیر مسلم قوموں کے لئے ہی ناقابل قبول نہیں ہے بلکہ خود رحمت العالمین حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیغام رحمت و سلامتی کے بھی خلاف ہے۔ بلاشبہ رسول پاک خود بھی اس خوں ریزی کو مسترد فرمائیں گے۔

احمدی تحریک یا عقیدہ کا بانی سو برس سے زائد عرصہ پہلے فوت ہو گیا تھا۔ اس ایک صدی میں احمدیوں کی پانچویں یا چھٹی نسل جوان ہو رہی ہے۔ ان لوگوں کا عقیدہ اکتسابی نہیں بلکہ نسبی ہے۔ اس لئے اس عقیدہ کے ماننے والوں کو مرتد قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یوں بھی کوئی مرتد ہو یا اہانت مذہب کا مرتکب ہونے والا بدبخت …. ملک کا قانون یا شریعت اسلامی کسی فرد کو اسے سزا دینے کا حق نہیں دیتی۔ کسی بھی ملک میں کسی بھی عقیدہ اور مذہب کو ماننا اور اس پر عمل کرنا بنیادی انسانی حق کا حصہ ہے۔ پاکستان بلاشبہ مسلمان اکثریت کا ملک ہے لیکن عددی برتری کی بنیاد پر دوسرے عقائد اور مذاہب کے خلاف نفرت پھیلانے، لوگوں کو تشدد پر اکسانے اور غلط بیانی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ بدنصیبی سے متعدد مسلمان رہنما اس غلطی کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ اسد شاہ کو برطانیہ میں قتل کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم اپنے گھروں، مدرسوں، استادوں اور علما سے نفرت اور مسترد کرنے کا جو پیغام سیکھتے ہیں، وہ ہر جگہ ہمارے ساتھ سفر کرتا ہے اور کسی بھی لمحے کسی بھیانک جرم کی صورت میں اس کا اظہار ہو سکتا ہے۔

مذہبی منافرت ایک لحاظ سے مذہب کے نام پر دہشت گردی سے بھی زیادہ خطرناک اور مہلک ہے۔ جو لوگ مذہبی تفہیم کی اس انتہا پر پہنچ جاتے ہیں کہ وہ ہم نفسوں کو مرنے مارنے پر تل جاتے ہیں تو وہ دہشت گرد گروہوں کی پہچان پاتے ہیں۔ معاشرے انہیں مسترد بھی کرتے ہیں اور ان کا مقابلہ کرنے کے لئے صف آرا بھی ہوتے ہیں۔ لیکن جو نفرت دوسرے عقائد یا مسالک کے خلاف دلوں میں ڈال دی جاتی ہے اس سے پورے سماج کی شکل بگڑتی ہے اور بدامنی ، بداعتمادی ، جھنجلاہٹ اور منتشر الخیالی کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ اسی کیفیت میں بعض لوگ قتل جیسا بھیانک جرم کرتے ہیں اور بعض کو یہ عارضہ نفسیاتی مریض اور بدمزاج سماجی بوجھ بنا دیتا ہے۔ یہ نفرت معاشروں میں آباد کئی نسلوں کو تباہ کرنے کی قوت رکھتی ہے۔ اسی لئے اس کو مسترد کرنے اور اس کے خلاف دیواریں کھڑی کرنے کی ضرورت ہے۔

اسد شاہ کے مرنے پر اس کے محلے میں آباد مسلمانوں اور غیر مسلموں نے یکساں طور سے اس قتل کو مسترد کیا۔ اس موقع پر “ ہم ایسے تو نہیں ہیں “ THIS IS NOT WHO WE ARE # کا نعرہ ایجاد ہوا۔ مسلمانوں کو یہ ثابت کرنے کے لئے کہ تنویر احمد ان کا نمائندہ نہیں ہے آواز بلند کرنا ہو گی۔ یہ آواز صرف اسکاٹ لینڈ سے نہیں بلکہ ہر اس آبادی سے آنی چاہئے جہاں مسلمان آباد ہیں۔ کیونکہ اگر ہم نے اپنی پہچان کا حق، قتل کرنے اور کروانے والوں کے ہاتھ میں دے دیا تو دنیا بھی ہمیں دھتکارے گی اور بارگاہ الٰہی میں بھی ہماری پذیرائی نہ ہو گی۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 413 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

9 thoughts on “ہم ایسے تو نہیں ہیں!

  • 09-04-2016 at 11:46 pm
    Permalink

    محترم مجاہد صاحب آپ ان گھناونے جرائم سے مذہب کو جس قدر دور کرنے کی کوشش کریں اس سے زمینی حقائق بدلنے والے نہیں آپ کوئی مہذب ترین مسلمان تلاش کر کے لے آئیے جب اس سے یہ پوچھا جائے گا کہ اسد شاہ کا قتل جائز تھا یا ناجائز تو وہ اسے جائز ہی کہے گا۔ میں نے اپنی زندگی میں ایسے بہت سے لوگ دیکھے ہیں جو بہن کو بیوی بنا کر برطانیہ لانے میں کوئی برائی نہیں سمجھتے لیکن شراب کی دکان کے سامنے سے گزرنا بھی پسند نہیں کرتے ان کی ایک بڑی تعداد اسی قسم کے شدت پسندانہ رویوں کی حامل ہے ۔ احادیث کی کتابوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام نے اس قسم کے قتل کی اجازت دی اگر آپ اس قسم کا موقف اختیار کریں کہ یہ اختیار صرف پیغمبر اسلام کو حاصل تھا کیونکہ وہ درجہ نبوت پر فائز تھے اور ان کے انتقال کے بعد کسی شخص کو یہ فیصلہ کرنے کا حق نہیں رہا تو ممکن ہے آپ کہیں پہنچ جائیں ورنہ یہ لوگ آپ کو بھی کافر قرار دے کر مارنے پر تُل جائیں گے۔ ایسا کیوں ہے؟ یہ سوال اپنی جگہ بہت اہمیت کا حامل ہے اور اس پر بحث کیے جانے کی ضرورت ہے مجھے یقین ہے کہ جس شدت سے اس قسم کے نظریات پاکستانی اور ہندوستانی مسلمانوں میں رائج ہیں وہ شدت عرب ممالک میں نہیں۔ اور پاکستانی اور ہندوستانی مسلمانوں میں اس قسم کے خیالات کو بڑھاوا دینے میں ملا اور مسجد کا کردار سب سے بڑا ہے تاراسنگھ کے وہابی ہو جانے والا لطیفہ تو آپ نے سن رکھا ہو گا یہ لوگ سوچنے سمجھنے میں یقین نہیں رکھتے اور باقی کی کسر پاکستانی سکولوں کے نصاب کی کتب سے نکل جاتی ہے جہاں علم الدین جیسے لوگوں کو ایک ہیرو کے طور پر پیش کیا جاتا ہے ۔ ایک چھوٹی سی بات آپ کو اس واقعے میں قتل ہونے والے اسد شاہ کے بارے میں بھی بتاتا چلوں کیونکہ میں اسے ذاتی طور پر جانتا تھا ۔ وہ بیچارہ ایک نفسیاتی مریض تھا اور اسے ایک خاص قسم کی لرننگ ڈس ایبلیٹی لاحق تھی وہ پچھلے اٹھارہ انیس برس سے نبی ہونے کا دعویٰ کر رہا تھا لیکن اس کی اس نبوت سے کسی کو کسی قسم کا کوئی خطرہ ہر گز نہیں تھا وہ غریب اپنی دکان پر بیٹھ کر سارا سارادن قرآن کی تلاوت کرتا اور اپنے تئیں خدا سے باتیں کرتا رہتا تھا اور اس کا پیغام بھی بڑا سیدھا اور بے ضرر تھا کہ وہ تمام مذاہب کے لوگوں سے محبت کرنے کی تلقین کیا کرتا تھا ۔ اسے قتل کر کے اس شخص نے برطانیہ کے مسلمانوں کی زندگی مزید اجیرن کرنے کا سبب پیدا کر دیا ہے لیکن بدقسمتی سے ان مسلمانوں کی اکثریت دل ہی دل میں اسے بھی وہی پیغمبرانہ درجہ دینے پر آمادہ ہے جو پچھلے دنوں ممتاز قادری کو جہلا کی ایک بڑی جماعت نے عطا کیا

  • 10-04-2016 at 2:22 pm
    Permalink

    محترم اعتزاز میر صاحب
    میں سینکڑوں نہیں تو درجنوں ایسے لوگوں کو ضرور جانتا ہوں جو اس قسم کے قتل کو مسترد کرتے ہیں۔ لیکن یہ درست ہے کہ ہمارے عہد میں بوجوہ یہ المیہ وقوع پذیر ہؤا ہے کہ ایسے معاملات میں عامتہ الناس کو اندیشوں اور خوف میں مبتلا کردیا گیا ہے۔ اسی سبب اس قسم کی مخالفانہ آوازیں سننے کونہیں ملتیں اور جو مسلمان دین کے نام پر ہونے والی لاقانونیت کو برا بھی سمجھتے ہیں وہ اس کے بارے میں رائے دیتے ہوئے ’احتیاط‘ سے کام لیتے ہیں۔ میری ناقص رائے میں اس خوف کو دور کرنے اور لوگوں کو یہ باور کروانے کی ضرورت ہے کہ اگر انہوں نے خود اپنے عقیدہ کی مثبت روایات کی حفاظت نہ کی تو انتہا پسند عناصر اسی طرح ان کے نمائیندے بن کر ان کی بدنامی اور شرمندگی کاسبب بنتے رہیں گے۔
    جہاں تک شرعی احکامات، احادیث اور رسول پاکﷺ کے عہد کی روایات کا تعلق ہے تو یہ میرا موضوع نہیں ہے۔ نہ ہی دینی امور میں، میں ایسی استعداد رکھتا ہوں کہ ان امور پر بحث کروں۔ میں تو دین کو فلاح اور امن کا پیامبر سمجھتا ہوں اور اسی پر ایمان بھی رکھتا ہوں۔ جب بھی عقیدہ کے نام پر ظلم ہوگا میں اسے غلط کہوں گا۔ جو لوگ ہمارے عہد میں ابھرنے والے رویوں کی دلیل اسلامی شریعت اور تاریخ سے لاتے ہیں، میرے خیال میں وہ کہیں نہ کہیں ٹھوکر کھا رہے ہیں اور اس اصول کو ترویج دینے میں رکاوٹ ہیں کہ ہر عہد میں دین کو وقت کے تقاضوں کے مطابق سمجھنے اور عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ اسے ہی اجتہاد کہتے ہیں، جس کے دروازے مسلمانوں پر بند کر دئے گئے ہیں۔ تو کیا عجب ہے کہ یورپ میں اسلام کے بعض ناقدین یہ تجویز سامنے لارہے ہیں کہ قرآن کو تبدیل کرنے اور اس میں سے بعض ’غیر ضروری اور اشتعال انگیز‘ آیات کو نکالنے کی ضرورت ہے۔ اگر مسلمان عالم دین اپنا کام نہیں کریں گے اور نفرت کا پیغام عام کرنے میں مصروف رہیں گے تو اس قسم کی تنقید کا جواب دینا میرے جیسے نابلد کے لئے ممکن نہیں ہے۔

  • 10-04-2016 at 2:50 pm
    Permalink

    اسد شاہ کا قتل ایک انتہائی بہیمانہ قدم تھا۔ یہ بھی واضح ہو کہ اسے قادیانی ہونے کی وجہ سے نہیں مارا گیا بلکہ اسکے دعوی نبوت اور پھر اس دعوی کو لے کر کچھ لوگوں کی شرارت وجہ قتل بنی۔ اس موقع پر جماعت احمدیہ کا کردار بھی شرمناک رہا جنھوں نے اس کو احمدی ہی نہی مانا پورا ہفتے کیونکہ وہ مرزا مسرور ساب کو خط لکھ کر اپنی نبوت پر ایمان لانے کی دعوت دیتا تھا۔ جب تمام عوام اسد شاہ کی خاطر اکٹھی ہوئی اور ردعمل دیا تو اگلے جمعہ اسے اپنا لیا گیا کہ “ہاں ہمارا ہے پر کبھی کبھی دماغی طور پر بہک جاتا تھا”۔

    • 11-04-2016 at 4:22 am
      Permalink

      جماعت احمدیہ سے ذیادہ آپ کا اپنا کردار شرمناک ہے، اس کی فکر کریں

  • 10-04-2016 at 3:38 pm
    Permalink

    محترم مجاہد صاحب
    مجھے آپ کی اس بات پر پورا یقین ہے کہ آپ ایسے سینکڑوں نہیں تو درجنوں مسلمانوں کو ضرور جانتے ہیں جو اس عمل کو برا سمجھتے اور کہتے ہیں لیکن میں نے جس نکتے کی طرف اشارہ کیا تھا آپ اس کو نظرانداز کر گئے
    پہلی بات تو یہ کہ ایسے سینکڑوں مسلمانوں سے میں بھی واقف ہوں لیکن وہ مسلمان مجھ جیسے مسلمان ہیں جن کا اسلام صرف موروثی ہے انہیں اس کے علاوہ مذہب سے کچھ لینا دینا نہیں
    میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ہر وہ مسلمان جو دین اسلام پر پورا اعتقاد رکھتا ہے ، اس بات پر بھی قائل ہے کہ اگر کوئی شخص رسول اکرمﷺ کے بارے میں کوئی ایسی ویسی بات کہے تو اس کا قتل جائز ہے اسی طرح ان کی غالب اکثریت کو اس بات سے بھی کوئی مسئلہ نہیں کہ اگر کوئی مسلمان اپنا مذہب چھوڑ کر کوئی اور مذہب اختیار کر لے تو اس کا قتل بھی غیر اخلاقی نہیں
    یہ وہ مسائل ہیں جو جدید دنیا میں مسلمانوں کے لیے بڑے بڑے خطرات کو جنم دے رہے ہیں اجتہارد کی غیرموجودگی کی طرف اشارہ آپ نے درست فرمایا لیکن اجتہاد کے دروازے مسلمانوں پر بند کس نے کیے ہیں؟ کیا یہ کام مولانا فضل الرحمان ، ذاکر نائیک، طارق جمیل وغیرہ جیسے لوگ کریں گے جن کی دکانداری جہالت کے اس جال کو قائم رکھنے سے ہی محفوظ رہ سکتی ہے میرے خیال میں تو یہ کام آپ جیسے اہل قلم کو کرنا ہے مغرب کی طرف سے متنازعہ قرآنی آیات کو نکالنا ایک احمقانہ تجویز ہے کیونکہ اگر ایسی کوئی چیز ممکن ہوتی تو اب تک بالکل ایسی ہی آیات کو بائبل سے نکالا جا چکا ہوتا تبدیلی صرف اور صرف سیکیولر سوچ رکھنے والے اہل قلم ہی لا سکتے ہیں جیسے مغربی دنیا میں ہوا ہے اور ان اہل قلم نے بائبل کو بدلنے کی بات نہیں کی لوگوں کے طرزفکر کو بدلا۔ مزید معروضات بعد میں پیش کروں کا ۔ انعام رانا صاحب نے جو بات کی ہے اس سے پورا اتفاق رکھتا ہوں لیکن انہیں اس پر حیران نہیں ہونا چایہے کاروباری ادارے اسی طرح کے رویے رکھتے ہیں ان کی کاروباری مجبوریاں انہیں اجازت نہیں دیتی تھیں

  • 11-04-2016 at 1:27 am
    Permalink

    I agree with writer and all the comments. There is no justification.
    I live in Manchester and present one day national radio show.
    On Tuesday I will be reading your article live with debate.

    If you don’t want me to then please let me know by tomorrow.
    thanks

    dr a shakoor

    • 11-04-2016 at 11:37 am
      Permalink

      شکریہ ڈاکٹر صاحب آپ جیسے چاہیں اس مضمون کو استعمال کر سکتے ہیں۔

  • 11-04-2016 at 3:11 am
    Permalink

    جنون اب سرحد اور جغرافیہ کی قید سے باہر نکل چکا ہے۔
    کن لوگوں کا زکر ہو رہا ہے؟ جو سارے ملک میں ‘ناموس رسول’ کی ‘حفاظت’ کے لئے جلوس نکالتے ہیں اور صبح سے شام تک اپنے ہی ۵۵ افراد عشق رسول کی بھینٹ چھڑاکر رسول کی ناموس کی ‘حفاظت’ فرماتے ہیں۔
    انسانی جان کی کوئی حرمت ہے ان کی نظر لوگوں کی نظر میں؟
    نالی اپنی، نہ ہی کسی دوسرے کی۔ دوسرے کی جان لینا تو مباہ ہے۔
    اسلام کی تعلیم یہ یقیناً نہیں ہے۔
    مگر مسئلہ یہ ہے کہ اسلام کی تعلیم دینے والے اب وہ لوگ رہ گئے ہیں جو کمبخت قادری کا چہلم (ستائیسوئیں دن) مناکر ڈی چوک اسلام آباد میں مغلظات بک رہے تھے۔
    ان بدبختوں کی وجہ سے رسول کریم صلعم کی جو رسوائی ہو رہی ہے وہ عیسائیوں کو کاٹون بنا بنا کر ہنسارہی ہے اور ان لوگوں کو رتی بھر بھی حیا نہیں آتی۔
    اسلام کی شکل تو منحوس مولوی بگاڑ ہی چکا ہے، اب قرآن میں بھی تحریر کرنے کا ارادہ ہے۔ ان سے کچھ بعید بھی نہیں، یہ ناپاک لوگ یہ بھی کر گزریں گے۔
    مسئلہ یورپ میں پیدا اور پلنی بھڑھنے والی مسلمان نسل کا یہ ہے کہ ان کے آبائی وطنوں سے برآمد کیا جانے والا مولوی نما موزی جانور اپنے ساتھ اپنا پرانا دق، جذام اور طاعون ان صاف ستھرے معاشروں میں پھیلا رہا ہے۔
    علاج وہی ہے جو بیماری پھیلانے والے جانور کا ہوتا ہے، اس سے قبل کی باقی دنیا کی صحت مند آبادی وبائی مرض میں ماری جائے۔

  • 11-04-2016 at 4:34 am
    Permalink

    ہم تو ایسے نہیں ہیں!
    آپ یقیناً ایسے ہی ہیں۔
    آپ کا گند روز بروز کھل کر دنیا کے سامنے آرہا ہے۔
    آپ روز ننگے ہو رہے ہیں، آپ کا کچھ بھی اب دنیا سے چھا ہوا نہیں رہا۔
    دنیا کہ پاس آپ کی بیماریوں کا علاج موجود ہے، دنیا آپ کے خلاف متحد ہوتی جارہی ہے جلد دارو بھی کر لے گی مجنونوں کا۔

Comments are closed.