بھاگ بلی، چوہا آیا۔۔۔  


ammar masoodعجب حالات ہیں اس ملک کے، ایک صوبے میں چن چن کر دہشت گردوں کو مارا جا رہا ہے اور دوسرے صوبے میں یہی سلوک چوہوں کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ ایک صوبے میں حکومت چوہوں کے خلاف برسرپیکار ہے دوسرے میں دہشت گردی کا خاتمہ مشن ہے۔ ایک صوبے میں چوہوں کی لاش دکھا کر انعام کمایا جا رہا ہے دوسرے صوبے میں دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو تگنی کا ناچ نچایا جا رہا ہے۔

کے پی کے کی صوبائی حکومت اور ضلعی حکومتوں نے چوہوں کے خلاف جو ولولہ انگیز جنگ شروع کی ہے وہ بے مثال ہے۔ اس ضمن میں آنے والی خبریں صورت حال کو مزید دلچسپ بنا رہی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق کچھ سرفروش نوجوان پنجاب سے چوہوں کی سربریدہ لاشیں لے جا کر ان پر انعام وصول کرتے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ ابھی تک پنجاب اور کے پی کے کے چوہوں میں تمیز کے لئے کوئی طریقہ کار متعین کرنے سے قاصر ہے۔ صوبائی حکومت نے بھی ابھی تک چوہوں کی درآمد اور برآمد کے حوالے سے کوئی واضح پالیسی نہیں بنائی جس سے صوبوں اور چوہوں ہر دو حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ چوہوں کی موت کے بارے میں بھی شواہد کچھ مشکوک ہیں۔

چند ذہن رسا رکھنے والوں نوجوانوں نے ایسا کیا کہ چوہوں کو مکمل ہلاک نہیں بلکہ ان کی خوراک میں بے ہوشی کی دوا ملا کر انہیں بے ہوش کر دیا۔ ان بے ہوش چوہوں کی غفلت سے فائدہ اٹھا کر ان کی قیمت وصول کی گئی اور ہوش میں آنے پر ان کو دوبارہ پکڑ کر قید کر لیا گیا۔ اس صریحا جعل سازی پر چوہوں کی تنظیموں نے شدید احتجاج کیا اور کہا کہ ہماری غفلت کی نیند کو عوام کی غفلت کی نیند نہ سمجھا جائے۔ ہم سے انسانی سلوک مت کیا جائے۔ مانا کہ ہم چوہے ہیں مگر اس ملک کے عوام کی طرح غافل نہیں۔ ہماری خاموشی کو بزدلی نہ سمجھا جائے۔ ہمیں ہمارے حقوق دیئے جائیں۔ اس اعلان کے ساتھ سارے ملک کی چوہا برادری میں ایک کھلبلی مچ گئی۔ تمام صوبوں کے چوہے خیبر پختون خوا کے چوہوں کی مدد کو دوڑے۔ جس کا بھرپور فائدہ چوہے مارنے والے افراد نے اٹھایا۔ ایک سیاسی تبصرہ نگار نے اس موقع پر حکومت سے اپیل کی ہے کہ چوہے کے مکمل مرنے کی تصدیق کے لئے ایک بورڈ بنایا جائے اور اس کا سربراہ کسی ایسا شخصیت کو بنایا جائے جو اپنا جہاز نہ رکھتی ہوں تاکہ چوہوں کے خلاف اس جنگ میں ہوائی راستوں سے ہونے والے حملوں کو بند کیا جا سکے۔

چوہوں کی لاش کی قیمت کے بارے میں بھی بہت ابہام پایا جا رہا ہے۔ با وثوق ذرائع کی ایک رپورٹ کے مطابق ایک چوہے کی لاش کی قیمت تین سوروپے مقرر ہوئی۔ پھر چوہوں کی تعداد اور عوامی جوش خروش دیکھتے ہوئے صوبائی حکومت نے انعامی رقم کو پچاس روپے تک محدود کر دیا گیا۔ البتہ ضلعی ناظم نے ایک خبر کے مطابق اب ایک چوہے کی لاش کی قیمت پچیس روپے پر بات ختم کر دی ہے۔ ابتدائی قیمت جو کہ تین سو روپے مقرر کی گئی تھی وہ نوجوانوں کے لئے روزگار کا بہترین ذریعہ تھی۔ آٹھ دس چوہے تو جوان آدمی دن بھر میں رو پیٹ کر مارہی لیتا ہوگا اور اس کام میں ناغے کی بھی کوئی ضرورت نہیں۔ تو اس حساب سے گھر بیٹھے ماہانہ نوے ہزار روپے کی آمدن کسی نعمت غیر مترقبہ سے کم نہیں۔ اب وہ نوجوان پچھتا رہے ہوں گے جو تعلیم حاصل کرنے کے چکر میں ڈگریاں حاصل کرتے رہے۔ ایم بی اے یا ڈاکٹری کے امتحانات وغیرہ پاس کرتے رہے۔ راتوں کو علم کی روشنی کے حصول کے لئے جاگتے رہے۔ سکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں کی فیسیں بھرتے رہے۔ تیس، چالیس ہزار کی نوکری کے لئے سفارشیں کرواتے رہے۔ روزانہ ویگنوں اور بسوں میں دھکے کھا کر دفتر جاتے رہے۔ اب ایسے ہونہار نوجوان سوچتے ہوں گے کہ ناحق اتنا تردد کیا۔ زندگی گزارنے کے حیلے تو گھر بیٹھے میسر تھے۔ ذرا غلیل اٹھائی اور تین سو روپے پیٹ لئے۔ چوہوں کا ایک پھندا بنایا اور روزگار کا ذریعہ مستقل ہو گیا۔

ایک تجویز کے کے مطابق چوہوں کو مارنے کے جدید طریقے نامی مضمون کو سلیبس کا حصہ بنایا جا ئے۔ تاکہ اس فروعی اور بے مقصد تعلیم سے طلباء کو نجات ملے اور ملکی معیشت میں بہادر اور حوصلہ مند نوجوانوں کا کردار کھل کر سامنے آئے۔ لوگ کہتے ہیں کہ انعامی رقم میں کمی کا اعلان سن کر نوجوانوں کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے اور نوجوانوں کی تنظیموں کی جانب سے سابقہ انعامی رقم کی بحالی کا مطالبہ کیا جا رہاہے۔ ہمارا تو صرف اتنا مشورہ ہے کہ ضلعی اور صوبائی کو فی الفور نوجوانوں کے مسائل کرنے کی طرف توجہ دینی چاہیے اور بے روزگاری کے خاتمے کے لئے احسن اقدامات کرنے چاہیں۔ کچھ ہنر مند نوجوان ضلعی حکومت کے رویئے سے غیر مطمئن بھی ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے درجنوں چوہے ایک ہی ہلے میں مارڈالے مگر ابھی تک انعامی رقم کی وصولی میں ناکام رہے۔ چوہے کی لاشیں ہاتھ میں اٹھائے یہ لوگ احتجاج کر رہے ہیں کہ اگر انعام نہیں دینا تو ان بے زبانوں سے کیا دشمنی تھی؟ پہلے ہم چوہوں کی تلاش میں پھرتے رہیں اور اب انعام کے حصول کے لئے خوار ہوتے رہیں۔

ویسے خواتین کی اس مہم سے عدم دلچسپی کی وجہ سمجھ آتی ہے۔ بین الا قوامی طور پر خواتین اتنا شوہر سے نہیں ڈرتیں جتنی جان ان کی چوہے سے نکلتی ہے۔ کچھ بعید نہیں کہ چند دنوں تک خواتین کے حقوق والی تنظیموں کی جانب سے یہ بیان سامنے آ جائے گا کہ انعامی رقم کے حصول کے لئے کسی اور مویشی کا انتخاب کیا جائے اور اگر منتخب ایسا ہو جو بچوں کی دیکھ بھال کرتا ہو، شاپنگ کے نازک معاملات سمجھتا ہو،گھر داری کے کام کاج کرنے کے علاوہ ہر ماہ تنخواہ بھی لاتا ہوتو اس جنگ میں خواتین کی شمولیت دیدنی ہوگی۔
پنجاب حکومت بھی آج کل چوہوں سے ایک جنگ میں برسر پیکار ہے۔ ان چوہوں کی نوعیت ذرا مختلف ہے۔ یہ وہ چوہے ہیں جو دہشت گردی کی وارداتیں کر کے اپنے اپنے بلوں میں گھس جاتے ہیں۔ یہ جنگ ایسے بزدل چوہوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف ہے۔ پنجاب میں زیر بحث مسئلہ انعامی رقم کا نہیں بلکہ اس بات کا ہے کہ کن افراد نے ان چوہوں کو محفوظ بل فراہم کیئے، ان موذیوں کو پالا پوسا، ان کو خوراک اور تحفظ فراہم کیا اور ان کی پرورش کی۔ یہاں ذمہ داروں کے تعین کا مسئلہ درپیش ہے۔ یہاں جنگ کا طبل بجانے والوں کے نام علم کرنے کا مسئلہ زیر غور ہے۔ فتح کس کے نام ہوتی ہے یہ ابھی پنجاب میں فیصلہ نہیں ہوا۔ ابھی تو یہ فیصلہ ہونا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف دہائیوں کی شکست کا الزام کس کے سر ہوتا ہے ؟دعا صرف اتنی ہے کہ دونوں صوبے اپنی اپنی شروع کی ہوئی جنگ میں اس طرح کامیاب ہوں کہ فتح پاکستان کی ہو۔


Comments

FB Login Required - comments

عمار مسعود

عمار مسعود ۔ میڈیا کنسلٹنٹ ۔الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے ہر شعبے سےتعلق ۔ پہلے افسانہ لکھا اور پھر کالم کی طرف ا گئے۔ مزاح ایسا سرشت میں ہے کہ اپنی تحریر کو خود ہی سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ مختلف ٹی وی چینلز پر میزبانی بھی کر چکے ہیں۔ کبھی کبھار ملنے پر دلچسپ آدمی ہیں۔

ammar has 42 posts and counting.See all posts by ammar