کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی


israr shakirمارچ کا مہینہ اپنی تمام تر ہنگامہ خیزیوں کے ساتھ رخصت ہو گیا، مگر اپنے دامن میں گلشن اقبال پارک لاہور والے دردناک سانحے کا داغ بھی سمیٹ کر گیا۔ اس سے پہلے تیئس مارچ گزرا تھا،تجدید عہد کا دن ،جو قومی وقار اور جوش و جذبے کے ساتھ منایا گیا۔یوں تو پہلے بھی یومِ دفاعِ پاکستان بھرپور قومی جوش و جذبے سے منایا جاتا رہا ہے ۔اس بار مگرآپریشن ضربِ عضب کی کامیابیوں ،کالعدم تنظیموں کے خلاف مو¿ ثر کاروائیوں اورکراچی میں امن و امان کے ساتھ ساتھ داخلی اور خارجی سطح پر چو ں کہ پاکستان کی ساکھ بہترہوئی ہے۔اس وجہ سے امسال یومِ پاکستان کا فی جوش و جذبے سے منایا گیا۔ فقید المثال فوجی پریڈ ہوئی ،جیٹ طیاروں کے کرتب دکھائے گئے ۔ ابھی قومی عزم و جذبے کا طنطنہ تھما بھی نہ تھا، ابھی جیٹ طیاروں کی گھن گرج دشمن کے عزائم پر لرزا طاری کر ہی رہی تھی کہ بوکھلائے ہوئے دشمن نے ہماری کچھ کم زوریوں کا فائدہ اٹھایا اور زندہ دل قوم کے قلب پر کاری وار کر دیا ۔

سانحہ پشاور کے بعد اقبال پارک کا دھماکہ اپنی نوعیت کا خوف ناک دھماکہ تھا۔جس میں زندہ بچ جانے والی کئی بد نصیب مائیں اپنے بچوں کے بکھرے ہوئے اعضا سمیٹتی رہیں ،کئی بچے اپنی ماو¿ں کی آغوش سے محروم ہوئے۔بہتر لاشوں اور تین سو سے زائدزخمیوںکے کرب ناک مناظر دل کو چیر گئے ۔اس اندوہ ناک واردات کی ذمہ داری کس پرڈالی جائے ۔یہ کوئی جنگل سے در آئے کسی جانور کا کیا دھرانہ تھا ،جس نے یوں آ کر شب خون ماراہو اور لو گوں کے کشتوں کے پشتے لگا نے کے بعد واپس چل دیا ہو،بلکہ یہ تو بھٹکے ہوئے کسی جانور نماانسان کی کار ستانی تھی،جس نے خدا کے نام پر اس کے بندوں کوابدی نیند سلا دیا تھا۔ پل بھر میں معصوم بچوں ، بڑوںاور عورتوں کے چیتھڑے اڑا کر رکھ دیے تھے۔

پارک میں پھول ہوتے ہیں،بیل بوٹے ، خندہ لب کلیاں، بوڑھے پیڑ،ہری بھری ٹہنیاں ،جب بچے اچک پھاند کرنے لگتے ہیں تو،چمن کے ان باسیوں پر عجب کیف و مستی سوار ہوجاتی ہے۔دھماکے کے بعد،جب چمنستانِ وطن کے ہنستے مسکراتے ،ننھے منے پھولوں کے گوشت کے لوتھڑے اڑ کر ان پھولوں پر گرے ہوں گے،انسانی اعضا ان ٹہنیوں کے ساتھ پیوست ہو گئے ہوں گے،تو باغ کے سبھی پھولوںپرکیابیتی ہو گی ؟وہ خندہ لب کلیاں کس تیزی سے کملا گئی ہوں گی۔بوڑھے درختوں کی ہری ٹہنیاں پل بھر میںاجڑ کر بے برگ و بار ہوگئی ہوں گی۔ ذرا سوچو تو،ہر سو بکھری ہوئی معصوم بچوں کی راکھ پر بین کرتی ماو¿ں کا ملال کون دیکھ سکا ہوگا۔اپنے پیاروں کی ریزہ ریزہ لاشوں پر ماتم کرتے ورثا کی دل دوز چیخوں کا حساب کس سے مانگا جائے گا۔ حکمرانوں نے تومذمت کرنے کے بعداپنا فرض پورا کر لیا ہے۔روایتی طور پر سفاک قاتلوں کوچن چن کر مارنے کی بھبھکی بھی ماری ہے۔اس سے زیادہ وہ کر بھی کیا سکتے ہیں؟جو اپنی سکیورٹی کے حصار سے باہر جھانکتے ہوئے بھی خوف کھاتے ہیں۔

اس قدر اذیت ناک حادثہ رو نما ہونے کے بعدکئی سوال من میں کلبلانے لگے ہیں۔نہ جانے کیوں اس واقعے کو لے کر میری توجہ ادھر اُدھر بھٹکنے لگی ہے ۔اس کی ایک وجہ چوکوں ،چو راہوں پر ہونے والے عام عادمی نامی مخلوق کے وہ تبصرے بھی ہو سکتے ہیں،جو ہماری دانش وری سے ہٹ کر کسی اور راہ کا تعین کرتے نظر آتے ہیں۔عام آدمی کی بات اگرچہ سو فیصد درست نہیں مانی جا سکتی ،لیکن آوازِ خلق کو پسِ پشت ڈال کر کبوتر کی طرح حقیقت سے آنکھیں پھیرلینابھی ٹھیک نہیں ہے۔اس ہول نا کی کے بیچ ایک افسوس ناک خبریہ بھی تھی کہ ،جائے وقوعہ سے ایک سر کو دھر لیا گیا ہے۔ہو سکتا ہے یہ سر،پنجاب پولیس کے شر سے بچنے کے لیے مبینہ طور پر اپنا شناختی کارڈ بھی ساتھ لے آیا ہو ،جو جائے وقوعہ سے برآمد ہوا تھا۔نام محمد یوسف تھا، چہرے پر ہلکی داڑھی، کسی مدرسے کا معلم بھی بتایا جاتا تھا۔شکر ہے بات غلط نکلی،ورنہ انبیا کے مبارک چہروں پر سجی اس عظیم سنت کو بدنام کرنے والے دہشت گردوں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اِدھر دھماکہ ہوا ،اُ دھر محض شک کی بنا پر داڑھی والے کسی بھی ’سر‘ کی فوٹو پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی زینت بن جاتی ہے۔کاش کوئی مولوی اس جانب بھی توجہ دیتا کہ اسلام انسانیت کو خون میں نہلانے سے نہیں،انصاف ،امن اور سلامتی کے نفاذ سے ہی سر بلند ہوتا آیا ہے۔

اس سانحے کے بعد ،عام آدمی کو مگراس بحث میں بھی الجھتے ہوئے دیکھا گیا کہ، عمران خان کے دھرنے کے خاتمے کا سبب بھی سانحہ پشاور بنا تھا۔ہدف بچے تھے۔ہم دردیاں حکومت کے حق میں ، دھرنا ختم۔پھر قوم نے اس سانحے کے غم میںنڈھال بادشاہ اور درباریوں کو خوب قہقہے لگاتے ہوئے دیکھا تھا۔ یہ عجب اتفاق ہے کہ ،اس با ر بھی ویسا ہی ہوا، اسلام آباد میں دھرنا جاری تھا کہ اقبال پارک لاہور میںخوف ناک دھماکہ ہوگیا۔ ہدف زیادہ تر بچے بنے ۔ہم دردیاں حکومت کے حق میںہو گئیں ۔اس کا فائدہ بھی حکومت نے خوب اُٹھایا کہ دیکھو جی! ملک حالتِ جنگ میں ہے،اور ملک دشمن لوگ ڈی چوک پر دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔ بہرحال بھلا ہو خاکی وردی والوں کا ، اس سانحے کے ردِعمل میںبھی پنجاب بھرمیں فوجی آپریشن کا آغاز ہو چکا ہے۔’دیر آئے ،درست آئے‘ کے مصداق اس کا رروائی کو خوش آمدید کہنا چاہیے ،کیوں کہ اس کے سوا کوئی اور چارئہ کا ر نہیں تھا، ورنہ لوگ تو ایک بحران سے نمٹنے کے لیے ،نیا بحران پیدا کرنے والوں کا فکر و فلسفہ بھی از بر کر چکے ہیں۔جب کہ حکومت کی پوزیشن اگر دھرنوں کی وجہ سے کم زور نہ ہو چکی ہوتی توپنجاب آپریشن میں فوج کوشدید سیاسی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا۔سیانے کہتے ہیں کہ رائی برابر شک ، پہاڑ جیسے اعتماد کو لمحوں میں کھاجاتا ہے۔عوام کو شک کیوں نہ ہو ، جب تاجر حکمرانوں کا ذاتی مفاد ،قومی مفادات پر حاوی ہو نے لگے ۔جب پنجاب شدت پسند گروہوں کی آماج گاہ ہو،مگر آپریشن کی راہ میں روڑے اٹکائے جائیں۔را کے افسر کل بھوشن کی گرفتاری پرخاموشی….رمضان شوگر مل سے پکڑے جانے والے’ را‘ کے ایجنٹوں کے معاملے میں چپ کا روزہ ….اُدھر پٹھان کوٹ واقعہ ہو توفوراً مذمت….انکوائری کا فوری حکم ….ایف آئی آر کا اندراج کرنے میں دیر نہیں لگتی۔ معاملات اسی طرح ہینڈل ہوں گے تو ،شک تو پیداہوگا ناں بھائی….

اسکول کے زمانے میں دوستوں کے ساتھ مل کر ایک بھارتی فلم دیکھی تھی۔ غالباً” جینا مرنا تیرے سنگ “نام تھا اس کا۔اس فلم میں ایک ایم ایل اے کا ڈائیلاگ میں آج تک نہیں بھول پایا ہوں۔ایم ایل اے صاحب کی عوام مخالف سرگرمیوں کا جب اس کی بیگم کو علم ہوتا ہے تو، وہ اپنے خاوند کو اس برے فعل سے روکنے کی کوشش کرتی ہے ۔ایم ایل اے صاحب کو محسوس ہوتا ہے کہ ،بیگم صاحبہ اس کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے ،تو وہ اس کے بازو سے پکڑ کر اسے دو منزلہ عمارت سے نیچے گرا دیتا ہے ۔اور وہ بدنام زمانہ ڈائیلاگ استعمال کرتا ہے کہ،”ایم ایل اے کی کرسی کے لیے کچھ بھی کر سکتا ہوں“ شکر ہے ہمارے ہاں ایم ایل اے نہیں ،بلکہ ایم این اے ہوا کرتے ہیں۔لہٰذ اشک کی بیماری کو درگور کر دینا ہی بہتر ہے ،کیوں کہ ہمارے ایم این اے اگر پورا ملک ایک ہی ڈکار میں ہضم کر جائیں ،تو بھی ہم بحیثیت قوم ایسے کسی بھی جرم کو ان کا ذاتی فعل سمجھتے ہیں۔ووٹ ’قومی ‘امانت سمجھ کر، بالآخر انہی کو ہی دیتے ہیں،جو کہ ان کاجدی پشتی حق ہے،ہم مزارعوںپر ۔اللہ اللہ ، خیر سلا….


Comments

FB Login Required - comments