پانامہ پیپرز۔۔۔ مسئلہ کیا ہے؟


usman ghaziمسئلہ نوازشریف ہے یا کرپشن۔۔ پاکستان کو یہ طے کرنا ہوگا۔

پانامہ پیپرز میں صرف شریف فیملی کے افراد کا نام نہیں ہے بلکہ نوازشریف کے خلاف منی لانڈرنگ کے کیس کی سماعت کرنے والے لاہور ہائی کورٹ کے حاضر سروس جج فرخ عرفان خان اور بے نظیر بھٹو کے خلاف کرپشن کے جعلی مقدمات کی آڈیو ٹیپ سے شہرت پانے والے لاہور ہائی کورٹ کے سابق جج ملک قیوم کا نام بھی پانامہ پیپرز میں شامل ہے۔  220 پاکستانیوں میں بحریہ ٹاؤن، داؤدگروپ، سورتی گروپ، ہاشوانی گروپ اور لاکھانی گروپ سمیت 28 سرمایہ داروں کے نام پانامہ پیپرز میں شامل ہیں۔ اگر پانامہ پیپرز کے نتیجے میں صرف نوازشریف کو ٹارگٹ کیا جائے گا تو اس کا یہ مطلب ہے کہ اس قوم کو بدعنوانی سے کوئی لینا دین انہیں ہے بلکہ یہ جمہوری اداروں کی علامتوں کو تباہ کرکے خوش ہوتی ہے۔

نوازشریف جنرل ضیاالحق کے عہد میں متعارف کرائے گئے، ان کی لانچنگ سے لے کر اب تک یہ تاثر موجود ہے کہ انہوں نے شاید ہی کوئی کام جائز طریقے سے کیا ہو، پانامہ پیپرز نے تو اب شریف فیملی کی آف شور کمپنیوں کا بھانڈہ پھوڑا ہے، ریمنڈ بیکر نے اپنی کتاب میں 2005 میں یہ کارنامہ انجام دے دیا تھا

پاکستان آئس لینڈ نہیں ہے، آئس لینڈ کا آئین 1944میں بنا اور اس آئین کو آج تک کسی نے پامال نہیں کیا، 78 برسوں میں آئس لینڈ کے آئین میں صرف سات ترامیم ہوئیں، پاکستان کے آئین کے 43 برسوں میں یہ 20 برس کے لیے تو معطل رہا اور اب تک ماشاءاللہ خدا نظر بد سے بچائے، 22 ترامیم ہوچکی ہیں، آئس لینڈ کے وزیراعظم نے بھی پانامہ پیپرز کے حوالے سے اب تک استعفیٰ نہیں دیا بلکہ عہدے کو عارضی طور پر چھوڑا ہے پاکستان میں کچھ لوگ یہ مطالبہ کررہے ہیں کہ نوازشریف آئس لینڈ کے وزیراعظم کی طرح مستعفی ہوجائیں، اگر سیگموندورگونلاگسون کی طرح نوازشریف عارضی طور پر عہدہ چھوڑ دیں یعنی ان کی پارٹی برسر اقتدار رہے اور وزیراعظم ان کی پارٹی کا ہی کوئی شخص بن جائے، اس صورت میں بھی مطالبہ کرنے والے رضامند نہیں ہوں گے، ان کوبظاہر صرف جمہوری ادارے کی تذلیل سے مقصد ہے،

اصولاً تو نوازشریف جیسےسرمایہ دارانہ پس منظر رکھنے والے شخص کو وزیراعظم ہی نہیں ہونا چاہیے، اگر یہ شخص اس منصب پر فائز ہوگیا ہے تو یہاں پاکستان کے حالات کے تناظر میں اس کی اہمیت کے معنیٰ بدل جاتے ہیں، پاکستان میں جمہوری عمل میں تسلسل ضروری ہے، اگر خدانخواستہ یہ تسلسل ٹوٹ گیا توپاکستان کو پانامہ پیپرز کی کرپشن سے نسبتاً زیادہ نقصان ہوگا یہاں معاملہ نوازشریف کی ذات سے بہت بالاتر ہےمگر پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف سمیت پاکستان کی امیچیور سیاسی جماعتیں صرف پاورپالیٹکس پر یقین رکھتی ہیں، اوئے اوئے کرکے عوام میں مقبولیت حاصل کرنے کی دھن میں یہ سیاسی جماعتیں ہر اس شے کو پامال کرنے سے نہیں چوکتی جس کو سیاست کا فن یا سیاسی تدبیر کہتےہیں پانامہ پیپرز کے تناظر میں کرپشن کی بازپرس ہونا چاہیےمگر ابھی ایسا لگ رہا ہے کہ دستاویزات صرف نوازشریف کی افشا ہوئی ہیں، انسدادبدعنوانی کے حوالے سے اتنی بدعنوان حکمت عملی اور اس سے بڑھ کر مجموعی قومی فکر کا اتنا بدترین اظہار شاید ہی کہیں اور دیکھنے کو ملے دوسو سے زائد پاکستانیوں کا ذکر گول کردیا گیا، سیاسی مقاصد کے لیے صرف نوازشریف کا ڈھول پیٹاجارہا ہے، یہ عمل بذات خود بدعنوانی کو تحفظ دینے جیسا ہے، اصولاً افشاء ہونے والے دستاویزات میں جن لوگوں کے نام ہیں، ان تمام سے جواب طلبی ہونا چاہیے، شریف فیملی کی تمام ٹرانزیکشنز پرپابندی لگانے کا مطالبہ کیا جاسکتا ہے، اس فیملی کی تمام کمپنیوں کے اثاثہ جات کے حوالے سے کمیٹیز بنائی جاسکتی ہیں مگر وزارت عظمیٰ اور جمہوریت پر آنچ بھی آنا سب کچھ بھسم کردے گا


(بھائی عثمان غازی، نواز شریف کو کس آئینی، قانون یا سیاسی اصول کے تحت پاکستان کا وزیر اعظم نہیں ہونا چاہیے؟  مدیر)


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “پانامہ پیپرز۔۔۔ مسئلہ کیا ہے؟

  • 10-04-2016 at 1:33 pm
    Permalink

    محترم مدیر صاحب سیاسی،قانونی،آئینی اصولوں سے بالا ایک قانون ہے جسے اخلاقی قانون کہا جاتا ہے۔اگر اخلاقیات ہی باقی نہ رہیں تو وزیراعظم ہونا نہ ہونا یک برابر ہے اور عطیم لوگوں نے ہمیشہ اخلاقی اصولوں کی پاسداری کی ہے۔دنیا بھر میں جہاں حادثے وغیرہ ہوتے ہیں تو وہاں کا متعلقہ وزیر کس اصول کے تحت مستعفی ہوتا ہے؟اس وقت اس کی واہ واہ کیوں کی جاتی ہے؟اسے بے وقوف کیوں نہیں کہا جاتا۔
    نواز شریف صاحب کی ذات پر کوئی ایک الزام ہے؟

Comments are closed.