قائد اعظم نے کیا فرمایا جو کھٹکتا ہے؟


_60770811_pak_jinnah_afp11اگست 1947ءکو پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کا افتتاحی اجلاس نوزائیدہ ریاست کی پہلی سرکاری تقریب تھی۔ محمد علی جناح اس موقع پر اپنے سامعین سے چار حیثیتوں سے مخاطب ہو رہے تھے۔ وہ پاکستان کے غیر متنازع بانی تھے۔ وہ آل انڈیا مسلم لیگ کے منتخب صدر تھے۔ وہ پاکستان کے نامزد گورنر جنرل تھے اور اس تقریر سے کچھ ہی دیر پہلے نئی دستور ساز اسمبلی نے انہیں اپنا سربراہ منتخب کیا تھا۔ ان نمائندہ ترین حیثیتوں میں قائد اعظم پاکستان کے باشندوں نیز بیرونی دنیا پر دو روز بعد معرض وجود میں آنے والی نئی ریاست کے خدوخال واضح کر رہے تھے۔ وہ اس موقع پر نہ تو کسی عوامی اجتماع میں خطاب کر رہے تھے اور نہ اپنی سیاسی جماعت کے عہدے داروں سے مخاطب تھے۔ یہ تقریر دراصل پاکستان کے سیاسی اور آئینی خدوخال تراشنے کی پہلی کوشش تھی۔ قائد اعظم کے سوانح نگار ہیکٹر بولائتھو کے مطابق ، انہوں نے ”اپنی زندگی کی عظیم ترین تقریر“لکھنے میں ’کئی گھنٹے صرف کیے تھے“۔
11اگست 1947ءکو ان کی تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ پاکستان میں جدید جمہوری نظام رائج ہو گا جس میں ملک کے سارے شہریوں کو مذہب کی بنیاد پر کسی امتیاز کے بغیر ایک جیسے حقوق حاصل ہوں گے۔ نیز یہ کہ مذہب کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہو گا۔ قائد اعظم کا یہ جملہ کہ ”مذہب کا ریاست کے امور سے کوئی تعلق نہیں“ سیکولرازم کی بہترین تعریف ہے۔ قائد اعظم نے اس تقریر میں نظریہ پاکستان بھی بیان کر دیا تھا اور وہ یہ کہ ”ہمیں چاہیے کہ ہم شہریوں کی خصوصاً عوام اور غریبوں کی فلاح و بہبود کے لیے اپنی تمام کوششیں مرتکز کر دیں“۔ شہریوں کے معیارِ زندگی میں بہتری ہی کسی جدید اور جمہوری ریاست کا واحد اور قابلِ قبول نصب العین ہے۔
آئیے دیکھتے ہیں کہ قائد اعظم نے اس تقریر میں کیا کہا تھا۔ ابتدائی رسمی کلمات کے بعد محمد علی جناح نے دستور ساز اسمبلی اور مقننہ کا وظیفہ¿ منصبی بیان کرتے ہوئے کہا
“The Constituent Assembly has got two main functions to perform. …and the second of functioning as a full and complete Sovereign body as the Federal Legislature of Pakistan.”
)دستور ساز اسمبلی کو دو بنیادی فرائض انجام دینا ہیں…. اور ان میں سے دوسرا وظیفہ منصبی پاکستان کی وفاقی مقننہ کی حیثیت سے ایک مکمل خود مختار ادارے کے طور پر کام کرنا ہے ۔ (
اور پھر کہا کہ
…remember that you are now a sovereign legislative body and you have got all the powers.
)یاد رکھیے کہ آپ اب ایک خود مختار قانون ساز ادارہ ہیں اور آپ کو تمام اختیارات حاصل ہیں۔ (
liaqat ali khan with jinnahیہ امر قابل غور ہے کہ قائد اعظم نے مقننہ کو ’مکمل طور پر خود مختار ادارہ‘ قرار دیتے ہوئے اس کے اختیارات پر کسی غیر منتخب ادارے کے ممکنہ احتساب کو تسلیم نہیں کیا۔ قائد اعظم نے کسی ’نظریاتی کونسل‘ کا ذکر نہیںکیا۔ انہوں نے پارلیمنٹ کے سوا کسی ادارے کو ’نظریاتی سرحدوں‘ کا محافظ قرار نہیں دیا۔ محمد علی جناح جیسے قانون دان سے یہ امر مخفی نہیں ہو سکتا تھا کہ جمہوری ریاست میں عدلیہ دستور کی تشریح کا اختیار رکھتی ہے ۔ لیکن وہ ’قانون کی تشریح‘ اور ’قانون سازی‘ میں حد فاصل سے بھی بخوبی آگاہ تھے۔ یاد رہے کہ پاکستان میں جمہوری اور غیر جمہوری قوتوں میں ایک بنیادی اختلاف مقننہ کے حق قانون سازی کی حدود پر ہے۔ جمہوریت پسند حلقے مقننہ کی مکمل بالادستی چاہتے ہیں جب کہ غیر جمہوری قوتیں قانون ساز اداروں کے پرِ پرواز پر نظریاتی گرہ لگانا چاہتی ہیں۔
بعد ازاں حکومت کے فرائض بیان کرتے ہوئے قائد اعظم نے فرمایا
…the first duty of a government is to maintain law and order, so that the life, property and religious beliefs of its subjects are fully protected by the state.
)…. کسی حکومت کا سب سے پہلا فرض امن وامان کو برقرار رکھنا ہے تاکہ ریاست اپنے شہریوں کے جان ومال اور مذہبی عقائد کی پوری طرح سے حفاظت کرسکے۔(
یہ ایک ایسی حکومت کی بہترین تشریح ہے جو مذہب کی بنیاد پر کسی امتیاز کے بغیر شہریوں کو تحفظ فراہم کرتی ہو۔ سیکولر حکومت کا کام کسی مذہب یا عقیدے کی بالادستی کے لیے کام کرنا نہیں بلکہ تمام شہریوں کو ایک جیسا تحفظ فراہم کرنا ہے ۔
جدید قومی ریاست اپنے تمام باشندوں میں ایک رضاکارانہ معاہدے کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس معاہدے میں ہر شہری مساوی حیثیت کے فریق کی حیثیت رکھتا ہے۔ سیکولر ریاست میں ہر شہری کی بنیادی اور اہم ترین وابستگی اپنی ریاست سے ہے۔ سیکولر ریاست اپنے شہریوںکے ساتھ صرف ایک رشتے کی پابند ہے یعنی شہریت کا رشتہ اور اس رشتے کی بنیاد پر بغیر کسی امتیاز کے تمام شہریوں کی حفاظت۔ البتہ سیکولر ازم میں شہریوں کو زبان، ثقافت، نسل یا عقائد وغیرہ کی بنیاد پر مختلف شناختیں اختیار کرنے کا رضاکارانہ حق حاصل ہوتا ہے۔ سیکولر ریاست کا کام ایسے ادارے اور قوانین تشکیل دینا ہے جن کی مدد سے کمزور سے کمزور شہری طاقتور ترین افراد اور قوتوں سے اپنا حق بلا خوف و خطر مانگ سکے۔ آئیے دیکھیں کہ قائد اعظم نے مساوی شہریت کے اصول کو اپنی تقریر میں دو مواقع پر بیان کیا۔
…everyone of you, no matter to what community he belongs,… no matter what is his color, caste or creed, is first, second and last a citizen of this State with equal rights, privileges and obligations….
(آپ میں سے ہر ایک کی، قطع نظر اس سے کہ وہ کس گروہ سے تعلق رکھتا ہے، قطع نظر اس سے کہ اس کا رنگ، ذات پا ت یا عقیدہ کیا ہے، پہلی، دوسری اور آخری حیثیت اس ریاست کا شہری ہونا ہے اور اسے دیگر تمام شہریوں کے مساوی حقوق، مراعات اور فرائض حاصل ہیں۔)
قائد اعظم نے مزید کہا
We are starting in the days when there is no discrimination, no distinction between one community and another, no discrimination between one caste or creed and another. We are starting with this fundamental principle that we are all citizens and equal citizens of one State.
05TH_JINNAH_1477294f(ہم اپنے کام کا آغاز ایک ایسے عہد میں کررہے ہیں جہاں کسی امتیاز کی گنجائش نہیں۔ جہاں کسی ایک فرقے یا دوسرے کے درمیان تفرقے کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ جہاں ذات پات یا عقیدے کی بنیاد پر امتیازی سلوک کی اجازت نہیں۔ ہم اس بنیادی اصول کے ساتھ اپنے کام کا آغاز کررہے ہیں کہ ہم سب ایک ریاست کے شہری ہیں اور مساوی شہری ہیں۔)
سیکولر ازم کسی مذہب کی مخالفت نہیں کرتا اور نہ کسی مذہب کی ترویج کی ذمہ داری اٹھاتا ہے۔ کیونکہ اگر ریاست کسی مذہب کی بالادستی کا بیڑا اٹھا لے تو دیگر مذاہب کے پیروکار شہریوں کی حق تلفی لازم آتی ہے۔ دوسری طرف ترجیحی مذہب کے پیشواﺅں کی مداخلت ناگزیر ہو جاتی ہے۔ سیکولر ریاست تو اس اصول کا سادہ سا بیان ہے کہ ریاست کا کام مذہبی طور پر غیرجانبدار رہتے ہوئے اپنے تمام باشندوں کی مذہبی آزادی کا تحفظ ہے۔ سیکر ریاست ہی شہریوں کی مذہبی آزادی، رواداری اور امن کی ضمانت دے سکتی ہے۔ قائد اعظم نے اس اصول کو شاندار اور سادہ لفظوں میں بیان کیا۔
You are free; you are free to go to your temples, you are free to go to your mosques or to any other places of worship in this State of Pakistan. You may belong to any religion or caste or creed – that has nothing to do with the business of the State…
(آپ آزاد ہیں، آپ اپنے مندروں میں جانے کیلئے آزاد ہیں، آپ کو پاکستان کی ریاست میں اپنی مسجدوں یا دوسری عبادت گاہوں میں جانے کی پوری آزادی ہے۔ آپ کا تعلق کسی مذہب، ذات پات یا عقیدے سے ہو، اس کا ریاست کے امور سے کوئی تعلق نہیں۔)
قائد اعظم نے مذہبی آزادی اور سیکولر شہریت کے دونوں اصولوں کا باہم تعلق بیان کرتے ہوئے کہا
“… in course of time Hindus would cease to be Hindus and Muslims would cease to be Muslims, not in the religious sense, because that is the personal faith of each individual, but in the political sense as citizens of the State.”
(وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہندو، ہندو نہیں رہیں گے اور مسلمان، مسلمان نہیں رہیں گے۔ ایسا کسی مذہبی اصطلاح میں نہیں ہوگا کیونکہ مذہب ہر فرد کا نجی عقیدہ ہے بلکہ سیاسی اصطلاح میں، ایک ریاست کے شہری کی حیثیت سے ۔)


Comments

FB Login Required - comments

4 thoughts on “قائد اعظم نے کیا فرمایا جو کھٹکتا ہے؟

  • 10-04-2016 at 4:36 am
    Permalink

    قائد کی تقریر میں بیان کیے گئے سیاسی اور جمھوری اصولوں سے کم از کم اس عاجز کو بحیثت پاکستانی طالبعلم اور عالمی برادری کے رکن کی حیثیت سے کوئی اختلاف نہیں۔ بس اتنی استدعا ھوتی ھے کہ اس کے حق میں دلائل دیتے ھوئے تاریخ ۱۱ اگست ۱۹۴۷ سے پہلے کی ھسٹری کو بلکل شروع نہ چھیڑا جائے بلکہ استدلال کو عصری ضرورت اور انسانیت کے وسیع تر مفاد جیسے عقلی دلائل تک محدود رکھا جائے، کیونکہ اگر اس مقام سے بالکل قبل کی ھسٹری زیر بحث لائی گئی تو پھر پردہ نشینوں کے نام اور کام تو آئیں گے سامنے۔۔ چناںچہ راقم کی عاجزانہ ھے کہ ۱۱ اگست سے آگے بات کو لے کر چلا جائے۔۔ البتہ اس میں اس اعتراض کا امکان ھے کہ یہ ویسی ھی تجویز ھے جیسے کچھ طبقات پاکستان کی تاریخ محمد بن قاسم سے شروع کرتے ھیں !! مکالمہ جاری رھنا چاھیے۔۔!!

  • 10-04-2016 at 4:47 am
    Permalink

    ؟

  • 10-04-2016 at 4:59 am
    Permalink

    قائد کی تقریر میں بیان کیے گئے سیاسی اور جمھوری اصولوں سے کم از کم اس عاجز کو بحیثت پاکستانی طالبعلم اور عالمی برادری کے رکن کی حیثیت سے کوئی اختلاف نہیں۔ بس اتنی استدعا ھوتی ھے کہ اس کے حق میں دلائل دیتے ھوئے تاریخ ۱۱ اگست ۱۹۴۷ سے پہلے کی ھسٹری کو بلکل شروع نہ چھیڑا جائے بلکہ استدلال کو عصری ضرورت اور انسانیت کے وسیع تر مفاد جیسے عقلی دلائل تک محدود رکھا جائے، کیونکہ اگر اس مقام سے بالکل قبل کی ھسٹری زیر بحث لائی گئی تو پھر پردہ نشینوں کے نام اور کام تو آئیں گے سامنے۔۔ چناںچہ راقم کی عاجزانہ ھے کہ ۱۱ اگست سے آگے بات کو لے کر چلا جائے۔۔ البتہ اس میں اس اعتراض کا امکان ھے کہ یہ ویسی ھی تجویز ھے جیسے کچھ طبقات پاکستان کی تاریخ محمد بن قاسم سے شروع کرتے ھیں !! مکالمہ جاری رھنا چاھیے۔۔!!

  • 10-04-2016 at 11:05 pm
    Permalink

    Liberals will remain stuck with 11 August! What a pity.

Comments are closed.