قائد اعظم کو سنسر کرنے کی کوشش کیسے ناکام ہوئی؟


jinnah-2.jpg-nsیہ حقیقت تاریخ کا حصہ ہے کہ قائد اعظم کے قریبی ساتھیوں نے ان کی اس تقریر کو سنسر کرنے کوشش کی تھی جو انہوں نے 11اگست 1947ءکو پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کے افتتاحی اجلاس میں کی تھی۔ معروف صحافی ضمیر نیازی نے اپنی کتاب ’صحافت پابند سلاسل‘ میں تفصیل سے بیان کیا ہے کہ کس طرح پاکستان کے کچھ اعلیٰ سرکاری اہل کاروں اور سیاسی عہدیداروں نے اخبارات میں فون کر کے قائد اعظم کی اس تقریر کی اشاعت رکوانے کی کوشش کی۔ سربراہ مملکت اور ملک کے بانی کے افکار اور اختیارات پر نقب زنی کی یہ کوشش اس قدر شرمناک اور دور رس نتائج کی حامل تھی کہ اس موقع پر ضمیر نیازی کی مذکورہ تحقیق سے قدرے طویل اقتباسات دینے میں کوئی حرج نہیں تا کہ اس سازش کے تانے بانے ممکنہ حد تک واضح ہو سکیں۔

’یہ تاریخی تقریر کر کے جناح گورنمنٹ ہاﺅس روانہ ہو گئے ، لیکن جلد ہی کچھ خفیہ ہاتھ حرکت میں آگئے اور انہوں نے جناح کی تقریر کے مندرجہ بالا حصے میں تحریف کی کوششیں شروع کر دیں۔ حامد جلال کے مطابق، ”قائد کی یہ تقریر اس سرگرمی کا ہدف بن گئی جسے پاکستان میں پریس ایڈوائس کے اس سلسلے کی پہلی کڑی کہا جا سکتا ہے جو پاکستان کی دائمی انتظامیہ کی جانب سے جاری کی جاتی رہی ہیں…. بہر کیف ، اُس وقت تک یہ انتظامیہ محض ایک پرچھائیں کی حیثیت رکھتی تھی۔ اس کے کئی سرکردہ ارکان نے تقریر کے بعض حصوں کو اخباروں میں شائع ہونے سے روکنے کی کوشش کی۔ اس کام میں انہیں متعلقہ اختیار رکھنے والے افراد کی مدد حاصل تھی۔ تاہم ان سب کی بد قسمتی سے ان کی یہ کوشش الطاف حسین ، ایڈیٹر ’ڈان‘ کے علم میں آگئی …. انہوں (الطاف) نے دھمکی دی کہ اگر اس پریس ایڈوائس کو واپس نہ لیا گیا تو وہ قائد کے پاس چلے جائیں گے۔ آخر کار الطاف حسین کامیاب ہوئے اور قائد کی تقریر مجوزہ تحریف کے بغیر اخباروں میں شائع ہوئی۔ اس بات کا انکشاف الطاف حسین نے اسمبلی کی پریس گیلری میں اخبار نویسوں کے ایک گروپ کے سامنے کیا تھا۔ اس گروپ میں سے ’سول اینڈ ملٹری گزٹ‘ کے منظور الحق اور ’ڈان‘ کے محمد عاشر اب زندہ نہیں ہیں۔ لیکن ضمیر صدیقی ابھی حیات ہیں اور انہوں نے تصدیق کی ہے کہ ایسا ہی ہوا تھا“۔ (ہفت روزہ ویو پوائنٹ ، 22 جنوری 1981ئ)

حامد جلال کا مضمون پڑھنے کے بعد موجودہ کتاب کے منصف (ضمیر نیازی) نے اس معاملے کی مزید تحقیق کی۔ ضمیر صدیقی نے مندرجہ ذیل تحریری بیان دیا:

54c9e332bc72a”قائد کی اس دن (11اگست) کی مشہور تقریر انتظامیہ کے بعض اعلیٰ عہدے داروں کو پسند نہ آئی۔ انہوں نے چاہا کہ تقریر کا ایک حصہ اخباروں میں شائع نہ ہو ، کیونکہ ان کے خیال میں اس سے دو قومی نظریے کی نفی ہوتی تھی جو پاکستان کے قیام کی بنیاد تھا۔ تاہم الطاف حسین مرحوم نے ان سے اتفاق نہیں کیا اور اصرار کیا کہ تقریر کو کسی تحریف کے بغیر جوں کا توں شائع ہونا چاہیے۔ انہوں نے دھمکی دی کہ وہ قائد سے جا کر استفسار کریں گے کہ اس حصے کو چھپنا چاہیے یا نہیں۔ اس طرح تقریر کو اصل صورت میں اخباروں کے حوالے کیا جا سکا۔ “
ایم اے زبیری نے، جو اس وقت الطاف حسین کے قریبی ساتھی اور ”ڈان“ کے اسسٹنٹ ایڈیٹر تھے ، مصنف (ضمیر نیازی) کے نام اپنے خط میں اس واقعے کو اس طرح بیان کیا، ”اسی روز (11 اگست) شام کے وقت ایک فون آیا اور ہدایت کی گئی کہ تقریر کا ایک مخصوص حصہ شائع نہ کیا جائے۔ ایف ای براﺅن، محمد عاشر اور میں اس وقت دفتر میں موجود تھے۔ تقریر کا متن الطاف حسین کے سامنے رکھا تھا جس کی طرف براﺅن نے ان کی توجہ مبذول کرائی۔ الطاف حسین یہ جاننا چاہتے تھے کہ کون شخص یہ عبارت حذف کرانا چاہتا ہے۔ کیا یہ قائد کی ہدایات ہیں یا یہ خیال کسی اور شخص کے ذہن کی پیداوار ہے۔ اطلاع کے مطابق فون پر یہ ہدایت مجید ملک نے پہنچائی تھی جو اس وقت پرنسپل پی آر او تھے۔

جب ہم نے پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی تو صرف ایف ڈی ڈگلس سے بات ہو سکی جو آئیں بائیں شائیں کر کے رہ گئے۔ الطاف حسین نے ان سے کہا کہ اگر انہیں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ عبارت کس کی ہدایات پر حذف کی جانا ہے تو وہ سیدھے قائد کے پاس چلے جائیں گے۔ اس پر مجھے مجید ملک کو تلاش کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ آخر کار میں نے انہیں ڈھونڈ نکالا اور الطاف حسین کا پیغام پہنچایا۔ ملک صاحب نے چودھری محمد علی کو فون کیا جو اس وقت کیبنٹ ڈویژن کے سیکرٹری جنرل تھے اور انہیں وہ بات من و عن بتا دی جو میں نے کہی تھی۔ ان سے گفتگو پوری کرنے کے بعد مجید ملک نے مجھ (ایم اے زبیری) سے کہا کہ ’یہ کوئی ایڈوائس نہیں بلکہ صرف ایک رائے ہے۔ قائد کی تقریر کو سنسر کرنے کا کوئی سوال نہیں…. یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا…. ایسا فیصلہ کون شخص کر سکتا ہے؟۔ “ جب میں دفتر واپس آیا اور یہ سب کچھ الطاف حسین کو بتایا تو یقین کیجئے کہ وہ میز پر ہاتھ مار مار کر ہنسنے لگے۔ ‘

quaid-e-azam1جسٹس منیر اور جسٹس ایم آر کیانی نے 1953ءکے قادیانی مخالف فسادات کی تحقیقات کے دوران اس تقریر کا حوالہ دیا تو انہیں مذہبی پیشواﺅں کے غیظ و غضب کا نشانہ بننا پڑا۔ مارچ 1976ءمیں تیسری سالانہ پاکستان کانفرنس برائے تاریخ و تہذیب منعقدہ لاہور سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس منیر نے کہا تھا کہ ”اس تاریخی تقریر کو دبانے کا رحجان موجود رہا ہے ، اور اس کے سات سال بعد بھی (1953ئ) میرے سامنے اسے کسی شیطانی خیال کا شاخسانہ قرار دیا گیا (بحوالہ امین مغل)۔ سپریم کورٹ میں بیان دیتے ہوئے ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا کہ’ یحییٰ خان کے وزیر اطلاعات جنرل شیر علی خاں کی ہدایت پر قائد اعظم کی ا س تقریر کو جلا دینے یا ریکارڈ سے غائب کر دینے کی کوشش کی گئی تھی‘۔

روزنامہ ڈان کے مدیر الطاف حسین کو نئی مملکت کے سیاسی اور سرکاری حلقوں میں بڑا رسوخ حاصل تھا۔ وہ اپنے پیشہ وارانہ پس منظر کی بنا پر اس تقریر کی اہمیت سے بھی واقف تھے اور اس میں کسی تبدیلی کے اندرون ملک اور بیرونی دنیا میں مضمرات بھی سمجھتے تھے۔ انہوں نے دھمکی دی کہ وہ خود قائد اعظم سے بات کر کے اس تقریر کے بارے میں براہ راست احکامات حاصل کریں گے۔ اس پر قائد اعظم کے برخود غلط رفقا کو وقتی طور پر اپنی سازش لپیٹنا پڑی۔ تاہم اس سے یہ امر واضح ہو جاتا ہے کہ پاکستان میں روز اول ہی سے نظریاتی کشمکش کی بنیاد موجود تھی۔ آخر یہ اصحاب ذخیرہ اندوزی ، ملاوٹ اور اقربا پروری کے بارے میں قائد اعظم کے ارشادات کو تو حذف کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔ سامنے کی بات ہے کہ انہیں اس تقریر کے ان حصوں پر اعتراض تھا جہاں قائد اعظم نے پاکستان میں سیکولر ریاستی نظام کے خدوخال واضح کیے تھے۔ اگرچہ پاکستان میں سیکولرازم کے مخالف گروہ کو وقتی طور پر ہزیمت اٹھانا پڑی لیکن اس حلقے نے اپنی کوششیں ترک نہیں کیں۔ یہ گروہ قائد اعظم کی وفات کے بعد 12مارچ 1949ءکو اسی دستور ساز اسمبلی سے قرار داد مقاصد منظور کرانے میں کامیاب ہو گیا۔ قرار داد مقاصد جوہری طور پر قائد اعظم کی 11اگست 1947ءکی پالیسی تقریر سے عین متصادم دستاویز ہے۔ اس تناظر میں یہ جاننا مشکل نہیں کہ روزنامہ ڈان کے مدیر الطاف حسین کی روایت کے مطابق قائد اعظم کی 11اگست کی تقریر کو بعض مسلم لیگی رہنماﺅں نے سنسر کرنے کی کوشش کیوں کی تھی۔


Comments

FB Login Required - comments

16 thoughts on “قائد اعظم کو سنسر کرنے کی کوشش کیسے ناکام ہوئی؟

  • 10-04-2016 at 5:52 am
    Permalink

    کچھ عرض کرنے سے پہلے میں بابائے قوم کی تقریر سنسر کرنے کی جسارت کی سخت مذمت کرتا ہوں۔
    بے شک قائد اعظم نے 11 اگست کو ایک اہم تقریر فرمائی تھی۔ مولانا غامدی صاحب وغیرہ اسے اسلام کے بنیادی اصولوں کے عین مطا ق قرار دیتے ہوئے اس کے لیے میثاقِ مدینہ کی نظیر لاتے ہیں۔ جس میں ،،، نبی کریم صلی’اللہ’علیہ’وعلیٰ’آلہ’وسلّم کی قیادت و سیادت میں،،، مسلمانوں بشمول مہاجرین و انصار ،، یہود اور اور دیگر غیر مسلموں کو ریاستِ مدینہ کی ایک امت ««امۃ مِن دُون النّاس»» قرار دیا گیا تھا۔

    اس تاریخ سے پہلے اور بعد میں بھی قائد مرحوم نے بے شمار اہم تقریریں کیں۔
    کیا قائد اعظم نے یہ تقریر کرکے اپنے اس سے پہلے ،،،، بلکہ بعد کے بھی کئی خطبات کی پیشگی نفی فرما دی تھی؟؟؟؟
    کیا 1938 سے 1948 میں اپنی وفات تک وہ قائد اعظم نہ رہے تھے؟
    کیا ہمارے لبرل سیکولر دوستوں کے نزدیک 11 اگست کے بعد

    ***کراچی بار ایسوسی ایشن،،

    ***امریکی قوم سے ریڈیو خطاب،،

    *** یونیورسٹی گراؤنڈ لاہور سےمہاجرین سے خطاب،،

    *** مشرقی پاکستان میں اسلامی اشتراکیت کا تذکرہ کرتے ہوئے

    ***سخت بیماری کی حالت میں زیارت سے خصوصی طور پر کراچی آکر سٹیٹ بنک کا افتتاح کرتے ہوئے
    پاکستانی ریاست کے سیاسی، اقتصادی اور آئینی خدوخال میں اسلام اور SHARIAT کی اہمیت بیان کرتے ہوئے وہ خدانخواستہ بہک گئے تھے۔ کیا ان کے ان ارشادات کی کوئی حیثیت نہیں۔
    ممکن ہے یہاں آپ فرمائیں کی 11 اگست کے دستوریہ سے ،،، خود انکے اپنے بقول OFF THE CUFF خطاب کی بات ہی کچھ اور تھی،، اور اسکا مقابلہ اس سے پہلے اور بعد کے کسی خطاب سے نہیں کیا جاسکتا۔ اگر ایسا ہے تو یہ میٹھا میٹھا ہپ،، اور کڑوا کڑوا تھو کے سوا اور کیا ہے؟ چیری پکنگ اور کسے کہتے ہیں۔
    جبکہ ہماری تہذیبی روایت کا اعلان ہے کہ “صدر ہر جا کہ نشیند،،، صدر است،،
    وہ قوم کے باپ اور اسکے فکری و سیاسی رہنما 11 اگست سے پہلے بھی تھے اور اسکے بعد بھی۔
    11 اگست کو جنھوں نے قائد کی تقریر سنسر کرنے کی کوشش کی انھوں نے برا کیا،، اور لبرلزم کے جو دعویدار،، کروڑوں کلمہ گوؤں کے قائد کے واضح اسلامی افکار و جذبات کو عملاً سنسر کرتےچلے آرہے ہیں،،، وہ اور بھی قبیح فعل کے مرتکب ہورہے ہیں۔
    بر سبیل تذکرہ،،، مغرب کے بہت سے زعما کے اہم ترین اور فیصلہ کن خطبے کسی پارلیمنٹ یا دستور پلیٹ فارم کی بجائے عوامی اجتماعات میں دیے گئے۔ مثلاً لنکن کے بے شمار طول طویل خطبوں کو کوئی نہیں جانتا، لیکن گیٹیس برگ ایک پھٹے پر کھڑے ہو کر کی گئی مختصر سی تقریر بچے بچے کو ازبر ہے۔ یہی معاملہ مرٹن لوتھر کنگ کے خطبے، میرا بھی ہے اک خواب کی ہے۔
    ۔۔۔۔۔ وجاہت صاحب المحترم،،، آپ سے ایک اہم سوال ہے۔
    کیا آپ واقعی جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں؟ اگر ہاں تو کیا آپ کا جمہوریتی تصور معروف برطانوی وغیرہ کی طرز کا ہے،،، یا اس سے ہٹ کے کچھ اور؟؟
    ازراہ کرم جواب مرحمت فرمائیے گا۔

    • 11-04-2016 at 3:53 am
      Permalink

      محترم وجاہت صاحب،
      آپ کی خدمت میں کچھ عاجزانہ گزارش کی تھی۔ جمہوریت کے بارے آپ کی رائے جاننے کا خواہشمند ہو۔ مختصراً فرما دیجیے کہ اس اصطلاح کا کیسا تصور آپ کے ذہن میں ہے۔
      ہو سکے تو لگے ہاتھوں قائد کی 11 اگستی،،، اور اس سے ماقبل و مابعد تقاریر و خطبات میں پائے جانے والے نظر بظاہر تضاد پربھی کچھ ارشاد فرما دیں۔

  • 10-04-2016 at 6:12 am
    Permalink

    میرا اس سے پہلے کا کمنٹ سنسر کا شکار ھو چکا ھے !!

  • 10-04-2016 at 11:18 am
    Permalink

    جمہوریت میں پالیسی سازی کا حق فرد واحد کو نہی عوامی نمائندوں کا ہوتا ھے, یہ درست ھے کہ قائداعظم کی گیارہ اگست اور کراچی بار کونسل کی تقریروں میں تضاد ھے لیکن کسی کے خیالات کو نشر کرنے روکنا بددنیاتی کے زمرے میں آتا ھے اور یہ ظاہر کرتا ھے کہ اس وقت ریاست کے اندر ایک طاقتور گروپ موجود تھا جو ریاست کو اپنی مرضی سے چلانا چاہتا تھا.

  • 10-04-2016 at 1:13 pm
    Permalink

    ھم اس نعرے کا کیا کرے. پاکستان کا مطب کیا ” لا الہ الا اللہ ” .
    کیا اس تقریر کی وجہ سے یہ نعرہ ختم ھو گیا….

  • 10-04-2016 at 1:24 pm
    Permalink

    جی بہتر فرمایا ایک دو صحافیوں کی باتیں ہمارے لئے آسمانی صحیفوں سے بڑھ کر ہیں۔ او4 جسٹس منیر صیب اف اللہ کیا کہنے جی کیا کہنے وہ تو ہمارے لئے ولی اللہ سے بھی بڑھ کر ہیں۔۔۔ نظریی ضرورت تو انکے دشمنوں کی کارستانی تھی اجی۔۔۔۔۔۔۔ اور قائد صیب ۔۔۔۔
    اجی اصل میں قائد نے اپنی 72 سالہ زندگی میں ایک ہی تقریر کی تھی 11 اگست کے دن بس۔۔۔۔
    11 اگست سے پہلے قائد صیب ممبئی اور لندن میں سیلز مینی کرتے تھے اور بعد میں زیارت میں فارمنگ۔۔۔

  • 10-04-2016 at 1:40 pm
    Permalink

    جی بہتر فرمایا ایک دو صحافیوں کی باتیں ہمارے لئے آسمانی صحیفوں سے بڑھ کر ہیں۔ او4 جسٹس منیر صیب اف اللہ کیا کہنے جی کیا کہنے وہ تو ہمارے لئے ولی اللہ سے بھی بڑھ کر ہیں۔۔۔ نظریی ضرورت تو انکے دشمنوں کی کارستانی تھی اجی۔۔۔۔۔۔۔ اور قائد صیب ۔۔۔۔
    اجی اصل میں قائد نے اپنی 72 سالہ زندگی میں ایک ہی تقریر کی تھی 11 اگست کے دن بس۔۔۔۔
    11 اگست سے پہلے قائد صیب ممبئی اور لندن میں سیلز مینی کرتے تھے اور بعد میں زیارت میں فارمنگ۔۔۔

  • 10-04-2016 at 11:11 pm
    Permalink

    Liberals are concocting conspiracy around the poor Quaid, and now investigative journalists are working hard to solve it.

  • 11-04-2016 at 12:30 am
    Permalink

    آخر وہ کون لوگ تھے جو قائد کی تقریر کو سنسر کرنا چاہتے تھے؟ مجید ملک؟ چودھری محمد علی؟ بس یہی دو یا کچھ اور لوگ بھی؟

  • 11-04-2016 at 10:31 am
    Permalink

    ہمارے قائد وہ شخص ہیں جنہیں لبرلز اور ملا دونوں ہی ناپسند کرتے ہیں کیونکہ لبرلز کی خواہش کے برعکس انہوں نے ایک اسلامی مملکت قائم کی دوسری جانب ملا کی خواہش کے برعکس وہ ملک ان کے ہاتھ میں دینے کے بجائے جمہوریت کے ہاتھ دے گئے۔قائد کا یہ گناہ آج تک معاف نہیں ہوا۔آج بھی ہردو حضرات قائد پر چار حرف بھیجتے ہیں کیونکہ ستر سال بعد بھی یہ دونوں گروہ اقلیت میں ہیں۔
    اللہ پاکستان کو قائم رکھے اور قائد کے درجات بلند کرے

    • 11-04-2016 at 11:20 am
      Permalink

      حقیقت کی بہت عمدہ ترجمانی،،، محمد سلیمان صاحب۔
      جیتے رہیے۔

  • 12-04-2016 at 9:57 pm
    Permalink

    مجھے یہ دیکھ کر انتہائی خوشی ہوئی ہے کہ ایک مخصوص طبقے کی ان تھک کوشش کے با وجود لوگ قائد اعظم اور پاکستان کے قیام کے اصل مقصد کو سمجھتے ہیں، انہیں علم ہے کہ قائد اعظم علیحدہ ملک اسلام اور دو قومی نظریے کی پاسبانی کے لیے بنانا چاہتے تھے۔

    غور کرنے کے لیے آپ سب کے لیے تین پوائنٹس پیش کر رہا ہوں:

    ۱۔ جب ایک بندے کی بیسیوں تقاریر موجود ہوں جن میں وہ اسلام اور دو قومی نظریے کے حق میں دلائل کا انبار لگا دے تو ان سب کو نظر انداز کر کے ‘صرف ایک مخصوص تقریر’ کا ایک مخصوص حصہ منتخب کر کے رائی کا پہاڑ بنانا کہاں کی دانشمندی ہے؟ اور کیا متعدد تقاریر کے پلندے میں سے صرف ایک تقریر، اور اس کے بھی ایک مخصوص حصے کو، بڑھا چڑھا کر پیش کرنا ایسا کرنے والوں کے تعصب کا بعین ثبوت نہیں؟ ان حرکتوں سے تو ایسا لگتا ہے کہ یہ ایک سازش ہے جس کا تانا بانا بُن کر قوم کو یہ باور کرانے کی ناکام کوشش سال ہا سال سے جاری ہے کہ پاکستان کے بانی ایک سیکولر اسٹیٹ چاہتے تھے، اور اگر قوم اس جال میں پھنس گئی تو ان کا اگلا قدم اسلام اور دو قومی نظریے کو ملک بدر کرنا ہو گا۔ لیکن ایسا کبھی نہیں ہو گا انشاء اللہ۔

    2۔ جہاں اس تقریر کو ماننے والے موجود ہیں وہاں وہ لوگ بھی ہیں جو اس کی صحت سے انکار کرتے ہیں۔ مثلاً اوریا مقبول جان، جو نیشنل آرکائیوز کی سربراہی کر چکے ہیں، کا کہنا ہے کہ انہیں ایسی کوئی تقریر آرکائیوز میں سے نہیں ملی۔

    3۔ اگر قائد اعظم ایک سیکولر ملک چاہتے تھے تو اسٹیٹ بنک کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یہ کیوں فرمایا کہ بنک اسلامی شرعی نظام کو نافذ کرنے کی کوشش کرے؟ اور اسی طرح انہوں نے محمد اسد کی سربراہی میں وہ ادارہ بنانے کی اجازت کیوں دی جس کی ذمہ داری یہ تھی کہ پاکستان کے قوانین کو شرعی رنگ میں رنگا جائے؟ آخر اس انتہائی اہم واقعہ کی بات کیوں نہیں کی جاتی؟

    ناچیز کی نظر میں یہ چند پوائنٹس یہ سمجھنے کے لیے کافی ہیں کہ قائد اعظم ایک سیکولر نہیں بلکل اسلامی نظام چاہتے تھے، اور یہ ایک مخصوص طبقہ مسلسل پاکستان کی اساس کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔

    آخر میں درخواست ہے کہ کسی کی باتوں میں نہ آئیے، اور قائد اعظم اور پاکستان پر اپنا اعتماد متزلزل نہ ہونے دیں۔ پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا اور ہمیشہ اسی نام کے ساتھ زندہ رہے گا، انشاء اللہ۔

    پاکستان زندہ باد

    قائد اعظم پائندہ باد

  • 13-04-2016 at 12:24 am
    Permalink

    چوہدری نعیم صاحب، ان دو اصحاب کے علاوہ خواجہ شہاب الدین اور ان سب کے سرخیل لیاقت علی خان۔
    شبیر صاحب تو تابع مہمل تھے

    • 14-04-2016 at 2:15 pm
      Permalink

      اس کا کوئی دستاویزی ثبوت؟

  • 13-04-2016 at 4:20 am
    Permalink

    اس بات میں کیا شک ہے کہ محمد علی جناح نے پاکستان، ”مسلمانانِ برصغیر“ کیلئے ہی حاصل کیا تھا، تاکہ وہ اس نئے ملک میں آزادی سے زندگی بسر کر سکیں۔ لیکن یہ بات بھی ذہن میں رکھئے کہ اسلام کے بارے میں محمد علی جناح کا وژن، ہمارے قدامت پرست ملّاؤں کے وژن سے بہت مخلتف تھا۔ محمد علی جناح بذات خود ایک سیکولر، لبرل اور ڈیموکریٹک انسان تھے، ان کی کابینہ کے اراکین کو دیکھتے ہوئے یہ اندازہ کرنا کوئی مشکل کام نہیں کہ ان کا تصور اسلام، کسی بھی مولوی کی نسبت کس قدر روادار، اور وسیع تصور تھا, وہ اسلام کو جدید زمانہ سے ہم آہنگ دیکھنا چاہتے تھے، اگر یہ کہا جائے کہ ان کے ذہن میں اسلام کا ایک جدید تصور تھا، تو بے جا نہ ہوگا۔

Comments are closed.