رواداری: چند سرسری باتیں


nasir abbas nayyarرواداری کا بنیادی مفہوم، جائز اور مباح سمجھنا، اور تعصب سے بری ہونا ہے۔ چیزیں، باتیں، خیالات، نظریات، عقائد ایک خاص سیاق ہی میں جائز اور مباح ہوتے ہیں۔ یعنی کچھ لوگوں کے لیے، خاص باتیں، خاص مواقع پر ہی جائز اور مباح ہوتی ہیں، اور کچھ دوسرے لوگوں کے لیے وہی باتیں ناجائز اور غلط تک ہو سکتی ہیں۔ ایک آدمی کا مسلک، دوسرے کے نزدیک بے بنیاد ہو سکتا ہے؛ ایک آدمی کا رہنے سہنے کا طرز، دوسرے کی نظر میں گم راہ کن ہو سکتا ہے؛ ایک آدمی کے سماجی، ادبی، جنسی نظریات، دوسرے کی نظر میں سخت مشتبہ ہوسکتے ہیں۔ یعنی اگر ایک آدمی کو کسی خاص مسلک، خاص نظریے، خاص طرز رہن سہن کا انتخاب کرنے اوراختیار کرنے کا حق ہے تو دوسروں کو ان سب کے سلسلے میں رائے قائم کا حق ہے؛رائے کے اظہار کا بھی حق ہے۔ اگر ایک سماج کے سب لوگ ایک دوسرے کے انتخاب اور حق ِ رائے سازی واظہار کو تسلیم کرتے ہوں، اور کسی انتخاب یا رائے سے سخت اختلاف کے باوجود، اس کے سلسلے میں بے تعصبی کا مظاہر ہ کرسکتے ہوں، یعنی اپنے انتخاب اور دوسروں کی رائے، یا دوسروں کے انتخاب اور اپنی رائے کومسلط کرنے سے گریز کرتے ہوں تو وہ سماج روادار کہلائے گا۔

بہت سے لفظی جھگڑوں ہی نہیں حقیقی تشدد وسفاکانہ بربریت کا آغاز انتخاب اور اس پر رائے قائم کرنے کے دوران میں ہوتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں کوئی سماج یا تو روادار ہوتا ہے، یا عدم روادار ومتشدد۔ ان دونوں کے بیچ لاتعلقی و بیگانگی ہوسکتی ہے، جو ایک اور قسم کی عدم رواداری ہے۔ یہ بات آسانی سے سمجھ آسکتی ہے، اگر ہم اس گہرے تعلق کو سمجھ لیں جو خاص طرح کی زندگی اور اس کے سلسلے میں رائے قائم کرنے میں ہے۔ ایک شخص کا انتخاب، دوسرے شخص پر اثرا نداز ہوتا ہے؛ایک گروہ کا طرز زندگی اور مسلک و نظریہ، دوسرے گروہ کو متاثر کرتا ہے۔ اس اثر سے بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ لوگ، ایک دوسرے سے لاتعلق وبیگانہ ہوجائیں؛ اپنے بیچ ایک آہنی دیوار کھڑی کرلیں، اور یہ آہنی دیوار اسی وقت کھڑی کی جا سکتی ہے، جب ایک ایسا نظریہ قائم کرلیا جائے جو دوسروں کو انسانی دنیا سے باہر کی کوئی غیر ضروری، مردہ شے تصور کرے۔ یہ ایک طرح کی انسان کشی ہے۔ گویا ہمارے ارد گرد جو کچھ ہورہا ہے، اور اس کے بارے میںجو کچھ کہا جارہا ہے، یعنی جسے لوگ حقیقی یا تصوراتی طور پر اپنے لیے منتخب کررہے ہیں، ہم اس کے بارے میں ایک یا دوسری رائے قائم کرنے پر مجبور ہیں۔ رائے قائم کرنے کے ذریعے، ہم دوکام کرتے ہیں: اوّل، ا س بات کا عملی ثبوت دیتے ہیں کہ ہم دوسروں سے وابستہ ہیں؛دوم: ان سے وابستگی کو ایک خالی خولی دعوے تک محدود رکھنے کے بجائے، اسے بامعنی بناتے ہیں۔ ہم اس یقین کا اظہار بھی کرتے ہیں کہ ہماری زندگی کے معنی، دوسروں کی زندگیوں میں شرکت سے پیدا ہوتے ہیں۔ مگر یہی وہ مقام ہے، جہاں ایک بنیادی حقیقت کو فراموش کرنے کا خطرہ منڈلاتاہے، اور پھر ایک ایسی کہانی کا آغاز ہوتا ہے، جس کی المناکی کا تجربہ ہم اس وقت کررہے ہیں۔

اگر ہم دوسروں کی زندگیوں میں شرکت کے ذریعے، اپنی زندگی کو بامعنی بنانے تک محدود رہیں تو یہ رواداری ہے، اور ایک سماجی قدر ہی نہیں، جینے کا ایک فلسفہ بھی ہے، لیکن اگر ہم اپنی زندگی کو بامعنی بنانے کا خیال پس پشت ڈال کر، اس یقین کے حامل ہوجائیں کہ ہم ایک مقدس و مطلق حقیقت کے علم بردار ہیں، ہماری دسترس میں ایک ایسا معنی ہے، جسے لوگوں کی حقیقی زندگی کے ساتھ تعلق میں نہیں، کسی ماورائی وسیلے سے اخذ کیا گیا ہے، تو پھر ہم اس معنی کا تسلط اور نفاذ چاہنے لگتے ہیں۔ تب رواداری، راستے کا پتھر لگتی ہے، جسے بس ایک ٹھوکر سے ہٹا دیا جاتاہے۔ گویا تشدد کا آغاز، مقدس معنی کے نفاذ کی خواہش کے ساتھ ہی ہوتا ہے۔

معنی کے تسلط اور نفاذمیں یقین رکھنے والا فرد یا گروہ، جماعت یا قوم دوسروں کی زندگی میں شرکت نہیں کرتی، بدترین مداخلت کرتی ہے۔ بدترین مداخلت کا مطلب، اس کی داخلی زندگی، اس کی فکری، تخلیقی زندگی کے حرم میں ایک خدائی اختیار کے ساتھ درآناہے ۔ مذکورہ افراد یا گروہ، دوسروں کے اس حق کو تسلیم نہیں کرتے کہ وہ اپنی زندگی کے خاص طرز، مسلک یا نظرےے، یا طورطریقے کا انتخاب کرسکتے ہیں۔ سرے سے وہ’ انتخاب ‘ ہی میں یقین نہیں رکھتے؛وہ غیر مشروط فرماں برداری اور غیر استفہامیہ قسم کی اطاعت چاہتے ہیں۔ انتخاب کا مطلب ہے کہ آدمی کے سامنے، ایک سے زیادہ چیزیں ہیں، اور یہ اس پر منحصر ہے کہ وہ کسی ایک کو منتخب کرلے، اور باقیوں کو رد ّکردے۔ خود ردّ وانتخاب کا عمل حتمی نہیں؛ایک وقت میں ردّ کی جانے والی شے، کسی دوسرے وقت میں منتخب کی جاسکتی ہے۔ یہ ایک سے زیادہ چیزیں، زیادہ تر ذہنی ہیں، اور انھیں خلق کیا جاتا ہے، یا دریافت کیا جاتاہے۔ جو شخص نظریات خلق کرتا ہے، یا دریافت کرتاہے، وہ کسی ایک نظریے کو منتخب کرنے کا حق بھی رکھتا ہے۔ لیکن ایک معنی کے نفاذ میں یقین رکھنے والوں کو تخلیق کی صلاحیت سے خدا واسطے کا بیرہے۔

ایک اور بات بھی توجہ طلب ہے کہ دوسروں کی زندگیوں میں شرکت کے ذریعے معنی اخذکرنے والے، دوسروں کے ساتھ اس لیے بھی روادار ہوتے ہیں کہ وہ اس سرچشمے کو باقی رکھنا چاہتے ہیں، جو معنی کی تخلیق کا سرچشمہ ہے، لیکن جو دوسروں کی زندگیوں میں مداخلت کرتے ہیں، وہ معنی کی تخلیق میں اوّل تو یقین نہیں رکھتے، دوم وہ معنی کا سرچشمہ ہماری آپ کی زندگی سے کہیں باہر ایک اور دنیا میں دیکھتے ہیں، جسے ان کے یقین نے ’پیدا‘کیا ہوتا ہے۔ معنی کے سرچشمے کو وراے دنیا میں دیکھنے کی بنا پر، ان کے لیے عام طور پر یہ ’فطری ‘ ہوتا ہے کہ وہ حقیقی کثیر لسانی، کثیر ثقافتی، کثیر لسانی دنیاکو نظر انداز کریں، یا اس پر غالب آئیں ۔ ثقافتی ولسانی تکثیریت کو نظرانداز کرنے کامطلب، اس آہنی دیوار کو کھڑا کرناہے، جس کا ذکرگزشتہ سطروں میں کیا گیا ہے؛یعنی انسان کشی۔

ثقافتی تکثیریت کو قبول کرلینے سے، اس کے سلسلے میں روادار ی پیدا ہوتی ہے، اور اس میں شرکت کا امکان پیدا ہوجاتاہے ۔ جب کہ ثقافتی تکثیریت سے انکارکا لازمی نتیجہ اس پر غلبے کی خواہش ہے ۔ یہ خواہش آئیڈیالوجیائی اور متشددانہ دونوں صورتیں اختیار کرتی ہے ۔ ویسے تو ہرآئیڈیالوجی خود اپنے اندر علمیاتی تشدد کے عناصر رکھتی ہے، جس کے ذریعے وہ اپنے تضادات چھپاتی ہے ۔ آئیڈیالوجی اپنی بقا کے لیے کم وبیش وہی طریقہ اختیارکرتی ہے، جو انسانی ایغو اپنی بقا اور غلبے کے لیے کرتی ہے؛یعنی اپنی نفسی وعقلی توانائی کو اپنے احساس انفردایت کی بقاکے لیے اندھا دھند بروے کار لانا ۔ دنیا میں گھریلو جنگیں اگر شخصی انا کی خاطر لڑی جاتی ہیں تو قومی جنگیں قومی انا کی خاطر اور عالمی جنگیں آئیڈیالوجیائی انائی غلبے کی خاطر چھیڑی جاتی ہیں۔

غلبے کے ذریعے دنیا کو وحدانی (Monolithic)بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ دنیا کے ثقافتی تنوع کو گلوبلائزیشن کی قوتوں اور مقد س معنی کی جنگ لڑنے والے دونوں سے ہے؛ایک کے پاس معاشی ایجنڈاہے، اور دوسرے کے پاس مقدس ایجنڈا۔ تاہم ایک اور فرق یہ ہے کہ معاشی ایجنڈہ نسبتاً لچکدار ہوتا ہے، جس کا اظہار اس وقت ہوتا ہے جب معاشی مفاد کو خطرہ لاحق ہو(سرمایہ داریت کی ’کامیابی ‘کا ایک راز یہی لچک ہے)۔ یعنی گلابلائزیشن، اپنے ثقافتی تنوع ختم کرنے کے معاشی ایجنڈے پر نظرثانی پر تیار رہتی ہے، جس کا کچھ اظہار گلوکالائزیشن، یعنی عالمی و مقامیت کے امتزاج کی صورت میں ہوتا ہے۔ لیکن مقدس ایجنڈے میں عموماً لچک نہیں ہوتی، اس لیے کہ اس کا مفاد معاشی مفاد کی طرح، ہماری حقیقی دنیا سے نہیں جڑا، بلکہ وہ اجر و سزا کے لیے دوسری دنیا سے رجوع کرتی ہے۔ تاہم اس میں لچک کا امکان صرف ایک صورت میں پیدا ہوسکتاہے، جب وہ ایک بنیادی مفروضے کو تسلیم کرلے کہ حقیقت تک رسائی، یا معنی ساز ی کے ذرائع ایک سے زیادہ ہیں، اور وہ ذرائع بھی لوگوں کی زندگیوں کو بامعنی بناتے آئے ہیںجنھیں مقدس ایجنڈا سرے سے ذریعہ ءعلم ہی تصور نہیں کرتا۔ صاف لفظوں میںوحی والہام کے ساتھ ساتھ، انسانی عقل بھی حقیقت تک پہنچ سکتی ہے، اورمعنی سازی کرسکتی ہے، نیز دنیا میں کثیر لوگوں کی تعداد ایسی ہے، جو انسانی عقل کی راہنمائی میں ان تمام عظیم مقاصد کو حاصل کرنے میں یقین رکھتے ہیں، جن کے بغیر سماجی اور روحانی زندگی بنجر ہوجاتی ہے۔ جی ہاں!دنیا میں ایسے لوگ بھی ہیں جو بغیر کسی خاص مذہب میں اعتقاد رکھے، عقلی دانائی کے بل بوتے پر، روحانی زندگی گزارتے ہیں، اور ایسے لوگ بھی ہیں جو سرے سے روحانی زندگی میں یقین ہی نہیں رکھتے، مگر وہ سماجی زندگی میں باقاعدہ ذمہ داری کے ساتھ شریک ہوتے ہیں۔ یہ مفروضہ تسلیم کرنے کے بعد، مقدس ایجنڈا، دوسروں کے معنی کے انتخاب کو، دوسروں کا حق تصور کرنے لگتا ہے، اور اس لکیر کو عبور نہیں کرتا، جو رائے کے اظہار اور رائے کے نفاذ میں ہے۔ اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی تسلیم کیا جانے لگتی ہے کہ غلبے کی خواہش، خواہ کسی سبب سے ہو، ا ±س عفریت کی طرح ہے، جس کے خون کا ہر قطرہ جوں ہی زمین پر گرتا تو اس سے ایک نیا عفریت جنم لے لیتا ۔ ہندواساطیر کے مطابق کالی دیوی نے ان خون کے قطروں کے آگے اپنی زبان پیش کی، تاکہ انھیں زمین پر گرنے سے روکا جاسکے۔ یوں عفریت کا خاتمہ ہوا۔ رواداری بھی یہی کردار اداکرتی ہے؛وہ مزید خون بہنے، اور نئے نئے عفریتوں کو جنم لینے سے روکتی ہے۔ رواداری کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ دنیا میں اختلافات کا خاتمہ نہیں ہوسکتا؛زبانوں، عقائد، ثقافتوں، نظریوں، صنفوں کے اختلافات باقی رہیں گے؛ان اختلافات کی بنا پر، یا ان اختلافات کو مٹانے کی کوشش کے طور پر جنگیں برپا کرکے دنیا کو جہنم تو بنایا جاسکتا ہے، رہنے کے قابل نہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “رواداری: چند سرسری باتیں

  • 10-04-2016 at 10:15 pm
    Permalink

    A wonderful description in a logical manner

Comments are closed.