آئس لینڈ کے وزیرِ اعظم اتنے شرمیلے کیوں ہیں؟


\"khurram\”جو شرم ہوتی ہے اور جو حیا ہوتی ہے وہ صرف آئس لینڈ کے وزیر اعظم کو ہوتی ہے\” ایک ممتاز صحافی کی تصویر سے سجی یہ پوسٹ پچھلے کچھ دنوں سے بار بار نظر سے گزری۔ یہی اندازہ ہوا کہ اس گل کاری کے پھول غالباً ان صاحب کے قلم سے ابلے ہوں گے یا منہ سے جھڑے ہوں گے اور بس پھر کسی نے گلدستہ  بنا کر یارانِ نکتہ داں کے لئے صلائے عام کردیا۔

ہم ذاتی طور پر عاجزی و انکساری کا چلتا پھرتا مجسمہ ہیں لیکن قومی و ملی معاملات میں کسی رو رعایت کے قائل نہیں کیونکہ میٹرک پاس کرنے کے بعد سے ہمیں اقبال کی یہ تلقین دامنگیر رہتی ہے کہ

تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوشِ محبت میں

کچل ڈالا تھا جس نے پاؤں میں تاجِ سرِ دارا

اس عظیم ورثہ اور ایک احساسِ تکمیل کے باوجود کہ ہمیں جتنا علم پہنچنا تھا پہنچ چکا ہے ہم گاہے بہ گاہے اپنی معلومات میں اضافہ کے لئے تحقیق میں دخل در معقولات کرتے رہتے ہیں تاکہ سند رہے اور بوقتِ ضرورت کام آئے۔ آئس لینڈ کے بارے میں مندرجہ ذیل خلاصہ ہماری اسی عرق ریزی کا نتیجہ ہے۔

1۔ جغرافیہ: جس طرح پوت کے پاؤں پالنے میں نظر آجاتے ہیں اسی طرح نقشہ پر کسی ملک کے محلِ وقوع سے واضح ہوجاتا ہے کہ وہ کس اہمیت کا حامل اور کتنی توجہ کے قابل ہے۔ مشرقِ وسطیٰ، ایشیا اور افریقہ کی رزم گاہوں سے کوسوں دور یہ ننھا سا جزیرہ جس کی نہ کوئی تزویراتی گہرائی ہے نا گیرائی یقیناََ اپنے باسیوں کے لئے سخت خجالت اور ندامت کا باعث ہو گا۔

2۔ سیاسی نظام:  آئس لینڈ ایک کثیر الجماعتی آئینی جمہوریہ ہے۔ اس کی پارلیمان (التِھنگ) 930ء سے قائم و دائم چلی آرہی ہے چنانچہ اسے دنیا کی قدیم ترین پارلیمانی جمہوریت گردانا جاتا ہے۔ اسے مقامِ تاسف ہی کہا جاسکتا ہے کیونکہ تاریخ میں جو عظمت اور شان و شوکت بادشاہوں اور شاہی خانوادوں نے حاصل کئے ان سے یہ بد قسمت ملک نا آشنا ہی رہا۔

3۔ معیشت:  اس ملک میں ملی جلی معیشت(مکسڈ اکانومی) ہے یعنی کچھ بنیادی نوعیت کے معاملات مثلاََ توانائی، صحت، تعلیم اور سماجی بہبود ریاست کی ذمہ داری ہے۔ 70 فیصد قومی آمدنی خدمات اور اس سے حاصل ٹیکسوں پر منحصر ہے۔ جسے پھر پوری آبادی کی فلاح پر خرچ کیا جاتا ہے۔ فی کس آمدنی جو پاکستان میں 1275 ڈالر ہے آئس لینڈ میں 46 ہزار ڈالر ہے۔ درآمدات اور برآمدات متوازن رہتی ہیں۔ سب سے بڑا معاشی بحران 2008ء میں بینکوں کے دیوالیہ ہونے سے آیا تھا لیکن مضبوط سیاسی نظام کی وجہ سے ملک پھر اپنے پیروں پر کھڑا ہو گیا۔ 2014ء کی ایک رپورٹ کے مطابق امیر اور غریب میں مساوات کے حوالے سے یہ دنیا بھر میں سرفہرست ملک تھا جبکہ خود امریکہ اسی فہرست میں آخری چند ممالک میں آیا تھا۔ ہمیں یقین ہے کہ اپنے ارد گرد غریب غرباء، مستحقینِ زکوٰۃ، خیراتی ادارے اور مخّیر افراد نہ دیکھ کر اس ملک کے باشندوں میں ڈپریشن کا مرض عام ہوگا۔

4۔ تعلیم و صحت: جی ڈی پی کا ساڑھے سات فیصد تعلیم پر ضایع کرنے کی وجہ سے آئس لینڈ میں ساری آبادی پڑھی لکھی ہے حالانکہ دوست ممالک کی امداد سے دینی مدارس قائم کر کے یہی کام بہت خوش اسلوبی اور کفایت شعاری سے کیا جاسکتا تھا۔ صحت کی مد میں 9 فیصد پھونک کر یہی حاصل ہوا کہ اوسط عمر 82 سال پہنچ گئی جو کہ عورتوں میں 85 سال ہے۔ بے شک وہاں کے دانشمند افراد اس رقم کو زیاں سمجھتے ہوں گے۔ ہمارے خیال میں ایک ہیجان انگیز اور پر تعیش پچاس سالہ زندگی ایسے اَسی سال جینے سے بہتر ہے جس میں کوئی حرارت اور رنگا رنگی نہ ہو۔ ویسے بھی یہ دنیا فانی ہے۔ عورتیں جو فطری طور پر مردوں سے کمزور ہوتی ہیں ان کا زیادہ دیر تک بقیدِ حیات رہنا قوانینِ قدرت سے جنگ اور لائقِ تشویش ہے۔

5۔ عورتوں کے حقوق: عورت مرد کی برابری کے معاملے میں آئس لینڈ اقوامِ عالم کا رہبر ملک ہے۔ آخری عام انتخابات میں 40٪ امیدواروں کا تعلق صنفِ نازک سے تھا اور بننے والی پارلیمان میں بھی بنتِ حوا کی اتنی ہی نمائندگی تھی۔ اس کی تاریخ پر سب سے بد نما داغ یہ ہے کہ جدید دنیا میں پہلی عورت سربراہِ مملکت کے عہدے پر اسی ملک میں 1980ء میں فائز ہوئی۔ یہاں بے لباس رقص پر پابندی ہے۔ پچاس افراد سے زیادہ ملازمین والے ہر ادارے پرلازم ہے کہ اس کے انتظامی بورڈ میں کم از کم چالیس فیصد خواتین ہوں۔ گو جوڑوں کا بغیر نکاح ساتھ رہنے کا رواج عام ہے لیکن یہ دنیا کا واحد ملک ہے جس میں زچگی کے دوران عورت کی چھٹیوں کے ساتھ ساتھ باپ کے لئے بھی تین ماہ کی رخصتِ پدری ممکن ہے تاکہ گھریلو کردار اور ذمہ داریوں کی تقسیم روایتی ہو کر نہ رہ جائے۔ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا مقصد ہے کہ عورت کو زیادہ آزادی دے کر گھر کی وحدت کو پارہ پارہ کرنا ہے۔ جب فطرت نے صنفی کردار متعین کر دئے ہیں تو اس میں مداخلت کیسی! عجیب بات یہ ہے کہ اس کے باوجود دنیا کے سب سے زیادہ پُر مسرت ممالک میں آئس لینڈ تیسرے نمبر پر گنا جاتا ہے۔

6۔ دفاع: آئس لینڈ کی کوئی فوج نہیں ہے۔ اپنے دفاع سے غافل یہ ملک قومی آمدنی کا محض اعشاریہ تیرہ فیصد اس مَد میں خرچ کرتا ہے۔ یہ تو ظاہر ہے کہ اس انتہائی غیر محفوظ ملک کو بیرونی دشمن کسی وقت بھی تَر نوالہ بنا سکتا ہے لیکن ہمیں تو فکر یہ لاحق ہوگئی ہے کہ کون طَے کرتا ہو گا کہ اندرونی دشمن کون ہیں؟ ملک کو کس سَمت چلنا ہے؟ کون خارجہ پالیسی تشکیل دیتا ہوگا؟ کون سیاسی رہنما تخلیق کرتا ہوگا؟ کون ان رہنماؤں کا راستہ ہموار کرتا ہوگا؟ کون بتاتا ہوگا کہ کس بات پر کتنی شرم اور کتنی حیا آنی چاہئے؟ اقبال کہہ گئے ہیں کہ رزمِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن جبکہ غالب  اپنی شاعری سے زیادہ باعثِ عزت و وقار اپنے آباؤ اجداد کا سپاہیانہ پس منظر قرار دیتے تھے۔ ایسے میں ہماری رائے میں آئس لینڈ کے صرف وزیرِ اعظم ہی  کیا پوری قوم جتنی اپنے ماضی حال و مستقبل پر خفیف اور نادم ہو، کم ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضرور نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

One thought on “آئس لینڈ کے وزیرِ اعظم اتنے شرمیلے کیوں ہیں؟

  • 12-04-2016 at 9:06 am
    Permalink

    ہلکے پھلکے انداز میں لفظوں کے تشتر دل میں اتارتی۔۔۔ بہت ہی زبردست تحقیق۔
    اسی بےغرضی سےعلم وتحقیق کی شمع جلاتے رہیں چاہے ہماری جیسی نابینا قوم کو روشنی کی ضرورت ہو یا نہ ہو اور خواہ وہ اپنے اور پرائے کے فرق سے بھی انجان ہو۔

Comments are closed.