پاناما لیکس: سوچنے کی بات


zahid mirپانامہ لیکس کو لے کر ہر کوئی ماہر معاشیات بنا ہوا ہے، اور سوشل میڈیا پہ جو بھی سنسناتی پوسٹ دیکھی بنا تحقیق کے آگے پوسٹ کر دی۔ یہ سوچا ہی نہیں کہ ہم کس کو ماننے والے ہیں، اور کیا کر رہے ہیں۔
جہاں تک اس کیس کے قانونی یا غیر قانونی ہونے کا معاملہ ہے تو اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ یہ کاروبار کی ایک قانونی شکل ہے اور پوری دنیا میں رائج ہے اور اس ایک کمپنی کے علاوہ دنیا میں بے شمار اور بھی کمپنیاں ہیں جو یہ خدمات پیش کرتی ہیں جن کے ذریعے آف شور کمپنیاں بنائی جاتی ہیں اور ان کے ذریعے انٹرنیشنل ٹریڈ کی بے شمار ٹرانزیکشنز کی جاتی ہیں۔
یہاں اس بات کو اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ٹیکس چوری کرنا اور ٹیکس بچانا دو الگ الگ موضوع ہیں۔ جائز طریقہ اختیار کر کے ٹیکس بچانا کسی طور بھی ناجائز نہیں۔
مختصراً اس معاملے میں پانامہ لیکس کا فنانشل ایشو کوئی بڑا ایشو نہیں۔ اور نہ ہی یہ چوری ہے اور نہ ہی اس میں کوئی بہت بڑا سکینڈل ہے۔ یہ موضوع کچھ دن ضرور چلے گا پھر اچانک ہی کسی اور واقعہ کی نظر ہو کر ماضی ہو جائے گا۔
اب اس کا ایک سوشل پہلو ہے جو واقعی فکر والی بات ہے۔ اور جس کی بنیاد پہ اس پر ضرور بحث چلنی چاہیے۔ یقیناً شریف فیملی کو آف شور کمپنیوں میں اپنا پیسہ نہیں رکھنا چاہیے اور صرف اور صرف تین یا چار فلیٹس کے کاروبار میں ہی اس پانامہ۔لیکس میں top ten میں نہیں آنا چاہیے۔ حالانکہ سابق صدر مشرف کے بھی کروڑوں ڈالرز اس طرح کے بزنس میں ہیں۔ لیکن ان کا تعلق ہمارے ملک کے اس طبقے سے ہے جو ہمارے لیے مقدس گائے سے بھی زیادہ متبرک ہے اس لیے مشرف صاحب کا کوئی بھی عمل پاکستان کی بدنامی نہیں ہو سکتا اور نہ ہی کسی کے اندر ان کو غدار کہنے کی ہمت بھی ہو سکتی ہے۔
اسی طرح شوکت خانم کا پیسہ کا معاملہ بھی کوئی ملکی بددیانتی نہیں کیونکہ اس میں قائد تبدیلی کا نام آتا ہے۔
اس سارے معاملے کو بہت غور سے دیکھنے کے بعد مجھے اس معاملے میں سب سے اہم بات انٹرنیشنل سیاست نظر آئی ہے۔ بے شمار سکینڈلز اس میں  سامنے آئے۔ بڑے بڑے نام دیکھے جن میں سر فہرست روس کا صدر، چین کا صدر، پاکستان کی سیاسی قیادت اور فرانس اور ان تمام ممالک کی سیاسی شخصیات جو کسی نہ کسی طور امریکی مفاد کو ٹھیس پہنچا سکتے ہیں۔
بہت حیرت ہوئی کہ انڈیا میں بڑا نام بچن فیملی کا آیا۔ حالانکہ انڈیا کے سیاستدانوں کے فنانشل فراڈ پوری دنیا میں ریفرینس مانے جاتے ہیں۔ کیا انڈیا کے سیاستدان گنگا نہا چکے ہیں۔ بہت ہی حیرت کی بات ہے۔
پورے امریکہ میں کوئی بڑا ایسا سیاسی نام نہیں آیا جس کی وجہ سے امریکی سیاست میں ہلچل مچے۔ کیا امریکی بہت دیانتدار ہو گئے ہیں۔ حالانکہ آف شور کا کاروبار سب سے زیادہ ہوا ہی امریکہ اور انگلینڈ میں ہے۔
ترکی بھی پوتر ہو گیا۔ کیونکہ ترکی نے روس کو آنکھیں دکھا دی اور امریکہ کی آنکھوں کا تارا ہو گیا۔
بہت ہی زیادہ حیرت کہ کوئی بھی طالبان یا داعش کا نمایاں بندہ نہیں۔ تو پھر یہ کون سی چھڑی گھماتے ہیں کہ اربوں ڈالر ایک ملک سے دوسرے ملک ٹرانسفر کر دیتے ہیں۔
چند ایک کا ذکر ہوا ہے۔ اور وہ کوئی اتنا بڑھا چڑھا کر نہیں کیا گیا۔ البتہ کچھ نام آئی واش eye wash کے لیے ضرور لیے گئے تاکہ اس رپورٹ کی غیر جانبداری ظاہر کی جا سکے۔ مگر ان ناموں سے کوئی اتنا بڑا فرق پڑنے والا نہیں۔
اصل مسئلہ روس اور چین کے صدور کے نام آنے کا ہے۔ اور اس کا براہ راست مقصد امریکی برتری کو قائم رکھنا اور مخالف کو گندا کرنا ہے۔ روس کی طرف سے پچھلے کچھ دنوں میں جو جو کہا گیا اور جس جس انداز سے صدر پیوٹن نے امریکی اتحادیوں کو کھری کھری سنائی وہاں یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ امریکہ سرکار روس کو سبق سکھائے۔
ہندوستان بھی امریکہ کا چہیتا ہے اور اس کی ایک دلیل گذشتہ ہفتے مودی کی سعودی یاترا اور وہاں سب سے بڑا اعزاز ملنا۔ چونکہ اس اعزاز کا حکم کہیں اور سے ہے اس لئے یہ اعزاز دے کر پاکستانی سول اور فوجی قیادت کو اس کی اوقات بتا دی گئی۔
تین چار فلیٹوں کے کاروبار کی بنیاد پر شریف فیملی کا نام اس لئے نہیں آیا کہ ان کو کرپٹ ثابت کیا جائے۔ بلکہ ان خادموں کو طاقت دینا ہے جو اس ملک میں افراتفری پھیلائیں تاکہ چائنہ پاکستان کی بندرگاہ سے محروم رہے۔ اور اگلے مرحلے میں چائنہ کے شمالی حصہ میں جو پہلے سے کم ترقی یافتہ ہے وہاں مزید فتنہ پھیلایا جائے اور وہاں آزادی اور علیحدگی کی تحریک چلائی جا سکے۔
کیونکہ چین پاکستان کی بندرگاہ کے ذریعے اپنے اس حصہ کو جو صحرائے گوبی دوسری طرف ہے انہیں ترقی دینا چاہتا ہے ۔ اور چین کے شمالی حصہ کی ترقی اس وقت تک نہیں ہو سکتی جب تک اسے ایک آسان راستہ بندرگاہ کا نہ ملے اور وہ گوادر ہے اور گوادر پاکستان میں ہے۔ اس لیے جو گوادر پراجیکٹ کو پاکستان کی ترقی کی بنیاد بنانے کی کوشش کرے گا وہ اصل میں امریکی مفاد کے خلاف ہے اور سزا تو پھر ملنی ہی چاہیے۔


Comments

FB Login Required - comments