ریسکیو سروس پر قاتل کالیں


ملک ابوذر منجوٹھہ


abuzar

 میرا نام احسن ہے میرا تعلق پاکستان کے ایک خوبصور ت سے قصبہ سے ہے۔ گرمیوں کی ایک شام اور رات کے ملن کے درمیان ٹھنڈی ہوا کے جھونکے اور چاند کی ہلکی روشنی میں اپنی زندگی کے معاملات پر سوچتے ہوئے میں موٹر سائکل پر صفر کر رہا تھا۔ میں قانون کی بھی مکمل پاسداری کر رہا تھا۔ اچانک ایک تیز رفتار کار میری بائیک سے ٹکرا گئی۔ میں اور میرا موٹر سائیکل ایک دوسرے سے دور جا گرے۔ میرا سر روڈ سے اتنے زور سے ٹکرایا کہ میرا ہیلمٹ ٹوٹ گیا اور میرے سر پر شدید چوٹ لگ گئی۔ خون بہتا جا رہا ہے  اور میں سوچ رہا ہوں کہ اب میرے بچوں کا کیا ہو گا، میرے بیٹے اقبال کو سکول چھوڑنے کون جائے گا، رضیہ جو کہ خود یتیم تھی اب اس کو کون پوچھے گا، میری بزرگ والدہ جن کی دوائی ابھی رات کو لے کر جانی تھی کون لے جائے گا؟

میرا خون بہتا جا رہا ہے میرے اردگرد مختلف سائے منڈلا رہے ہیں کوئی کہا رہا ہے کہ 1122 ایمر جنسی سروس کو کال کرو۔ 3 سے 4 لوگ میرے اردگرد جمع ہیں. سب کوشش میں مصروف ہیں 1122 کا نمبر نہیں مل رہا سب کوشش کر رہے ہیں. امیدیں ٹوٹتی جا رہی ہیں خون بہتا جا رہا ہے آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا رہا ہے 1122 کا نمبر ابھی تک مل نہیں رہا۔ موت میری طرف میں موت کی طرف بڑھتا جا رہا ہوں۔ ازل کا فرشتہ لینے آ گیا ہے اقبال کا سکول، اماں کی دوائی، رضیہ کی باتیں سب کو چھوڑ کر سانس رک گیا ہے۔

ریسکیو 1122 کے سابقہ ڈی جی کی گفتگو سننے کا موقع ملا ڈاکٹر رضوان نذیر کا کہنا تھا کہ ریسکیو سروس نے 17 لاکھ لوگوں کو ریسکیو کیا ہے۔ 5کروڑ 17لاکھ کالز موصول ہوئی ہیں جن میں سے صرف 17لاکھ کالز genuine ہیں۔ ڈی جی ریسکیو کے مطابق پنجاب کے 36 اضلاع میں سے روزانہ کی بنیاد پر 30000 کالز اگر موصول ہوتی ہیں تو ان میں سے 300کالز ہی Actual ہوتی ہیں اور باقی Fake۔ (کسی کی گائے چارہ نہیں کھا رہی، کسی کا فریج برف نہیں بنا رہا، کسی کی گیس نہیں آرہی، کسی کو پیزا چاہیے، کسی کا موبائل ریچارج کا مسئلہ ہے) اگر ان تمام نمبروں کو Labeled بھی کر دیا جائے تو خدا نخواستہ اگر ان کے ساتھ کوئی ایمرجنسی ہو جائے تو ان کو نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ کون سمجھائے ان کو کہ ان کے ایک مذاق سے کسی احسن کی جان چلی جاتی ہے تو ذمہ دار کون ہوگا۔

ہماری اسمبلیوں میں بیٹھے حکمران کب ہوش کے ناخن لیں گے اور ایسے اقدامات کریں گے جس سے کم سے کم ایک انسان کی زندگی ہی بچ جائے۔ ایک ایسا بل، ایک ایسا قانون کیوں نہیں بنایا جاتا کہ ایمرجنسی سروس پر  Fake Callsکرنے والے کو اگر کم سے کم 5 دن کی جیل اور 5000 روپیہ کا جرمانہ کر دیا جائے. کم سے کم اگر ایک انسان کی جان اس وجہ سے بچ جائے تو شاید کچھ گناہ ارکان اسمبلی کے کم ہو جائیں۔ ہر سم کیونکہ اب بائیومیڑک تصدیق کے ساتھ ہے اس لیے متعلقہ لوگوں تک پہنچنے میں زیادہ مشکل بھی نہیں ہوگی۔ جو ارکان قومی و صوبائی اسمبلی اپنے فارغ وقت میں اسمبلی میں بیٹھ کر یوٹیوب سے ویڈیوز دیکھتے رہتے ہیں ان کے لیے لنک میں نے شئیر کر دیا ہے کہ شاید اس کو دیکھ کر کچھ شرم ہی آجائے۔ تھوڑی دیر کے لیے صرف اس پاکستان کے کسی چھوٹے سے قصبہ میں رہنے والے اس احسن کی زندگی کا سوچیں تو اس کا قاتل کون ہے؟ 5کروڑ کالز کرنے والے، اسمبلیوں میں بیٹھے حکمران یا کار کی ٹکر مارنے والا وہ انسان۔


Comments

FB Login Required - comments