جماعت الدعوۃ کی وضاحت بھی سنی جائے


 LAHORE, PAKISTAN, NOV 18: Supporters of Jamat-ud-Dawa are protesting against India Government during demonstration at Chuburji Chowk in Lahore on Friday, November 18,  2011.(Babar Shah/PPI Images). جماعت الدعوۃ کے زیر انتظام مصالحتی نظام قائم کرنے اور اس ادارے کو عدالت قرار دینے کی خبر سامنے آنے پر ملک بھر کے ذمہ دار حلقوں نے تشویش کا اظہار کیا تھا۔ اب جماعت الدعوۃ کے سربراہ نے اپنا مؤقف واضح کیا ہے۔ اس لئے ان کی بات بھی سننے کی ضرورت ہے۔

اس سے قبل جماعت کے ترجمان نے یہ وضاحت کی تھی کہ وہ ملک میں متوازی عدالتی نظام قائم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے اور ملک کے قانون اور آئین کی تائد کرتے ہیں۔ اب جماعت الدعوۃ کے سربراہ نے ایک قومی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے پیشکش کی ہے کہ اس میڈیا ہاؤس کے رپورٹر خود آکر دیکھ سکتے ہیں کہ کوئی عدالت قائم نہیں کی گئی بلکہ صرف مصالحت کے لئے فریقین کی رضا مندی سے تنازعات کو قرآن و حدیث کی روشنی میں حل کروانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ سلسلہ دو دہائی سے جاری ہے لیکن اب اس بارے میں خبریں شائع کرنا دراصل جماعت الدعوۃ کو بدنام کرنے کی سازش ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ثالثی نظام متوازی عدالتی نظام نہیں ہے بلکہ باہمی رضامندی سے مصالحت ک اطریقہ کار ہے۔ انہوں نے اس ادارے کی طرف سے سمن جاری کرنے کی خبروں کو ایک ایسے شخص کی جعل سازی قرار دیا جو خود کئی مقدمات میں مطلوب ہے اور لوگوں کے کروڑوں روپے ہضم کر چکا ہے۔ حافظ سعید کا کہنا ہے کہ اس شخص نے جعلی سمن میڈیا کو دکھا کر ان کی جماعت کو بدنام کرنے کی کوشش کی ہے۔

حافظ سعید اور ان کے گروہ کو انتہا پسند ہتھکنڈوں کی وجہ سے عالمی شہرت حاصل ہے۔ خود حافظ سعید کو امریکہ نے خطرناک دہشت گرد قرار دے کر ان کی گرفتاری پر دس ملین ڈالر کا انعام مقرر کیا ہے۔ اس سے قبل لشکر طیبہ کے نام سے حافظ سعید کشمیر میں مسلح کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں۔ جماعت الدعوۃ نے ملک بھر میں اپنا ڈھانچہ استوار کیا ہے۔ اگرچہ وہ خود کو اب صرف رفاہی ادارہ قرار دیتے ہیں لیکن ان کے سفر اور کسی شہر میں قیام کے دوران مسلح محافظ متوازی عسکری فورس کے طور پر خدمات سرانجام دیتے ہیں۔ اس موقع پر پولیس بھی کوئی تعرض نہیں کرتی۔ ظاہر ہے کہ یہ انتظامات کوئی عام آدمی کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ اس کے لئے گراں قدر وسائل اور ملک کے مقتدر حلقوں کی باالواسطہ اعانت ضروری ہوتی ہے۔ حافظ سعید کو یہ تعاون حاصل ہے۔ اس لئے یہ مان لینا دشوار ہے کہ لاہور کا کوئی عام شہری اتنے طاقتور شخص اور جماعت پر جھوٹا الزام لگا کر اپنی اور اپنے خاندان کی زندگی اجیرن بنانے کی حماقت کرسکتا ہے۔ حافظ سعید دریافت کرتے ہیں کہ ان

کا یہ مصالحتی ادار ہ میڈیا کو اس سے قبل کیوں دکھائی نہیں دیا۔ یہ سوال برمحل ہے لیکن یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جماعت الدعوۃ نے حال ہی میں اسے ’عدالت‘ کا نام دے کر اس میں مقرر شخص کو ’قاضی‘ کا درجہ دیا ہو۔ اس صورت میں ان کی دلیل کو ہی اختیار کرتے ہوئے ان سے یہ بھی پوچھا جا سکتا ہے کہ جب ایک شخص جماعت الدعوۃ کی ’عدالت کے سمن‘ کا ذکر کرکے ملک بھر میں ان کی تنظیم کو بدنام کرہا تھا اور’ سازش‘ کا حصہ بنا ہؤا تھا تو حافظ سعید اور ان کے ساتھیوں نے فوری طور پر اس کی تردید کرنا اور مذمت کرنا کیوں ضروری نہیں سمجھا۔ انہوں نے پاکستان کے ایک معتبر انگریزی اخبار میں اس خبر کے بریک ہونے کا کیوں انتظار کیا۔

حافظ سعید کی یہ بات بھی پوری طرح قابل اعتبار نہیں ہے کہ وہ ملک کے آئین کا احترام کرتے ہیں۔ حال ہی میں منصورہ میں مذہبی جماعتوں کے ایک اجلاس میں شرکت کے دوران انہوں اسی آئین کے پرخچے اڑانے کی باتیں کی تھیں۔ یہ ساری جماعتیں ملک میں نظام مصطفی کے قیام کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک ایسے آئین کو مسترد کرتی ہیں جو ملک میں شرعی قوانین کے نفاذ کی ضمانت دیتا ہے۔ حافظ سعید کے دعوے صرف اسی صورت میں قبول کئے جا سکتے ہیں، جب ان کا عمل اور طریقہ کار ان باتوں کی تصدیق کرے گا۔ جماعت الدعوۃ ان مذہبی گروہوں میں شامل ہے جس نے ملک میں شدت پسندی اور عقیدے کے نام پر ماردھاڑ کے کلچر کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اسی لئے جب وہ قرآن و سنت کے نام پر شرعی فیصلے کرنے کا اقدام کرتی ہے تو اس پر تشویش اور پریشانی لاحق ہوتی ہے۔ تاہم یہ وضاحت اور یقین دہانی خوش آئیند ہے کہ جماعت الدعوۃ نے کوئی ’عدالت‘ قائم نہیں کی اور وہ ملک کے آئین اور قوانین کا احترام بھی کرتی ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 411 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

11 thoughts on “جماعت الدعوۃ کی وضاحت بھی سنی جائے

  • 10-04-2016 at 4:44 pm
    Permalink

    Molana ka biyan bilkul aisa hai … jaysy panama leaks par P ML n waloon ki safai … masla yeh hai aap jaysy maya naz likhari agar jawaz faram karty raheen gaay tu phir beechary PML aur PPP walay kiyon matoob tehrain … main karoon tu sala character dheela hai … khuda k liye loogon ko ehsas dalain k riyasat bhi kisi chez ka naam hai … mere jaysy pehly hee confuse hain unoko mazeed confuse na kareen … mujh aasi saaygara koi kotahi hoo gai hoo tu mujh ghreeb ki kam ilmi ko maaf farma dijye ga … Allah aap ko kush rakhy

  • 11-04-2016 at 11:57 am
    Permalink

    قابل احترام ایڈمن!

    جیسا کے آپ نے لکھا کے جماعت الدعوہ نے وضاحت کردی ہے، لیکن میڈیا میں آنے کا انتظار کیوں کیا گیا اور شاید نام عدالت حالیہ دنوں میں رکھ کر ثالث کو قاضی کا درجہ دیا گیا ہو. یہاں دو باتوں کا تجزیہ ضروری ہے. پہلی اسٹوری ڈان میں آئ اور اس کا مرکزی کردار خالد سعید نامی شخص تھا جس نے یہ دعوی کیا کے اسے ڈرایا جارہا ہے اور سمن جاری کیا گیا ہے، اس شخص کی تفصیل اوپر شیئر کردی گئ ہے اور ایف ای ار کی کاپیاں بھی موجود ہیں. پولیس اور حکومت نے خد تسلیم کیا ہے کے ان کے پاس پہلے کبھی کوئ شکایت موصول نہیں ہوئ. جس شخص نے الزام لگایا وہ خد پولیس کو فراڈ میں مطلوب ہے.
    دوسری اسٹوری جنگ میں آئ جس میں مفتی ادریس کے انٹریو کا زکر کیا جب کے مفتی ادریس نے کسی قسم کا انٹرویو نہیں دیا اور جماعت نے اس کو پبلکلی مسترد کردیا ہے. جنگ اخبار نے اس پر تحقیقات کا وعدہ کیا ہے.
    اب یہ بات واضح ہے کے یہ ایک میڈیا ٹرائل کرنے کی ناکام کوشش تھی جس سے ان طاقتوں کو خوش کرنا مقصد تھا جو دن رات جماعت اور پاکستان کے خلاف سرگرم ہیں.
    آپ نے نظام مصطفی کانفرنس کا زکر کیا لیکن دکھ کے ساتھ، کے آپ نے کوئ ایک جملہ بھی پیش نہیں کیا جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہو کے آئین پاکستان کی دھجیاں اڑائ ہوں. اگر آپ کہیں تو وہ تقریر ہم شیئر کردیتے ہیں آپ اپنے پیج پر لگا کر فیصلہ لوگوں پر چھوڑ دیں.
    آخر میں آپ نے انتہا پسندی کا زکر کیا، تھرپارکر میں ھندوؤں کے لیئے پانی کے کنوئے بنانا انتہا پسندی ہے؟ کوہستان اور کافرستان کے علاقوں میں لوگوں کو راشن پہنچانا اور سیلاب زدگان کی مدد انتہا پسندی ہے؟ فرقہ واریت، تکفیریت کا خلاف آواز اٹھانا انتہا پسندی ہے؟ یا پھر نظریہ پاکستان کی خاطر تمام ملک کی جماعتوں اور مسلکوں کو ایک پیج پر لانا انتہا پسندی ہے؟

    ہم آپ کے لیئے دعاگو ہیں.
    جزاک اللہ خیر!

  • 11-04-2016 at 12:39 pm
    Permalink

    بھائی جان کءا آپ بتا سکتے ہیں کہ وہ کونسے ہتھکنڈے ہیں جو اس جماعت کی پشت پناہی کرتے ہیں اگر واقعی آپ کے ہاس ایسے کوئی ثبوت ہیں تو برائے مہربانی سامنے لے کر آئیں
    اور ویسے ہمیں تو خوش ہونا چاہیے کہ امریکہ نے جب بھی کسی کو دھشتگرد قرار دیا وہ کوئی اور نہیں بلکہ مسلمان ہی نکلا آج تک انڈیا یا امریکہ نے کسی غیر مسلم کو دھشت گرد قرار نہیں دیا اس کی کیا وجہ وہ بھی بیان کردیں
    اور رہی بات ثالثی عدالتوں کی تو اس پر جماعت کا موقف آچکا ہے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے تسلیم کر چکے ہیں اس لیے آپ ایسی منافقانہ حرکتیں چھوڑ کر اسلام کے داعی بنیں
    اللہ آپ کو جزائے خیر دے

  • 11-04-2016 at 1:23 pm
    Permalink

    Asalam alikum…
    Muge herani hoti he is tarhan ki baten sun kr k jmatudawah pakistan k qanon ko ni manti
    Mere samajh men ye bat ni ati k jud ne pakistan k kis qanon ki khilaf warzi ki he?? Hmara media hqaiq ko pse pusht dal kr propegande k zrie kam leta he jis se awam men mayosiyan phel rahi he
    Mere smajh men ye bat ni ati k Jmatudawah k ameer ne mansora k program men kon se qanon ki dhajiyan urane ki bat ki he ??? Zra is ki bhe wzaht ki jae
    Kia ap logon k ilam men ye bat ni he k jmat udawah ne hmesha se hi pakistan k qanon ki pasdari ki he is ka wazeh sabot jmat ka mulk ki adalton men ja kr apne oper lgne wale ilzamat ko beniqab krna he
    Agr jmatudawa qanon ko na manti hoti to kbhe bhe adalton ka rukh na krti

  • 11-04-2016 at 1:27 pm
    Permalink

    Bhai jaan app ko yakeen nahi tou app markz jaa Kay chakr lgain app ko eman taza krny waly manzr milain gy

  • 11-04-2016 at 1:30 pm
    Permalink

    Allah Kay fazal say is salasi nizam ki zarort rahy GI or hum is nizam ki hamyt krty rahy gaon

  • 11-04-2016 at 1:32 pm
    Permalink

    اسلام علیکم…
    آپ کی پوسٹ پڑھ کر مجھے یھ احساس ھوا کھ آخر کچھ تو ھے اس جماعت میں جو سارا عالم کفر اور ھمارا میڈیا مل کر اس جماعت کے خلاف سازشیں کرنے پر تلا ھوا ھے
    میں نے جماعت الدعوہ پر لگنے والے الزامات کا جائزہ لینے کے لۓ ملک پاکستان اور اس کے گرد و نواح میں نظر دوڑائ تو مجھے کچھ لوگ اپنی جانوں پر کھیل کر انسانیت کی بے لوث خدمت کرتے,ملک پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کرتے,کفار کی سازشوں کو بے نقاب کرتے,امت مسلمہ کو متحد کرتے نظر آۓ.
    ذرا قریب ھو کر دیکھا تو حیران رھ گیا کھ یھ تو وہ لوگ ھیں جنھیں دنیا دھشت گرد ثابت کرنے پر تلی ھوئ ھی!!!!
    جی ھاں یہ جماعت الدعوہ کے لوگ تھے
    یہ منظر دیکھنے کے بعد مجھے اپنے ایک ایک سوال کا جواب ملتا چلا گیا کہ آخر کیا وجہ ھے کہ سارا عالم کفر جماعت الدعوہ اور اس کے امیر کے خلاف پروپیگنڈے میں مصروف ھے..؟

  • 11-04-2016 at 1:40 pm
    Permalink

    Aj dunia bhar men salsi nizam bohat maqbol ho raha he
    Amreka men 40 fesad muqadmat salsi konslon k zrie hi hl kr die jate hen
    Jmat udawa ne salsi nizaim qaim.kr k koe juram ni kia blke mulk pakistan ki khidmat men apna hisa milaya he .muashre ko pur aman bnane k lie apna kirdar ada kia he
    Salsi nizam ko propegande ki nzar ni kia jana chahye is se muashre k logon k msail brwaqt or ba asani hl ho jate hen
    Allah ap ko smajhne ki tofeeq ata kre

  • 11-04-2016 at 2:45 pm
    Permalink

    اسلام و علیکم
    Dear Admin
    ملک پاکستان میں اس وقت فرقہ واریت کی فضا بنی ہوئی ہے ہر طرف افراتفری کا عالم ہے ایک طبقہ سیاست میں ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچ رہا ہے تو دوسرا طبقہ مسلم کو کافر کہہ کر اسے مختلف طریقوں سے قتل کرنے کے در پے ہے بہت مایوس کن حالات بنے ہوئے ہیں تو ایسے میں مجھے ایک مرد مجاہد حافظ سعید صاحب امیر جماعت الدعوہ پاکستان اور اسکی جماعت نظر آتی ہے جو سیاسی، مذہبی جماعتوں کے قائدین کو جوڑنے میں مصروف عمل ہے کہ آئیے ہم آپس کی لڑائی چھوڑ کر اس ملک پاکستان کے دفاع میں کھڑے ہوں اور دشمنانِ اسلام و پاکستان کو ایک پیغام دیں ہم ایک قوت ہیں میں انکے اس عمل پر انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں
    مگر مجھے انتہائی دکھ ہوا اس وقت ہوا جب میں نے دیکھا کہ ایک اشتہاری ملزم کو میڈیا پر بلا کر اس جماعت کے خلاف پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے جبکہ حافظ سعید صاحب اور ترجمان جماعت الدعوہ یحیی مجاہد صاحب اسکی تردید کر چکے ہیں کہ جماعت الدعوہ نے پاکستانی عدالتوں کے متوازی کوئی بھی عدالت نہیں بنائی بلکہ ایک ثالثی کونسل بنائی ہے جو ہر محلے، علاقے میں بنی ہوتی ہے اور پاکستان کا آئین اسکی اجازت بھی دیتا ہے
    تو براہ کرم ایک ملک پاکستان کی محافظ جماعت کے خلاف پروپیگنڈہ بند کیا جائے اور اس اشتہاری ملزم کے گناہ کو دنیا کے سامنے ننگا کیا جائے
    تاکہ آئندہ کوئی بھی ایسا گھناؤنا جرم نہ کرسکے. شکریہ

  • 11-04-2016 at 2:49 pm
    Permalink

    اسلآپکی تحریر پڑھ کر سمجھ نہیں آئ کہ آپ تصدیق کر رہے ہیں یا تردید ۔۔۔؟
    ایک طرف تو آپ کہتے نظر آئے کہ جماعت الدعوہ کی وضاحت سنی جائے اور دوسری طرف الزامات کے نان سٹاپ اور تابڑ توڑ حملے بھی کر دئیے ۔۔۔۔
    آپ نے وضاحت میں دیر کرنے پر اعتراض کیا لیکن حقیقت یہ ہے کہ جیسے ہی میڈیا کے اس پراپیگنڈا کا علم ہوا، تو جماعت الدعوہ نے اپنا موقف عوام کے سامنے رکھ دیا ۔ انکا موقف آپ نے اپنی تحریر میں بھی کوڈ کیا۔ یہ تو معاملہ ہوا کلئیر
    لیکن
    آپ اپنے اس موقف کا دفاع کیونکر کر سکتے ہیں کہ
    “ﺟﻤﺎﻋﺖ ﺍﻟﺪﻋﻮۃ ﺍﻥ ﻣﺬﮨﺒﯽ ﮔﺮﻭﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻧﮯ ﻣﻠﮏ ﻣﯿﮟ ﺷﺪﺕ ﭘﺴﻨﺪﯼ ﺍﻭﺭ ﻋﻘﯿﺪﮮ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﻣﺎﺭﺩﮬﺎﮌ ﮐﮯ ﮐﻠﭽﺮ ﮐﻮ ﻓﺮﻭﻍ ﺩﯾﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﮨﻢ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﺍﺩﺍ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ۔”
    آپکو یہ اطلاعات جو کوئی بھی پہنچاتا ہے اس کی جانچ پڑتال کر لیجیے کیونکہ حقیقت میں یہ محض بہتان تراشی ہے اور ایسی رائے کا اظہار کسی قدورت کی بنا پر ہی ممکن ہے۔
    آئیے میں آپکو جماعت الدعوہ کی شرپسند ایکٹیوٹیز دکھاتا ہوں۔
    جماعت الدعوہ والے اپنے پروگرامز میں سیاسی عمائدین کے ساتھ ساتھ اپنے مخالف فقہہ کے علماءکو بھی بلا لیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ لاالہ اللہ کی نسبت سے ایک ہو جاو۔
    اب پچھلے دنوں 23 مارچ کے سلسلہ میں انہوں نے بے پناہ کانفرنسز کروائیں اور ان کانفرنسز میں انہوں نے ایویں خوامخواہ میں مرزا محمد ایوب مغل (تنظیم اسلامی ) ایڈوکیٹ جمیل احمد فیضی، عبدالرؤوف فاروقی ( جمیعت علماء اسلام ) محمد اشرف ایڈوکیٹ، لیاقت بلوچ و سراج الحق (جماعت اسلامی ) پیر سید ہارون علی گیلانی ،قاری عارف سیالوی (سنی علماءکو نسل ) پیر سید عبدالگیلانی (مولانا نورانی گروپ) جیسے مخالف فرقوں کے لیڈران کو بلا کر شیعہ سنی وہابی جیسے نعروں کا رد کر دیا اور انہوں نے بات یہیں ختم نا کی بلکہ اس کے ساتھ یہ ظلم بھی کر دیا کہ عیسائی راہنما نعیم یعقوب گل (پاکستان مائنورٹیز الائنس ) اور سکھ راہنما سردار گرنیت سنگھ (دل خالصہ تحریک ) کو بھی بلا لیا۔۔۔ اور ان سب نے مل کر ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر انسانی زنجیر بنائی اور عہد کیا کہ اس مملکت خداداد پاکستانی کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے والوں کے خلاف ڈٹ کر رہیں گے۔
    ایک اور انکی غلط حرکت بتاتا جاوں۔ کہ یہ شدت پسند مولوی حد ہی کر دیتے ہیں کہ جہاں آگ لگے، یا حادثہ ہو یہ فٹ پہنچ جاتے ہیں زلزلہ یا سیلاب آئے تو کندھوں پر سامان اٹھا کر پہاڑوں میں پھنسے لوگوں کی مددکو پہنچ جاتے ہیں۔۔۔ موم بتی مارکہ این جی اوز ابھی پلاننگ ہی کر رہی ہوتی ہیں کہ یہ شدت پسند لوگ متاثرین و غربا کی دہلیز پر پہنچ کر انکی مدد کا اعلان بھی کر دیتے ہیں۔۔۔ انہوں نے تھرپارکر اور ہندو اکثریتی علاقوں میں 800 سے زائد پانی کے کویں تک کھود دئیے ہیں یار۔۔۔
    بہت ہی غلط لوگ ہیں یہ تو
    بھائی جان لکھیے انکے خلاف خوب زور و شور سے لکھئیے کیونکہ یہ ہیں ہی اس قابل۔۔۔

  • 11-04-2016 at 6:15 pm
    Permalink

    محترم ایڈمن صاحب عرض یہ ہے کہ پہلے غور کر لینا چاھیے کسی بھی بندے پر کیچڑ اچھالنے سے پہلے.
    آپ کی بات سمجھ سے بالاتر لگتی کیونکہ اک طرف آپ نے حمایت کی اور ٹھیک دوسری طرف آپ جھوٹے پروپیگنڈے کے تحت جماعت الدعوہ پر الزامات کے تابڑ توڑ حملے کرتے نظر آے.
    جناب بات یہ ہے جب جماعت الدعوہ کی اس میڈیا پروپیگنڈے پر نظر پڑی تو اسی وقت اپنا سچا اور ُسچا موقف لوگوں کے سامنے رکھ دیا.
    کہ لاہور میں کوی متوازی عدالت نہیں بنای بلکہ یہ ثالثی کونسل ہے جس میں لوگ اپنی مرضی سے آتے ہیں اور قرآن و سنت کی روشنی میں ان فریقین کے راضی ہونے پر ثالثی کا کام سرانجام دیا جاتا ہے.
    میڈیا اب بھی ڈالر کھا کے جھوٹا پروپیگنڈہ کرتا ہے تو کرتا رہے.

Comments are closed.