دس اپریل 1986۔۔۔ وہ دن کہ جس کا وعدہ تھا (2)


razi uddin raziلو میاں کل جو خط تمہیں لکھنا شروع کیا تھا آج اسے مکمل کرتا ہوں۔ تم نے اپنے مختصر خط میں بار بار اصرار کیا ہے کہ میں 10 اپریل کے جلسے کی روداد تفصیل سے لکھوں کہ تم وہاں بدوؤں کے ملک میں خبروں سے محروم ہو۔ پرانے اور سنسر شدہ اخبارات پڑھتے ہو۔ اب آگے کا احوال سنو۔ شاکر سچ پوچھو تو مجھے یہ ساری تفصیل لکھنے کا لطف بھی بہت آ رہا ہے۔ میں اسے انجوائے کر رہا ہوں۔ میں فخر محسوس کر رہا ہوں کہ میں نے وہ سب کچھ دیکھا جس سے تم محروم رہے ہو۔ میں ایک تاریخی واقعے کا عینی شاہد ہوں۔ ایک ایسے واقعے کا کہ جو دوبارہ کبھی رونما ہی نہیں ہو گا۔ آج میں تمہیں خط میں اس کا احوال سنا رہا ہوں۔ کل کو جب تم ملو گے تو زبانی بھی سناؤں گا اور بے شمار باتیں بے شمار جزئیات ایسی بتاؤں گا کہ جو تحریر کرنے بیٹھوں تو پوری کتاب بن جائے۔

دیکھو بات پھر کہیں کی کہیں نکل گئی۔ اب احوال کو مختصر کرتے ہوئے تمہیں ریگل چوک لیے چلتا ہوں۔ 10 اپریل سہ پہر تین بجے میں ریگل چوک میں موجود تھا اور سامنے ٹرک پر بے نظیر بھٹو ہاتھ لہرا کر میرے نعروں کا جواب دے رہی تھیں۔ تم میرے اس جملے پر مسکرا رہے ہو ناں کہ لاکھوں کے ہجوم میں بے نظیر میرے نعرے کا ہی جواب کیوں دے رہی تھیں۔ شاکر یقیناً وہ میرے نعرے کا نہیں وہ سب کے نعروں کا جواب دے رہی تھیں لیکن میرے محسوسات یہی تھے کہ جیسے وہ صرف میرے نعرے کا جواب دے رہی ہیں۔ میں نے نعرہ ہی اتنی قوت سے لگایا تھا کہ لاکھوں آوازوں میں بھی مجھے یقین ہو گیا تھا کہ میری آواز ہی ان تک پہنچی ہو گی۔ اور صرف میری ہی انہیں اس ہجوم 41353_15میں موجود ہر شخص کی یہی کیفیت تھی۔ میں بے نظیر بھٹو کو اپنے سامنے دیکھ رہا تھا۔ ایک خواب حقیقت بن چکا تھا۔ لیڈر ہمارے سامنے تھی۔ بے نظیر ہمارے سامنے تھے۔ بھٹو کی تصویر ہمارے سامنے تھی۔ مجھے یقین نہیں آ رہا تھا کہ میں بے نظیر بھٹو کی جھلک دیکھنے میں کامیاب ہو گیا ہوں۔ میں نے پہلی بار بے نظیر صاحبہ کو دیکھا تھا اور مجھے یاد آرہا تھا وہ لمحہ جب میں نے پہلی اور آخری مرتبہ بھٹو صاحب کو دیکھا تھا۔ کینٹ میں ہمارے گھر کے پاس مال روڈ سے بھٹو صاحب کی سواری گزری تھی۔ 1977ء کے الیکشن سے کچھ پہلے کے دن ہوں گے۔ سردیاں تھیں۔ سامنے سڑک پر جب پولیس والے تعینات ہو جاتے تھے تو ہمیں معلوم ہو جاتا تھا کہ بھٹو صاحب یہاں سے گزرنے والے ہیں۔ وہ مال روڈ اور چوک عزیز ہوٹل کے راستے نواب صادق حسین قریشی کے گھر جایا کرتے تھے۔ تمہیں تو معلوم ہی ہے کہ بھٹو صاحب کی کابینہ میں جو بہت سے میر جعفر اور میر صادق شامل تھے نواب صادق حسین قریشی بھی انہی میں سے ایک تھا۔ تو ایک روز جب پولیس سکواڈ کے سائرن کی آواز سنائی دی تو میں بھاگتا ہوا ننگے پاؤں گھر سے باہر نکل آیا (مجھے نہیں یاد کہ اس سے پہلے یااس کے بعد کبھی میں ننگے پاؤں گھر سے نکلا ہوں) اور سڑک پر جا پہنچا۔ بس ایک لمحے میں بھٹو صاحب کی جیپ میرے سامنے سے گزر گئی۔ انہوں نے ماؤ کیپ پہن رکھی تھی اور وہ کھلی جیپ میں کھڑے تھے۔ بہت سے لوگ سڑک کے کنارے جمع تھے۔ سب نے تالیاں بجائیں میں نے بھی تالیاں بجائیں۔ بہت زور زور سے تالیاں بجائیں۔ اورجب بھٹوصاحب نے ہاتھ ہلایا تو مجھے محسوس ہواکہ جیسے انہوں نے مسکرا کر میری ہی تالیوں کا جواب دیا ہے۔ اور 10 اپریل کو بھی میں یہ سمجھ رہا تھا کہ بے نظیر بھٹو نے صرف میرے ہی نعرے کا جواب دیا ہے۔ بہت جذباتی لمحہ تھا شاکر۔ ایک آنسو benazirbhutto-afpمیری آنکھوں سے نکلا اور میرے ساتھ کھڑے شخص کے دامن میں جذب ہو گیا کہ اس ہجوم میں وہ آنسو سڑک پر گر ہی نہیں سکتا تھا اسے جذب کرنے کے لیے بہت سے کندھے اور بہت سے دامن موجود تھے۔ مجھے تو امید ہی نہیں تھی کہ میں ٹرک کے قریب پہنچ سکوں گا میں صفانوالہ چوک سے گھسٹنا شروع ہوا تھا۔ تا حدِ نظر سر ہی سر تھے۔ ریگل چوک بہت دور تھا۔ ایک بار تو یوں لگا کہ میں کبھی چوک تک نہ پہنچ سکوں گا۔ پھر ایک ریلا آیا اور مجھے اپنے ساتھ بہا لے گیا۔ میں خود تو نہیں چل رہا تھا بس لوگ چل رہے تھے۔ ایک سیلاب تھا انسانوں کا جس کے ساتھ میں بہہ رہا تھا۔ یہ سیلاب مجھے چوک کے قریب لے آیا اور پھر میں لوگوں کو چیرتا ہوا چوک میں لگے لوہے کے پائپوں تک پہنچ گیا۔ میں نے مسجد شہداء کے سامنے سڑک کنارے فٹ پاتھ کے ساتھ لگے لوہے کے پائپوں کو تھام لیا اور یہی پائپ میرا سہارا بن گئے ۔ اب ہجوم مجھے سڑک سے دور نہیں کر سکتا تھا کہ جب کوئی ریلا آتا اور مجھے دھکیلنے کی کوشش کرتا تو میں ان پائپوں کو مضبوطی سے تھام لیتا تھا۔ وہ پائپ مجھے دوسری جانب نہیں جانے دیتے تھے۔ بے نظیر بھٹو صاحبہ کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے اس سے مناسب جگہ کوئی اور ہو ہی نہیں سکتی تھی۔ تاحدِ نظر ہجوم، سجے ہوئے ٹرک اور گاڑیاں۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ بے نظیر والا ٹرک یہاں سے گزر چکا ہے یا ابھی آنے والا ہے۔ ہر طرف ایک جیسا جوش و خروش، ایک سے نعرے، لہراتے پرچم اور ڈھول تاشے، کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ کسی سے پوچھنا بھی چاہا تو معلوم نہ ہو سکا کہ بے نظیر صاحبہ نے ریگل چوک کراس کر لیا ہے یا نہیں۔ لیکن

Pakistani People's Party leader (PPP), Benazir Bhutto, delivers a speech, 18 April 1986, few days after her release, in Rawalpindi. Born in 1953 in Karachi and eldest daughter of former Prime Minister of Pakistan Zulfikar Ali Bhutto, she studied at Harvard University. In 1979 her father is hanged and she becomes leader of Pakistan People's Party. Benazir Bhutto spends seven years in exile or under house arrest. In 1986 Bhutto returns to Pakistan and on April 1987 becomes Prime Minister of Pakistan. On December 2, 1988 Benazir Bhutto was sworn in as Prime Minister of Pakistan, becoming the first woman to head the government of an Islamic State. She was re-elected in 1993 but was dismissed three years later accused of corruption scandals concerning contracts awarded to Swiss companies during her regime. In 1996 Bhutto removed from government and lived in exile in UK. Her husband, Asif Ali Zardari, spent eight years in jail until he was released in November 2004.

مختلف مکانوں، درختوں اور ٹریفک سگنلز والے کھمبوں پر شست لگا کر بیٹھے ہوئے فوٹو گرافروں کو دیکھ کر اندازہ ہو رہا تھا کہ ٹرک ابھی تک یہاں نہیں پہنچا۔ اور ایک مزے کے بات سنو۔ ٹریفک سگنل کا ایک پائپ جو دوہرا ہو کر سڑک کے کم و بیش درمیان تک آتا ہے اس پائپ پر فوٹو گرافر فاضل بھٹی ٹانگیں پھنسا کر بڑی مہارت سے بیٹھا تھا۔ فاضل بھٹی تو تمہیں اچھی طرح یاد ہو گا۔ نوائے وقت ملتان کے لیے فوٹو گرافی کرتا تھا۔ گنجا سا، دبلا پتلا۔ جو کیمرے کے شٹر کے ساتھ اپنا منہ کھولتا تھا اور بعض اوقات جب کوئی تقریب طوالت اختیار کرتی تو کرسی پر منہ اور کیمرہ بند کر کے سو بھی جاتا تھا۔ آج کل وہ لاہور ہی میں ہے۔ اس خطرناک پوزیشن میں بیٹھا کیمرے کے نہیں اپنی عینک کے شیشے صاف کر رہا تھا۔ میں دو بجے سے یہاں کھڑا تھا۔ اور پھر رفتہ رفتہ ٹرک کے آثار دکھائی دیئے۔ ٹرک آہستہ آہستہ رینگتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا۔ اور اس پر پھولوں کی پتیاں نچھاور ہو رہی تھیں۔ سرخ گلاب کے پھول بھٹو کی تصویر بے نظیر پر نچھاور کئے جا رہے تھے۔ چھتوں سے عورتیں دوپٹے پھینک رہی تھیں اور بے نظیر وہ دوپٹے اپنے سر پر اوڑھ رہی تھیں۔ خوشی سے تمتماتا چہرہ۔ سر پر چلچلاتا سورج، صبح چھ بجے سے وہ ٹرک میں کھڑی تھیں اور اب 3 بج چکے تھے۔ سامنے ایک مکان کی چھت پر ایک عورت آئس کریم کھا رہی تھی۔ بے نظیر نے اس کی طرف اشارہ کیا کہ آئس کریم مجھے بھی کھلاؤ۔ عورت نے آئس کریم ٹرک کی طرف اچھال دی۔ آئس کریم کا کچھ حصہ ہجوم پر بھی گرا مگر وہ آئس کریم بے نظیر تک پہنچ ہی گئی۔ انہوں نے اس عورت کا شکریہ ادا کر کے وہ آئس کریم کھانا شروع کر دی۔ فضا ’’نعرہ نعرہ نعرۂ 264186_166119386788264_100001706118430_418986_406313_nبھٹو، جیوے جیوے جیوے بھٹو‘‘ سے گونج اُٹھی۔ بے نظیر کو شاید خود بھی اتنے بڑے استقبال کی توقع نہ ہو گی۔ میرا ہی نہیں دو چار روز پہلے تک ہر شخص کا یہی خیال تھا کہ بس مناسب سا استقبال ہو گا۔ یہ تو کسی کے گمان میں بھی نہیں تھا کہ پورا پاکستان لاہور میں اُمڈ آئے گااور لاہور کی سڑکیں تنگ پڑ جائیں گی۔ ٹرک آہستہ آہستہ آگے نکل گیا۔ اب دوبارہ اس ٹرک کے قریب پہنچنا ممکن ہی نہیں تھا۔سو میں ہجوم میں گم ہو گیا۔ جلوس کی مخالف سمت میں چلنے لگا یہ دیکھنے کے لیے کہ یہ جلوس کتنا طویل ہے۔ اس جلوس میں بہت سے رنگ تھے۔ سندھی، بلوچی، پٹھان اور پنجابی سب اس کارواں میں شریک تھے۔ ہر زبان میں لکھے ہوئے استقبالیہ بینر، ہر صوبے کا لباس، یہ جلوس نہیں تھا یہ پاکستان کا کلچر تھا۔ کلچر جو آزادی کے نعرے لگا رہا تھا۔ ہجوم مشتعل ہونے کے باوجود نظم و ضبط میں تھا۔ غصہ صرف چہروں اور نعروں سے عیاں تھا۔ ’’امریکہ نے کتا پالا، کالی کالی مونچھوں والا‘‘۔ بھئی کیا زبردست نعرہ ہے۔ بس مجھے لفظ مونچھوں پر اعتراض ہے یہاں اگر مونچھوں کی جگہ ’’تسموں‘‘ استعمال کیا جاتا تو نعرہ مزید بامعنی ہو جاتا اور بھٹو صاحب کی روح بھی خوش ہوتی کہ انہوں نے سہالہ ریسٹ ہاؤس میں جنرل ضیاء کی مونچھوں کے تسمے بنانے ہی کی تو بات کی تھی۔ اور بات یہیں سے تو شروع ہو کر پھانسی تک پہنچی تھی۔ ایک ٹرک میں ایک کتا بھی بٹھایا گیا تھا۔ اصلی والا کتا۔ اس کے گلے میں ضیاء الحق کی تصویر ڈالی گئی تھی، وقفے وقفے سے اس کی پٹائی بھی ہو رہی تھی۔ سچ پوچھو تو مجھے کتے پر ترس آیا۔ لیکن شاکر یہ نفرت ہے، غصہ ہے، پابندیوں، پھانسیوں، کوڑوں اور جلاوطنیوں کا ردِ عمل ہے۔ میں چئیرنگ کراس تک یہ سارے منظر دیکھتا رہا اور پھر جلوس سے الگ ہو گیا۔

05_benazir_butto_340_2006_05_23_h0m33s44اب مجھے مینار پاکستان جانا تھا۔ جہاں جلوس کے اختتام پر جلسۂ عام ہوگا۔ میں جلوس کے پہنچنے سے پہلے وہاں پہنچنا چاہتا تھا تاکہ وہاں بھی کوئی مناسب جگہ مل سکے۔ مینار پاکستان۔ ایک تاریخی جگہ کہ جہاں 1940ء میں قرارداد پاکستان منظور ہوئی تھی اور یہی مینارِ پاکستان آج 10 اپریل کو ایک اور تاریخی منظر دیکھنے والا تھا۔ کہتے ہیں کہ کسی کے جلسے کو ناکام کرنا ہو تو اسے مینارِ پاکستان لے جاؤ کہ منٹو پارک کے گراؤنڈ اتنے وسیع ہیں کہ بھرنے کا نام ہی نہیں لیتے۔ لاکھوں لوگ بھی سما جائیں تو گراؤنڈ خالی نظر آتا ہے۔ مگر شاکر آج یہ گراؤنڈ چھوٹے پڑ گئے تھے۔ میں جلوس کی آمد سے بہت پہلے وہاں پہنچا تو گراؤنڈ کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ بادشاہی مسجد اور شاہی قلعے میں بھی لوگ ہی لوگ تھے بھاٹی گیٹ تک تِل دھرنے کو جگہ نہ تھی۔ محتاط اندازہ ہے کہ جلسے میں 15 لاکھ افراد تھے مگر بی بی سی کا تبصرہ بہت اچھا ہے کہ وہاں اتنی خلقت تھی کہ جسے گِنا نہیں جا سکتا ۔ بے نظیر بھٹو جب وہاں پہنچیں تو شام ہونے والی تھی۔ ٹرک کو سٹیج تک لے جایا گیا اور پھر بے نظیر بھٹو کی آواز سنائی دی۔ ان کا لب و لہجہ انگریزی تھی۔ اردو انہیں ٹھیک طرح بولنا نہیں آتی۔ مگر جوش اور ولولہ بے پناہ ہے۔ واقعی بھٹو کی تصویر، بلکہ بھٹو کی تقریر، بے نظیر نے جلسے میں ایک نظم پڑھی ’’میں باغی ہوں، میں باغی ہوں ۔۔۔ جو چاہے مجھ پر ظلم کرو‘‘ ۔ بڑی زور دار نظم تھی وہ نظم انہوں نے بہت پرجوش طریقے سے پڑھی اور پھر جلسے کا اختتام ہوا۔ اختتام بھی زور دار تھا۔ بے نظیر بھٹو نے لاہوریوں کے انداز میں ’’ضیاء الحق جاوے ای جاوے‘‘ کا نعرہ لگا کر سب کو نہال کر دیا۔ اور پھر ’’جاوے ای جاوے، جاوے ای جاوے‘‘ کو اس تواتر سے کہا کہ باقاعدہ ردھم بن گیا۔ پوری خلقت ’’جاوے ای جاوے‘‘ کہنے لگی۔ شام کے سائے گہرے ہونے لگے تو جلسہ ختم ہو گیا لیکن جلسہ ختم کہاں ہوا تھا۔ ’’جاوے ای جاوے‘‘ کا نعرہ واپس جانے والے قافلوں کا زادِ سفر بن گیا تھا۔ اب پاکستان کی ہر گلی اور محلے میں ’’ضیاء الحق جاوے ای جاوے‘‘ کا نعرہ سنائی دے رہا ہے۔

لو بھائی شاکر دوسری رات تمام ہوئی اور یہ خط بھی ۔۔۔ تمہیں باخبر رکھنے کے لیے بہت مشقت کرنا پڑی ۔ تمہیں کس نے کہا تھا کہ بدوؤں کے دیس میں جاؤ اور دنیا سے بے خبر ہو جاؤ۔۔۔۔  بس اب خط سمیٹ رہا ہوں۔ صبح دفتر بھی جانا ہے اور پرسوں امتحان بھی ہے۔ جاتے جاتے ایک نعرہ ۔ ’’ضیاء الحق جاوے ای جاوے‘‘ لیکن بھائی یہ تو بتاؤ کہ ضیاء الحق کب جاوے گا۔۔۔؟

او کے ۔ ڈئیر چلتا ہوں اب

والسلام

تمہارا

رضی


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “دس اپریل 1986۔۔۔ وہ دن کہ جس کا وعدہ تھا (2)

  • 10-04-2016 at 9:48 pm
    Permalink

    رضی بھائی، زندہ باد۔ آپ کے رپورٹ نما خط نے سماں باندھ دیا۔ میرے منہ سے بے اختیار نکلا،” کیا بات تھی بے نظیر کی، مار دی سالوں نے” پھر آنکھیں بھر آئیں۔ میں لڑکپن کے علاوہ کبھی ” پیپلیا” نہیں رہا لیکن بھٹو شروع میں اور بے نظیر آخر میں رہنما ہی لگے کیوں کہ وہ رہنما تھے۔

  • 13-04-2016 at 2:08 am
    Permalink

    مجاہد بھائی خوش رہیں آپ ۔۔ میں آپ کی رائے سے متفق ہوں

Comments are closed.