نظریات کی جنگ میں پھنسا بز اخفش


zafar kakar محترم ضیا الدین یوسف زئی صاحب نے بزاخفش کا تذکرہ کر دیا۔ محسوس ہوتا ہے کہ ہم پورے یقین سے بزاخفش بنتے جا رہے ہیں مشکل یہ ہے کہ اخفش صاحب کے بز کو بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کس بات پر سر ہلا رہا تھا اور ہم میں سے بھی بہت سے لوگ نہیں جانتے کہ جن اصطلاحات کو سینے سے لگا کر ہم سر ہلا رہے ہیں وہ صحیح بھی ہیں یا نہیں۔ کسی حد تک صحیح اور غلط کی بحث بھی بعد کی ہے پہلے معلوم کرنا چاہیے کہ کیا ان اصطلاحات کا اصلاََمفہوم وہی ہے جو ہم اخذ کر رہے ہیں یا کہیں بدل چکا ہے۔ بات بیانیے کی چل رہی ہے۔ جاننے کی کوشش یہ کی جا رہی ہے کہ بانی پاکستان ایک سیکولر ریاست چاہتے تھے یا مذہبی ریاست۔ دلائل کا انبار ہے جس سے ایک سماج میں دو الگ تصوراتی معاشرے بنتے نظر آ رہے ہیں۔

ایک نقطہ نظر مذہب کو فطری تقاضا قرار دے کر بحث کا آغاز کرتا ہے۔ شریعت خداوندی کو انسان کی بعثت کا مقصد قرار دے کر آخری آسمانی شریعت محمدی ﷺ کے نفاذ کو لازم سمجھ لیتا ہے۔نفاذ کا یہ عمل انسانی زندگی سے نکل کر ریاستی زندگی میں خلافت کے قیام تک آتاہے۔اس ضمن میں مدنی ریاست کو رول ماڈل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے پھرملوکیت ، بھانت بھانت کی بادشاہتیں، کونے کونے سے اٹھنے والے خود مختار سلاطین کو خلافت کے کڑی یا کم تر درجے میںمسلمانوں کی صدیوں کی عظیم حکمرانی قرار دے کر عظمت رفتہ کی داستانوں پر ایک نہ ختم ہونے والی جگالی کا سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ امت کے بہی خواہ امت کو فرقہ بندی جیسے ذیلی عنوانات میں تقسیم کر کے اپنے اپنے فرقے کو ناجی سمجھ کر پورے یقین سے جنت کی کمائی کا سامان بھی کر رہے ہیں اور اسی تقسیم کو (جس میںدوسرے فرقوں کو کافر، مشرک، بدعتی اور گستاخ سمجھنا عین ثواب کا کام ہے) تخیلاتی طور پر ختم سمجھ کر ایک عظیم امت کی خلافت کا خواب بھی دیکھ رہے ہیں۔ آخری تجزیئے میں دلیل کی پستی یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ عافیہ صدیقی کی حمایت کو اسلام پسندی اور ملالہ کی حمایت کو اسلام دشمنی سمجھا جاتا ہے۔جنازے کی تعداد اور جنازے کی تصاویر حق و باطل کا معیار ٹہرتی ہیں۔ بات اسلامی لباس (اگر ایسی کوئی چیز ہے) سے بہت آگے بڑھ کر حلوے اور کھیرے کو شریف کہنے یا نہ کہنے تک آجاتی ہے۔بات یہاں بھی نہیں رکتی بلکہ کسی مسیحی کو ہیپی کرسمس، کسی ہندو کو دیوالی مبارک کہنے سے بھی ایمان کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔

دوسرا نقطہ نظر انسانیت سے بات اٹھاتا ہے۔ مذہب کو فرد کا نجی معاملہ قرار دیتا ہے۔ریاست کو آئین سازی یا قانون سازی سیکولر خطوط پر کرنے کا مشورہ دیتا ہے۔ انسانوں کے لئے امن، تحفظ اور انصاف کا طریقہ کار یہ تجویز کرتا ہے کہ ریاست تمام شہریوں کو مساوی حقوق دے اور کسی الوہی یا نظریاتی مقصد کی بجائے ریاست انسانوں کی دنیاوی زندگی بہتر بنانے کو نصب العین بنائے۔گاہے یہاں سے بھی ایسی صدائیں بلند ہوتی ہیں کہ ریاست کو فرد کی زندگی میں مداخلت کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔پھر یہ حق حاصل نہ ہونا شراب پینے یا جوا کھیلنے کی اجازت نہ ملنے کو بھی ریاستی جبر قرار دیا جاتا ہے۔مذہب کو فرد کا نجی معاملہ قرار دے کر مذہب کو ٹی وی سکرینوں، اخباری صفحات اور چائے خانوں کی میزوں پر خود ہی زیر بحث لاتے ہیں۔

اس بات کو تھوڑی دیر کے لئے موخر کر دیتے ہیں کہ اصطلاحات نے کہاں سے جنم لیا اور ان کا مفہوم کیا ہے یا بانی پاکستان کیسی ریاست چاہتے تھے بلکہ بیانیے کے فریقین سے کچھ الجھے سوال پوچھنے کی جسارت کرتے ہیں۔جو لوگ خلافت کے علمبردار ہیں ان سے پوچھنا چاہیے کہ آج کی جدید ریاست کو سامنے رکھتے ہوئے کچھ سوالات ہیں جو ابھی تک جواب طلب ہیں۔جاننا چاہیے کہ عرب سرزمین پر جنم لینی والی مدنی ریاست کسی خدائی اسیکم کا نتیجہ تھی یا یہ ایک غیر ریاستی بندوبستی علاقے میں انسانی ارتقاءکی صورت میں ظہور پذیر ہوئی؟ پھر خلافت اصلاََ رہی کتنے عرصے تک؟ اگر تو مقصود اولین خلافت ہے تو سوال بنتا ہے کہ ہمارے جید اسلاف نے خلافت کے ملوکیت میں بدلتے ساتھ اس کو قبول کرنے سے انکار کیوں نہ کیا ( کچھ انفرادی آرا کو چھوڑ کر جو کہ یورپ میں اور امریکہ جمہوریت اور روس اور چین میں سوشل ازم کے خلاف بھی آئیں اور ابھی تک موجود ہیں) اور کم و بیش پوری امت عبدا لحمید ثانی کی خلافت تک اس کو خلافت ہی کیوں سمجھتی رہی؟ یہ معلوم ہے کہ انسانی تاریخ میں خون زیزیاںہمیشہ حصول اقتدار کی خاطر ہوئی ہیں۔ کیا مجوزہ خلافت میں خلیفہ کے انتخاب کے لئے کوئی طریقہ کار موجود ہے؟ کیا جس خلافت کو الہامی قرار دیا جا رہا ہے اس میں خلیفہ کے مواخذے کا کوئی طریقہ کار موجود ہے؟ کیا نیشن اسٹیٹس کو تسلیم کرنے بعد یہ خلافت کسی ایک ملک تک محدود رہے گی یا یہ ماضی کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے اپنی سرحدوں کی توسیع کے لئے جنگ لڑنے کی بھی اہل ہو گی؟ اور اگر ہو گی تو اپنا وجود کب تک برقرار رکھ پائے گی؟کیا خلافت کے داعی عالمی سرحد بندی پر یقین رکھتے ہیں؟ اگر رکھتے ہیں تو اس کے اصول انہوں نے کہاں سے لئے؟کیا اس مجوزہ ریاست کے لئے ہمارے پاس کوئی سیاسی یا معاشی نظام موجود ہے؟ یہ بات سننے میں بہت دل کش ہے کہ ہمارے اسلاف جدید علوم کے بانیوں میں سے تھے یا پھر عرب سے عجم تک دنیا بھر میں ہماری تحقیقات کا غلغلہ ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے پاس کوئی مربوط اپنا نظام بھی ہے؟ اگر ہے تو اس کو کہاں اور کب آزمایا گیا؟ لوگ شاید بھول چکے ہیں مگر ابھی چند برس پیشتر کی بات ہے کہ پختوانخوا اسمبلی میں جو حسبہ بل پیش کیا گیا وہ میاں نواز شریف کے سنہ اکانوے کے شریعت بل کا ہو بہو چربہ تھا ۔اس سے بڑھ کر اہم سوال یہ ہے کہ مذہب سے زندہ تعلق برقرار رکھنے کے لئے کیا اس’ فقہی روایت‘ کا جائزہ لیا گیا جو پیغمبرﷺ کے دین دینے کے بعد ہمارے جیسے انسانوں کے تفہیم کے نتیجے میں سامنے آیا؟ اس تفہیم کے تین مظاہر جدید دور میں سعودی عرب ، ایران اور ملا عمر کے افغانستان میں نظر آئے۔ سوال یہ ہے کہ ان مظاہر میں سزاﺅں کے علاوہ کیا چیز تھی جس کو اسلامی کہا جا سکتا ہے یا پھر وہ کونسی چیز تھی جو پاکستان میں یا کسی اور مسلم ملک نہیں ہے؟ اگر ایسی کوئی خلافت کسی ملک میںقائم ہو جاتی ہے( فرض کر لیجیے) تو کیا باقی اسلامی ممالک اسے قبول کریں گے؟ اگر کر لیں تو مذاہب اربعہ ( احناف، شوافع، حنابلہ،مالیکیہ) میں موجود فقہی تعبیرات کا اختلاف( جو نماز سے لے کر توہین رسالت و ارتدادکی سزا تک موجود ہے) کیسے رفع ہو گا؟ اور اگر باقی اسلامی ممالک قبول نہیں کریں گے تو کیا خلیفہ ان کے خلاف جنگ کرے گا جیسا کہ ماضی میں ہوا ہے؟ ایسے ہزاروں سوال ہیں جو ابھی تک جواب طلب ہیں۔ کہنے کو تو کوئی کہہ سکتا ہے کہ سید صاحب ابوالاعلی مودودی کی کتاب ’ اسلامی ریاست‘ میں جوابات موجود ہیں۔ سوال یہی ہے کہ کیا ان کے جوابات باقی مذاہب اربعہ اور مسالک کو قابل قبول ہیں؟ بلکہ باقی مسالک و مذاہب کی بات تو دور ہے خود ان کے اپنے ساتھی مولانا امین احسن اصلاحی نے ’اسلامی ریاست‘ لکھ کر ان کے طرز فکر سے اختلاف کیا ہے۔

دووسری جانب ملک کو سیکولر خطوط پر چلانے کی خواہش رکھنے والوں سے کچھ سوال پوچھے جا سکتے ہیں۔ پاکستان جیسے متنوع ملک میں جہاں سنی، بریلوی، شیعہ اور اہل حدیث رہتے ہیں، جہاں پنجابی، پشتون، بلوچ، سندھی، سرائیکی اور مہاجر رہتے ہیں۔ ایسی عصبیت میں جہاں اقوام اور مسالک کے درمیان سماجی معاہدہ( اگرچہ اس کو پاکستانیت کہا جا سکتا ہے) کمزور ہو وہاں نیا عمرانی معاہدہ کیا ممکن بھی ہے؟ قوموں کی تاریخ بتاتی ہے کہ قومیں جب تک ایک مضبوط سماجی معاہدہ میں بندھی نہ ہوں وہاں عمرانی معاہدہ یا سیاسی معاہدہ کے خد و خال تشکیل دینا قریب قریب ناممکن ہوتا ہے۔ کیا قوموں کی تاریخ یہ نہیں بتاتی (یورپ کی مثال لیجیے)کہ جن معاشروں میں سماجی معاہدے کی بنیادیں کمزور ہوں وہاں سیاسی معاہدے سے پہلے حیات نو(Renaissance) کی تحریک اٹھانی ضروری ہے۔ اور حیات نو سے پہلے اصلاح(Reformation) کی تحریک لازم ہے۔بانی پاکستان جیسی بھی ریاست چاہتے تھے کیا پاکستان بننے سے پہلے یا اس کے بعد قوم کسی اصلاحی یا حیات نو کی تحریک سے گزری؟ دو سیاسی معاہدوںکی اوپر تلے ناکامی کے بعد تیسرے معاہدے پر ایک ڈھیلا ڈھالا اتفاق ( جو ایک طبقے کے بقول نیم مذہبی ہے اور مکمل مذہبی ہونا چاہیے اوردوسرے کے بقول نیم سیکولر ہے اور مکمل سیکولر ہونا چاہیے) موجود ہے۔ آسان الفاظ میںپوچھا جا سکتا ہے کہ آپ فہرست کھنگالیے اور بتایئے کہ کیا پاکستان بننے سے پہلے یا اس کے بعد قوم کی صفوں میں کوئی روسو یا والٹئیر نظر آیا؟ مذہبی، لسانی اور قومی عصبیتوں سے بھرپور سماج میں کیا کوئی ایسا معاہدہ ممکن بھی ہے جو دنیاوی زندگی کو بہتر بنانے کے نصب العین پر کھڑا ہو، خصوصاََ اس سماج میں جہاں کے رہنے والی اٹھانوے فیصد باشندے الوہی زندگی کو دنیاوی زندگی پر فوقیت دیتے ہوں؟ ایک تجربہ ہم نے ترکی میں کر کے دیکھ لیا۔ ترکی میں وہ سارے عوامل جمع ہو گئے جو ایک قوم کو مذہبی عصبیت رکھتے ہوئے غیر مذہبی سیاسی معاہدے پر مجبور کیا گیا۔حتی کہ طاقت کا بے محابا استعمال کیا گیا یہاں تک کے عبادت گاہوں کو سرکاری تحویل میں لیا گیا اور جگہ جگہ پر تالے لگائے گئے۔ صورت حال مگر یہ ہے کہ گزشتہ کافی سالوں سے ترکی میں میں مذہبی عصیبت کے حامل لوگ برسراقتدار ہیں۔ ایک تجربہ سویت یونین میں ہوا کہ کمیونزم کا آہنی پردہ تان کر لوگوں کو تاثر دیا گیا کہ ہم نے مذہب کا خاتمہ کر دیا مگر ادھر سویت یونین کا زوال ہوا ادھر چرچ انسانوں سے بھر گئے۔

کیا یہ اعتراف نہیں کر لینا چاہیے کہ پاکستانی سماج میں موجود مذہبی، سماجی اور سیاسی عصبیت نے سماج کو ارتقاءکی بجائے تقسیم کے گہرے خلیج کی نذر کر دیا ہے؟ ایسے میں کسی مذہبی خلافت کے قیام یا کسی سیکولر عمرانی معاہدہ کی جدوجہد کی بجائے دونوں نقطہ نظر اپنے اپنے نظریات و ترجیحات کا پرچار کرتے ہوئے کم ازکم کسی سماجی معاہدے کی تشکیل میں مدد کریں۔ کسی بھی معاہدے چاہے وہ سیاسی ہو، سماجی ہو یا مذہبی ہو، کے فروغ کی اولین شرط سماج کا امن ہے۔ کیا دونوں طبقے ایک بہتر مکالمے کے ساتھ امن کے قیام کے لئے بنیادی جدوجہد پر آمادہ نہیں ہو سکتے؟ یہ بات گو تلخ ہے مگر مبنی بر حقیقت ہے کہ سماج میں تشدد کے فروخ میں کردار ہمیشہ قدامت پسندوں کا رہا ہے۔ مذہبی طبقات کو کم از کم اس حقیقت کا ادراک اب کر لینا چاہیے اس دور کے عقلیت پسند انسان کو اپنی بات طاقت کے بل پر سمجھانا اب ممکن نہیں رہا اور نہ ہی کسی بہتر تعبیر کے بنا تقدس کے نام پر اسلاف کے دوانین اب سماج کے عقلیت پسند انسان کو قائل کرنے کے لئے کافی ہیں۔

اپنے فکری اور علمی دائرے میں رہتے ہوئے نظریات کی پرچار کے ساتھ ایک نظر اپنے نظریات اور سماج میں اس کے امکانات پر ڈال لینی چاہیے کہیں نظریات کی جنگ میں پھنسا انسان بز اخفش نہ بنتا جا رہا ہو۔


Comments

FB Login Required - comments

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 83 posts and counting.See all posts by zafarullah

7 thoughts on “نظریات کی جنگ میں پھنسا بز اخفش

  • 10-04-2016 at 6:41 pm
    Permalink

    بہت عمدہ اور متوازن تحریر

    • 11-04-2016 at 1:58 am
      Permalink

      شکریہ سلمان صاحب

  • 10-04-2016 at 7:32 pm
    Permalink

    قابلِ غور مسائل کی بہترین نشاندہی کی گئی ھے۔۔۔ اس امکان پر توجہ دی جانی چاھۓ کہ مطلوب قومی بیانییہ مذہبی (دینی) اور سیکولر بیانیوں کے درمیان کا کوئی راستہ بھی ھو سکتا ھے۔ تاھم جیسا کہ اشارہ کیا گیا ھے، مذہبی حلقوں کو اپنے بیانیے کے اساسی اصولوں (منہج) پر غور و تفکرکی زیادہ ضرورت ھوگی، سیکولر حلقوں کو بھی یہ تسلیم کرنا ھوگا کہ ریاستی نہ سہی لیکن حکومتی امور میں مذ ہب کے کردار سے گریز ممکن نہیں ھوگا۔
    عصبیتی تقسیم سے دوچار مملکتِ پاکستان کے شہریوں کو ایک قوم بننے کیلۓ ایک ایسا نظریہ درکار ھے جوتمام شہریوں (یا ایک عظیم اکثریت) کویکساں طور پر متحرک کرنے کی بنیاد فراھم کر سکے اور ان میں قومی وحدت پیدا کرسکے، اس احقر کی راۓ میں یہی سوچنے کی بات اور کرنے کا کام ھے۔

  • 10-04-2016 at 10:03 pm
    Permalink

    تشکیل ریاست کو نظرانداز کرکے تکمیل ریاست کا خواب بے معنی ہے

  • 11-04-2016 at 2:21 am
    Permalink

    تاریخ کا سبق یہی ہے کہ الوہی احکامات کو بنیاد بنا کر دنیا میں خدائی فوجدار بننے والی قوتیں سمجھوتوں کی قائل نہیں ہو سکتیں۔ آگ اور پانی کا ملاپ ممکن نہیں لہٰذا ایسے کسی درمیانی راستے کی تلاش بے کار ہے ۔ کوئی بھی ریاست اس وقت تک سب کی سانجھی نہیں ہو سکتی جب تک اس کے مختلف طبقات بلالحاظ رنگ، نسل، مذہب (وغیرہ) یکساں درجے کے حامل نہ ہوں اس جنگ میں فرسودگی اور قدامت پرستی کی شکست نوشتہ ِ دیوار ہے اس میں دیر لگ سکتی ہے لیکن ایسا ہو گا ضرور۔ شہنشاہوں کی ہیبت کو دیکھ کر کون کہہ سکتا تھا کہ بادشاہتیں ا ماضی کا قصہ بن جائیں گی لیکن ایسا ہو گیا کیونکہ تاریخ کا پہیہ صرف آگے کو چلتا ہے پیچھے کو نہیں ۔روس یا ترکی کی مثال یہاں منطبق نہیں ہو سکتی کیونکہ انسانی تاریخ میں سو پچاس سال کوئی معنی نہیں رکھتے یہ کئی صدیوں پر محیط عمل ہے اور اس کی راہ روکنا کسی کے بس کی بات نہیں

  • 11-04-2016 at 11:48 am
    Permalink

    یہ تو فاضل مصنف نے درست لکھا کہ پاکستانی سماج میں موجود مذہبی، سماجی اور سیاسی عصبیت نے سماج کو ارتقاءکی بجائے تقسیم کے گہرے خلیج کی نذر کر دیا ہے
    لیکن ہمارا فاضل مصنف سے سوال یہ ہے کہ جب پچھلے سالوں میں یہ تقسیم روبہ عمل تھی اس وقت فاضل مصنف کی ہمدردیاں کس کے ساتھ تھیں ؟ بحیثیت قبیلہ ۔ بحیثیت قومیت ، بحیثیت خیال وہ کس گروہ کی حمایت میں تھے اور کیا وہ آج بھی انہی خیالات پر کاربند ہیں یا ان میں کچھ تبدیلی رونما ہوئی ھے ؟

    • 12-04-2016 at 1:39 am
      Permalink

      محترم اعجاز اعوان صاحب
      جب یہ تقسیم رو بہ عمل ہو رہی تهی تومبتدی سکول و کالج کی خاک چهان رہا تها البتہ یو سمجهنے سے قاصر ہوں کہ اس میں قبیلوی نقطہ نظر کی اہمیت کہاں سے در آئی؟ قومیت کو اگر زبان کی بنیاد پر برقرار رکهنے کا جواز ہے تو خاکسار پشتون شناخت سے نہ پنجابی شناخت بن سکتا ہے اور نہ سندهی. اور اگر قومیت ملک سے بنتی ہے تو خاکسار کو پاکستانی کہلوانے پر کوئی شرم نہیں ہے لیکن خاکسار کسی پاکستانی قومیت کے حامل کو کسی افغانی، بنگالی یا ہندوستانی قومیت پر افضل بهی قرار نہیں دیتا…جہاں تک فکر کی بات ہے تو خاکسار خود کو فاضل نہیں سمجهتا…ایک زمانے میں نیشلسٹ رہنا یا کسی دور میں نیم سوشلسٹ رہنا یا پهر مکمل مذہبی ہونا یا پهر بقول علماء دیسی لبرل ہونے کے تمام مراحل سے گذر چکا ہوں…فکری ارتقا کو جامد تصور کر کے ایک سوچ پر اڑے رہنا اس بات کی علامت ہے کہ حامل فکر خود کو مکمل حق پر سمجهتا ہے…خوش قسمتی سے خاکسار کو ایسا کوئی دعوه نہیں ہے…

Comments are closed.