پی ٹی وی، ریاستی ادارہ یا حکومتی ادارہ؟


saad usman عمران خان نے پانامہ لیکس کے معاملے پر سرکاری ٹی وی پر قوم سے خطاب کی خواہش کا اظہار کیا تھا جو کہ پوری نہیں ہوئی لہذا اب عمران خان اتوار شام 6 بجے براہ راست بنی گالہ سے قوم سے خطاب کریں گے اور اس کے لیے تحریک انصاف نے نجی میڈیا سے درخواست کی ہے کہ ان کے اس خطاب کو براہ راست نشر کیا جائے۔

عمران خان کی سرکاری ٹی وی پر خطاب کی خواہش سے ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیا ہے کہ کیا سرکاری نمائندوں کے علاوہ بھی کوئی شخص پی ٹی وی سے براہ راست قوم سے مخاطب ہو سکتا ہے یا نہیں ؟ پرویز رشید صاحب یہ ثابت کرتے ہوئے کہ پی ٹی وی صرف حکومت کی کوریج کے لیے ہے کہتے ہیں کہ “عمران خان کی خواہش پوری نہیں ہوگی۔ اگر آج عمران خان کو اجازت دے دی گئی تو کل پھر سب کو دینی پڑ جائے گی”۔ خان صاحب کا جواب تھا کہ ”سرکاری ٹی وی ریاست کی ملکیت ہے، حکومت کی نہیں۔ پی ٹی وی پر جنتا حق وزیراعظم اور وزراء کا ہے، اتنا ہی اپوزیشن کا بھی ہے۔ وفاقی وزراء نے سرکاری ٹی وی کے ذریعے قوم کو پانامہ لیکس کے معاملے پر گمراہ اور شوکت خانم اسپتال کے خلاف پراپیگنڈا کیا، پی ٹی وی کسی ایک فرد یا خاندان کی تشہیر کا آلہ کار نہیں بلکہ قومی اثاثہ ہے‘‘۔

یہاں دو وجوہات کی بنا پر خان صاحب کا موقف درست ثابت ہوتا ہے،

1ـ اگر وزیراعظم صاحب ذاتی نوعیت کے معاملات پر الزامات کا جواب پی ٹی وی پر دے سکتے ہیں تو کوئی بھی شخص ان الزامات کے جوابات کو غلط ثابت کرنے کے لیے پی ٹی وی کا سہارا کیوں نہیں لے سکتا؟

2ـ دھرنے کے دنوں میں خود حکومتی وزرا پی ٹی وی کو ریاستی ادارہ کہتے نہیں تھکتے تھے ِ اگر اس وقت پی ٹی وی ریاستی ادارہ تھا تو آج کیوں نہیں؟

حاصل کلام یہ کہ اگر مسلم لیگ نون پی ٹی وی کو فنڈ دیتی ہے اور پی ٹی وی کے لیے عوام سے کوئی ٹیکس نہیں لیا جاتا تو پھر ضرور نون لیگ کو اس پر اجارہ داری دکھانی چاہیے

لیکن اگر حکومت پی ٹی وی کا پیٹ سرکاری خزانے سے بھرتی ہے اور سرکاری ٹی وی کے لیے عوام سے بجلی کے بل میں 35 روپے ٹیکس لیتی ہے تو یقینا پی ٹی وی ریاستی ادارہ ہے مسلم لیگ نون کی جاگیر نہیں۔


Comments

FB Login Required - comments