کیا یہی سیاست ہے!


phpThumb_generated_thumbnailوزیراعظم نے عدالتی کمیشن بنانے کا اعلان کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج کو اس کا سربراہ بنانے کا وعدہ کیا تو ساری اپوزیشن بیک بیان چلانے لگی …. نہیں یہ بے ایمانی ہے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی نگرانی میں اس کی تحقیق ہونی چاہئے۔ وزیر داخلہ نے ایف آئی اے کے کسی بھی افسر سے پاناما پیپرز نامی انکشافات کی تفتیش کروانے کی پیشکش کی اور کہا کہ آپ اس مقصد کے لئے جس افسر کی طرف اشارہ کریں گے تو اسے یہ کام سونپ دیا جائے گا۔ تو عمران خان نے فوراً ایک ریٹائرڈ پولیس افسر کا نام تجویز کر دیا۔ گویا مسئلہ معاملہ کی تہہ تک پہنچنا نہیں ہے بلکہ اسے الجھائے رکھنا ہے۔ اگر معاملات صاف نکھر کر سامنے آ گئے تو سیاست کرنے ، الزام تراشی کا کھیل کھیلنے اور لوگوں کو مصروف رکھنے کا کوئی عذر موجود نہیں ہو گا۔ پھر لوگ ان سارے مسائل کو حل کرنے کا مطالبہ کریں گے جو انہیں درپیش ہیں اور جنہوں نے ان کی زندگی اجیرن کی ہوئی ہے۔

پاناما لیکس جس ہاتھی کا نام ہے، پاکستان میں فی الوقت کوئی بھی اس کی مکمل ہیئت اور شکل و صورت یعنی تفصیلات سے آگاہ ہونے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ گزشتہ چند روز کے دوران قومی اسمبلی اور ٹاک شوز میں جو چومکھی دیکھنے میں آئی ہے، اس کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ الجھے رہنا ہی ہمارے رہنماﺅں کے مفاد میں ہے۔ عوام و خواص یہ دیکھ رہے ہیں کہ سیاستدان اور لیڈر اس مفاد کا بخوبی تحفظ کر رہے ہیں۔ عمران خان اور ان کی تحریک انصاف کیوں کہ خود کو حقیقی اپوزیشن سمجھتی ہے اور یہ گمان بھی رکھتی ہے کہ اگر اس کے لیڈر کو وزیراعظم بنا دیا جائے تو سارے مسائل چٹکی بجاتے حل ہو جائیں گے، اس لئے اس پارٹی کی طرف سے پاناما پیپرز اور ان میں شامل معلومات سامنے آنے کے بعد اسے ملک کا سب سے بڑا معاملہ قرار دیتے ہوئے ایک طرف وزیراعظم کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا گیا تو دوسری طرف یہ یقین کرلیا کہ حسن و حسین نواز کے زیر ملکیتی چند آف شوز کمپنیوں کا انکشاف بجائے خود اس بات کا ثبوت ہے کہ شریف خاندان نے ملک و قوم کی بے پناہ دولت بیرون ملک منتقل کر دی ہے جس کی بنیاد پر یہ خاندان تو مزے لوٹ رہا ہے لیکن ملک پر قرضوں کے بوجھ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ عمران خان اور ان کے ساتھیوں کے بدلے ہوئے تیور دیکھ کر شریف خاندان کے وفادار اور حکومت کے اہم کارندوں نے شوکت خانم اسپتال کے اکاﺅنٹس کو بنیاد بنا کر پرانے الزامات کو اچھالنا اور کردار کشی کا کام شروع کر دیا۔ دونوں طرف سے ایک سا طرز عمل اختیار کیا جا رہا ہے۔ اس لئے یہ کہنا مشکل ہے کہ ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کے اس کھیل میں کون کامیاب ہے۔ شاید یہی سیاست ہے۔

اس دوران پیپلز پارٹی گرجتی برستی بھی ہے پھر آہستگی سے وزیراعظم کے استعفیٰ یا اسی قسم کے انتہائی مطالبوں سے علیحدہ بھی ہو جاتی ہے۔ بعض اوقات تو لگتا ہے کہ پیپلز پارٹی کے لیڈروں نے اپنے سب قائدین کو کھلا چھوڑ دیا ہے کہ وہ جو منہ میں آئے کہہ سکتا ہے۔ اس لئے کبھی چیف جسٹس کی نگرانی میں کمیشن کی بات کی جاتی ہے۔ کبھی فورنزک تحقیقات اور غیر ملکی آڈیٹرز کی خدمات حاصل کرنے کا مطالبہ سامنے آتا ہے اور کبھی شریف خاندان سے کہا جاتا ہے کہ وہ بتائے کہ یہ اثاثے کیسے اور کیوں کر بیرون ملک منتقل ہوئے۔ اس پر ملک میں کی گئی بدعنوانی اور منی لانڈرنگ کے ذریعے بیرون ملک سرمایہ منتقل کرنے کا الزام بھی نوک زبان آتا ہے۔ یہ وہی الزام ہے جس کا سامنا آصف علی زرداری کو ایان علی کی گرفتاری سے رہائی اور اس پر مقدمہ چلنے کی پوری مدت کے دوران کرنا پڑا تھا۔ اب پارٹی کو حساب برابر کرنے کا موقع مل رہا ہے تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ وہ پیچھے رہنے کی کوشش کرے۔

اس دوران اہل وطن کے مرغوب سازشی نظرئیے نے بھی گرمجوشی سے بحث کرنے والوں کا خوب ساتھ دیا ہے۔ یہ اہم سراغ لگایا گیا ہے کہ پاناما پیپرز میں جن ملکوں اور لیڈروں کے نام سامنے آئے ہیں، ان میں کسی ایسے ملک کا نام کیوں شامل نہیں ہے جو امریکہ کے حلقہ اثر میں ہو۔ اور اس فہرست میں امریکہ کی کمپنیوں اور لوگوں کا ذکر کیوں موجود نہیں ہے۔ پاناما پیپرز کے بارے میں تحقیق اور ترتیب کا کام جرمن اخبار سوڈنشے ایستونگ SZ نے تحقیقاتی جرنلسٹوں کے عالمی کنسورشیم آئی سی آئی جی ICIJ کے ذریعے کیا تھا۔ اس لئے سازش کے نظریہ پر دسترس رکھنے والوں کے لئے فطری طور سے یہ جاننا ضروری تھا کہ یہ کون سا ادارہ ہے۔ جب یہ معلوم ہوا کہ یہ ادارہ واشنگٹن میں قائم ہے اور 1997سے کام کر رہا ہے تو اس خوفناک عالمی سازش کی امریکی سرپرستی کا یقین کر لینے کے سوا کوئی چارہ بھی تو نہیں تھا۔ اس دوران روس نے اپنے صدر کے کرتوتوں اور چین نے اپنے سرمایہ داروں کے خفیہ ہتھکنڈوں سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لئے جب پاناما پیپرز کی معلومات کو مسترد کیا تو یہ بیان پاکستان میں سازشی تھیوری کے ماہرین کے بہت کام آئے۔ لیجئے اب امریکہ کی سرکردگی میں کام کرنے والے ایک ایسے ادارے کا سرا مل چکا ہے جس کی سرپرستی یہودی کرتے ہیں اور جس کا مقصد ایسے سب ملکوں کے لیڈروں کو بدنام کرنا ہوتا ہے جو امریکہ مخالف بلاک میں ہوتے ہیں۔ یہ سازشی تھیوری پاکستان کی حکمران جماعت کے بھی کام آ رہی ہے جو اس کے بعض حصوں سے استفادہ کرتے ہوئے اب یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اس حوالے سے سامنے لائی جانے والی خبر میں نواز شریف کا نام کیوں کر ایک خوفناک بین الاقوامی سازش کے نتیجے میں سامنے لایا گیا ہے۔ ورنہ ان کے نام سے تو کوئی آف شور کمپنی موجود ہی نہیں ہے۔ سندھ ہائیکورٹ بھی یہی کہہ رہی ہے کہ ان کاغذات میں نواز شریف یا ان کی بیگم کا نام کہاں ہے؟

اب کوئی اس سیدھے سوال کا جواب تو نہیں دیتا البتہ خودمختاری سے اپنا کامیاب کاروبار کرنے والے حسین اور حسن نواز کی کمپنیوں کی بنیاد پر نواز شریف پر الزامات کی بوچھاڑ کی جا رہی ہے۔ حالانکہ اب تو وزیراعظم کے بارے میں یہ بھی واضح ہو گیا ہے کہ وہ رائے ونڈ کے جس عالیشان محل میں رہتے ہیں، وہ دراصل ان کی والدہ کی ملکیت ہے۔ نواز شریف تو قوم کی خدمت اور آمر کے ہاتھوں انتقامی کارروائیوں سے نمٹنے میں اس قدر مصروف رہے کہ نہ اپنا گھر بنا سکے اور نہ کوئی ڈھنگ کی گاڑی خرید سکے۔ البتہ ان کے مرحوم والد اور ذہین اور محنتی اولاد نے خوب دولت پیدا کی۔ تو وزیراعظم اس کا جواب کیوں دے۔

سب جانتے ہیں کہ یہ ڈرامہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کوئی نیا کھیل سیاستدانوں کے ہاتھ نہیں آ جاتا۔ اس دوران دنیا کے سو سے زائد میڈیا ہاﺅسز ، 400 کے لگ بھگ صحافی آئی سی آئی جے ICIJ کے تعاون سے پاناما پیپرز کو کھنگالنے اور ضروری معلومات لوگوں تک پہنچانے میں مصروف ہیں۔ بات آسان اور سادہ ہے۔ یہ سارے کاغذات جن کا حجم ساڑھے گیارہ ملین دستاویزات بتایا جاتا ہے، پاناما کی ایک ایڈووکیٹ فرم کے ریکارڈ سے میڈیا کو پہنچائے گئے ہیں۔ ان دستاویزات سے ان لوگوں کے بارے میں معلومات سامنے آ رہی ہیں جو گزشتہ چالیس برس کے دوران کسی نہ کسی طریقے سے اس کمپنی یا اس کی معاون کمپنیوں کی خدمات حاصل کرتے رہے تھے۔ ایسی نجانے کتنی کمپنیاں دنیا میں کام کر رہی ہیں اور خفیہ کمپنیوں ، کالے دھن ، مجرمانہ سرگرمیوں اور بدعنوانیوں کی کتنی ہی داستانیں ابھی تک سربستہ راز ہیں۔ دنیا کے صحافی اور میڈیا ہاﺅسز صرف یہ چاہتے ہیں کہ حاصل شدہ معلومات سامنے لائی جائیں تا کہ مختلف ممالک دہشت گردوں کی مالی امداد ، آمر اور مطلق العنان حکمرانوں کی دولت ، بدعنوان لیڈروں کے چوری شدہ سرمائے ، منی لانڈرنگ سے قومی دولت کی چوری اور ٹیکس بچانے والوں کو پہچاننے کے لئے اقدامات کر سکیں۔ اس طرح عام آدمی کے وسائل کو ناجائز طریقے سے حاصل کرنے والے لوگوں کا سراغ لگانے کی طرف ایک قدم آگے بڑھا جا سکتا ہے۔ پاناما پیپرز میں بعض معلومات ضرور ہوں گی لیکن ان معلومات کی بنیاد پر کسی کو چور یا سعد قرار نہیں دیا جا سکتا۔

برطانیہ کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون ان انکشافات کے بعد یہی ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ ٹیکس چوری یا دولت چھپانے میں ملوث نہیں رہے۔ پاناما پیپرز میں اگر ان کے والد کے نام سے کسی کمپنی کا ذکر سامنے آیا ہے تو اس سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ 10 ڈاﺅننگ اسٹریٹ کے باہر مظاہرہ کرنے والے بھی صرف یہ چاہتے ہیں کہ ان کے ملک کا وزیراعظم کوئی ایسا شخص نہ ہو جس کا دامن کسی بھی قسم کے جھوٹ یا مالی بدعنوانی سے داغدار ہو۔ ڈیوڈ کیمرون اگر لوگوں اور میڈیا کو اس بات پر قائل نہ کر سکے کہ وہ اس قسم کے کسی دھندے میں ملوث نہیں رہے تو انہیں بھی کسی آئس لینڈ کے وزیراعظم کی طرح مستعفی ہونا پڑے گا۔ لیکن یہ ان ملکوں میں ہوتا ہے جہاں جمہوریت کو عوام کی طاقت سے چلنے والا نظام تسلیم کیا جاتا ہے اور جہاں لیڈر اپنے کردہ اور ناکردہ گناہوں کے لئے عام لوگوں کو جوابدہ ہوتا ہے۔

اس دوران پاکستان جیسے ملکوں میں یہ بحث جاری رکھی جا سکتی ہے کہ وزیراعظم نواز شریف کیوں استعفیٰ دیں۔ ان کا تو نام بھی اس فہرست میں شامل نہیں ہے۔

یہ پاکستان میں جمہوریت کو کمزور کرنے کی عالمی سازش ہے۔

نواز شریف سے پہلے کتنے لوگوں نے الزام لگنے پر استعفیٰ دیا ہے جو وہ یہ کام کریں۔

بعض پراسرار ہاتھ ملک کی اقتصادی ترقی کو روکنا چاہتے ہیں۔ اسی لئے پاناما لیکس کا ڈرامہ رچایا جا رہا ہے۔

پڑھتے جائیے جھومتے جائیے۔ یہ فہرست بہت طویل ہے اور اس میں ہر گھڑی اضافہ ہو رہا ہے۔ بالآخر ہمارے پاکباز لیڈروں کی سچائی پاناما پیپرز کی عالمی سازش کو بے نقاب کرکےہی دم لے گی۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 411 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali