تبدیلی کیسے آئے گی


amna ahsanجی نہیں اگر آپکو لگتا ہے کہ میری تحریر اس سیاسی جماعت کے لئے ہے جن کا نعرا تبدیلی ہے اور وہ اپنی سوچ تک تبدیل نہیں کر پاے ،تو آپ غلط سوچ رہے ہیں ،نا ہی یہ تحریر اس ٹی وی ٹاک شو کی اینکر  کے لئے ہے جو تبدیلی کا حصّہ نا بن پانے پر اتنا دل برداشتہ ہو گئی کہ اپنے ٹاک شو کا نام ہی تبدیلی رکھ دیا ۔یہ تحریر ہے اس تبدیلی کے لئے،جو آپ اور میں لاے گۓ ۔

جی ہاں ،،میرا ماننا ہے کہ تبدیلی کوئی سیاستدان یا کوئی بھی اک فرد نہیں لاسکتا بلکہ ہم سب کو اسکے لئے کچھ کام کرنا پڑے گا ، جسے ہر وقت  منہ میں پان ڈال کر سڑکیں گندی کرنے سے آپکو نہ عمران خان روک سکتے ہیں،نہ نواز شریف ۔یہ تبدیلی تو آپ فقط آپ لا سکتے ہیں۔

اگر مسجد کے باہر سے آپکے جوتے چوری ہوتے ہیں،تو اس میں نہ عمران خان صاحب کا  کوئی ہاتھ ہے،نہ ہی بلاول بھٹو کا بلکہ یہ کام بھی آپ اور مجھ جسے عام شہری سر انجام دیتے ہیں ،اور اس کارنامے میں تبدیلی کے امکان صرف تب ہی پیدا ہو سکتے ہیں،جب ہم خود کو تبدیل کرنا چاہے ۔

زندگی کو آسان کرنے کے لئے ضروری ہے کہ جتنی باتیں ہم اپنے سیاستدانوں کو کرتے ہیں،جتنی نصیحتیں انھے دیتے ہیں،اگر ان میں سے 50% پر بھی خود کام کرے تو ہمارے بہت سے مسائل حل ہو جائے گۓ،

اشفاق احمد نے کہا تھا ،جو قوم سگنل پر دو منٹ کھڑی نہیں ہو سکتی ،وہ خاک اپنے پاؤں پر کیا کھڑی ہوگی ۔

اب آپ لوگ خود فیصلہ کرے،ہم میں سے وہ کون ہے جس نے کبھی زندگی میں سگنل توڑنے کا  شرف حاصل نہ  کیا ہو ؟ اب یہ تبدیلی کون   لاےگا؟ ہم سب یا ہمارے حکمران ؟

ہم ہر وقت اپنے سیاستدانوں کو کوستے ہیں کہ وہ صرف باتیں کرتے ہیں،کام نہیں ،سچ سچ بتایں ہم خود کیا کرتے ہیں؟

رشوت دینے والے بھی ہم،اور لینے والے بھی ہم ہی ،تبدیلی کی ضرورت کسے ہے،سیاستدانوں کو یا ہمیں؟

ہم اس ملک میں رہتے ہیں جہاں اسکول میں  ایڈمشن کے لئے اسکول کے چپڑاسی کو بھی رشوت دو تو کام ہو جاتا ہے ،،،بھلا خود ہی سوچے یہ رواج ہم ختم کرے گۓ یا سیاستدان ؟

اپنے گھر کا کوڑا گلی میں ڈالنے سے لیں کر پڑوسیوں  کی دل ازاری کرنے تک ،کھانے پینے کے سامان میں ملاوٹ سے لیں کر،زہر بیچنے تک سب کچھ عوام ہی کرتے ہیں ،پھر تبدیلی کہا آنی چاہیں  اور کس کو لانی چاہیے

مت بھولیں، ہمارے مذہب نے بھی ہمیں یہی تعلیم دی ہے،کہ جیسی عوام ہو گی ،ویسے ہی حکمران اسپر مسلط کردیں دے جائے گۓ ۔

کیا خیال ہے ہم اپنے حکمرانوں سے کم بددیانت ہیں؟کم جھوٹے ہیں؟کم چور ہیں؟ نہیں نا

تو آج سے ابھی سے تبدیلی کا نعرا نہ  لگائیں بلکہ تبدیلی لائیں کیونکہ ہم سب ہی تبدیلی لا سکتے ہیں ۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “تبدیلی کیسے آئے گی

  • 11-04-2016 at 11:31 pm
    Permalink

    بحیثیت قوم ہماری عادت ھے کہ اپنا بوجھ بھی دوسروں کے کندھوں پر ڈال دیتے ہیں ـ ہر ایک کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہو گا ـ صاحبانِ اختیار و اقتدار کو کچھ زیادہ کرنا ہوگا کہ وہ قوم کیلئے رہنمائی کا فریضہ انجام دیتے ہیں ـ اچھی کوشش ھے آپکی ـ

Comments are closed.