پانامہ لیکس، مولانا فضل الرحمان اور نواز شریف …


haseeb ahmadعجیب بات تو یہ ہے کہ دنیا میں کہیں بھی کچھ بھی ” لیک ” ہو جاوے اس  میں کہیں نہ کہیں کوئی پاکستانی نام ضرور شامل ہوتا ہے اور دنیا بھر میں میں اس کے کچھ بھی اثرات ہوں ہمارے وطن میں سیاسی ، مذہبی اور عسکری چاۓ کی پیالیوں میں طوفان اٹھنے شروع ہو جاتے ہیں اور ان اٹھتے ہوۓ طوفانوں سے ہمارا میڈیا چسکیاں لیتے ہوۓ فیضیاب ہونا شروع کر دیتا ہے۔

جب سے پانامہ لیک ہوا ہے پاکستان میں بھی الزام تراشیوں کا ایک دھارا بہ نکالا ہے کہ جسکے چھینٹے یہاں کے تمام ہی  ٹھیکیداروں کے کپڑوں کو گیلا کرتے  چلے گۓ ہیں۔

اس حوالے سے مختلف اہل علم اصحاب الراۓ کی جانب سے  عظیم الشان قسم کی بو العجبیاں سامنے آ رہی ہیں ایک طبقہ اسے عالمی سازش قرار دے رہا ہے اور تو اور مولانا فضل الرحمان جیسی عبقری شخصیت نے بھی اسی الزام کا اعادہ کیا ہے تو دوسرا طبقہ کہتا ہے کہ یہ درصل دیوار سے لگی نواز حکومت  کو اور  زیادہ دیوار سے لگانے کی سازش ہے ..

ایک صاحب نے پھلجھڑی چھوڑی ” پاکستان کے 250  لوگوں کا نام ہے لیکن صرف نواز شریف کو ہٹ کیا جا رہا ہے حالانکہ اس کا نام نہیں اس کے بچوں کا نام ہے اور وہ برٹش شہری ہیں۔ اگر برٹش گورنمنٹ ان کے خلاف تحقیقات کرے تو بات بنتی ہے لیکن برٹش گورنمنٹ تو خاموش ہے۔ یہ اصل پاک چائنہ راہداری منصوبہ کو تباہ کرنے کے لئے ایک سازش ہے کہ نواز شریف کو ہٹاؤ تا کہ منصوبہ مکمل نہ ہوسکے “

اس قسم کی دور از کار  تاویلات دراصل ہماری قوم کی سیاسی بصیرت پر ایک سوال اٹھاتی ہیں  جس کا جواب شاید کسی کے پاس موجود نہیں۔ گو کہ پانامہ لیکس کی ٹائمنگ عالمی سیاسی منظر نامے پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت ضرور رکھتی ہے خاص کر صدر پیوٹن کے خلاف ہونے والا پروپیگنڈا کہ جن کا نام ہزاروں صفحات پر پھیلی دستاویزات میں کہیں موجود نہیں لیکن دنیا بھر کے اخبارات کی زینت ضرور بنا ہے .

ادھر خود روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے پاناما لیکس کی دستاویزات میں اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مخالفین روس کو عدم استحکام کا شکار کرنا چاہتے ہیں جب کہ پاناما پیپرز میں جن عناصر کی بات کی جارہی ہے ایسا کوئی عنصر موجود نہیں، بین الاقوامی میڈیا نے ایک سال تک کی تفتیش کی لیکن وہ ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے آف شور اکاؤنٹس دیکھے ہیں لیکن میں اس میں شامل نہیں تھا۔ واضح رہے کہ پانامہ پیپرز میں پیوٹن کے ایک قریبی دوست کا نام بھی شامل ہے جس پر آف شور کمپنی میں دو ارب ڈالر رقم کی سرمایہ کاری کا الزام ہے۔

پاکستان کی بدلتی  ہوئی سیاسی صورت حال میں یہ معاملہ انتہائی عجیب ہے کہ تحفظ نسواں بل کے حوالے سے  نواز حکومت کی مخالفت کرنے والے مولانا فضل الرحمان شاید یہاں نواز حکومت کے ساتھ کھڑے دکھائی دیتے ہیں عجیب نکتہ یہ ہے کہ نواز حکومت کو ابتداء ہی سے دیوار کے ساتھ لگانے والا طبقہ مولانا فضل الرحمان ہی کیا دیگر تمام اسلامی سیاسی جماعتوں کا پشت پناہ پر رہا ہے تو کیا اس وقت پانامہ لیکس کے حوالے سے مولانا کا نواز شریف کی حمایت کا اعلان رخ کے تبدیل ہونے کی جانب اشارہ ہے …

کیا ایسا ممکن ہے … ؟

عجیب اس حوالے سے بھی ہے کہ اگر کچھ طاقتور حلقوں کا اشارہ ہے کہ اسے رگڑا دے کر دیوار سے لگاؤ  اور مولانا پھر بھی نواز شریف کا ساتھ دے رہے ہیں۔ اگر ایسا ہی ہے کہ جو نظر آ رہا ہے تو یہ مولانا کی زبردست سیاسی بصیرت ہے یا پھر سیاسی غلطی.

ایک طبقے کا یہ بھی ماننا ہے کہ ان لیکس کو استعمال کرتے ہوۓ جی ایچ کیو سے پارلیمنٹ ہاؤس تک کی راہداری صاف کی جا رہی ہے لیکن یہ بھی ایک ایسی تھیوری ہے کہ جس کا کوئی عملی ثبوت دینا مشکل ہے .

کیا ان لیکس کی بنیاد پر نواز حکومت کے خلاف کوئی ٹھوس مقدمہ قائم کیا جا سکتا ہے تو ہمارے خیال میں ایسا ممکن نہیں ہے۔ آف شور کمپنی ایک ایسا مظہر  ہے کہ جو اس سیاسی جمہوری نظام میں سرمایہ داروں کی شمولیت کے بعد سے سامنے آیا ہے اور جدید  سرمایہ  دار دنیا میں اتنےامکانات  موجود ہیں جو مجرموں کو بچ نکلنے کے کافی راستے فراہم کر دیتے ہیں .

ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ قوم حقیقی سیاسی بنیادوں پر تبدیلی کی روایت ڈالنا سیکھے تاکہ جمہوریت کی گاڑی پٹڑی پر چڑھ سکے یاد رکھئے کہ آمریت کے ساۓ میں سانس لینے والی جمہوریت زیادہ دیر زندہ نہیں رہ سکتی .


Comments

FB Login Required - comments