شوکت خانم ٹرسٹ۔۔ اب سوال تو اٹھیں گے!


usman ghaziعمران خان بھولے آدمی ہیں، اپنے پاؤں پر کلہاڑی ضرور مارتے ہیں، جیسے عمران خان نے اپنے خطاب میں شوکت خانم ٹرسٹ کے نام پر کرپشن کا خود اعتراف کیا ہے۔

اپنی پریس کانفرنس کو خطاب کا نام دے کر عمران خان نے صحافیوں کے منہ پر تالا تو لگادیا مگر سوال ختم نہیں ہوئے۔

عمران خان نے اپنی پریس کانفرنس نما خطاب میں اعتراف کیا کہ شوکت خانم اسپتال کے تین کروڑ روپے انوسٹ کئے گئے تاہم یہ انوسٹمنٹ واپس آگئی، ٹرسٹ کو نقصان نہیں ہوا۔

کیا عوام شوکت خانم اسپتال کو اس لیے زکوۃٰ دیتے ہیں کہ اس کو درست مصارف میں خرچ کرنے کے بجائے سرمایہ کاری کے لیے استعمال کیا جائے؟

شوکت خانم ٹرسٹ کو زکوۃ کی مد میں بڑی تعداد میں فنڈز ملتے ہیں، انڈونمنٹ  کی آڑ میں کہیں زکوۃٰ کی رقم غلط خرچ تو نہیں کی جا رہی؟ زکوۃٰ  ایک اسلامی حکم ہے، اس رقم کے مخصوص مصارف ہوتے ہیں، کہیں ان مصارف کا یہ ٹرسٹ غلط استعمال تو نہیں کر رہا؟

عمران خان کا یہ اعتراف صرف مالی نہیں اخلاقی کرپشن بھی ہے، عمران خان نے بتایا کہ حکومت کا کام چوروں کو پکڑنا ہوتا ہے، اگر یہ بات سچ ہے تو پھر شوکت خانم کے نام پر آپ کی گرفت بنتی ہے کیونکہ آپ اعتراف بھی کرچکے ہیں۔

 زکوۃٰ کے نام پراگر قوم کا پیسہ سرمایہ کاری کے لیے ملک سے باہر بھیجا جارہا ہے تو اس کا کڑا احتساب بھی ضروری ہے۔

خیبر پختون خوا کی حکومت سنبھالتے ہی کوئی ترقیاتی کام کروانے کے بجائے عمران خان نے پشاور میں شوکت خانم اسپتال کا افتتاح کیا، کراچی میں شوکت خانم کے نام پر قیمتی اراضی بھی حاصل کرلی۔

کیا ایک صوبائی حکومت کی حکومتی پارٹی کے سربراہ کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ اپنے ٹرسٹ کو فروغ دے؟

عمران خان کا کام تھا کہ وہ خیبرپختونخوا حکومت کے تحت اسپتال بناتے، حکومت میں رہتے ہوئے اپنے ٹرسٹ کے فروغ کے لیے کام کرنے کے پیچھے کیا مقاصد ہیں، یہ سوال تو اب اٹھیں گے۔

عمران خان نے کہا کہ کرپشن بچانے کے لیے اسپتال پر حملہ کیا جارہا ہے، آپ کے حوالے سے تو یہ بھی کہا جاتا ہے کہ تحریک انصاف بنانے کا مقصد 1996 میں شوکت خانم کی کرپشن کےحوالے سے اٹھنے والے سوالات سے بچنے کی ایک کوشش تھی۔

ہم یہ نہیں کہتے کہ شوکت خانم میں کرپشن ہو رہی ہے مگر یہ ٹرسٹ کوئی مقدس گائے نہیں ہے۔

عمران خان نے قوم سے اپنے خطاب میں تحریک انصاف کو دوسری بڑی سیاسی جماعت کہا، اگر عمران خان نے سب کچھ جانتے بوجھتے یہ سب کہا تو یہ تو جھوٹ ہے اور اگر خان صاحب کسی غلط فہمی کا شکار ہیں تو ایک سیاست دان کو یہ غلط فہمی زیب نہیں دیتی۔

پارٹٰی کے بڑے اور چھوٹے ہونے کا تعلق قومی اسمبلی میں اراکین اسمبلی کی تعداد سے ہوتا ہے اور اس لحاظ سے تحریک انصاف کا نمبر تیسرا ہے، عمران خان نے اپنے خطاب میں خود کو اپوزیشن لیڈر کہا، یہ ایک سیاسی اصطلاح ہے جس کو عمران خان اپنے لیے استعمال نہیں کرسکتے، ٹی وی اور سوشل میڈیا پر سیاست نہیں ہوتی، سیاست کا پلیٹ فارم اسمبلی ہے اور اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر باقاعدہ ایک منصب ہے جس سے عمران خان محروم ہیں۔

عمران خان نے اپنے خطاب میں ملک کے مسائل کو اجاگر کیا، یہ ایک درد دل پاکستانی کی صدا ہے، ہم عمران خان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں کہ وہ عام آدمی کی صدا بنے تاہم کیا وہ یہ بتائیں گے کہ خیبر پختون خوا میں یہ مسائل حل ہوگئے؟

پانامہ پیپرز میں 220 پاکستانیوں کے نام آئے تاہم صرف نوازشریف کو ٹارگٹ کرنا بدعنوانی کے خلاف کوئی مہم نہیں بلکہ بظاہر اقتدار کے حصول کی ایک کوشش لگتی ہے۔

 


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “شوکت خانم ٹرسٹ۔۔ اب سوال تو اٹھیں گے!

  • 12-04-2016 at 1:25 am
    Permalink

    جناب محترم اس حمام میں سب ننگے ہیں یہ اور بات ہے کہ کسی کو جب اپنی برہنگی دوسروں کے زریعہ سے آشکار ہوتی ہے تو وہ بالاآخر استعفا دے کر اپنی بر ہنگی کو مزید نمایاں کرنے سے بچا لیتا ہے۔ ویسے بھی یہ سب کچھ استعفا وغیرہ وہ لوگ دیتے ہیں جن کا ضمیر نامی احساس جاگ رہا ہو اور اس پاکستانی سیاست کے حمام میں سارے بےشرم ہیں اور کسی کو بھی اپنی برہنگی کا احساس نہیں۔ رہا زکوٰۃ کے مصارف سے کسی مضاربہ کمپنی میں پیسہ انویسٹ کرنے کا رحجان تقریبا حکومت سے لیکر عام آدمی تک میں پایا جاتا ہے اور اسکی مثالیں ہمارے معاشرے میں گاہ بگاہ ملتی ہیں۔

Comments are closed.