انکشافات اور سازشوں سے نمودار ہوتا لبرل ازم


\"kazmi\"ندیم فاروق پراچہ صاحب نے آج ڈان نیوز میں کالم لکھا اور ایک کالم وجاہت مسعود صاحب نے ہم سب میں لکھا۔ اول الذکر نے پاکستان آرمی کو مشورہ دیا کہ ملک میں نئے (لبرل) بیانیے کو رواج دینے کے لیے ایوب خان کے لبرل دور حکومت کو بطور نمونہ اختیار کیا جائے اور موخر الذکر نے اپنے کالم میں جسٹس منیر صاحب جیسے عظیم الشان ’’دانشور‘‘ کے حوالے سے ثابت کیا کہ پاکستان کے بننے سے تین دن قبل ہی ’’لبرل پاکستان‘‘ کے خلاف سازش کا آغاز ہو چکا تھا۔ صف اول کے دو روشن خیال احباب کا علی الترتیب پاکستان میں ڈکٹیٹرشپ اور نظریہ ضرورت کے بانیان کو دلیل بنانا کم از کم میرے لیے تعجب اور افسوس کا باعث ہے۔

تحریک پاکستان کا مطالعہ جو شخص بھی کھلے ذہن سے کرے وہ صاف سمجھ جاتا ہے کہ پاکستان بنانے والا طبقہ غیر جمہوری طرز فکر رکھتا تھا۔ وہ اس زمانے کی ایک خاص مصنوعی ’’سیاسی مذہبیت‘‘ یا ’’مذہبی سیاسیات‘‘ پر یقین رکھتا تھا جو علی گڑھ کی پیدا کردہ تھی۔ قائد اعظم محمد علی جناح کے متعلق ایک سے زیادہ گواہیاں ہیں کہ وہ جمہوریت کے متعلق تقریبا ویسے ہی افکار رکھتے تھے جیسے ہمارے ہاں کے ’’عظیم مفکرین‘‘ کے رہے ہیں۔ گاندھی جی سے 1944 میں قائد کی ملاقاتوں میں جب قائد نے پاکستان سے متعلق جمہوری حکومت کا نقشہ کھینچا تو گاندھی جی نے سوال کیا کہ آپ نے تو مجھ سے کہا تھا کہ ہندوستان کے لیے جمہوریت موزوں نہیں۔ قائد نے اول تو فرمایا کہ مجھے یاد نہیں تاہم گاندھی جی کے یاد دلانے پر کہا کہ تب میری مراد \”مسلط کردہ جمہوریت\” سے تھی۔ 11 اگست کی تقریر کی اہمیت ہمارے ہاں کے جدید لبرلز کا قائد سے ایک غیر عملی رومان کی دلیل ہونے کے علاوہ کچھ بھی نہیں کیونکہ قائد کی تمام تر سیاسی ذندگی میں 11 اگست سے پہلے اور بعد متضاد باتیں ملتی ہی رہتی ہیں۔ قائد کے بیانات و تقاریر بعد از تقسیم کا سرسری مطالعہ ہی اس حقیقت کو خوب کھول دیتا ہے اور ایسی بدیہی بات پر دلیل قائم کرنے کی ضرورت نہیں۔

اپنی مطالعاتی ذندگی میں اکثر اس سوال نے مجھے پریشان کیے رکھا کہ آخر قائد کے معاملے پر ہمارے لبرلز اخلاقی جرات کیوں نہیں دکھاتے اور صاف صاف قائد کے افکار کو روشن خیال جمہوری پاکستان کے لیے غیر موزوں قرار دے کر یا قائد کے افکار کو بیچ میں لائے بغیر ہی موجودہ صورتحال کو جدید دور اور جدید نسل کی عقل و دانش کی مدد سے حل کرنے کی نیو کیوں نہیں رکھتے۔ گزشتہ کچھ دنوں میں اس سوال کا جواب مجھے یہ مل گیا کہ دراصل مذہبی شخصیات کو سنگل آوٹ کر کے تنقید کا نشانہ بنانے اور اپنا مقدمہ اول و آخر مذہب بیزاری پر اٹھانے کی ہی یہ آرزو ہے جو انھیں قائد کو لبرل ازم کا فرضی چیمپین ماننے پر مجبور کرتے ہوے قیام پاکستان کے بعد پیدا شدہ مذہبیت کو قائد اور مسلم لیگ کی فرقہ وارانہ سیاست کا فطری تسلسل قرار دینے کی بجائے ایک ’’سازش‘‘ کا ہوا کھڑا کرنے پر اکساتی ہے۔

شبیر احمد عثمانی نے قرارداد مقاصد پیش کرتے وقت دستور ساز اسمبلی سے جو خطاب کیا اس میں ایک دلچسپ نکتہ اٹھایا۔ انھوں نے اول تو قائد اعظم کے مختلف بیانات و تقاریرکا حوالہ دیا جن میں واضح طور پر ’’اسلامی ریاست‘‘ کے اشارے ملتے تھے۔ اس کے بعد انھوں نے کہا کہ یہ عام مشاہدہ ہے کہ اس طرح کے بیانات قائد اور مسلم لیگ کے دیگر زعما ایک عرصہ سے دیتے چلے آ رہے تھے تو اگر آج ’’اسلامی ریاست‘‘ پر کسی کو ’’تحفظات‘‘ ہیں تو یہ ’’تحفظات‘‘ تب دور کر لینے چاہیے تھے جب یہ بیانات دیے جا رہے تھے۔ اب قیام پاکستان کے بعد ان نظریات سے انحراف کا کوئی جواز نہیں۔ قراداد مقاصد کو آپ چاہے ام الخبائث بھی قرار دے دیں شبیر احمد عثمانی کی یہ دلیل اپنی پوری طاقت سے قائد کو لبرل قرار دینے والوں کے لیے ایک سوالیہ نشان بنے کھڑی رہے گی۔

کیا موجودہ دور میں ہمارے مسائل کا حل تقسیم پاکستان کے وقت کی سیاست کا تجزیہ (اور وہ بھی انتہائی جانبدارانہ اور ناقص) کیے بغیر ناممکن ہے؟ کیا قائد اعظم کو لبرل قرار دیے بغیر پاکستان میں لبرل ازم کا مقدمہ لڑنا محال ہے؟ ہمارے موجودہ لبرل طبقے نے یہ مفروضہ بنا لیا ہے کہ پاکستان میں لبرل ازم کی راہ میں واحد رکاوٹ ’’مذہبی سیاست‘‘ وغیرہ ہے۔ اسی لیے پراچہ صاحب ایوب خان کو رول ماڈل سمجھتے ہیں کیونکہ انھوں نے پاکستان کے نام سے ’’اسلامی‘‘ (کچھ عرصہ کے لیے) ہٹا دیا تھا۔ ایوب خان صاحب جو پاکستان میں صوبائی خود مختاری کچلنے، پریس سینسر شپ، انتخابی دھاندلی، جمہوریت کشی، ’’کرپشن‘‘ کا کلیشے تخلیق دینے، بھارت کے ساتھ جنگ بازی اور غیر عملی و خیالی خارجہ پالیسی کے بانی و امام ہیں کو پراچہ صاحب کے خیال میں ہمیں لبرل بیانیے کے لیے مثال بنانا ہو گا۔ یہی وہ مفروضہ ہے جو ہمارے لبرل طبقے کو بار بار قرارداد مقاصد کے عنوان سے کچوکے لگاتا ہے۔ جس روشن خیالی سے آئی ایس پی آر کی خوشنودی مقصود ہو اسے دور سے سلام کرنا چاہیے۔

میرے خیال میں اس تمام جانبدارانہ اور ناقص تجزیے کے بغیر ہی ہم انتہائی اچھے طریقے سے عملیت پسندی کو بنیاد بنا کر ایک بہتر اور جمہوری پاکستان کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔ اس کے لیے ہمیں جدید دور میں جینا ہو گا اور ہر فکری طبقے کو غیر ضروری تعصبات سے ماورا ہو کر موجودہ حالات میں بہترین طریقہ کار پر مکالمہ کرنا ہو گا۔ تاریخ میں اپنی مرضی کے بتوں پر اپنی مرضی کا میک اپ چڑھانے سے کہیں بہتر یہ ہے کہ حال کو سنوار لیا جائے۔


Comments

FB Login Required - comments

احمد علی کاظمی

احمد علی کاظمی پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں۔ پاکستانی سیاسی و آئینی تاریخ اور سیاسی اسلام و جمھوریت کے مباحث میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ فلم بین اور کرکٹ کے تماشبین اس کے علاوہ ہیں۔ سہل اور منقح لکھنے کے قائل ہیں۔

ahmedalikazmi has 9 posts and counting.See all posts by ahmedalikazmi

16 thoughts on “انکشافات اور سازشوں سے نمودار ہوتا لبرل ازم

  • 10-04-2016 at 10:32 pm
    Permalink

    بہت خوب۔

    وکیل جب بھی لکھتے ہیں، اچھا ہی لکھتے ہیں۔

    • 10-04-2016 at 10:40 pm
      Permalink

      وکیل کو دیکھ کر وکیل رنگ پکڑتا ہے۔

    • 11-04-2016 at 4:44 am
      Permalink

      ٹائپی فروگزاشت: تقسیم پاکستان نہیں،،،
      تقسیم ہندوستان۔
      ۔۔۔۔۔۔
      وکیل صاحب، آپ قائد اعظم کی مسلمانوں کے لیے عظیم جدوجہد کو فرقہ وارانہ سیاست قرار دیتے رہتے ہیں۔
      یہ بتائیے کہ لفظ فرقہ وارانہ سے آپ کی کیا مراد ہے؟
      کیا آج کے پاکستان میں کوئی ہندو، سکھ، یا عیسائی وغیرہ اپنے فرقے کے لوگوں کو اکٹھا کر کے اُس گروہ کے سیاسی، معاشی اور سماجی وغیرہ حقوق کے لیے کوشش کرے،،،مثلاً اسمبلییوں، تعلیمی اداروں اور ملازمتوں کی رزرویشن میں اضافےکی تحریک چلائے تو کیا ہم اس کے مطالبے کو فرقہ وارانہ سیاست قرار دے کر مسترد کر دیں گے؟ انکے دینے سے انکار کر دیں گے۔
      قائد اگر مسلم سیاست کرنے پر فرقہ پرست قرار پاتے ہیں تو ہمہ وقت اپنے ،،، اندر کی آواز،،، پر کان دھر کے سیاسی پالیسیاں مرتب کرنے والے گاندھی جی کیسے غیر فرقہ پرست ہو سکتے ہیں؟
      ہندوستانی ایک قوم کب اور کیسے قرار پائے؟ تاریخ تو یہ بتاتی ہے کہ طاقتور بادشاہوں یا برٹش راج کو چھوڑ کر یہاں تو ہمیشہ بہت سی متحارب سلطنتیں قائم رہی ہیں۔ اورنگزیب نے جنوبی سلطنتوں کو اپنے زیر نگیں لانے کے لیے پورا زور لگا دیا پھر بھی ناکام رہا۔ خود راج کے خاتمے تک ایک تہائی ملک چھے سو کے لگ بھگ نیم خودمختار بادشاہتوں پر مشتمل تھا۔ جنھیں3جون کو مکمل آزادی تک کا آپشن بھی دیا گیا تھا۔
      ہندوستان ہمیشہ بہت سی ایمپائرز کا مجموعہ رہا ہے۔ اس کے باشندوں میں ایک قوم ہونے کا تصور کبھی جاگزین نہ ہو سکا۔ طاقت نے کل بھی اسے اکٹھا رکھا تھا ،، آج بھی بھارت میں یہی صورت ہے۔ نجانے کیوں ہمیں اپنوں میں کیڑے اور غیروں کی گدڑیوں میں ہیرے ہی کیوں دکھائی دیتے ہیں؟
      اگرہندوستان تب ایک واحد قومی ریاست نہ تھا تو ہندو کانگرس کا انگریز سامراج کے انخلا کے بعد ہندو اکثریت کے بل بوتے پر ہندو سامراج قائم کرنے کا مغربی جمہوری منصوبہ بالکل ناجائز اور ظالمانہ تھا۔ دس کروڑ مسلمانوں نے قائد کے جھنڈے تلے متحد ہو کر ہندوؤں سے کہیں بڑے پختہ درجے کی قوم ہونے کا ثبوت دیا،،، اور اپنے اکثریتی علاقوں میں اپنا حق حاصل کرنے کی ایک خالص جمہوری تحریک چلا کر پاکستان حاصل کیا۔ اس میں سراسر مذہبی قومیت کا جذبہ برسرکار تھا نہ کہ فرقہ واریت کا۔
      بھائی مذہب کی بنا پر الگ ملک/حقوق کے حصول کا مطالبہ کرنا کوئی انہونی بات نہ تھی،، یہ آج کی جدید ترین عالمی سیاست کا بھی مسلمہ اصول ہے۔اسی کی بنا پر بوسنییائی مسلمانوں کے تقریباً ہم نسل اور ہم زبان بوسنی عیسائی سربوں اور کروشیائیوں نے بوسنیا کی ڈھیلی ڈھالی فیڈریشن بنوا کر اپنے جائز ناجائز حقوق عالمی طاقتوں سے منوائے،،،
      جنوبی سوڈان اور مشرقی تمور بنیادی طور پر اسی اصول کے تحت وجود میں آئے۔
      ہوسکتا ہے آپ کو یہاں بنگلہ دیش یاد آجائے۔ تو بھائی 1971 کے اواخر تک بنگالیوں نے پاکستان سے بالکل ایک الگ قوم ہونے کا دعوی نہیں کیا تھا،،، یہ بنیادی طور پر مغربی پاکستانی اسٹبلشمنٹ بشمول جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کی جانب سے بنگالی بھائیوں کے استحصال کے خاتمے اور وسیع تر صوبائی خود مختاری کا کیس تھا،،، جسے ہماری اسٹیبلشمنٹ نے حسب معمول اپنے وسیع تر “قومی” مفاد میں اپنے منطقی انجام تک پہنچا کر اپنی کرسیوں کو “بھوکے ننگے، سوکھے سڑے، کالے کلوٹے اور ٹھگنے بنگالیوں” کی ممکنہ دستبرد سے ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لیا۔

      • 11-04-2016 at 8:56 am
        Permalink

        عبداللہ صاحب۔ آپ ہی کی پیش کردہ تمثیل کو ذرا وسیع کر کے آپ کے سامنے رکھ دیتا ہوں۔ پاکستان پر، خاکم بدہن، کوئی غیر ملکی طاقت قاطض ہو جاتی ہے۔ پاکستانی آزادی کے لیے تحریک کا آغاز کرتے ہیں۔ پاکستانیوں میں سے ایک ہندو راہنما اس تحریک سے الگ ایک اور نظریہ پیش کرتا ہے کہ پاکستان میں ہندو قوم ایک علحدہ قوم ہے اور میں اس تمام قوم کی نمائندگی کرتا ہوں۔ ہم سے جب تک علحدہ وطن کا وعدہ نہیں کیا جاتا ہم آزادی کی اس جس و جہد کو تسلیم نہیں کریں گے بلکہ اپنے خلاف مسلمانوں کی ایک سازش قرار دیں گے۔ ہمیں الگ وطن دیا جائے جہاں ہم اپنے مذہبی نصب العین کے مطابق ذندگی گذار سکیں۔
        یہ سیاست کیا فرقہ وارانہ سیاست یا مذہبی سیاست کہلائے گی؟ لفظ فرقہ وارانہ پاکستان کے خاص ماحول میں اپنا اصلی وسیع مفہوم کھو کر صرف دیوبندی بریلوی شیعہ سنی تک محدود ہو چکا ہے۔ برصغیر میں “ہندو مسلم مسئلہ” کو فرقہ وارانہ مسئلہ ہی سمجھا اور بولا جاتا تھا۔

      • 11-04-2016 at 11:16 am
        Permalink

        کاظمی صاحب،
        پاکستان یہاں کے لوگوں کی مشترکہ باہمی جدوجہد اور معاہدے کے تحت 70 برس سے اسٹیبلش ہو چکا ہے۔ اسکی مثال طاقت کے بل بوتے پر قائم کسی سلطنت سے دینا ٹھیک نہیں لگتا۔
        بھائی جان مفروضوں سے قطع نظر میرا بنیادی سوال یہی ہے کہ جب تاریخ کے کسی بھی دور میں پورا ہندوستان کَبھی ایک ریاست نہیں رہا، اس کے تمام باشندے تو درکنار،،، ایک خاطر خواہ اکثریت کے اندر بھی ایک متحدہ قوم ہونے کا احساس کبھی نہیں رہا۔
        بھائی اگر ہر مذہب، علاقے، زبان اور کلچر وغیرہ کے ہندوستانیوں نے تاریخ کے کسی بھی دور میں کبھی بھی دنیا جہان سے ایک الگ قوم ہونے کا دعوی کیا ہو، اور اس کا کوئی عملی سیاسی ثبوت دیا ہو،،، چاہے چند برسوں، چند مہینوں کے لیے ہی سہی،،، ہو تو بتا کر اس جاہل کے علم میں اضافہ فرمائیں۔ ہاں سلطنتیں بہت سی بنیں،،، چلیں،، اور روبہ زوال ہوتی چلی گئیں۔ لیکن ان سب ہندو، مسلم اور برطانوی سلطنتوں ، شاہی ریاستوں میں حکمران تھے ،، یا رعایا،۔ قوم ووم کا کبھی کوئی ٹنٹا نہیں رہا۔
        پھر اچانک انگریزی راج میں رائج ہونے والے سیاسی اصلاحات کی دور رس برکات کو بھانپتے ہوئے جب ہندو کانگرسیوں نے موہوم متحدہ ہندوستانی قومیت کی “جمہوری” ڈگڈگی بجائی تو مختلف علاقوں کے مسلمان، جن میں کلمے کی بنیاد پر الگ قومیت کا کہیں برتر احساس پایا جاتا تھا، چوکنے ہوئے، انھوں نے مشترکہ علاقائی غلامی پر مبنی اس خیالی قومیتی نظریے کو یکسر مسترد کر دیا۔۔ اور انھی جمہوری اصولوں پر اپنے لیے الگ ملک کا مطالبہ کر ڈالا۔ باقی تاریخ ہے۔
        یہاں یہ حقیقت بھی پیش نظر رہے کہ علاقے کی بنیاد پر قومیت کا تصور مسلمانوں کی بے مثال قومی جمہوری تحریک کے نتیجے میں پاش پاش ہو گیا تو یہ بنگال ماتا اور سدا وسدے دیس پنجَاب کے ہندو اور سکھ تھے جنھوں نے ان صوبوں کی فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کا مطالبہ کر دیا اور ان ماتاؤں کے ٹکڑے کروائے۔ یوں اپنے عمل سے علاقائی قومیت کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی۔

      • 12-04-2016 at 10:38 pm
        Permalink

        ماشاء اللہ عبد اللہ نور صاحب، بہت خوب!

        آپ نے دریا کو کوزے میں بند کر دیا۔ ہندوستان ہمیشہ سے قوموں کا مجموعہ رہا ہے، کبھی بھی ایک قوم نہیں بن سکا۔ اگر یہ ایک قوم ہوتا تو اس میں انڈیپنڈنٹ ریاستیں نہ ہوتیں جن کے اپنے راجے، مہا راجے تھے۔ یہ ایک ایسا نکتہ ہے جس پر تعصب کی عینک اتار کر غور کیا جائے تو قیامِ پاکستان سے متعلق بہت سے لوگوں کے شکوک کا ازالہ ہو جائے گا۔ آپ کی اجازت سے آپ کے خیالات کا حوالہ اپنے فیس بک اکائونٹ پر دینا چاہوں گا، تاکہ پڑھنے والے حقیقت کو سمجھیں۔ جزاک اللہ خیر!

  • 10-04-2016 at 10:42 pm
    Permalink

    وکیل صاحب کمال کر دیا آپ نے… اتنی اچھی تحریر پر مبارکباد قبول فرمائیں

    • 11-04-2016 at 12:08 am
      Permalink

      آداب وقار صاحب

  • 10-04-2016 at 11:04 pm
    Permalink

    محض لفاظی ہے مضمون میں ۔کوئی بھی ٹھوس بات نہیں بیان کی گئی۔وجاہت مسعود صاحب کی تحریر کا کوئی توڑ نہیں کیا گیا۔متضاد باتیں کہاں ملتی ہیں۔کوئی ذکر اذکار۔۔۔؟

    • 11-04-2016 at 12:10 am
      Permalink

      جی قائد کی تقاریر پر نظر ڈال لیجیے۔ وجاہت صاحب کی تحریر کا توڑ مقصود نہیں تھا۔ جو لکھا ہے وہی لکھنا مقصود تھا۔

  • 11-04-2016 at 12:53 am
    Permalink

    بہت خوب۔ خدا کرے آپ کی سوچ دوسروں میں بھی پھیلے۔ میں ایک عرصے سے یہی بات اپنے پاکستانی دوستوں سے کہتا آرہا ہوں۔ پاکستان کیسے بنا اور کیوں بنا کو بحث اور مکالمے کا موضوع ضرور بنائیں لیکن ساتھ ہی اصرار اس بات پر بھی کریں کہ اب پاکستان ایک بنی ہوئی حقیقت ہےاور اس حقیقت کو جو مسائل درپیش ہیں انکا حل ماضی کی عینک لگا کر مت ڈھونڈھیں۔ ماضی سے سیکھنا یا عبرت حاصل کرنا نیک کام ہے، لیکن ماضی کو اپنے اوپر طاری کرلینا اور اسکو حرف آخر بنا دینا صرف مضر ہی ہوسکتا ہے۔

  • 11-04-2016 at 2:44 am
    Permalink

    I think the writer is right in pointing out this anamoly in the thoughts of liberal Pakistanis. Such liberals try to strengthen their position by relying on people like Jinnah who was hardly an ideologe and hardly had much to say about complex issues facing Pakistan today. It’s high time liberals stop being apologetic in their opposition to theocracy and show more creativity in coming up with solutions to contemporary problems. Wallowing in history would only bog us down in useless debates.

    • 11-04-2016 at 12:07 pm
      Permalink

      میرے پیارے لبرل بھائی،
      چلو ماضی پر مٹی پا کر حال میں آجاتے ہیں۔
      یہ بتائیے کہ ریاست و سیاست سے متعلق فیصلے کرنے کے حوالے سے آپ کس نظام پر یقین رکھتے ہیں؟
      بادشاہت،،، آمریت ،،، جمہوریت۔ یا کچھ اور ؟
      باقی بات آپ کا جواب ملنے پر

  • 11-04-2016 at 9:35 am
    Permalink

    بہت خوب۔

  • 12-04-2016 at 1:50 am
    Permalink

    پاکستان ایک حقیقت ہے جس کو آج تک ہندو سامراج قبول نہیں کر سکا ہے اور اسکی سب سے بڑی وجہ صرف اور صرف دو قومی نظریہ ہے۔ میرا جیسا عام قاری کیا محترم وجاہت مسعود صاحب سے درج زیل سوالات کی توضیح و تشریح جاننے کا حق رکھتا ہے۔
    1۔ اگر مشترکہ ہندوستان میں دو قومی نظریہ نہیں پایا جاتا تو پھر ہندووں نے پاکستان کی تخلیق کی مخالفت کیوں کی تھی اور آج تک کر رہے ہیں؟
    2۔اگر دو قومی نظریہ پاکستان کی اساس نہیں ہے تو پھر تحریک پاکستان میں شامل لاکھوں مسلمانوں کی شمولیت کیوں رہی حتیٰ کہ وہ علاقے جو موجودہ ہندوستان میں شامل ہیں وہ بھی اس تحریک کا حصہ کیوں بنے؟
    3۔ آج بھی ہندوستان کی اسمبلی کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ ہندوستان کی پہلی قرارداد ہندوستان کو اکھںڈ بھارت بنانے کی کیوں کر منظور کی گئی؟ جبکہ وہ ایک سیکولر ملک ہے اور اسوقت مولانا آزاد جیسے رہنما کانگریس میں شامل تھے؟
    4۔ اگر بقول آپ کے قائد اؑظم ایک سیکولر پاکستان بنانا چاہتے تو پھر مسلمانوں نے لاکھوں جانوں کی قربانی کا نذرانہ کیوں پیش کیا؟
    5۔ جناب اگر ہمارے سیاستدان اس قابل نہیں کہ وہ ملک چلا سکیں اور تمام اقلیتوں کو برابر کے حقوق نہ دے سکیں تو اکثریت کا کیا قصور( جو کہ مسلمان ہیں) اور ملک کو اسلامی مملکت بنانا چاہتے ہیں۔ مگر ایسی مملکت نہیں جسمیں فرقہ ورانہ فساد اور کافر کہہ کر کسی کی زندگی کا چراغ گل کر دیا جائے۔
    6۔ یہ بتائیے کہ ریاست و سیاست سے متعلق فیصلے کرنے کے حوالے سے آپ کس نظام پر یقین رکھتے ہیں؟
    بادشاہت،،، آمریت ،،، جمہوریت۔ سیکولر یا کچھ
    7۔ اگر سیاست کو دین سے الگ کردیا جائے تو پھر باقی کیا رہ جاتا ہے؟ جبکہ اسلام ایک مکمل دین ہے۔

  • 12-04-2016 at 1:22 pm
    Permalink

    کبھی تو یہ نظام بدلے گا_______ کبھی توانسان اس سسٹم کو چینج کرینگے۔۔ جہاں ہر انسان آزاد ہو گا اور انسان انسان کیساتھ جُڑ جائے گا اور اس گلوبلائزڈ سسٹم میں کوئی کلاسیفیکیشن نہ ہو گی اور جو شے تمام انسانیت کے مفاد میں ہو گی اُس کو اپنا لیا جائےگا اور باقی تمام قوانین جن سے انسانیت کی تذلیل ہو اُن کو ریجیکٹ کر دیا جائے گا ۔۔ یہ نام نہاد سرحدیں بھی عملآ ختم کر دی جائیں یا کم از کم کُچھ حدود ایسی متعین کی جائیں جن سے ایک عام انسان با آسانی مُوو کر سکے۔۔۔ انسان انسان سے محفوظ ہو جائے۔ اور سب انسان مل کر اس زمین کو جنت کا عملی نمونہ بنا نے میں اپنا اپنا مثبت کردار ادا کریں ۔ اس سیارے کے تمام انسان ایک خاندان بن جائیں۔۔۔ اس نفع نقصان کے چکر والے نظام سرمایہ داری کی بجائے اشتراکیت ہو جس میں انسانیت اور انسان کی بقاء مقدم ہو۔ اور یہ سیارہ تمام انسانوں کا سانجھا ہو جائے۔_________________ وہ وقت ضرور آئیگا۔۔۔۔ بہت جلد آئیگا۔۔۔۔۔۔۔

Comments are closed.