پاکستان کیوں بنا؟


aalia jamshed khakwani

 ہم نے پاکستان کو نہ تو بنتے دیکھا، نہ دو لخت ہوتے دیکھا۔ کیونکہ جب انسان کو کسی بات کی سمجھ نہ ہو تو اُ س کا ہونا نہ ہونا برابر ہوتا ہے۔ ہاں ہم نے پاکستا ن کو سنبھلتے دیکھا۔ اور یہ زمانہ تھا جنرل ضیا الحق کا۔ جب محسوس ہوا کہ قوم کو ایک سمت مل گئی ہے، اس کی اخلا قی تربیت ہو رہی ہے، پاکستانیت پوری طرح ذہنوں میں راسخ ہوئی، سکولوں کے نصاب میں قومی ہیروز کے طور پر نشا ن حیدر پا نے والے سپاہیو ں کا نام ہوتا تھا وطن کے لئے جا ن دینے وا لے ہی ا صل ’ہیرو‘ تھے۔ تب بھارتی فلمی ہیروز کا رواج نہ تھا۔ پا کستا ن کے ڈرامے اور فلمیں بھی اپنے ناظرین کو باندھے رکھتے تھے، گو، ڈش اور، وی سی آر، کی مدد سے تب بھی ا نڈ یا گھسنے کی کوشش کر تا رہا، لیکن اتنی پزیرائی نہ ملی، کیونکہ یہ دونوں چیزیں، خواص، کی د ستر س میں تو تھیں، عوام کی پہنچ میں نہ تھیں۔ پا کستا نیت پوری آ ب و تا ب سے زند ہ تھی۔ بہت سے لو گو ں کو شاید میری ان باتوں سے ا ختلاف ہو۔ لیکن میں اپنی سو چ کی حد تک آ زاد ہو ں

کہ میر ی سو چ کے مطا بق، جنر ل ضیا کے سا تھ وہ پا کستانی کلچر بھی بھسم ہو گیا۔ ا ن کے بعد کے دو جمہو ری دور افراتفری کی نذر ہو ئے۔ میں اس بحث میں پڑ ے بغیر بات آ گے بڑھا تی ہو ں۔ بہرحا ل پھر مشرف آ ئے، مشرف جنرل ضیا کی طر ح سخت گیر نہ تھے۔ آ مر ہوتے ہوئے بھی جمہوری رویہ ر کھتے تھے۔ حقیقی معنوں میں اسی دور میں پا کستان نے ترقی کی، گھر، گا ڑیاں، شا ہر ا ہیں، بلڈ نگیں، پُل، پارک، اگر اسی کا نا م تر قی ہے تو یہ تر قی ہم نے کر لی۔ لیکن د شمن بھی سکون سے نہیں بیٹھے۔ تا ک میں ر ہے۔ اور آ خر بساط لپیٹ دی گئی۔ اسلا م آباد کے قلب میں لال مسجد کے اندر اسلحے کے انبا ر لگا کر۔ تربیت یا فتہ غیرملکیو ں کو مسجد میں پناہ دے کر، ایک جیسے قد بُت کی وہ بچیا ں کون تھیں ؟ میں نے کہیں پڑھا تھا (خوارزمی عہد حکومت میں ازبک خوا تین کو محلات کی حفاظت پر مامور کیا جاتا تھا جو ایک جیسے قد بُت کی ہوتی تھیں) اُ نھیں حکومتی رٹ توڑنے پر لگا دیا گیا اُدھر میڈیا نے رٹ لگا دی کہ حکومتی رٹ چیلنج ہو رہی ہے۔ ایکشن کیوں نہیں لیا جاتا ؟ یہ لو گ خود کچھ نہیں ہوتے، کسی نہ کسی کے آ لہ کار ہی ہوتے ہیں۔ لیکن یہ آ لہ کار بنتے کیسے ہیں یہ راز آ ج تک نہیں کُھلا۔ کہ یہی آلہ کار بعد میں عبرت ناک انجام کو پہنچتے ہیں پھر بھی سبق حا صل نہیں کرتے۔ یہ سوال مجھے اکثر بے چین ر کھتا، اور ہماری نئی نسل کے ذ ہنو ں میں اُ ٹھنے والا سوال، کہ پا کستا ن کیو ں بنا ؟ جب ہم نے امن کی آ شا کی مالا ہی جپنی تھی، جب بقو ل نواز شر یف ہمارا بھگوان ایک کلچر ایک تو پھر پا کستان بنانے کی تُک کیا تھی؟ جب بچے سوال کرتے تو میں بھی سوچ میں پڑ جاتی، آ ج کل کے بچوں کو مطمئن کر نا بہت مشکل ہے۔ آ خر مجھے ان دونوں سوالوں کے جواب جناب ممتاز مفتی مرحوم کی کتاب رام د ین میں ملے۔

آ ئیے اس کتاب میں سے کچھ ا قتباسات پڑھتے ہیں شائد نئی نسل کی بھی کچھ تشفی ہو کہ پا کستان کیوں بنا اور ساری دنیا ہمارے ہی پیچھے کیو ں پڑی رہتی ہے؟ مصنف لکھتے ہیں۔ اگر پا کستا ن نہ بنتا تو یہ بات خارج از امکان نہیں کہ آج میں بھی، رام دین ہو تا بلکہ میں ہی نہیں آپ اور ہم سب رام د ین ہوتے۔ ہمارے سر وں پر چوٹیاں نہ ہوتیں گلوں میں، جینؤ ، نہ ہو تے، گھرو ں میں گوبر کی لپائی نہ ہو تی اس کے با وجود ہم رام دین ہوتے، رام دین ایک ذ ہنیت کا نا م ہے جو خود اختیار نہیں کی جاتی بلکہ جسے اکثر یت ایک منصوبے کے تحت پیدا کرتی ہے۔ اور جو ذہن سے آہستہ آہستہ، لباس، گفتگو، اور جسم تک پہنچتی ہے۔

اگر رام دین نہ ہو تا تو کبھی پا کستان وجود میں نہ آ تا۔ سچی با ت یہ ہے کہ رام دین ہی پا کستا ن کا اوّ لین با نی ہے۔ ہما رے آج کے نو جوا ن رام د ین سے وا قف نہیں لہذا اُنکی سمجھ میں نہیں آتا کہ پا کستان کیو ں وجود میں آیا تھا۔ پا کستان کی آ ئیڈ یالوجی کیا ہے ؟ میں ان نوجوا نو ں کو مشورہ دو ن گا کہ وہ “کے ایل گا با” کی تصنیف، پیسو وا ئسز پڑ ھیں، اس کتا ب میں، گا با، نے بھارت کے رام دینو ں کا تذ کر ہ کیا ہے۔ گابا ایک مشہو ر قانون دان تھے۔ پہلے ہند و تھے پھر مختلف مذاہب کا مطا لعہ کر نے کے بعد مسلما ن ہو گئے۔ اس پر ان کے عز یز و ا قا رب سیخ پا ہو گئے۔ ان کو ا تنا ہرا سا ں کیا گیا کہ ا نکی ز ند گی اجیرن ہو گئی۔ ا نکی آ پ بیتی ایک طو یل دُ کھ بھر ی دا ستا ن ہے۔ مسٹرگا با قا نو ن دا ن تھے اس لئے اپنی کتا ب میں صرف شماریات پیش کیئے۔ مثلاً د فتروں میں مسلمانوں کی تعداد کیا ہے۔ شہروں میں چلنے والی لاکھو ں گاڑیوں میں سے صرف چند مسلمانو ں کے پاس ہیں۔ کتنوں کے پاس ٹیلی فون ہیں (شائد پڑ ھنے والے سوچیں کہ جا نے یہ کب کی کتاب ہے اور اب تو ہر دوسرا خا ن بھارتی فلمو ں کا ہیر و ہو تا ہے اور فلمو ں کے ہیر و کتنا کما ر ہے ہیں یہ سا ری د نیا جا نتی ہے ) وہ فلمو ں کے ہیر و ہیں بھارت کے نہیں یہی تو بھارت کے اصل رام دین ہیں۔ نام کے مسلما ن جن کو جا ئیداد خریدنے کی ا جا زت بھی مشکل سے ملتی ہے، شبانہ اعظمی، شاہ ر خ خا ن، سنجے دت ایک لمبی لا ئن ہے رام دینو ں کی، مورتیو ں کے آ گے ہا تھ جو ڑ نے والے گﺅ ماتا کے آ گے ما تھا ٹیکنے والے، گیر وے لباس، ماتھے پے تلک، کیا یہ مذہبی آزادی ہے ؟مصنف نے لکھا ہے حا ل ہی میں مجھے سندھ میں تھر پارکر جا نے کا اتفاق ہوا و ہا ں میں نے دیکھا ہندوﺅں کے کو ٹ کے کو ٹ آ با د ہیں۔ گو بر کی لپائی ہے، چوکے ہیں بُت ہیں، پُوجا ہے مندر ہیں، آ شرم ہیں سبھی کچھ ویسے کا ویسے ہے جیسے تقسیم سے پہلے تھا، و ہی شادی غمی، میل جو ل لینا دینا، بھاجیو ں کی با نٹ، سلامیا ں، منہ د کھائیا ں، تھر کے سارے شہروں اور قصبوں کا کاروبار آ ج بھی ہندوﺅں کے ہاتھوں میں ہے

جس طر ح تقسیم سے پہلے اکثر یت کے علا قوں میں ہندﺅوں کے ہا تھو ں میں تھا۔ ہندو ہی برج ما ن تھے۔ کوئی مسلما ن منڈیوں میں چلا جا تا تو چند ہی دن میں نکال باہر کرتے۔ ہند و قوم ایک عظیم قوم ہے۔ بے شک وہ بڑی خوبیوں کے مالک ہیں، لین دین کے کھرے ہیں قول کے پکے ہیں، پلی پلی جو ڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، صبر و تحمل، سادگی برد باری بے شک ان میں بڑی خو بیاں ہیں۔ صرف اتنی سی بات ہے کہ اُن میں سے کسی کو اقلیت کو برداشت کرنے کی توفیق نہیں۔ اور مسلم کُشی کا جذبہ بہت گہرا ہے۔

یہ اس حد تک “ما فلاز” ہے کہ نظر نہیں آ تا، پھر ہمارے نوجوان اس کو کیسے سمجھیں؟ بد قسمتی سے مسلمان اس قدر وسیع القلب ہو تے ہیں کہ اکثر دلخراش باتوں کو دل سے بُھلا د یتے ہیں۔ غصہ انھیں ضرور آ تا ہے بار بار آتا ہے مگر یہ غصہ سوڈے کی بو تل کے اُبال جیسا ہو تا ہے غصہ پی کر دل میں بٹھا لینے کی خصلت سے عاری ہیں

بھارت میں “گابا” کی کتا ب کو چلنے نہیں دیا گیا، اہل یو رپ رام دین کے مفہو م کو سمجھ ہی نہیں سکتے چاہے کوئی شماریات پیش کرے، یا جذباتی منطق کا سہارا لے۔ اُ ن کے ذ ہنو ں میں سماجی تفر یق کا خا نہ خالی ہے، عرب ملک عرب اور غیر عرب کے چکر میں پڑ ے ہیں پا کستان واحد ملک ہے جس کا رام دین سے گہرا تعلق ہے۔ حالانکہ پا کستان میں کسی ہندو کو سلام چند نہیں بنا یا گیا وہ مکمل آ زادی سے رہ رہے ہیں کہ یہی دین ا سلام کی تعلیمات ہیں۔ لیکن ہندو نے سرحد پار سے بھی اپنا بیر پورا کیا، اُ نھو ں نے کبھی پاکستان کو تسلیم نہیں کیا، اپنا کلچر یہاں رائج کر نے کی ہر ممکن کو شش کی۔ ہمارے لوگ اُ ن کے آ لہ کار بنے ہم پھر بھی دو ستی کا ہا تھ بڑھائے جا رہے ہیں   ہما ری نوجوان نسل کو اس کا شعور کیسے ہو کہ پا کستا ن میں لاکھوں ہندو مقیم ہیں مگر ان میں سلام چند کو ئی نہیں، پا کستا ن بنانے والے لدّ گئے پرانے پتے جھڑ گئے ا نکی جگہ نئی کونپلیں پھوٹیں جنھیں رام دین کا شعور نہیں، اپنے ملک کی قدر نہیں

دوسرا یہ کہ بڑ ی طاقتیں بھی مسلسل اس عمل میں لگی ہیں کہ مسلما ن کہیں مل نہ بیٹھیں یہ جن ا فتراق و تفریق کی بوتل سے نکل نہ آئے۔ یہ قوتیں بڑی سمجھ دار و کا ئیاں ہیں۔ بڑی فعال ہیں بڑی طاقتور ہیں، بڑ ی دور بیں ہیں انھیں پتہ ہے مسلما ن سنبھل گیا مل بیٹھا تو سب چوپٹ ہو جا ئے گا۔ اس لئے وہ چاہتے ہیں کہ مسلما ن فروعات میں پھنسا رہے۔ وہ مسلما ن کا اتحاد ہونے نہیں دیتے۔ جمہو ر یت کے گُن گاتے ہیں سیکولر نظریات کی آ بیاری کرتے ہیں۔ د شمنان اسلام ہمیشہ اس با ت سے خائف رہے کہیں مسلما ن اپنے دین پر فخر کر نا نہ سیکھ لے اُنھو ں نے ایسے خیالات فضا میں چھوڑے جو دین اور وطن کی نفی کرتے ہیں

وہ کہتے ہیں اچھا انسان وہ ہو تا ہے جو ہر قسم کے تعصبات سے پا ک ہو تا ہے۔ آ ج کا مسلمان مغرب کے چُنگل میں پھنسا ہے، دین اور وطن سے لاتعلق رہ کے کو شش کر تا ہے کہ مہذ ب سمجھا جائے۔ حا لا نکہ جتنا تعصب ہندو میں ہے شا ید ہی کسی قوم میں ہو لیکن ہند و کا تعصب ا چھا ہے کم از کم ا نھیں ایک قوم کی صورت جوڑے ہوئے ہے

آخری بات ا گر ہم آج تک بھارت کی دست و برد سے بچے ہو ئے ہیں تو ا س کی دو وجہیں ہیں۔ ایک تو ہمارے عوام میں مثبت جذ بہ مو جو د ہے اور دوسرے ایسا لگتا ہے پا کستا ن کو تا ئید ایزدی حا صل ہے


Comments

FB Login Required - comments

4 thoughts on “پاکستان کیوں بنا؟

  • 11-04-2016 at 2:23 am
    Permalink

    کسی طالبعلم کو پراگندہ خیالی کا مطلب سمجھانا ہو تو یہ مضمون بہت کارآمد ہو سکتا ہے

  • 11-04-2016 at 6:18 pm
    Permalink

    لگے ہاتھوں یہ بھی بتا دیجیے کہ صرف انڈیا کے ہندو متعصب ہیں یا آپ کی یہی رائے اپنے ہم وطن ہندوٴوں کے بارے میں بھی ہے، جنکا جینا حرام کر رکھا ہے غیر متعصب مسلمانوں نے؟ افسوس کہ آپ کے بزرگ ممتا مفتی نے یہ نہیں بتایا کہ خالد لطیف گابا صاحب ۱۹۴۷ میں پاکستان چھوڑ کر بھارت چلے گئے تھے اور بمبئی میں عرصے تک وکالت کرکے نفیس زندگی گذارتے رہے۔

    چودھری محمد نعیم

  • 12-04-2016 at 1:46 am
    Permalink

    یہ آرٹیکل ایک متعصب سوچ ظاہر کرتا ہے۔ یہ سوچ محض ایک پاکستانی مسلمانوں‌ کے دائرے میں‌ہی نہیں‌ کافی سارے دیگر مملک ‌میں‌بھی دکھائی دیتی ہے۔ جیسے کہ کچھ مورمن چرچ اور ویسٹ بورو چرچ والے بھی ایسے ہی خیالات رکھتے ہیں۔
    ان لوگوں‌کے نزدیک دنیا میں‌ دو اقوام پائی جاتی ہیں۔ ہم اور وہ۔ یہ اپنے آپ کو ایک عالمی شہری نہیں‌ بلکہ ایک مخصوص گروہ کا حصہ سمجھتے ہیں‌ جو اسی گروہ کو سب سے بہتر سمجھتے ہیں‌چاہے ایسا ہو یا نہیں‌اور اسی گروپ کے اندر خود کو محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ ان کو ایسا لگنا ہے کہ جیسے صرف ہم ہی بیچارے ہیں‌اور ساری دنیا مل کر ہم پر ظلم کررہی ہے۔
    ممتاز مفتی مرحوم کی کتاب رام د ین کے علاوہ بھی آپ لوگ اور دوسرے ممالک کے فلاسفرز کو بھی پڑھیں، سفر کریں، خود انڈیا جائیں، دوسرے ملکوں‌میں‌بھی جائیں‌، دنیا کے دیگر مزاہب اور ممالک کے لوگوں‌کو دوست بنائیں‌ اور ان کے نقطہء نظر سے دنیا کو دیکھنے کی کوشش کریں‌۔

  • 12-04-2016 at 10:16 pm
    Permalink

    بہت خوب، ماشاء اللہ!

    آپ نے صحیح کہا کہ پاکستان اصل میں رام دین نے بنایا ہے، اگر مسلمانوں کے خلاف متعصبانہ سوچ نہ ہوتی اور مظالم کی حد نہ ہوتی تو محمد علی جناح کو جو کبھی ‘ہندو-مسلم اتحاد کے سب سے بڑے سفیر’ تھے علیحدگی کی بات نہ کرنی پڑتی۔

    ایک بات سے البتہ تھوڑا اختلاف ہے۔ ضیاء الحق سے پہلے بھی ملک اسلامی اور نظریاتی طور پر مستحکم تھا، مثلاً 1965 کی جنگ میں جذبہ ایمانی اور ملک کے لیے کٹ مرنے کے شوق کو دیکھ لیجئے۔ ہماری نظریاتی سوچ پر اصل کاری ضرب پرویز مشرف کے زمانے میں لگی اور اس کے بعد کی ساری اندوہناک کہانی تو ہم سب کے سامنے ہے۔

Comments are closed.