دہشت گردی وانتہا پسندی کا خاتمہ کیسے ممکن ہے؟


\"anwarاقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ عالمی برادری دہشت گردی و انتہا پسندی کے خاتمے کے لئے اس کی بنیادی وجوہات کو ختم کرے، تاکہ دنیا اس لعنت سے چھٹکارا حاصل کرسکے۔“ اس میں دو رائے نہیں کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی پوری دنیا کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف مسلمان اور غیرمسلم سب ایک ہیں۔ آج ہر کوئی دہشت گردی کی مذمت کررہا ہے۔ اس موضوع پر جابجا مذاکرے، جلسے، سیمینارز اور کانفرنسیں ہورہی ہیں۔ سب ایک ہی ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں کہ دہشت گردی کو ختم ہوجانا چاہیے۔ اس وقت پوری دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ تیزی سے پھیلتی ہوئی دہشت گردی اور بڑھتی ہوئی انتہا پسندی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں جب تک دہشت گردی اور انتہا پسندی کے بنیادی اسباب کو ختم نہیں کیا جاتا اس وقت تک سب کوششیں رائگاں ہیں ۔

آئیے سرسری سا جائزہ لیتے ہیں کہ دہشت گردی و انتہا پسندی کی بنیادی وجوہات کیا ہیں؟ ان اسباب میں ناانصافی، نسلی امتیازات، جہالت، غربت، طبقاتی تفریق، بد عنوانی، بیڈ گورننس، کرپشن، بےروزگاری، منشیات، استعماری پالیساں، سامراجی عزائم، ہوس ملک گیری، دوہرے معیار،دوغلے پیمانے اور ظلم شامل ہے۔ یہ پندرہ اسباب ایسے ہیں جو دنیا میں دہشت گردی کو جنم دے رہے ہیں اور انتہا پسندی میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔ ناانصافی ایک ایسا عمل ہے جو لڑائی جھگڑے اور مار کٹائی کا سبب ہے۔ جس معاشرے میں عدل قائم ہوجائے وہ معاشرہ امن کا گہوارہ بن جاتا ہے اور جب دنیا میں ناانصافی شروع ہوجائے تو پھر پرامن دنیا بھی جنگل بن جاتی ہے، جس میں ہر طاقتور کمزور کو دبائے اور مارے چلے جاتا ہے، اور کمزور کے پاس جب اپنے دفاع کے لیے کچھ نہیں ہوتا وہ تہیہ کرلیتا ہے کہ نہ خود جئے گا اور نہ ہی دوسروں کو جینے دے گا۔ عالمی طاقتیں اس وقت کمزور قوموں اور غریب ممالک کے ساتھ ہر قسم کا ظلم و ستم روا رکھے ہوئے ہیں اور ان کے دوہرے معیار اور دوغلی پالیساں ہیں۔ صرف ایک مثال دیتا ہوں۔

2003ءمیں امریکا کے سابق صدر بش نے دنیا بھر میں عیسائیت کی ترویج کے لیے مشنری تنظیموں کو فنڈ فراہم کرنے کے لیے وہائٹ ہاﺅس میں ”Faith-Based and Community Initiatives“ نامی ڈپارٹمنٹ قائم کیا تھا۔ اس کے ڈائریکٹر ”جم ٹووی“ کو امریکی سوسائٹی کو کٹر عیسائی مذہبی معاشرے میں تبدیل کرنے کا ہدف سونپا گیا تھا۔ انہوں نے 10 ہزار 5 سو 18 عیسائی تنظیموں کو ایک ارب 70 کروڑ ڈالرز فراہم کیے تھے۔ جب بش عیسائیت کی ترویج کے لیے وہائٹ ہاﺅس میں خصوصی ڈیپارٹمنٹ قائم کرتا ہے اور عیسائی مذہبی تنظیموں کو 40 ارب ڈالر دینے کا فیصلہ کرتا ہے تو روادار کہلاتا ہے لیکن اگر کوئی مال دار شخص کسی مدرسے کی سرپرستی کرے تو وہ رواداری کا دشمن! یہ تفریق کیوں؟ اب سوال یہ ہے کیا امریکا اربوں ڈالر خرچ کرکے اپنے معاشرے کو مذہبی شدت پسند، تنگ نظر اور انتہا پسند بنانے کے لیے کوشاں نہیں؟ یہ کیسی ناانصافی ہے اگر کوئی ”ہولوکاسٹ“ پر لکھے یا بولے تو وہ قابلِ گرفت ہے لیکن اگر کوئی ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی معززترین ہستیوں کے بارے میں شرانگیزی کرے تو اس کو تحفظ دیا جاتا ہے۔ مغرب کی یہی دوغلی پالیسی ہے جو ان کے لیے نفرت اور عداوت میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔ عالمی طاقتوں کا یہی دوہرا معیار ہے جوان کے رواداری کے دعووں کی قلعی کھول رہا ہے۔

اسی بارے میں: ۔  کیا ایک منتخب حکومت کا گرایا جانا ہی تبدیلی ہے

اب آجائیں غربت و جہالت کی طرف کہ یہ بھی دہشت گردی کا ایک بڑا سبب ہے۔ ڈی ایٹ ممالک اور دنیا کی معیشت کو کنٹرول کرنے والے G-20 ممالک اس کا برملا اعتراف متعدد بار اپنے سربراہی اجلاسوں میں کر بھی چکے ہیں کہ دہشت گردی کا ایک سبب غربت بھی ہے۔ ورلڈ بینک اور دیگر عالمی مالیاتی ادارے مشترکہ طور پر کئی بار کہہ چکے ہیں کہ امیر ترین ممالک تیسری دنیا کے لوگوں سے کیے گئے امداد کے وعدے پورے کریں، ورنہ وہاں کے بھوکے ننگے لوگ دنیا کا جینا حرام کردیں گے۔ سرمایہ دار اور طاقتور ممالک کی ستم ظریفی تو ملاحظہ کیجیے! ایک طرف انسانوں کا خون پینے والے اور مہلک ہتھیار بنانے پر اربوں کھربوں صرف کررہے ہیں تو دوسری طرف پوری دنیا میں ایک ارب سے زائد لوگوں کو دو وقت کی روٹی بمشکل میسر ہے۔ ان میں سے 80 کروڑ انسانوں کو بھوکا سونا پڑتا ہے۔ ان میں سالانہ 25 ہزار افراد غذائیت کی شدید کمی کی وجہ سے مرجاتے ہیں۔ عالمی طاقتوں کا سار زور اس پر ہے کہ ان کی فوجی طاقت میں کمی نہ آئے اور آمدن بڑھتی ہی چلی جائے۔ وہ غریبوں کی حالت زار پر توجہ دینے کے لےے تیار نہیں۔ دنیا اسلحے کی تیاری پر جتنی رقم خرچ کرتی ہے اس کے صرف ”ایک فیصد“ سے وہ تمام بچے اسکول جا سکتے ہیں جنہیں غربت کے باعث تعلیم کی سہولت میسر نہیں۔ ایک جنگی طیارے پر جتنی لاگت آتی ہے اس سے کئی اسپتال اور اسکول بنائے جا سکتے ہیں۔ غریبوں کے لیے گھر اور مکان تعمیر ہوسکتے ہیں۔

دنیا میں بچوں کی تعداد تقریباً دو ارب بیس کروڑ ہے۔ ان میں سے ایک ارب بچے غربت کی آغوش میں پل رہے ہیں۔ پوری دنیا میں روزانہ ہر 3.6 سیکنڈ بعد کوئی نہ کوئی انسان بھوک کی وجہ سے مرتاہے۔ ترقی یافتہ ممالک فخریہ اعلان کرتے ہیں ہم ہر سال غریب ممالک کو اتنے کروڑوں ڈالر کی امداد دیتے ہیں۔ وہ دعوے ضرور کرتے ہیں، پر عملی اقدام نہ ہونے کے برابر ہے۔ امریکا اور یورپ کے باسی ہر سال شراب پینے اور سگریٹ سلگانے پر 500 ارب ڈالر سے زیادہ رقم خرچ کرتے ہیں۔ اس میں سے اگر ہر سال 200 ارب ڈالر مل جائیں تو دنیا سے غربت، بھوک، جہالت، پانی کی کمی اور بیماریوں کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک کی حکومتیں امن قائم کرنے کے نام پر اور مبینہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر اربوں کھربوں خرچ کرتے ہیں، پرانہیں تیسری دنیا کے ان کروڑوں غریبوں کاخیال نہیں آتا ہے جو خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ امیر کبیر ممالک کس منہ سے خود کوعالمی تھانیدار کہتے ہیں؟

اسی بارے میں: ۔  کیا یہاں سب بُرا ہے؟

اسی طرح منشیات اور کرپشن کا پیسہ بھی دہشت گردی میں استعمال ہورہا ہے۔ جن ممالک میں انصاف ہے، شفافیت ہے، منشیات کی اسمگلنگ نہیں ہے، بدعنوانی اور کرپشن نہیں ہے، گڈ گورننس ہے، طبقاتی تفریق نہیں ہے، بے روزگاری نہیں ہے، بے روزگاروں اور غریبوں کے لیے بھی سہولیات ہیں تو وہاں پر دہشت گردی نہیں ہے۔ آپ دہشت گردی کا شکار ممالک اور دہشت گردوں کا بائیو ڈیٹا نکال دیکھ لیں کہ کن کن علاقوں، قوموں اور ممالک کے لوگ دہشت گردی میں سب سے زیادہ ملوث ہیں؟ آخری بات جو سب سے اہم ہے، وہ ہے عالمی طاقتوں کی استعماری پالیسیاں اور دہشت گردی کی تعریف۔ عالمی سطح پر اب تک دہشت گردی کی جامع تعریف پر اتفاق نہیں ہوسکا ہے۔ ہر کوئی اپنی مرضی اور منشا کے مطابق جسے چاہے دہشت گردی کہہ دیتا ہے اور جسے چاہے امن کا نام دے دیتا ہے۔ اصل بات یہی ہے کہ دہشت گرد کسے کہا جائے؟ مذہبی انتہا پسندی کا اطلاق کن پر ہو؟

یہ سب وہ پہلو ہیں جن پر سنجیدہ غور و فکر کرنے اور مل بیٹھ کر حل کرنے کی ضرورت پہلے بھی رہی ہے اور اب اس سے زیادہ ہے۔ در حقیقت حق خودارادیت کی جدوجہد اور مبینہ دہشت گردی کی تعریف کے متعین کرنے اور اس کے لیے بنیادی اصول بنانے میں سب سے بڑی رکاوٹ سامراجی اور جارحیت پسند طاقتیں ہیں جنہوں نے دوسری اقوام پر جبراً قبضہ جما رکھا ہے۔ اس سے چھٹکارے کے لئے دنیا کے مختلف خطوں میں تحریکیں چل رہی ہیں۔ آزادی کی اس جدوجہد کو دہشت گردی سے تعبیر کیا جاتا ہے اور حریت پسندوں کو دہشت گرد باور کرایا جاتا ہے جبکہ کئی ممالک آزادی اور حق خودارادیت کی جدوجہد کوجائز قرار دیتے ہوئے ان کی حمایت کرتے ہیں۔ اگر حق خود ارادیت کی جدوجہد اور دہشت گردی میں فرق تسلیم کرلیا جاتا ہے تو یہ بات لازمی ٹھہرے گی کہ ان طاقتوں کو مقبوضہ علاقے واپس کرنا ہوں گے، اس لیے وہ اس بحث کو نمٹانے پر کبھی سنجیدگی سے تیار نہیں ہوتیں۔ اس پس منظر میں اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے درست بات کہی ہے کہ جب تک نسلی امتیاز، ظلم و ستم اور ناانصافی کا خاتمہ نہیں ہوجاتا، بے روز گاری وجہالت کم نہیں ہوجاتی، دوغلی پالیسیاں اور دوہرے معیار ختم نہیں ہوجاتے اس وقت نہیں دنیا سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کا خاتمہ ممکن نہیں ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

2 thoughts on “دہشت گردی وانتہا پسندی کا خاتمہ کیسے ممکن ہے؟

  • 13-04-2016 at 6:50 pm
    Permalink

    جب اسلامی دہشت گردی کی بات ہو تو ان پندرہ اسباب میں ایک سولھویں سبب کا اضافہ کرنا ضروری ہے، اور وہ ہے جہاد کے ذریعے دنیا پر (پہلے اپنے ملک کے غیرمسلموں اور ناقض مسلمانوں پر اور آس پاس کے مسلم اور غیرمسلم ہمسایہ ملکوں پر) اسلام کو غالب کرنے کا شوق۔ اس شوق کے تحت دہشت گرد تنظیمیں باقی تمام پندرہ اسباب کو جوں کا توں قائم رکھنے پر بھی تیار ہو جاتی ہیں کیونکہ یہ کارآمد سرگرمی ان کا ذریعۂ معاش بن جاتا ہے۔ اگر پاکستان سے اٹھنے والی دہشت گردی کو غور سے دیکھا جائے تو اس سولھویں سبب کو صاف پہچانا جا سکتا ہے۔

  • 14-04-2016 at 11:23 am
    Permalink

    غریب قومیں صرف معاشی ہی نہیں بلکہ فکری ترقی کے لیے بھی امیر قوموں کی محتاج ہیں. جب تک آپ ان سے صرف پیسہ لیں گے اور سوچ نہیں لیں گے، وہ پیسہ دہشت گردی اور کرپشن کی نذر ہوتا رہے گا؛ تیسری دنیا مسائل کا شکار رہے گی اور امیر دنیا مداخلت کرتی رہی گی.

    اگر مان لیا جاۓ کہ بش نے Faith-Based and Community Initiatives امریکا کو عیسائی کرنے کے لئے کیا تو یہ امریکا کے خاتمے کا initiative ہے اور بش سے بڑا احمق اور غدار امریکہ کوئی نہیں.

    ایسے ایڈونچر کی توقع صرف تیسری دنیا کے آمروں سے ہی رکھی جا سکتی ہے.

    اوباما اسے بین المذاہب ہم آہنگی کا ادارہ سمجھتا ہے اور اس کا مقصد “ایمان والوں” کے ساتھ مل کر سماجی ترقی سمجھا جاتا ہے.

    یہ اور بات ہے کہ یہ مغرب کے “ریاست اور مذھب کی علیحدگی” کے آدرش سے متصادم سمجھا جاتا ہے

Comments are closed.