خواب جن کی تعبیر باقی ہے


asjad azeem انسانی سماج جب سے طبقات میں تقسیم ہوا ہے نہ صرف یہ تضادات کا مجموعہ ہے بلکہ اس میں موجود ان طبقات میں گہری کشمکش بھی رہی ہے اور یہ تضادات جو اپنی بنیاد اور کردار کے حوالے سے ناقابل حل ہیں بلکہ بعض اوقات ان طبقات کے یہ تضادات گہرے ہوتے ہوئے ٹکراﺅ کا باعث بن جاتے ہیںاور ان کا یہ ٹکراﺅ ایک تحریک کی شکل اختیار کر لیتا ہے ۔انسانی تاریخ میں ہمیشہ حاکم اور محکوم طبقے میں ٹکراﺅ ہوتا رہا ہے اور یہ دونوں طبقے ہمیشہ ہی ایک دوسرے کےخلاف بر سر پیکار رہے ہیں۔جد و جہد کے اس سفر میں محکوم یا محنت کش طبقے کو اگر فتح یا کامیابی حاصل ہو جائے تو سماج میں مکمل طور پر تبدیلی واقع ہو جاتی ہے جسے عرف عام میں انقلاب کہا جاتا ہے اگر صورتحال اس کے برعکس ہو یعنی محنت کش طبقے کو ناکامی ہوجائے تو اس کی کوئی نہ کوئی ےاد محنت کش طبقے کے ذہن میں رہ جاتی ہے۔کامیابی کی صورت اس وقت بن پاتی ہے جب اس تحریک یا جد وجہد کو منظم کرنے کے لیے ایک انقلابی پارٹی یا قیادت تحریک کی رہنمائی کرتی ہے ورنہ ناکامی مقدر ٹھہر تی ہے۔لیکن پھر بھی انقلابی تحریکیں ہر دو صورت میں سماج کو بہت کچھ دے جاتی ہیں۔

سیاسی پارٹیاں خواہشات پر کبھی نہیں بنا کرتیں بلکہ ان کے بننے اور پروان چڑھنے میں بے شمار عوامل کارفرما ہوتے ہیں بالخصوص اُس عہد کے معروضی حالات کا کلیدی کردار ہوتا ہے۔اس بات کو سادہ ترین الفاظ میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ محنت کش طبقے کی کسی بڑی تحریک کے نتیجے میں کوئی نئی سیاسی قو ت تخلیق ہو پاتی ہے پھر یہ تخلیق پورے سماج پر بھرپور قوت کے ساتھ نمودار ہو تی ہے انقلابی پارٹیوں یا نوآبادیاتی ممالک کی پاپولسٹ پارٹیوں کے پیچھے محنت کش طبقے کی شاندار تحریکیں تھیں جھنوں نے ان پارٹیوں کو پلک جھپکتے ہی ملکوں کے سیاسی افق پر درخشاں ستارے کی مانند بنا دیا اسی طرح رجعتی اور رد انقلابی پارٹیوں کے قیام میں بھی یہ عوام اسی طرح عمل کرتے ہیں ان معروضی حالات کے بغیر سیاسی پارٹیاں پروان نہیں چڑھا کرتیں یقینا ان حالات میں قیادتوں کا کردار بہت اہم ہوتا ہے۔ورنہ انسانی تاریخ ایسی بے شمار مثالوں سے بھر پڑی ہے جو انقلابی سیاسی پارٹی بنانے کی خواہش دل میں لیے اس جہاں سے کوچ کر گئے حالانکہ ان لوگوں کی جراءت اور کوشش میں کوئی کمی نہ تھی پاکستان پیپلز پارٹی کو بھی اسی قسم کے حالات اور واقعات نے سینچا تھا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے قیام پر بات کرنے سے پہلے اگر تھوڑا سا اس کے پس منظر کے سیاسی اور سماجی حالات پر نظر ڈال لی جائے تو ذیادہ بہتر رہے گا۔1946ء میں جہا زیوں کی طبقاتی بغاوت کے شعلو ں کی حدت اس قدر شدید تھی کہ اس نے تاج برطانیہ اور اس کے کاسہ لیس برصغیر کے حکمران طبقے کو جھلسا کے رکھ دیا ۔اور ان دونوں نے فوراً ہی اس طبقاتی ٹکراﺅ کو مذہبی جنگ میں تبدیل کرتے ہوئے لاکھوں محنت کشوں کے خون کی ہولی کھیلی اور ایک زندہ جسم کو چیرتے ہوئے ایک خونریز تقسیم کا اعلان کیا او ر اس بیمانہ تقسیم کو آزاد ی کا نام دیا گیا اور اس جرم کی پاداش میں برصغیر میں دو آزاد ریاستوں پاکستان اور بھارت کا وجود عمل میں لایا گیا بھارت کے حصے میں نسبتاً بہرت سماجی حالات آئے لیکن پاکستان کے حصے میں نہ ہونے کے برابر انفراسٹرکچر آیا ۔یہ ریاست تاریخ طور پر سرمایہ دارانہ انقلابات یا قومی جمہوری انقلاب کی دوڑ میں تاخیر سے داخل ہوئی یوں یہ ریاست اپنے جنم دن سے تاریخی فرسودگی اور متروکیت اپنے ساتھ لائی تھی اور اس تاخیر زدگی کے باعث یہ ریاست آج تک سرمایہ دارانہ قومی جمہوری انقولاب کا کوئی ایک بھی فریضہ اداءنہ کر پائی ۔لولی لنگڑی اور تاریخی متروکیت کی حامل سرمایہ داری کو برقرار رکھنے کے لیے کبھی جمہوریت اور کبھی آمریت کا سٹیج ڈرامہ اس ملک میں چلتا رہا جس کے نتیجے میں حکمران طبقے کی تجوریاں تو بھرتی رہی لیکن اس ملک کا اکثریتی طبقہ یعنی محنت کش عوام کی زندگیاںن غربت ،بھوک ،بیماری اور بیروزگاری کے باعث اجیرن ہوتی گئیںآخر کا ر یہ طبقاتی کشمکش اور تضا د اس قدر بڑھا کہ سماج کے نیچے پکنے والا طبقاتی لاوا پھٹ پڑا اور 60ءکی دہائی کے آخری دو تین سالوں میں ایوبی آمریت ترقی اور خوشحالی کا واویلا کر رہی تھی ٹھیک انہی سالون میںمحنت کشوں اور طلباءکی ایک دیوہیکل طبقاتی بغاوت کا آغازہوتا ہے جس نے ایوب خان کی خوفناک آمریت کے پر خچے اُڑا کر رکھ دیئے اور اس عمل کے ذریعے محنت کش طبقے نے اپنے تاریخی فرض کی ادائیگی کر دی تھی ایوان صدر اور جی ایچ کیو کی بجلی بند کر دی گئی تھی ۔ٹیلی فون کی گھنٹیاں بجنا بند ہو گئی تھیں فیکٹریوںپر مزدوروں کا قبضہ ہونا شروع ہو گیا تھالوگوں نے مکانون کے کرائے دینے سے انکارکر دیا تھا۔محنت کشوں کی تحریک ،مطالبات اور کردار نے باخوبی واضح کر دیا تھاکہ یہ ایک سوشلسٹ تحریک تھی اور اسی تحریک کے دوران ہی 30نومبر1967ءکو پاکستان پیپلز پارٹی کا قیام عمل میں لایا گیا ۔بنیادی منشور اور دستاویزات کے مطابق پارٹی کا نام پکستان پیپلز پارٹی رکھا گیا اور پارٹی کے بنائے جانے کا حتمی مقصد طبقات سے پاک معاشرے کا قیام عمل میں لانا بیان کیاگیا جو آج کے عہد میں صرف اور صرف سوشلزم کے ذریعے ہی ممکن ہے ۔اور پارٹی اپنی سرگرمیوں کے لیے درج ذیل رہنماءاصول اختیار کرتی ہے۔

۱۔            مساواتی جمہوریت یعنی غیر طبقاتی معاشرہ

۲۔            اقتصادی اور سماجی انصاف کے حصول کی خاطر سوشلسٹ نظریات کا استعمال ۔

پاکستان پیپلز پارٹی اپنے منشور اور پروگرام کی بنیاد پر برصغیر کی تمام کمیونسٹ اور سوشلسٹ پارٹیوں میں سب سے زیادہ ریڈیکل پارٹی بن جاتی ہے۔1967ءمیں پارٹی کی بنیاد رکھی جاتی ہے 68,69ءمیں پاکستان کے محنت کش اور طلباءایک طبقاتی تحریک کاآغاز کرتے ہیں اور پاکستان پیپلز پارٹی اپنے بائیں بازو اور انقلابی نظریات کی بنیاد پر اس عظیم انقلابی تحریک کی قیادت کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے اس لیے کے اس پارٹی کا پروگرام ،پالیسی اور نعرہ بازی حقیقت میں محنت کش طبقے کی زندگیوں میں پائی جانے والی محرومیوں اور ذلتوں کا بھر پور اظہار کرتی تھی اور اس مفلوک الحال طبقے کو اپنی زندگیاںبدلنے کا راستہ فراہم کر رہی تھی اور یہی وہ بنیادیں تھیں جھنوں نے راتوں رات اس پارٹی کو ملک کے ساسی افق پر ایک درخشاں ستارے کے مانند بنا دیااور محنت کش طبقہ اس پارٹی کو اپنے دکھوںاور ذلتوں کا مدوا سمجھتے ہو ئے جوق در جوق اس پارٹی میں شامل ہو کر اس سماج کو بدلنے کی حقیقی لڑائی میں شامل ہوتا ہے اس انقلابی معرکے میں کئی مرتبہ ایسا موقعہ آیا کہ اس وقت طاقت کے مراکز پر قبضہ کیا جا سکتا تھااور سرمایہ داری کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے شکست فاش دی جا سکتی تھی لیکن قیادت کی مرحلہ وار انقلاب کی انقلاب دشمن پالیسی کے باعث یہ انقلابی معرکہ کامیابی کی منزل نہیں دیکھ سکا انقلاب کی ناکامی میں جہاں نظریاتی دیوالیہ پن ایک وجہ تھا وہاں انقلابی مارکسی پارٹی کی تعمیر کا فقدان بھی ایک اہم پہلو تھاکیونکہ انقلابی پارٹی کی تعمیر کا کا م تحریکوں کے الاﺅ میں نہیں بلکہ نام نہاد جمود اور سکون کے عہد میں کیا جا تا ہے۔مارکسی کیڈر اور قیادت کے نہ ہونے کے باعث جوں جون تحریک کی شدت میں کمی آتی گئی اُسی تیز رفتاری کے ساتھ محنت کشوں کی اس تخلیق پر جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کا قبضہ ہوتا گیا اور اسی قبضہ کا نتیجہ تھا کہ 1970ءجب پارٹی کے ایک اہم اجلاس میں جہاں یہ فیصلہ ہونا تھا کہ انقلاب کے سفر کو آگے بڑھاناہے یا انتخاب کے ذریعے مصالحت کا راستہ اختیار کرنا ہے تو اجلاس میں طلباءمزدوروں اور کسانوں کی اکثریت جو یہ چاہتی تھی کہ اس انقلابی معرکے کو آخری فتح تک لڑا جائے لیکن محنت کشوں کی اکثریتی رائے کو ردی کی ٹوکری میں ڈالتے ہوئے مصالحت کا راستہ اختیار کیا جاتا ہے اور محنت کشوں کے مطالبے برچھی کے بجائے پرچی کو ترجیح دی جاتی ہے سوشلسٹ انقلاب کے تاریخی فریضے سے فرار حاصل کرتے ہو ئے انقلاب کو سرمایہ دارانہ جمہوریت جیسے فراڈ کی بھینٹ چڑھا دیاجاتا ہے۔

یوم تاسیس کی صورت میں کسی بھی سیاسی جماعت کے پاس کم از کم ایک دن تو ایسا ہوتا ہے کہ وہ اپنے میزان پر نظر ڈالےاپنی تاریخ کا تجزیہ کرے اپنی تخلیق کے عوامل کا جائزہ لے ا پنی کامیابیوں اور ناکامیوں پر غور کرے اپنی غلطیوں کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ قیادت کا محاسبہ کرے اور اپنے وعدوں کا اعادہ کرتے ہوئے اپنے باقی رہنے کا جواز فراہم کرے اگر ایسا نہیں ہے تع سمجھ لیجیے کہ یہ دن بھی محض لفاظی اور نعرہ بازی کی نظر ہو گیا۔بالشویک انقلاب کے لیڈر لینن نے بالشویک پارٹی کی تیسری سالگرہ کے موقعے پر اپنی تقریر کا آغاز ان الفاظ میں کیا تھا ” انقلاب کی سالگرہ منانے کا سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ اس انقلاب کے غیر حل شدہ مسائل کو حل کیا جائے اور اس کے نامکمل ایجنڈے کو مکمل کیا جائے۔“

اگر غور کیا جائے تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ پیپلز پارٹی کوئی انقلاب تو نہیں مگر یہ انقلاب کی پیدوار ضرور ہے اور یہ اس انقلاب کی ےاد ضرور ہے اور ےاد ہوتے ہوئے یہ اس بات کی متقاضی ہے کہ غور کیا جائے کے اس ا نقلاب کے غیر حل شدہ مسائل کیا ہیں او ر اس کا نامکمل ایجنڈا کیا ہے جو آج 45سال بعد بھی حل اور تکمیل کا متلاشی اور متمنی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے منشور میں سوشلسٹ انقلاب کے سلسلے میں بہت سی باتیں تھیںاور جب کراچی سے چٹاگانگ تک ایک ہی نعرہ لگتا ہے کہ ” جہڑا بوئے اوہی کھاوئے ،وسوشلزم آوے ہی آوے تو محنت کش طبقے نے اپنی تمام تر قوت کو اس نعرے میں مجتمع کرتے ہو ئے تحریک میں کودنے کا فیصلہ کیا اور ایوب خان کے خلاف تحریک کا آغاز کیا جو بظاہر راولپنڈی پولی ٹیکنیکل کالج کے ایک طالبعلم عبدالحمید کے قتل سے شروع ہو تی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے ملک کے طول وعرض کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے ملک بھر کے طلباءمزدور اور کسان تحریک میں شامل ہو جاتے ہیں یوں یہ تحریک پیپلز پارٹی کی صورت میں ایک روایت بن جاتی ہے ذوالفقار علی بھٹو پارٹی کے پہلے چئیرمین بنتے ہیں اور انتہا ئی قلیل وقت میں پیپلز پارٹی ملک کی پاپولر پارٹی بن جاتی ہے تحریک نے پیپلز پارٹی کو جنم دیا اس میں محنت کش طبقے نے تمام مروجہ پیداواری رشتوں کو قبول کرنے انکار کرتے ہوئے فیکٹریوں ،کھیتوں ،مکانوں اور دُکانون پر قبضہ کر لیا تھا دوسرے لفظوں میں محنت کش طبقے نے انقلاب کر دیا تھالیکن اس انقلاب کو انجام تک لے جانا قیادت کی ذمہ داری تھی جو بدقسمتی سے انجام نہ دی گئی آمریت کا خاتمہ ہو تا ہے پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہو جاتی ہے حکومت قائم ہونے کے بعد محنت کش طبقے کے حق میں چند اہم اقدامات کیے جاتے ہیں جیسے بڑی صنعتوں کو قومیانا ،زرعی اصلاحات ،تعلیمی اصلاحات وغیرہ لیکن ابھی ان اصلاحات کی سیاہی بھی خشک نہ ہوئی تھی کہ پارٹی قیادت 1973ءکا متفقہ آئین بنانے کے لیے ملک کی دائیں بازو کی سیاسی پارٹیون سے مصالحانہ رویہ اپنا کر اپنے بنیادی نظریہ سے انحراف کرتی ہے۔آئین میں اسلامی دفعات شامل کی جاتی ہیں جن کی بنیاد پر آگے چل کر خوفناک بنیاد پرستی پروان چڑھتی ہے جو پارٹی کو کمزور کرنے کے ساتھ ساتھ خود بھٹو کو بھی قتل کروا دیتی ہے1974،76تک رد اصلاحات کادور ہے 77ءمیں مارشل لاءلگو اکر بھٹو کی پھانسی دے دی جاتی ہے۔پارٹی میں شامل جاگیردا ر اور سرمایہ دار آزمائش میں پارٹی کو چھوڑ کر بھاگ جاتے ہیں لیکن محنت کش طبقہ اپنی جدوجہد سے پارٹی کو زندہ رکھتا ہے قیادت کا خلا پید ا ہو تا ہے جسے پورا کرنے نصرت بھٹو میدان میں آتی ہے اور محنت کش طبقہ دائیں اور بائیں مثلاً کوثر نیازی دائیں اور معراج محمد خان کے بائیں کی علیحدگی کے باوجود پارٹی میں متحد رہتا ہے ہے۔86ءمیں بینظیر بھٹو واپس آکر قیادت سنبھالتی ہے تو نعرہ لگتا ہے ” بینظیر آئی ہے انقلاب لائی ہے“طبقہ اپنا بھر پور اظہار کرتا ہے ۔88ءمیں الیکشن ہوتے ہیں پی پی پی کامیاب ہو کر رد انقلاب اور عوام دشمن پالیسیاں اپناتی ہے ریاست کو وفاداری دیکھاتی ہے 90ءمیں ریاست دھتکار دیتی ہے 93ءمیں محنت کش طبقہ پھر منظم ہوتا ہے پارٹی کو الیکشن کے ذریعے حکومت میں لا یا جا تا ہے پھر تین سال بعد کرپشن اور اقربا پروری کا الزام لگا کر نکال دیا جا تا ہے لیکن قیادت سبق نہیں سیکھتی پھر 99ءکے مارشل لاءکے نتیجے میں بی بی جلاوطن ہو جاتی ہے2002ءمیں الیکشن میں پارٹی ووٹوں کے اعتبار سے بڑی پارٹی بن جاتی ہے 2007ءمیں بینظیر بھٹو واپسی کا فیصلہ کرتی ہے محنت کش طبقہ پھر انگڑائی لیتا ہے اور پہلے سے شدید قوت کے ساتھ پیپلز پارٹی میں اپنا اظہار کرتا ہے قیادت کو ایک مرتبہ پھر اپنی حقیقی لڑائی لڑنے کے لیے جھنجھوڑتا ہے اور پہلے سے جاندار اور واشگاف نعروں سے یعنی بینظیر آئی ہے روزگار لائی ہے ،امریکہ کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے“ بینظیر بھٹو کو اس تحریک کے دوران ہی قتل کر دیا جاتا ہے پارٹی الیکشن میں جاتی ہے جیتتی ہے لیکن بدترین دھاندلی کے باوجود قیادت مصالحانہ پالیسی اس الیکشن کو شفاف قرار دیتی ہے پھر اس وقت سے لیکر محنت کش طبقے کی روایت ان کی زندگیوں کو دن بدن اجیرن بناتی جارہی ہے۔ لیکن یہ سب مارکسی استاد ٹیڈ گرانٹ کے اس قول کی عظیم تر سچائی ہے کہ” محنت کش طبقہ جب بھی اپنا اظہار کرتا ہے وہ سب سے پہلے اپنی روایت کو ٹسٹ کر تا ہے۔لیکن المیہ یہ ہے کہ اس وقت نام نہاد مارکسسٹ پارٹی سے باہر کچھ کرنے کے لیے ٹمک ٹوئیاں مار رہے ہیں شاید انہی کے لیے ٹیڈ نے کہا تھا ”یہ جو لوگ اپنے آپ کو مارکسسٹ کہتے ہیں ان کو دھندلا سابھی اندازہ نہیں کے عوام اپنی طاقت کا اظہار کیسے کرتے ہیں وہ ہمیشہ اپنا اظہار اپنی روایتی پارٹیوں ،تنظیموں اور یونین کے ذریعے کریں گے۔یہ ایک قانون ہے یونین اور پارٹی کے باہر کچھ بھی نہیں لینن اور ٹراٹسکی نے ان الٹرالفٹ اور فرقہ پرور گروہوں کو بہت مرتبہ جواب دیئے لیکن ان لوگوں میں سیکھنے کی صلاحیت ہی نہیں ہے اکثر اوقات میں اپنے آپ سے پوچھتا ہوں لینن اور ٹراٹسکی نے اتنا کیوں لکھا ایسا لگتا ہے انھوں نے جو لکھا اسےءکوئی نہیں پڑھتا اگر انھوں نے پڑھا ہے تو وہ اس کی ایک سطر کو بھی نہیں سمجھے کیونکہ مارکسزم فرقہ پرور جاہلوں کے لیے بند کتا ب ہے“۔

آج کے عہد میں مارکسسٹوں کا فریضہ ہے کے وہ روایت کو سمجھنے کی کوشش کریں محض قیادت کو سامنے رکھ کر چیزیں آگے نہیں بڑھ سکتیں کیوںکہ پاکستان پیپلز پارٹی نہ تو انقلابی پارٹی رہی ہے اور نہ آج ہے اور نہ ہی اس کی قیادت کبھی انقلابی تھی اور نہ آج ہے اور نہ ہی اس کے پاس کوئی انقلابی پروگرام ہے اس قیادت نے ہمیشہ اصلاحات کے ذریعے تحریک کو زائل ہی کیا ہے۔محنت کش طبقہ جب بھی آگے بڑھتا ہے اپنی روایت کے ذریعے سے ہی بڑھتا ہے اور بد قسمتی سے پاکستان پیپلز پارٹی محنت کش طبقے کی روایت ہے اور انقلاب کا راستہ اس کے بیچوں بیچ سے گزرتا ہے۔اس لیے ہمیں صبردآزما طریقے سے پیپلز پارٹی میں موجود محنت کش طبقے کو انقلاب کے لیے جیتنا ہو گا بلکہ اس کی تنظیم بھی کرنی ہو گی دوسری طرف المیہ یہ ہے کہ محنت کش طبقے کی روایت ہونے کے باوجود کمزور اور لاغر ڈھانچہ رکھتی ہے باوجود اس کے برصغیر کی سب سے ریڈیکل منشور کی حامل ہے۔ پی پی نے کبھی بھی اپنے آپ کو منطم کرنے کی کوشش نہیں کی اس طرح پارٹی ایک بے ہنگم ہجوم کی طرح ہے۔اور اس میں نامزدگیاںکسی جمہوری انداز کے بجائے خوفناک شخصی آمرانہ انداز میں کی جاتی ہیںلیکن پی پی کی حیثیت بھی وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتی رہتی ہے جب پارٹی اقتدار میں ہوتی ہے کوئی اور ڈھانچہ اختیار کر لیتی ہے اور اپوزیشن میں کوئی اور اگر آنے والے وقت میں پارٹی نے سائنسی جمہوری انداز اختیار نہ کیا تو اس میں اور دائیں بازو کی جماعتوں میں فرق مٹ جائے گا جو پہلے تقریباً مٹ چکا ہے۔ پارٹی کی بنیادی دستاویزات کا مطالعہ آج ناگزیر ضرورت بن چکا ہے لو گ کہتے ہیں آج حالات بدل گئے ہیں سیاست بدل گئی ہے نعرے بدل گے ہیں میری ان سے استدعا ہے کہ وہ پارٹی کی بنیا دی دستاویز میں ” نئی پارٹی کیوں “ ضرور پڑھ لیں اور پھر دستاویز نمبر 4میں سوشلز م والے باب کو بھی جو 1967ء میں لکھے گئے ہیں لگتا ہے وہ سب آج 2016ء میں لکھا گیا ہے ان میں ایک باب میں پاکستان جیسے غیر ترقی یافتہ ملک کے اقتصادی حالات پہچاننے کے لیے درج زیل آثار درج ہیں۔

۱۔            گرتا ہوا معیار معیشت

۲۔            آبادی کی اکثریت کی غذا سے محرومی

۳۔            ناقص اور نااہل زرعی نظام

۴،            قومی سطح کی ابتدائی اور کمزور سطح

۵۔            شرح پیدائش میں اضافہ وغیرہ

کیا آج پاکستان مندرجہ بالا مسائل سے دوچار نہیں اور کیا سوشلزم 1967ءمیں ان مسائل کا حل تھا تو آج کیوں نہیں؟ کیا یہ مسائل حل کر لیے گئے ہیں سوشلزم پر مبنی معاشی پروگرام بنایا جا سکتا ہے اگر اس کا جواب نفی میں ہے تو کیا پارٹی کے بنائے جانے کے مقاصد پورے ہوئے ہر گز نہیں ہوئے۔اور اس وقت تک نہیں ہوں جب تک پارٹی بنیادی منشور کی جانب نہیں لوٹتی اور اس نظام کو سوشلسٹ نظام کے ذریعے تبدیل کرنا ہو گا تب ہی ہم محنت کش طبقے کی عالمی تحریک اور عوام کے سامنے سرخرو ہو سکتے ہیں یہی بھٹو شہید کے جنم دن کہ دہائی اور اس کا پیغام ہے چونکہ اس ملک کے محنت کشوں کے کچھ خواب باقی ہیں جن کی تعبیر ہونی ہے اور تعبیر ہو گی ایک سرخ سویرے کے ساتھ ۔


Comments

FB Login Required - comments