پاکستان اور بھارت – مفادات اور ٹکراؤ


adnan Kakarپٹھان کوٹ پر حملے کے بعد جس طرح پاکستان میں جیش محمد کے خلاف کارروائی کی گئی ہے، اور جس طرح سے بھارتی حکومت اس معاملے کو نسبتاً نرم انداز میں میڈیا پر لا رہی ہے، وہ بعض لوگوں کے لیے حیران کن ہے۔ دوسری طرف دہلی میں پی آئی اے کے دفتر پر حملہ کرنے والے ہندو سینا کے چیف
وشنو گپتا اور ان کے ساتھی للت سنگھ کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور بقیہ دو حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے۔

ہندو سینا کے ان افراد نے پی آئی اے کے دفتر پر حملے کے بعد وہاں ایک بیان چھوڑا تھا جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ پاکستان سے اس وقت تک مذاکرات نہیں کئے جانے چاہئیں جب تک انڈیا کو نقصان پہنچانے والے افراد کے خلاف پاکستان سخت کارروائی نہیں کرتا ہے اور داؤد ابراہم اور حافظ سعید کو بھارت کے حوالے نہیں کیا جاتا ہے۔

مودی کے حالیہ مختصر دورہ پاکستان کے بعد اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا تھا کہ اب دہشت گردی کی کارروائیاں ہوں گی تاکہ مذاکرات کا سلسلہ ختم ہو جائے۔ سو ایک میدان بھارت میں سجا اور دوسرا افغانستان میں۔ لیکن بدلتے ہوئے منظر نامے میں اب پراکسی وار کی گنجائش ختم ہوتی جا رہی ہے۔ جولائی 2015 میں اوفا میں شنگھائی تعاون کونسل میں بھارت اور پاکستان کو ممبر بنانے کی قرارداد پاس ہو چکی ہے، اور یہ دونوں ممالک 2016 میں اس تنظیم کے ممبر بن جائیں گے۔ گو کہ شنگھائی تعاون کونسل معیشت، سیاست اور فوجی امور پر تعاون کا ہدف بھی رکھتی ہے، لیکن اس کی بنیادی توجہ باہمی سیکیورٹی اور دہشت گردی کے خلاف لڑائی پر ہے۔

دوسری طرف چینی معاشی کاریڈور نے دنیا کی مارکیٹ میں اشیا بیچنے کے اور ترقی کے جو مواقع پیدا کیے ہیں، وہ اس خطے کے ممالک کے لیے بہت زیادہ پرکشش ہیں۔ گزشتہ ایک دہائی سے پاکستان کو گوادر کے معاملے میں ‘برادر اسلامی ملکوں’ کی شفقت و محبت کا سامنا رہا ہے اور وہاں بدامنی کے اسباب میں نہایت نیک ملکوں کے نام بھی آتے ہیں۔ گوادر کو ناکام بنانے کے لیے اس کے قریب ہی ایران اپنی چابہار کی بندرگاہ بھی ڈیویلپ کر رہا ہے جس کی بھارت سے بھاری فنڈنگ کی جا رہی ہے۔ لیکن اب اعلان ہوا ہے کہ چابہار اور گوادر کو ریل کے لنک کے ذریعے ملا دیا جائے گا۔ یعنی چابہار کی بندرگاہ بھی اب چینی معاشی کاریڈور سے منسلک ہو جائے گی۔

دوسری طرف واہگہ کے روٹ پر بھارت کی نظر بھی ہے۔ بھارت کی کافی عرصے سے یہ کوشش ہے کہ اسے واہگہ کے راستے افغانستان اور وسطی ایشیا کی مارکیٹ تک زمینی رسائی حاصل ہو جائے۔ اب جو چینی کاریڈور کے مشرقی روٹ کی باتیں ہو رہی ہیں، اس کے ذریعے بھارت بھی اس چینی روٹ سے فیض اٹھانے کے امکانات پر ریجھا جا رہا ہے۔ پاکستان سے تعلقات کی بہتری پر بھارت کو وسطی ایشیا، چین، مشرق وسطی اور یورپ تک زمینی رسائی دکھائی دے رہی ہے۔

ایسے میں حالیہ دہشت گردی کی لہر کے بعد جس طرح پاکستان اور بھارت نے حملہ آوروں کے خلاف جس طرح کاروائی کے واضح اشارے دیے ہیں، اس کے پس منظر میں وہی صدیوں پرانا مقولہ دکھائی دے رہا ہے کہ ریاستوں کے کوئی مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتے ہیں، بلکہ ان کے صرف ریاستی مفادات ہوتے ہیں۔ ان مفادات کے حصول کی خاطر بدترین دشمن بھی دوست بن جاتے ہیں، اور سچے دوست بھی دشمنوں کی صف میں کھڑے نظر آ جاتے ہیں۔

پاک بھارت تعلقات میں کشمیر ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ بظاہر یہ نظر آ رہا ہے کہ یا تو اس مسئلے کا جلد ہی کوئی حل نکالنے کی کوشش کی جائے گی، یا پھر ہمارے ‘ہمالیہ سے اونچے، سمندر سے گہرے، اور اب شہد سے زیادہ میٹھے’ ہونے والے دوست چین کے مشورے پر مسئلہ کشمیر کو کچھ عرصے کے لئے منجمد کر کے معاشی مفادات کے ذریعے پاک بھارت ریاستی تعلقات کو بہتر کیا جائے گا۔

بہرحال، دکھائی یہ دے رہا ہے کہ برصغیر کے عوام کے لیے اچھے دن آ رہے ہیں۔ سو دعا ہی کریں کہ دشمنی کا ماحول ختم ہو اور ترقی کا ماحول شروع ہو اور کوئی ایسا واقعہ پیش نہ آئے کہ یہ خطہ دوبارہ ایک بے مقصد اور طویل محاذ آرائی کی طرف چل پڑے۔


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 328 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar