آپ شرمندہ کیوں ہیں؟


aqdas sandhilaگزشتہ روز ایک نجی جامعہ کے  طلباء و طالبات کے ایک گروہ نے ٖخواتین کے حیض سے متعلق معاشرتی تنگ نظری کو چیلنج کرنےکی غرض سے  سینیٹری نیپکن  پر  کچھ پیغامات لکھ کر یونیورسٹی کی دیواروں پر چسپاں کیے۔ان میں سے کچھ جملےدرج ذیل ہیں

مجھ میں کوئی ٖخرابی نہیں ہے نہ ہی میں ناپاک ہوں۔

مجھے شرمندہ کیوں ہونا چاہیے؟

مجھے چھپایا کیوں جا رہاہے؟

میں خاکی لفافہ کیوں استعمال کروں؟

مرد کنڈم سے شرمندہ نہیں تو میں نیپکن سے کیوں شرمندہ ہوں؟

اس کے علاوہ کچھ طالبات نے اپنی سفید قمیضوں پر سرخ نشان لگائے اور لڑکوں کے ساتھ کھڑے ہو کر باتیں کی تاکہ وہ یہ واضح کر سکیں کہ داغ تو اچھے ہوتے ہیں۔اچھی بات ہے کہ ہماری ٖنئی نسل معاشرتی مسائل پر بات کر رہی ہے ۔مگر کیا ہی اچھا ہو کہ ان مسائل کا تعلق عام لوگوں سے بھی ہو۔ یہ احتجاج تو بس ایک معمولی سی مثال ہے ، اگر آپ انگریزی اخبارات کا مطالعہ کرتے ہوں تو آپ کو آئے روز “گرلزایٹ ڈھابا”اور “گرلز پلیئنگ کرکٹ ” جیسے موضوعات پر تعریفی مضامین نظر آئیں گے۔ گرلز ایٹ ڈھابا کا ہیش ٹیگ فیس بک اورٹویٹر پر دھوم مچا دیتا ہے۔کمنٹس پڑھیں تو کسی ہائی فائی پرائیویٹ کالج یا یونیورسٹی میں پڑھنے والے لڑکے اورلڑکیوں کے کمنٹس کا ڈھیر لگا ہوتاہے۔ “تھمبس اپ”، “ویل ڈن”، “گرلز آر ری کلیمنگ سپیس”  جیسے کمنٹس کی بھر مار لگی ہوتی ہے۔ مجھ جیسے لوگ بس یہ سب دیکھ کر ہی اپنا خون جلا رہے ہوتے ہیں۔کون سی سپیس ؟ کہاں کی سپیس؟ ڈھابے پر جا کر چائے پینے سے، اپنے مہنگے موبائل فون سے سیلفی بنا کر پوسٹ کر دینے سے کیا خواتین کے مسائل حل ہوں جائیں گے؟ کسی نے کبھی یہ سوچا ہے کہ کیا پاکستان کی خواتین کے مسائل یہ ہیں بھی یا نہیں؟ کیا مردوں کے ساتھ ڈھابے پر چائے پینے سے آپ کو تمام حقوق مل گئے؟ ان خواتین کو کون بتائے کہ اگر مردوں کے ساتھ ڈھابے پہ  چائے پینے سے مسائل سے آگہی ہوتی یا مسائل حل ہوتے تو کسی گاؤں میں جا کر دیکھیں۔دیہات  میں خواتین ڈھابے پر چائے پینا تو کیا، پورا ڈھا با خود چلا رہی ہوتی ہیں، جب گھر کے مرد کام پر جاتے ہیں تو خواتین چھوٹی چھوٹی دکانیں  یا ہٹیاں چلا رہی ہوتی ہیں۔اس کے علاوہ کھیتوں کھلیانوں میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کرتی ہیں ، مگر پھر ان کے حقوق انہیں نہیں ملتے۔ لہذا ڈھابوں پر بیٹھنے کو خواتین کی آزادی کا پیمانہ بنانے والوں کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ان اقدامات سے کم از کم پاکستان میں کسی عام خاتون کی زندگی میں کوئی بہتری نہیں آئے گی۔

talha

اسی طرح سے سینیٹری نیپکن دیواروں پر چپکانے کا کیا مطلب ہے؟  کیا ہمارے مردوں کو نہیں پتا کہ حیض کیا ہے؟ کیا ہمیں کبھی کسی نے کہا ہے کہ ہم میں کوئی کمی یا خرابی ہے؟ سب جانتے ہیں کہ یہ ایک قدرتی عمل ہے۔احتجاج کرنے والی لڑکیوں کا یہ کہنا ہے کہ ہم شرمندہ کیوں ہوں؟ میں یہ کہتی ہوں کہ آپ شرمندہ کیوں ہو رہی ہیں؟ کس نے کیا آپ کو شرمندہ؟ کسی استاد نے کبھی آپ کواس وجہ سے کلاس سے نکالا؟ کبھی گھر والوں نے اس وجہ سے آپ کو حقارت سے دیکھا؟ ۔ پھر آپ کو خاکی لفافہ استعمال کرنے پر اعتراض ہے ، تو مت کریں استعمال ۔ میں نے بہت سے خواتین کو مارکیٹ میں اپنی ٹرالی میں بغیر خاکی لفافے کے نیپکن لے جاتے دیکھا ہے۔ایک اور اعتراض یہ ہے کہ ہم چھپ چھپ کر اس بارے میں بات کیوں کرتے ہیں ، سرعام کیوں نہیں کرتے؟ سرعام کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں۔ مگر ہر معاشرے کی کچھ اقدار اور روایات ہوتی ہیں۔ ذاتی زندگی کوسب کی جاگیر نہیں بنایا جاتا۔ جو بھی باتیں ان طالبات نے لکھیں وہ سب کو معلوم ہیں ، بس زیادہ کھلے الفاظ میں ان کا ذکر اس نہیں کیا جاتا ہے کہ شرم و لحاظ کے پہلوکو ملحوظ خاطر رکھنا ہماری معاشرتی اقدار کا حصہ ہے۔یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے ہمارے ہاں ابھی بھی بہت سے گھرانوں میں میاں بیوی ایک دوسرے کاہاتھ نہیں پکڑتے  یا آپ جناب کہ کر مخاطب ہوتے ہیں۔ یہ کوئی تنگ نظری نہیں ہے۔یہ تو ہماری روایات کی خوبصورتی ہے۔ایک طالبہ کو اس بات سے مسئلہ تھا کہ لڑکے کنڈم  کے ذکر پر نہیں شرماتے تو ہم نیپکن کے ذکر پر کیوں شرمائیں۔ ان سے بس یہ سوال ہے کہ نجانے کس قسم کے مردوں کی بات کر رہی ہیں؟ عموما مرد حضرات بھی سر عام یا گھر والوں کے سامنے کھل کر بات نہیں کرتے اور خاکی لفافہ ہی استعمال کرتے ہیں۔

میرےخیال میں ان خواتین کا مسئلہ یہ ہے کہ ان کا کوئی مسئلہ نہیں۔ یہ ایک مخصوص معاشی نظام کی پیداوار ہیں اور ان کو عام لوگوں کے مسائل سے کوئی آگہی نہیں۔ پاکستان میں خواتین کے مسائل ان مسائل سے بہت مختلف ہیں جن کو اخبارات یا سماجی رابطے کی ویب سائیٹس پر اچھالا جاتا ہے۔ مجھے اس سب سے اعتراض اس لیے ہے کہ ان لوگوں کی وجہ سے اصل مسائل پس پشت چلے جاتے ہیں ۔ مظلوم اور بے بس خواتین کی طوطی اس نقار خانے کے شور میں ہی دب جاتی ہے۔ ان کو اگر اتنا ہی درد ہے تو خواتین کے اصل مسائل کی بات کریں۔ بات کریں کہ 2015میں 143 خواتین پر تیزاب پھینکا گیا،1096 خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا، 939 خواتین کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ان کے تحفظ کے لیے آپ نے کیا کیا؟ ان ایشوز پر آگاہی کے لیے کوئی کمپین کیوں نہیں چلائی جاتی۔ تقریبا ایک ملین خواتین کے لیے صرف 671 زچہ بچہ سینٹر ہیں۔ اندرون سندھ یا پنجاب میں جب کوئی عورت حمل کی پیچیدگیوں اور ڈاکٹر میسر نہ ہونے کی صورت میں جب سسک سسک کر جان دے رہی ہوتی ہے تو اسے اس بات سے کوئی سروکار نہیں ہوتا کہ آپ نے سڑکوں پر کرکٹ کھیلی ہے یا نہیں؟ یا پھر آپ کے داغ اچھے ہیں یا برے۔ کبھی ممی پاپا سے کہہ کر کوئی چھوٹا موٹا وارڈ ہی بنوا دیں۔

 اب آپ یہ سوچ رہی ہوں گی کہ ہم یہ کیوں کریں؟ ہم تو فیمینسٹ ہیں۔ہم نے میڈیا پر اور سوشل نیٹ ورکس پر  دیکھا ہے کہ مغربی ممالک میں فیمینسٹ یہ سب تو نہیں کرتیں۔ وہ بھی پلے کارڈ اٹھا کر “فریڈم فار وومن” ، “مائی باڈی مائی چوائس” جیسے نعرےلگا رہی ہوتی ہیں، تو ہم بھی یہی کر یں گی۔ تو آپ کے گوش گزارکر دوں کہ مغرب میں بھی بہت سی خواتین نے فیمینسٹ تحریکوں میں حصہ تب لیا جب عام خواتین کے حقیقی مسائل کو اجاگر کیا گیا۔ اگر فیمی نزم کی تاریخ پڑھیں تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ فیمی نزم کا عروج تب آیا جب خواتین کے ووٹ، جائیداد ، مساوی تنخواہ جیسے مسائل پر بات کی گئی اور ان کو حل کرنے کے کوشش کی گئی۔ فیمی نزم کا زوال تب شروع ہوا جب یہ تمام حقوق حاصل کرنے کے بعد غیر سنجیدہ مسائل کواپنا ایجنڈا بنایا۔ مغربی ممالک  کی تقلید میں آپ یہ بھی نہ بھولیں کہ ان کے اور ہمارے معاشرے اور مسائل میں بہت فرق ہے۔ وہاں خواتین اورمردوں کو یکساں تعلیم اور روزگار کے مواقع ملتے ہیں۔ وہاں طلاق کے بعد ٖخواتین کو جائیداد کا حصہ دیا جاتا ہے۔ اب اگر ایسے معاشروں میں خواتین نان ایشوز کو ایشو بنا رہی ہیں تو سمجھ بھی آتا ہے۔ ویسے اقبال نے بھی کہا تھا کہ یہ صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے۔تقلید میں اندھے ہونے سے بہتر ہے کہ آپ اپنا راستہ خود تلاش کریں۔ایک حدیث بھی ہے کہ

” حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: تم ضرور اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقوں پر چلوگے ، بالشت کے برابر بالشت ، اور ہاتھ کے برابر ہاتھ ، یہاں تک کہ اگر وہ گوہ کے سوراخ میں داخل ہوئے تھے تو تم بھی ان کی اتباع کروگے ، ہم نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ! یہود اور نصاریٰ ؟ آپﷺنے فرمایا: اور کون؟”

 آپ کے معاشرے میں ابھی بہت سے بنیادی مسائل باقی ہیں۔ پہلے ان کو حل کرنے کا سوچیں، پھر کبھی نیپکن پر بھی بات ہو جائےگی۔

کیونکہ ہم سب اظہار کی آزادی پر یقین رکھتا ہے اس لئے محترمہ اقدس طلحہ سندھیلا کا یہ مضمون شائع کیا گیا ہے۔ ممکن ہے کہ اس نقطہ نظر کی مخالفت مین کچھ تحریریں سامنے آئین، ان پر بھی بات کی جائے گی۔ بنیادی سوال ہے “Legitimacy of Question” کا۔ یہ ایک فکری مسئلہ ہے، اس پر اصولی بحث سے بہت سے راستے کھلنے کا امکان ہے۔ مدیر

Comments

FB Login Required - comments

36 thoughts on “آپ شرمندہ کیوں ہیں؟

  • 11-04-2016 at 11:07 am
    Permalink

    صحیح کہا آپ نے.ایسے احتجاج کرنے ووں کا مسئلہ یہ ہے کہ انہیں واقعی کوئی مسئلہ نہیں.
    مسائل تو بیچاری ان بیبیوں کی ہیں جن کی شادی قرآن مجید سے کر دی جاتی ہے.جنہیں ونی کردیا جاتا ہے.جنہیں کاری قرار دے کر شادی کی پہلی رات ہی گلا گھونٹ دیا جاتا ہے.جنہیں وراثت میں حصہ نہیں دیا جاتا.جنہیں گھر سے نکلنے نہیں دیا جاتا.جنہہں بھٹے میں زندہ جلادیا جاتا ہے اور مسئلہ تو اس کا ہے جو سارا دن کھیتوں میں کام کرتی ہے مگر شام کو اسے پیٹ بھر روٹی نصیب نہیں ہوتی.

    • 13-04-2016 at 3:21 am
      Permalink

      بہت اچھی تحریر ہے۔
      ویسے ایسی تحریروں کے شائع کرتے ہوئے مدیرِمکرم کو صدمے اور معذرت خواہی کا نیلا دورہ نہ پڑے تو زیادہ اچھا لگے گا۔ اس نیلے “میرا جُمّہ توش پوش” دُم چھلّے سے صاف جانبداری کی بو آتی ہے۔ اس کی بجائے اگر پہلی فرصت میں متضاد رائے چھاپ دی جائے تو شاید زیادہ بہتر ہو۔

      مجھے تو دیوار پر لگے ان نیپکنوں کی تصویر احتجاج کم اور “آلویز” وغیرہ کا اشتہار زیادہ لگی۔ آج بھی پاکستان کی زیادہ تر شہری و دیہاتی عورتیں ملٹی نیشنل سرمایہ دار کمپنیوں کے ایسے مہنگے نیپکنز خریدنے سے قاصر اور کاٹن کی دھجیؤں کا ہزاروں سال سے آزمودہ ماحول و صحت دوست نسخہ استعمال کرنے پر قانع ہیں۔ کروڑوں لوگوں کو کھانے کو نہیں ملتا، نیپکنز کہاں سے خریدیں۔
      کارپوریٹ سرمایہ داری ،،، اور ،،، اسکی گھٹیا اشتہار بازی ہائے ہائے

    • 19-04-2016 at 11:57 am
      Permalink

      These are the real issues

  • 11-04-2016 at 12:12 pm
    Permalink

    zulm ya ha ka ab mery beti behan aur bivi maan ki privecy ko bhi es tarha logon aur chaska party ky samny laya ja raha ha ya zulm ku ya begharty ku ham ku en batoon ko awam ki nazr kr ky apni ezzat ka janaza nikalty ha ya pakistan ha janab

  • 11-04-2016 at 12:19 pm
    Permalink

    محترمہ اقدس طلحہ سندھیلا نے جس :: ادبی بیباکی’’ سے یہ مضمون لکھا ہے وہ بذات خود ایک :: صحافتی ہنر کاری ’’ ہے اور ایک خاتون کے قلم سے اس طرح کی تحریر ان کی روشن خیالی کی اور خواتین سے متعلقہ مسائل پر نگاہ ہونے کی دلیل ہے ۔
    محترم راشد احمد نے اس مضمون پر اظہار خیال کرتے ہوئے خواتین سے متعلقہ جن مسائل کی نشاندھی کی ہے وہی اصل مسائل ہیں جن کی طرف بطور خاص توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے اور ہماری یونیورسٹیوں کی طالبات کو چاہیے کہ وہ گروپوں کی صورت میں ہفتہ ہفتہ کسی دیہات میں گزاریں عورتوں کے ساتھ گزاریں اور ان کی زندگی کے شب و روز کا مطالعہ کریں اور یونیورسٹی کی دیواروں پر حیض سے متعلقہ نعروں والےسینیٹری نیپکن چپکانے کی بجائے محترمہ اقدس طلحہ سندھیلا اور راشد احمد کے اٹھائے گئے مسائل پر توجہ مرکوز کریں اور ان کے حل کے لیے تحریک چلائیں ۔

  • 11-04-2016 at 1:02 pm
    Permalink

    Mohtarma Nya baray Khobsurat Andaaz Mein Khwateen K Rea lssue Uthay Hain Na K Wo Jo Publicity Stunt K Ilawa aur kuch Nhi……

  • 11-04-2016 at 1:02 pm
    Permalink

    Mohtarma Nay Baray Khobsurat Andaaz Mein Khwateen K Rea lssue Uthay Hain Na K Wo Jo Publicity Stunt K Ilawa aur kuch Nhi……

  • 11-04-2016 at 3:27 pm
    Permalink

    Mujhe ye parh k be had khushi hui k mohatarma ne intehai khoobsurti se ek nazuk mislay ki taraf awam ki tawajja mabzool karwaai he, waqai aurton k masail kuch or hen magar shehri khwaateen in masaail ko samajhne se qaasir hen woh sirf behoodgi ko azaadgi samajhti hen jab k azaadi or behoodgi me boht farq hota he.

  • 11-04-2016 at 3:42 pm
    Permalink

    I am unable to understand why did writer feel to discuss this issue in her column as many a people in world are doing things which are just substandard and un-natrual.should all topics be covered through some writer.i dont think so as it will motivate all the others to do some silly thingz. anywaz

  • 11-04-2016 at 4:45 pm
    Permalink

    آخر میں مدیر کے “نیلے” الفاظ ہی ان کی جانبداری کا اظہار کر رہے ہیں۔

    • 12-04-2016 at 4:57 am
      Permalink

      agreed

  • 11-04-2016 at 5:37 pm
    Permalink

    yah wo masail hain jinay her ghr main kuch bth had tk khawateen ko aghaei hoti hai k how to handle days circle etc magr yun public main uchlna apko modernity lagti ha apko modern Islam lagta ha tu qati aysi bat nhi ha Aqdus k yah jawbi tahreer ik mukamal mur tor jawb ha aysi sergarmiyun ka

  • 11-04-2016 at 6:29 pm
    Permalink

    ایسی تحریر یقننا ایڈمن کی طبعیت پر گراں گزری ھوگی ۔ پھر بھی ایڈمن کی مہربانی کا بہت شکریہ
    ترقی یافتہ معاشروں میں اس قسم کی باتوں کی انہیں ضرورت پڑتی ہے جو کمپنیاں اس قسم کا سامان بیچتی ہیں ۔ ھمارے معاشرے میں روشن خیال طبقہ مغرب کی تقلید میں اس قدر اندھا ھوچکا ہے کہ انہیں اس بات کا احساس ہی نہیں رہتا ہے کہ وہ مجموعی شعور کے سامنے خود کو ہر وقت بونا ثابت کرنے میں لگے رہتے ہیں ۔۔

  • 11-04-2016 at 6:45 pm
    Permalink

    ایک شائستہ، اور معقول تحریر .. ویسے اسے بغیر مدیر صاحب کی تعلیق کے بهی چهپ جانا چاہئے تها. آخر ہر نقطہ نظر کے جواب میں کچه آنا ایسی انوکھی بات تو نہیں کہ جس کے لئے مدیر صاحب کو بیچ میں آکے اعلان کرنا پڑتا. یہاں جو چھپتا ہے ضرور اس سے کسی دوسرے کو اختلاف ہوتا ہے مگر یہ نوٹ ہرمضمون کے ساتھ نہیں دیا جاتا. شاید ایسا اس لئے کرنا پڑا کہ یہ تحریر ایک خاص نقطۂ نظر کی وضاحت کرتی ہے.

  • 11-04-2016 at 6:50 pm
    Permalink

    ایک شائستہ، اور معقول تحریر .. ویسے اسے بغیر مدیر صاحب کی تعلیق کے بهی چهپ جانا چاہئے تها. آخر ہر نقطہ نظر کے جواب میں کچه آنا نا ممکن نہیں ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی ایسی انوکھی بات کہ جس کے لئے خود مدیر صاحب کو بیچ میں آکے اعلان کرنا پڑے. یہاں جو چھپتا ہے ضرور اس سے کسی دوسرے کو اختلاف ہوتا ہے مگر یہ نوٹ ہرمضمون کے ساتھ نہیں دیا جاتا. شاید ایسا اس لئے کرنا پڑا کہ یہ تحریر ایک خاص نقطۂ نظر کی وضاحت کرتی ہے.

    • 12-04-2016 at 5:01 am
      Permalink

      ایڈمن کی طرف سے یہ ریمارکس نہ آتے تو اچھا تھا

  • 11-04-2016 at 8:06 pm
    Permalink

    بات صرف اپنے اقدار و روایات کی ہیں.عمدہ تحریر ہے.
    اور تحریر کے آخر میں “ہم سب” کی جانب سے مضمون کی اشاعت میں جو خصوصی “رعایت” برتی گئی ہے اس کے لئے شکریہ.
    ایک عنایت اور کیجئے کہ قاری کومخصوص نمبر کی عینک سے دیکھانے، پڑھانے اور سمجھانے کی بجائے خود پڑھنے،سمجھنے اور فیصلہ پر پہنچنے دیجئے.

  • 11-04-2016 at 10:24 pm
    Permalink

    اقدس صاحبہ، آپ کا مضمون ان سب کڑواہٹوں کو دھو گیا جو اکثر نا پختہ زہن لڑکیوں کی پہلی ہی تحریر پر مردوں کو مردود ثابت کرنے پر زائقے میں در آتی ہیں۔ بہت ہی خوبصورت لکھا ہے، اور سوچ کی گہرائی اور توازن بھی کمال کا ہے، اس سے زیادہ لکھوں گا تو لگے گا آپ کے خاتون ہونے کی وجہ سے لکھا ہے، لیکن یقینا آپ کو لکھنا چائیے، آپ کی تحریریں عورت زات کا زیادہ بھلا کریں گی۔ جیتی رہیے۔

  • 11-04-2016 at 11:48 pm
    Permalink

    جس کے گھر میں بیٹی نہیں، یا جو کسی ماں سے پیدا نہ ہوا ہو، یا جس کی کوئی بیوی نہ ہو، ان کو یہ مضمون دقیق لگے گا۔ باقی انسان کے بچے ہیں۔ انہیں کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔

    کچھ مولویوں نے یہ مضمون پڑھ کر لاحول ولا ضرور پڑھا ہوگا۔ لیکن ان کی پروہ مت کیجئے، کیونکہ یہ ہر معقول چیز پر لاحول پڑھتے ہیں اور قتل وغارت اور تکفیر کی طرفداری کرتےہیں۔

  • 12-04-2016 at 12:17 am
    Permalink

    نہایت معقول تحریر۔
    ہم خواہ رواداری کی مے لنڈھاتے رہیں یا برداشت اور غیر جانبداری کے ساغر چھلکاتے رہیں لیکن بعض اوقات اپنے اندر کے اس انسان کو روکنا مشکل ہو جاتا ہے جو نظریات بھی رکھتا ہے اور مکمل جانبدار بھی ہے۔تحریر کے اختتام پر موجود نیلے حروف اسی کا اظہار ہیں جو آج تک کسی تحریر میں نہیں دیکھے گئے۔

  • 12-04-2016 at 1:16 am
    Permalink

    نہایت معقول تحریراقدس صاحبہ۔
    ہم خواہ رواداری کی مے لنڈھاتے رہیں یا برداشت اور غیر جانبداری کے ساغر چھلکاتے رہیں لیکن بعض اوقات اپنے اندر کے اس انسان کو روکنا مشکل ہو جاتا ہے جو نظریات بھی رکھتا ہے اور مکمل جانبدار بھی ہے۔تحریر کے اختتام پر موجود نیلے حروف اسی کا اظہار ہیں جو آج تک کسی تحریر میں نہیں دیکھے گئے۔

  • 12-04-2016 at 1:27 am
    Permalink

    Ajeeb bath hai ye harkath ager hum khurmast logo ki khurmast kahe to galath Na hoga

    • 12-04-2016 at 1:42 am
      Permalink

      Ajeeb bath hai k ye un ladkio ki harkath hai jine UN ka sahi haqoq mil ray hai yani ahla thaleem ager en ko bi UN bechari conservative parents Jo 24 hours ek 60 sq yard k flate me din rat guzarne walio jase zindgi milti to hum en se pochtey Jo natural masahil aurton k hain to wo hai ab UN masahil ko sar e ahm kiu kiya Jay es me muhashre k kisi bi tabkhe ka qasor nai ye rab ki janib se hai ajj k for me aurat ko coeducation jasi rights diya ja chuka hai.cricket team bana diya ja chuka hain lakin ye bebaq log aurton ki izzat ko sar e ahm Lana kiu chate hai akhir muhashre me koun hai Jo ahez wali aurat ko izzat nai deta balqe hamare yahn itna ahtram aurat ki hai k use es awale se discuss tak nai kiya jata aurat k thaleem ki bath ki Jay digar rights ki bath ki Jay Na k ye bath Jo mahne nai rakta .aurat ko es k elawa or bi masle hai ledies toilate k masla Jo publicly nai hai mard kain bi Kara hokar taskeen hasil karta hai pir kiya aurat bi mard k sath ek saf pe aahkar pee kar sakti hai . es me sharam ki kiya bath aahy wo B lakin ni hum aurat ko mazeed ahsani Dena pasand karte hai take wo ziyada comfortable ho or ziyada taraqi kar sake…

  • 12-04-2016 at 5:14 am
    Permalink

    دن کے ڈھائی بجے تھے – خاتون خانہ جو کسی مقامی کالج میں لیکچرر تھیں تھک تھکا کر گھر پہنچیں – پسینے اور گرمی سے ان کا برا حال تھا – ان کے شوہر ارام سے اخبار کا مطالعہ کر رہے تھے – اچانک ایک بچے نے جس کی عمر دو سال کی تھی پانی کا جگ زمین پر گرا دیا -ملازمہ تو برتن دھو رہی تھی –

    خاتون خانہ سب کچھ بھول بھال کر صفائی میں لگ گئیں

    میں نے شوہر سے کہا کہ اس وقت آپ کا کام تھا اٹھتے اور صفائی میں لگ جاتے – –

    یہ ہیں مسائل جن پر روشنی ڈالنی چاہئے – نوکری پیشہ خواتین کے مسائل –

    مہنگے موبائل فون سے سیلفی بنا کر پوسٹ کر دینے سے خواتین کے مسائل حل نہیں ہوں گے

  • 12-04-2016 at 9:15 am
    Permalink

    محترمہ اقدس طلحہ سندھیلا صاحبہ کا مضمون ”آپ شرمندہ کیوں ہیں” ۔ اور اس میں اضافه یعنی راشد بلوچ بھائی کا مضمون “شدمنده تو هم هیں”
    دونوں بهت خوب اور جاندار هونے کے ساتھ ساتھ نپے تلے الفاظ اور حقیقی پهلوؤں په لکھے گئے هیں
    میں بس یه کهنا چاهتا هوں
    “سونے په سوهاگه” هیں آپ دونوں کی تحریریں دونوں کو اکٹھا پڑھنے کا مزه آگیا اور خدا اور هم خود مل کر همارے معاشرے کو بدلیں
    اور پھر مل کر لکھیں اقدس طلحه سندھیلا لکھے
    هم تابنده و پائنده کیوں هیں اور راشد لکھے هم تو تابنده و پائنده هیں

  • 12-04-2016 at 4:09 pm
    Permalink

    Thanks Aqdas

  • 12-04-2016 at 7:23 pm
    Permalink

    اقدس طلحہ سندھیلا کی بات نہ تو ایسی متنازع ہے اور نہ ہی اتنی غیر درست۔ نیپکین آزادی والا بھی ایک طبقہ موجود تو ہے اور اُس طبقے کے نوجوانوں کی اکثریت کے کیوں کہ دوسرے مسائل نہیں ہیں اس لیے ڈھابا آزادی، داغوں کے رنگ اور مقامات اورنیپکن تحریروں کے ذریعےاظہار ہی شاید ان کے لیے بڑا مسئلہ ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس طرح وہ یہ بھی سمجھتے اور محسوس کرتے ہوں کہ وہ بھی مسائل کے شکار ان دوسرے لوگوں کا حصہ ہیں بس کچھ فرق کے ساتھ ان کے مسائل ذرا مختلف ہیں۔ شاید یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ان نوجوانوں کا مقدر جلد یا بدیر حکمراں اشرافیہ یا ان کے قریب ترین خدمتگاروں (بیوروکریسی) یا کسی کثیر الاقومی ادارے کا حصہ بننا ہے۔ بہت تبدیلی آئے گی تو وہ اسد عمر پی ٹی آئی، یا زبیر پی ایم ایل کی شکل اختیار کر لیں گے۔آپ ان دونوں بھائیوں کے موجودہ مقام تک پہنچنے کا سفر دیکھ لیں۔ بی بی سندھیلا نے بات کرنے کے لیے وہی انداز اختیار کیا ہے جو نوے کی دھائی میں Eve Ensler نے The Vagina Monologues کے لیے اختیار کیا تھا اور اس مختصر تحریر پر ردِ عمل بھی کم و بیش ویسا ہے۔ سندھیلا نے جن مسائل کو اصل مسئلہ قرار دیا ہے وہ جس طبقے کے ہیں اس کے بہت کم لوگوں کے پاس اپنے مسائل پر بات کرنے کے لیے زبان اور اظہار کی دسترس ہے، یہ نہیں کہ انھیں شعور نہیں ہے۔ یہ بھی شاید طبقاتی مسئلہ ہے۔ شاید اُس طبقے کے لیے سندھیلا کی اس تحریر کی بھی کوئی اہمیت نہیں ہو گی اور بھی نان اشو ہی سمجھیں گے۔ بات شاید اظاےر کی ضرورت ہے اور چُپ رہےا کے برخا ف اظاےر کرنے والوں کے بارے یہ تو کا훨 ہی جا سااو ہے وہ کھ نہ کھئ سوچ رہے ہںک۔ کا اتاہ بیا غتہی نں ش ہے؟

  • 12-04-2016 at 11:02 pm
    Permalink

    میری تحریر پڑھنے اور پسند کرنے پر میں آپ سب کی مشکور ہوں۔

  • 12-04-2016 at 11:16 pm
    Permalink

    اچھا لکھا ہے

  • 13-04-2016 at 1:58 am
    Permalink

    ماشاءاللہ محفل جم گئی..بهت خوب لکها….پسند کرنے والوں نے نیلے رنگ پہ خط نسخ پهیر دیا…شاباشی…

  • 14-04-2016 at 6:50 am
    Permalink

    مختصر الفاظ میں یہی کہوں گا کہ عمدہ تحریر ہے. ایک مخصوص طبقے کے لئے کسی نئی تحریک کا نقطہ آغاز ہو سکتا ہے لیکن حقیقت میں یہ محض اشرافیہ کا ایک ڈرامہ. ظاہر ہے ان خواتین کبھی پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر نہیں کیا. کبھی بازار کے رش میں گھس کر شاپنگ نہیں کی کبھی کچن میں جا کر کھانا نہیں پکایا. ان کے لئے تو یہی مسئلہ ہے. مجھے خوشی ہے اس کی فکری تردید کا آغاز کسی خاتون کی طرف سے ہوا ہے اگر کوئی مرد اس طرح کی تحریر لکھتا تو جانبدار کہلا سکتا تھا

  • 19-04-2016 at 10:04 am
    Permalink

    درست لکھا ہے.
    ایک بات جو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ روایات اور اقدار کی بحث کچھ لوگوں کے نزدیک تو بڑی اہم ہے. مگر ان لوگوں کا کیا کیا جائے جو انہی کو تبدیل کرنے کے درپے ہیں. یہ ان لوگوں کا متعین ایجنڈا ہے.

  • 19-04-2016 at 2:23 pm
    Permalink

    کیا خوب لکھا، صرف اتنا کہوں گئی کہ کُچھ لوگوں کی نفسیات ہے کہ اُنھیں اپنا اندر باہر دُنیا کو دکھا کر توجہ سیمٹنی ہے، بولڈنیس یہ نہیں کہ اپنے اندر کا راز کُھول کے سڑک کی دیوار پر لگاؤ یا اپنی اقدار کی دھجیاں اُڑاو بولڈنیس یہ نہیں اپنی قمیض اُتار کہ معاشرے میں اختجاج کرو کہ مرد تو قمیض اُتار سکتے ہیں ہم کیوں نہیں، ایسی اُوچھی حرکتیں صرف توجہ سیمٹنے کا ایک بہت ہی سستا طریقہ ہے
    do some thing which shows how moderate you are.
    why are you covering your body, why are you wearing cloths come on this was totally your private property why you show this on road wall cheap way for cheap attention

  • 19-04-2016 at 9:51 pm
    Permalink

    Very well said..

  • 19-04-2016 at 11:46 pm
    Permalink

    umda. boot khoob .

  • 07-05-2016 at 4:50 pm
    Permalink

    Boht he Umda tehreer…. Constructive criticism is ko kehtay hain.
    P.S: Mudeer Sahib/a we all know k ap ka tehreer nigar k raye sy mutafiq hona zaruri nahi, yeh explicitly mention krny ki zarurt nahi thi.
    Shukriya

Comments are closed.