مولانا صاحب کے نام مدبر کا خط


wisi 2 baba

مولانا صاحب انتہائی ایمرجنسی میں آپ کو خط لکھ رہا ہوں۔ ٹیکنالوجی کا زمانہ ہے فون کال تو ٹیپ ہو ہی جاتی ہے، ایس ایم ایس بھی کیچ ہو جاتے ہیں۔ اب تک زرداری صاحب کے مشوروں کے ساتھ دال دلیہ کر رہا تھا۔ اس بھلے آدمی نے مجھے مروا دیا۔ جب وہ صدر تھے تو انہیں بس اتنا ہی مشورہ دیا تھا کہ مشرف کو رگڑ کے دکھا دے ایک بار۔

دیکھیں آگے سے مجھے کیا کھوچل بات کی زرداری صاحب نے کہ اوئے میاں صاحب میں ایک بزدل سندھی ہوں۔ سندھ پہلے کئی لیڈروں کی لاش ڈبے میں وصول کر چکا ہے۔ اب مزید ہمت نہیں ہے۔ آپ بہادر آدمی ہیں جب آپ کی باری آئے تو مشرف کو جتنا مرضی رگڑ لینا۔ مولانا صاحب مجھے سمجھ ہی نہیں آئی کہ مجھے کتنا برا پھنسا رہے ہیں۔ یہ تو مشرف کو رگڑنا شروع کیا تو کپتان پیچھے لگ گیا۔ اس نے جب اوئے اوئے شروع کی ہے تو بجلی سی چمکی ہے پھر پتہ لگا۔ زرداری صاحب کو فون کیا کہ کیسے بھائی ہو یار کتنا برا پھنسایا۔ آگے سے زرداری صاحب بولے کہ چلو اگر میں نے پھنسایا ہے تو نکلوا بھی میں ہی دیتا ہوں۔

کپتان بھی پتہ نہیں کسی لسوڑے کی سریش سے بنا ہوا ہے۔ الیکشن سے پہلے کا مجھ سے چپکا ہوا ہے۔ اتارتا ہوں اترتا ہی نہیں پتہ نہیں فاسٹ بالر بننے سے پہلے بھوت ہوتا تھا شائید۔ کپتان کا سیاپا تو بعد میں کروں گا مولانا صاحب آپ سے ایک اور ضروری بات کرنی ہے پہلے۔ مجھے یہ شہباز شریف کی بھی سمجھ نہیں آتی۔ نثار کو ساتھ ملایا ہوا ہے اس نے۔ دونوں نے میری مت مار رکھی ہے۔

الیکشن میں راحت فتح علی سے گانا کیا بنوایا۔ تب سے مجھے رل مل کر چوھدری نثار اور شہباز نے سمجھا بجھا لیا کہ

بس میاں صاحب تسی ایک مدبر او۔ میاں صاحب تسی بس مدبر بن کے بہنا۔ نہ ٹی وی پر آنا نہ کوئی بیان دینا نہ کسی منحوس میڈیا والے کو لاگے لگنے دینا۔ آرمی چیف کو کال شال کری رکھنا۔ باقی ہم سنبھال لیں گے۔ سنبھالنا انہوں نے کھے تے مٹی ہے۔ جس کا دل کرتا پورا پنجاب کراس کے پنڈی پہنچ جاتا۔ اگے چوھدری نثار ٹی وی پر تڑیاں دے دے کر آنے والوں کو اتنا گرم کرتا ہے کہ وہ سیدھا ڈی چوک پہنچ کے رکتے ہیں۔

nawaz-fazal

آپ خود بتائیں مولانا صاحب یہ قوم کسی مدبر کے ہاتھ سے سیدھی ہونے والی ہے۔ صرف ڈنڈے کو پیر اور مدبر مانتی ہے۔ آپس کی بات ہے مجھے اپنا آپ مدبر لگتا بھی نہیں ہے۔ کلثوم کو بھی ایک دو بار کہہ کر دیکھا ہے کہ میں اب ایک مدبر لیڈر ہوں اس کا بھی ہاسا نکل جاتا ہے۔

خیر چھوڑیں یہ جو دھرنے ہوئے یہ انہی دونوں یعنی نثار اور شہباز نے کرائے ہیں۔

دھرنے والے آ کے بیٹھے ہوئے تھے۔ یہ دونوں مجھے الٹی مت دے رہے تھے۔ میاں صاحب تسی مدبر او۔ ملک میں جمہوریت ہے پولیس ایکشن نہیں کرنا۔ مولانا صاحب آپ سے کیا چھپانا جب اللہ کے فضل و کرم سے میں وزیر اعلی بنا۔ جتنی بھی پولیس کی بھرتی میں نے کی سفارش پر ہی کی۔ پر وہ منڈے اور تھے جب انہیں آڈر دیا کہ پے جاؤ وہ نہ جیالا دیکھتے تھے نہ جماعتی ایسی کٹ لگاتے تھے کہ دل باغ باغ ہو جاتا تھا۔ کئی لیڈر کٹوائے پھر میں نے۔ اس عظیم پنجاب پولیس کی کارکردگی سے دل اور کلیجے میں ٹھنڈ پڑ جاتی تھی۔

اک پاسے چوھدری نثار ہے دوجا غم اسلام اباد پولیس ہے۔ پتہ نہیں کہاں سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر اسلام اباد پولیس میں زنانے بھرتی کیے ہیں۔ دل کرتا ہے کہ آئین میں ترمیم کر کے اس پولیس کا نام باجی فورس رکھوا دوں۔ نثار شہبازتو اندر کھاتے کپتان سے ملے ہی ہوئے ہیں۔ اب پاناما لیکس کا سنڈا بھی مجھ غریب پر ہی کھل گیا ہے۔

آپ کو یقین نہیں آنا کہ میرا بھائی اور سب سے نزدیکی دوست مخالفوں کے ساتھ ملا ہوا۔ تفصیلی باتیں تو ملاقات میں ہی ہوں گی۔ یاد کریں کیسے نثار نے الطاف بھائی کو بلاوجہ چھیڑ کر بیٹھے بٹھائے گالیاں پڑوا دی تھیں۔ تب بھی نثار مجھ سے رسا ہوا تھا۔ ہر پنج ست مہینے بعد یہ مہینے ڈیڑھ کے لئے ناراض ہو جاتا ہے۔ شہباز شریف کی سن لیں۔ چھیاسی میں جب بے نظیر پاکستان آئی تھی تو شہباز شریف چپکے سے استقبالی انتظامات کے لئے پانچ لاکھ روپیہ ابا جی سے بھی چھپ کر جیالوں کو دے آیا تھا۔ مولانا صاحب اندازہ کرو یہ شہباز شریف ازل سے ہی میری حکومت گرانے والوں کے ساتھ رل مل جاتا ہے۔

یہ باتیں تو ہوتی رہیں گی۔ آپ بس پہنچنے والی کریں۔ اس بار مسئلہ آپ نے ہی سنبھالنا ہے۔ زرداری صاحب اس بار خود پھنسے ہوئے ہیں۔ مولانا صاحب پاناما لیکس کی وجہ سے گھر میں بڑی ٹینشن ہو گئی ہے۔ اپنے دونوں منڈے واپس بلا رکھے ہیں میں نے۔ دو چار دن ہوئے ہیں ان کو آئے ہوئے۔ انہیں کان شان بھی پکڑوائے ہیں۔ اب آپ آئیں تاکہ مسئلے کا کوئی حل نکالیں۔ منڈے میرے دونوں ہی معصوم ہیں۔ آپ کو فوٹو بھیج رہا ہوں دیکھیں کتنے بھولے بھالے لگتے ہیں۔

پاناما لیکس پر میرا سارا خاندان افسوس کرنے آیا تھا۔ اصل بات صرف مجھے پتہ ہے کہ اصل میں اندازہ لگانے آئے تھے کہ کتنے پیسوں کا رولا ہے۔ وہاں ہمارے ایک بزرگ نے کہا چلو خیریت رہی۔ چار دن رو دھو کے چپ کر جائے گی قوم بھی میڈیا بھی۔ کپتان کی تو عادت ہے اس نے تو روتے ہی رہنا ہے۔ اس کے لئے میرا وزیر دفاع خواجہ آصف ہی کافی ہے۔ اسے بڑا ستھرا دھوتا ہے۔

مجھے بھی پوری تسلی ہے کہ قانون وغیرہ میں بچت کی ساری سہولت موجود ہے۔ آپ کو جو زحمت دی ہے وہ پنگا کچھ اور ہے۔ کہیں زیادہ سنجیدہ ہے۔ مولانا صاحب آپ کو اندر کی بات بتاؤں میرا دفاع کرنے کو خواجہ آصف ہی کافی ہے۔ پاناما لیکس کے ایک ارب کاغز تو وہ کھا کر بھی ڈکار نہ مارے۔ اپ کو یہ بھی بتا دوں کہ یہ خواجے کو میں نے پاکستان کا وزیر دفاع کوئی نہیں رکھا ہوا۔ اس کو میں نے اپنا وزیر دفاع رکھا ہوا کسی کو سمجھ ہی نہیں آئی اس بات کی۔

اچھا اب آخر میں ضروری بات جس کے لئے یہ خط لکھا ہے۔ مولانا صاحب جب خاندان والے پاناما لیکس کا پتہ لگنے پر افسوس کرنے آئے تھے تو ایک حادثہ ہو گیا۔ ہمارا سارا ٹبر اکٹھا ہوا تھا۔ بڑی دعوت ہوئی سب ہی کھا پی رہے تھے۔ اچانک مجھے خیال آیا، میں نے اپنے وڈے منڈے کو بلایا اور پوچھا کہ اوئے میرے نام پر تو کوئی آف شور کمپنی نہیں بنائی تھی۔ تو اس نے کہا کہ بنائی ہوئی ہے ابا جی۔

اسے کہا او تیری، بس منڈے اتنے معصوم ہو تو بندہ کدھر جائے۔ کلثوم کے ڈر سے غصہ بھی نہیں کر سکا۔ اتنا ہی پوچھا کہ کیوں بنائی تھی۔ اس نے آگے سے جو جواب دیا اس نے پھنسا کر رکھ دیا ہے۔ کہنے لگا کہ برکت کے لئے بنائی تھی۔ اب برکت میرے چاچا جی تھے۔ سارا خاندان اب برکت والی کمپنی کا حصہ مانگ رہا۔

مولانا صاحب آئیں اور آ کر اب ہمارا فیصلہ کرائیں کہ ثالثی آپ سے کرانے پر اتفاق ہوا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

3 thoughts on “مولانا صاحب کے نام مدبر کا خط

  • 11-04-2016 at 11:55 am
    Permalink

    ھاھا ھا ھا بہت ستھرے انداز میں مذکورہ افراد کی عزت افزائی کی ہے.مزہ آگیا.خبریت کا عنصر بھی نمایاں ہے.دیکھیں اس حوالے سے کیا بنتا ہے

  • 11-04-2016 at 1:20 pm
    Permalink

    Hahahahahaha
    Wisi Baba at his height again. Beautiful

  • 11-04-2016 at 11:26 pm
    Permalink

    کچھ مزاح, کچھ خبر… خوب رہی وسی صاحب.

Comments are closed.